اگر غور کیا جائے تو اس نظام کی حدود و قیود میں بھٹو کا اقتدار میں آنا ہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
تاریخ
کورونا وبا اور سرمایہ دارانہ تہذیب کا بحران
آج انسانیت کو بچانے اور کورونا جیسی وبائی امراض سے لڑنے کا واحد راستہ منصوبہ بند معیشت پر مبنی سماج کا قیام ہے۔
جاگتی آنکھوں کا خواب: کامریڈ لال خان
یہ تاریخ کی ستم ظریفی بھی ہے کہ وہ اس عہد میں جدو جہد کر رہے تھے جو انقلابی تبدیلی کے حوالے سے ایک بانجھ عہد تھا۔
جلا کے مشعل جان‘ ہم جنوں صفات چلے!
لال خان نے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں انقلابی کیڈرز تیار کیے۔
لال خان کی نذر
وہ ایک دوستانہ، دل آویز، کرشماتی شخصیت اور حس مزاح کا مالک انسان تھا۔
وہ اِک برگد سرِ صحرا کھڑا تھا…
کبھی نہ حوصلہ ہارا تھا اُس نے
جینا اسی کا نام ہے…
کہ مر کے بھی کسی کو یاد آئیں گے
کیا یہ وہی پیپلز پارٹی ہے؟
ان 52 سال میں پیپلز پارٹی کو تین مرتبہ محنت کش عوام نے اقتدار دلوایا۔ لیکن پارٹی قیادت کا اس بنیادی انقلابی پروگرام سے انحراف بڑھتا ہی چلا گیا۔
کُرد قومی سوال کا تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل
انقلابی قیادت کی موجودگی میں ایسی ہی تحریکیں مشرق وسطیٰ کی ان جابر سرمایہ دارانہ ریاستوں کو ڈھا سکتی ہیں۔
امریکہ کی دیوہیکل آٹو انڈسٹری کے محنت کشوں کی جدوجہد
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے تین رکنی نمائندہ وفد نے بیلجیئم، کینیڈا اور امریکہ سے آ کر’ UAW ‘کے وفد سے ملاقات کی۔
پاکستان: جب نومبر سرخ تھا!
طلبہ یونین پر دہائیوں سے لگی پابندی کے خلاف 29 نومبر 2019ء کو طلبہ کی طرف سے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
جب طوفان جھوم کے اٹھے!
بالشویک انقلاب 1917ء کے 102سال!
انقلابی رہنما کامریڈ علی یاور کو سرخ سلام
طبقاتی جنگ میں محنت کش طبقے کے پیچھے نہ تو کوئی ریاست ہوتی ہے اور نہ ہی کسی مادی اعزاز یا انعام کا کوئی امکان۔
چے گویرا کی انقلابی میراث
درحقیقت وہ سوشلسٹ انقلاب کا سب سے طاقتور، پر اثر اور مشہور نشان بن گیا تھا۔
بھگت سنگھ کی انقلابی میراث
بھگت کے انقلابی مشن کی تکمیل جنوبی ایشیا کی رضا کارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام سے ہو گی۔















