دادو (ضیا) مورخہ 23 اگست 2021ء کو دادو میں آر ایس ایف اور بی این ٹی کی جانب سے ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوجوانوں، طلبا و طالبات اور خواتین نے شرکت کی۔ اسکول کا آغاز ویلکم اسپیچ سے کیا گیا جس میں ضیا نے آئے ہوئے مہمانوں کو ویلکم کیا اور ساتھ ساتھ آر ایس ایف، بی این ٹی اور طبقاتی جدوجہد دادو کے نئے دفتر کی مبارک باد دی۔ اسکول دو ایجنڈوں، عالمی و ملکی صورتحال اور مارکسزم کے تین اجزائے ترکیبی پر مشتمل تھا۔

پہلا ایجنڈا ’عالمی و ملکی صورتحال‘ پر تھا جس کی چیئر راحیل نے کی جبکہ لیڈ آف دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ اس وقت ہم انسانی تاریخ کے سب سے پر انتشار عہد میں جی رہے ہیں اور اس عہد کی سب سے خاص بات اس میں واقعات کا ایک غیر یقینی تسلسل ہے جو اس سامراج کے نامیاتی بحران کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمیں دنیا کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت امریکہ کی افغانستان سے شکست خوردہ واپسی اور افغانستان پر طالبان کے قبضے کا واقعہ نظر آتا ہے۔ اس بیس سالہ طویل جنگ جس میں امریکہ کھربوں ڈالر جھونک کر اور لاکھوں انسانوں کا قتل عام کر کے آج افغانستان کو واپس ایک تاریکی دور میں چھوڑ کے بھاگ رہا ہے وہیں افغانستان میں قیمتی معدنیات جس میں کاپر، فلورائیڈ، آئرن اور لیتھیم کے بڑے ذخائر موجود ہیں چینی اور روسی سامراج کی نظر میں ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکہ کے انخلا کے بعد چائنہ، ایران، بھارت اور روس افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی تگ و دو میں ہیں وہیں افغانستان پر قابض طالبان حکمران اس خطے کے عوام کے لئے ایک وحشت کے طور پر رہیں گے جس سے افغان عوام کو ایک بار پھر مشکل وقت کا سامنا ہے۔ اس ایجنڈا پر صدام خاصخیلی اور اعجاز بگھیو نے کنٹریبوشن کئے۔ ایجنڈے کا سم اپ سعید خاصخیلی نے کیا۔

دوسرا سیشن ’مارکسزم کے اجزائے ترکیبی‘ پر تھا۔ جسے چیئر شبانہ نے کیا اور لیڈ آف ستار جمالی نے دی۔ کامریڈ نے ابتدا کرتے ہوئے کہا کہ مارکسزم تین بڑی شاخوں پر مشتمل ہے جس میں مارکسی فلسفہ، تاریخی مادیت اور مارکسی معیشت شامل ہیں۔ کامریڈ نے مارکسی فلسفہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسفہ دنیا کو مخصوص نقطہ نظر سے دیکھنے کو کہتے ہیں اور ہر کسی کا کوئی نہ کوئی فلسفہ ضرور ہوتا ہے۔ جو لوگ شعوری طور پر کوئی فلسفہ نہیں پڑھتے یا اپناتے لیکن پھر بھی لا شعوری طور پر کسی نہ کسی فلسفے سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ خیال انہیں ٹیلی ویژن، اخبار، ڈرامے اور فلموں وغیرہ سے ملتے ہیں۔ کامریڈ نے مزید بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ قدیم دور میں انسان چیزوں کو دیوی اور دیوتاؤں سے منسوب کرتے تھے، چاہے وہ کوئی بھی مصیبت ہو یا پھر خوشحالی، بارش ہو یا سوکھا پن۔ لیکن بعد میں غلام دارانہ نظام کے اندر ڈھائی ہزار سال پہلے جو فلسفیانہ طرزِ فکر یونان میں وقوع پذیر ہوا وہ ان وضاحتوں پر یقین کرنے کی بجائے ان کے فطری اسباب ڈھونڈنے کی کوشش میں تھا۔ یہی سے ہم کو فلسفے میں ایک عروج دیکھنے کو ملا۔ سقراط، افلاطون، ارسطو، ہیراقلیتوس اور ڈیموکریتوس اس دور کے مشہور فلاسفر رہے۔ کامریڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہیگل سے پہلے ہیراقلیتوس نے جدلیات کے خیال ظاہر کئے تھے لیکن وہ اپنی ابتدائی اور سادہ حالت میں تھے۔ یہ ہیراقلیتوس ہی تھا جس نے کہا کہ ہر شئے تبدیلی میں ہے اور رواں دواں ہے۔ چیزوں کے اندر تضاد ہیں جو ایک دوسرے پر دارومدار رکھتے ہیں۔ کامریڈ نے مزید کہا کہ ہیگل نے جدلیات کو باقاعدہ اور منظم طور پر بیان کیا اور اس کے اصول بھی واضح کئے۔ لیکن ہیگل کی جدلیات میں خیال پرستانہ رنگ شامل تھے۔ یہ مارکس اور اینگلز کا کارنامہ تھا کہ انھوں نے ہیگل کی جدلیات جو سر کے بل کھڑی تھی اسے پاؤں پر کھڑا کیا۔ ہیگل کی جدلیات میں یہ خیال ملتا ہے کہ ایک مطلق خیال (Absolute Idea) ہے جو ترقی کر وا رہا ہے اور انسانی ترقی اسی کا اظہار ہے۔ جس پر مارکس کا نقطہ نظر تھا کہ شعور خود مادی وجود کا محتاج ہے اور یہ مادہ ہی ہے جو ارتقا کر رہا ہے اور شعور کی ترقی مادی ترقی کا اظہار ہے۔ اس کے ساتھ جدلیاتی مادیت کے طریقہ کار کو تاریخ کے ساتھ جوڑ کر کارل مارکس نے تاریخی مادیت کا نظریہ دیا۔ جس کے مطابق پیداواری قوتوں کی ترقی کے ہر مرحلے پر ہم آہنگ پیداواری تعلقات جنم لیتے ہیں اور یہ وہ بنیاد ہیں جن پر سپر سٹرکچر (قانون، ریاست، اخلاقیات اور فلسفہ وغیرہ) تعمیر ہوا ہے۔ لیکن ان کا تعلق میکانکی کی بجائے جدلیاتی ہے۔ یہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں لیکن آخری لفظوں میں بنیاد پیداواری قوتوں ہی ہیں۔ اس ایجنڈے پر احسان کنبھر اور سعید خاصخیلی نے کنٹربیوشن کئے۔ سحر، فاروق برڑو، عطا اللہ بروہی اور مقصود نبی نے انقلابی شاعری پڑھی۔ ایجنڈے پر سوالات کے جوابات اور اسکول کا باقاعدہ سم اپ ضیا نے کیا۔ آخر میں مزدوروں کا انٹرنیشنل گیت گا کر پروگرام کا اختتام کیا گیا۔