کراچی (آر ایس ایف) مورخہ 20 فروری 2022ء بروز اتوار کو ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کے زیر اہتمام آرٹس کونسل کراچی میں ’انقلابی طلبہ کنونشن‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے بیشتر تعلیمی اداروں بالخصوص مرشد میڈیکل کالج، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، شہید ذوالفقار علی بھٹو لا کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام میں کراچی کی دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں جس میں پروگریسیو اسٹوڈنٹس الائنس، پختون ایس ایف، بساک اور سندھی شاگرد ستھ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ کنونشن کو کامریڈ لال خان کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی لازوال انقلابی جدوجہد سے منسوب کیا گیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دینے والوں میں دانش زئنور، سحر پیرزادو اور ماجد میمن شامل تھے۔ کنونشن کے آغاز میں عامر کریم اور عابد نے انقلابی شاعری سنائی اورپروگرام کے باقاعدہ آغاز سے پہلے طبقاتی جدوجہد کراچی کے بچھڑنے والے کامریڈ راجہ فتح کے لیے کھڑے ہو کر 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے بعد کنونشن میں شرکا کو ویلکم کرتے ہوئے پروگرام کے ابتدائی کلمات حاتم خان نے ادا کئے جس کے بعد سینئر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس، عورت فاؤنڈیشن سے مہناز رحمن، سارنگ جام، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے رہنما قمرالزمان خان، پروگریسیو اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے وقاص عالم، سید مسرور حسن پی پی پی ڈسٹرکٹ سینٹر کراچی کے صدر، پختون ایس ایف کے رحمن بابر، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مراج شاد اور سندھی شاگرد تحریک کے نوید عباس کلہوڑو نے خطاب کیا۔ دیگر تقاریر کے بعد ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کی نئی کابینہ منتخب کی گئی اور سٹیج پر بلا کر ان کی حلف برداری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ نئی منتخب ہونے والی کابینہ میں فیاض چانڈیو (صدر)، گل محمد (نائب صدر)، افضل (سینئر نائب صدر)، حاتم خان (جنرل سیکرٹری)، دانش زئنور (انفارمیشن سیکرٹری)، رزاق بھگیو (سٹڈی سرکل انچارج) اور ساگر (فنانس سیکرٹری) شامل ہیں۔

حلف برداری کے بعد ریولوشنری اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی رہنما اویس قرنی جن کی زیر صدارت کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا نے اپنے خطاب میں عالمی و ملکی سطح پر موجودہ سیاسی اور سماجی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آئی ایم ایف کا تسلط برقرار ہے جس وجہ سے پاکستان کی معیشت، سیاست اور سماج پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس میں آئے روز مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم و روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اپنے جمہوری اور آئینی حقوق مانگنے کی پاداش میں طلبہ پہ جو ظلم کیا جاتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کی جمہوریت کا نقاب اتارتے ہوئے کہا کہ کامریڈ علی وزیر کو آج ایک سال سے بھی زائد کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن یہاں کی جمہوری عدالتیں انہیں انصاف دینے سے قاصر ہیں۔ آخر میں انہوں نے طلبہ یونین کی اہمیت و افادیت پہ بات کی اور مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین کو ملکی سطح پر بحال کر کے اس کے فل الفور الیکشن کرائے جائیں اور تعلیمی اداروں میں خواتین طلبہ کو حراساں کرنے، فیسوں میں اضافے، ہاسٹل کے مسائل اور ٹرانسپورٹ سمیت طلبہ کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ کنونشن کا باقاعدہ اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔