روبین زانوف

خزاں کے موسم میں فرانس، سپین، اٹلی، بیلجیم اور دیگر ممالک میں احتجاجی تحریکوں نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ نوجوان بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائش کے بحران، بجٹ میں کٹوتیوں اور ازسرِنو اسلحہ بندی (ری آرمامنٹ) کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان حکومتوں کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے جو بحران کا بوجھ محنت کش عوام پر منتقل کر رہی ہیں۔ ہمیں ان جدوجہدوں کو یکجا کرنا، خود تنظیمی (Self Organization) کو فروغ دینا اور انقلابیوں کو متحد کرنا ہو گا۔ تاکہ ایک متبادل، انقلابی، سوشلسٹ اور انٹرنیشنلسٹ قیادت تعمیر کی جا سکے۔


یورپ مسلسل بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی کی لپیٹ میں ہے۔ نوجوانوں کے احتجاج، رہائش کے مسائل پر مظاہرے اور آسٹیریٹی کے اقدامات کے خلاف مزاحمتیں اب ایک دوسرے سے جڑنے لگے ہیں۔ یہ تحریکیں ایسے عوامی اضطراب کا اظہار کر رہی ہیں جو قومی سرحدوں سے ماورا ہے اور یورپی یونین کی حکومتوں کی پالیسیوں کو چیلنج کر رہا ہے۔

فرانس میں ستمبر میں ہائی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج کا دائرہ ہائی سکولوں سے نکل کر متعدد شہروں تک پھیل گیا ہے۔ عملے اور تعلیمی وسائل کی کمی، اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں مشکلات اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی ہے۔ اس غم و غصے میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خدمات (پبلک سروسز) کے بگڑتے ہوئے معیار کے خلاف مخالفت نے مزید شدت پیدا کی۔ ’’یلو ویسٹس‘‘ (زرد جیکٹوں والی تحریک) کی واپسی اور سماج کے مختلف حصوں کے مظاہروں نے ایک بار پھر یورپی سامراجی طاقتوں کے بلاک کو درپیش گہرے ساختی، سیاسی اور سماجی بحران کو اجاگر کر دیا ہے۔

پولیس کے ساتھ جھڑپیں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ریاستی جبر اس گہری ہوتی ہوئی سماجی تقسیم کو نمایاں کرتے ہیں جو حکومت کی مسائل سے نمٹنے میں ناکامی کے باعث جنم لے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورتِ حال خود تنظیمی اور اپنے دفاع کے لیے منظم ہونے کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

فرانس میں رونما ہونے والے واقعات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ فرانس کے واقعات یورپ اور دنیا بھر میں بغاوتوں کے محرک یا ان کے پیچھے کارفرما ایک بڑی قوت ثابت ہوئے۔

سپین میں بھی (پنشن پر گزارہ کرنے والی ایک انتہائی ضعیف خاتون) ماری کارمین کو گھر سے بے دخل کیے جانے اور بعد ازاں ان کی موت نے غم و غصے کی ایک لہر کو جنم دیا ہے۔ رہائش کے حق کی جدوجہد مختلف شہروں تک پھیل گئی اور میڈرڈ کے علاقے پوئرتا ڈیل سول میں احتجاجی دھرنے کی صورت میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ یہ تحریک کرایوں میں بے تحاشا اضافے، رئیل اسٹیٹ کی سٹہ بازی اور مالی خودمختاری حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کو چیلنج کر رہی ہے۔ چودہ برس تک اس صورتِ حال پر آنکھیں بند رکھنے کے بعد ’UGT‘ اور ’CCOO‘ یونینوں کو 11 نومبر کو ملک گیر عام ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ وہی مطالبہ تھا جو احتجاجی مظاہروں اور باعزت رہائش کے حق کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔

بحران اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ (2018ء سے سپین کے وزیر اعظم چلے آ رہے) پیڈرو سانچیز کی لڑکھڑاتی ہوئی حکومت، جسے اس کے بعض اتحادیوں نے تنہا چھوڑ دیا ہے اور جس کی سیاسی پوزیشن مسلسل کمزور ہو رہی ہے، نے 29 نومبر کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ بنیادی کام یہ ہے کہ ہڑتال کو سماجی دباؤ کم کرنے کے ایک ہتھکنڈے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور عوام کے سامنے یہ راستہ پیش کرنے کی کوشش ناکام بنائی جائے کہ وہ پی پی (PP) اور ووکس (Vox) کے مقابلے میں ’’کم تر برائی‘‘ کے طور پر سانچیز (PSOE) کو ووٹ دے کر ’’جدوجہد جاری‘‘ رکھیں۔

ہمیں نچلی سطح پر عوامی اجتماعات منعقد کرنے، مطالبات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ایک ایسے لائحہ عمل کے ذریعے ہڑتال کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے جو محنت کشوں اور وسیع تر عوام کے مطالبات کو آگے بڑھائے۔ اس راستے پر آگے بڑھتے ہوئے ایک ریڈیکل بائیں بازو کے متبادل کی تعمیر اور جدوجہدوں اور انتخابات میں ایک انقلابی مرکز قائم کرنا ناگزیر ہے۔

اٹلی میں بھی شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ٹیورن سے شروع ہو کر روم، بولونیا اور نیپلز تک پھیلنے والے طلبہ کے احتجاج میں دیگر مطالبات کے علاوہ سستے مکانات، زیادہ تعلیمی وظائف اور مفت عوامی ٹرانسپورٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ میلان، ٹیورن اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں جنگ، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور (اور دائیں بازو کی وزیر اعظم) میلونی کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ اٹلی کی سب سے بڑی مزدور یونین ’CGIL‘ نے 20 نومبر کو ملک گیر عام ہڑتال کی کال دی ہے۔

بیلجیم میں والونیا اور برسلز کے طلبہ نے حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت اور سماجی مراعات میں کٹوتیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ ان حکومتی اقدامات سے تعلیمی اداروں کے وسائل، مفت کھانوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کے لیے مالی امداد کو خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ تعلیم مزید مہنگی بھی ہو رہی ہے۔

پرتگال میں لزبن اور پورٹو کے شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے کرایوں کی حد مقرر کرنے، بے دخلیوں کو روکنے اور سرکاری رہائش گاہوں کی تعداد بڑھانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پرتگال میں حال ہی میں ایک کامیاب عام ہڑتال ہو چکی ہے۔ جس نے محنت کشوں کے خلاف پیش کردہ لیبر پیکیج کو شکست دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

جرمنی میں ہزاروں نوجوان لازمی فوجی سروس کی بحالی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور عسکریت پسندی کے سنگین نتائج سے خبردار کر رہے ہیں۔

البانیہ میں بھی روزگار کے امکانات کی کمی، تعلیم کے شعبے میں کٹوتیوں اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔

یہ کوئی ایک دوسرے سے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں۔ اگرچہ ہر ملک کے اپنے مخصوص حالات ہیں۔ لیکن یہ سارے احتجاج ایک ہی سماجی بحران کی عکاسی کرتے ہیں اور عوام میں جدوجہد کے بڑھتے ہوئے رجحان کو واضح کرتے ہیں۔

نوجوان‘ محنت کشوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی قیادت میں!

نوجوان اس بغاوت کا دل ہیں۔ ہائی سکولوں اور کالجوں کے طلبہ، نوجوان محنت کش اور بے روزگار نوجوان ضروریات زندگی سے اس محرومی کے خلاف سڑکوں پر نکل رہے ہیں جس کے بھیانک سائے ان کے مستقبل پر منڈلا رہے ہیں۔

رہائش کا مسئلہ اس صورتِ حال کے اہم ترین مظاہر میں سے ایک بن چکا ہے۔ سپین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کرایوں میں اضافہ اجرتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ہوا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کے لیے خودمختار زندگی شروع کرنے کا مطلب یا تو انتہائی مہنگے کرایوں پر دوسروں کے ساتھ کمرے بانٹ کر رہنا ہے یا بدستور اپنے خاندانوں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہونا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کا عدم تحفظ، کم اجرتیں، تعلیم کے حصول میں مشکلات اور ایسے مستقبل کا خوف بھی موجود ہے جس پر عدم استحکام کے کالے بادل منڈلا رہے ہیں۔

لیکن نوجوان تنہا جدوجہد نہیں کر رہے۔ اساتذہ، شعبہ صحت کے محنت کش، ٹریڈ یونینیں، کسان اور دیگر سماجی طبقات بھی طلبہ کے احتجاج میں شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان قوتوں کا باہم ملنا انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کی طاقت اس وقت کئی گنا بڑھ سکتی ہے جب وہ محنت کش طبقے کی اجتماعی طور پر متحرک ہونے کی صلاحیت کے ساتھ یکجا ہو جائے۔

یہ مطالبات اب سیاسی رنگ بھی اختیار کر رہے ہیں۔ حکومتوں، ان کی بجٹ ترجیحات اور عوامی بے چینی کو دبانے کے لیے استعمال کیے جانے والے ریاستی جبر کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ جدوجہد اب محض جزوی بہتری کے مطالبے تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ یہ سوال بھی اٹھانے لگی ہے کہ بحران کی قیمت کون ادا کرتا ہے اور معاشرہ کس کے مفادات کے تحت چلایا جاتا ہے۔

ایک ابھرتی ہوئی بغاوت

حالیہ احتجاجی ابھار اچانک رونما نہیں ہوا۔ یہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں اٹھنے والے بحرانوں، بغاوتوں اور احتجاجی تحریکوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی مزاحمت اور غزہ کی تباہی اور پھر نسل کشی کے خلاف اور فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے عالمی مظاہروں نے ثابت کیا کہ لاکھوں لوگ سامراجی بربریت کو مسترد کرتے ہیں۔ جنگ اور ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سامراج کی پالیسیوں کے خلاف یونیورسٹیوں میں احتجاج اور محنت کش عوام کی جدوجہد نے ظاہر کیا کہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ حکومتوں کی ملی بھگت کا مقابلہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آمادگی موجود ہے۔

اس دوران یورپ میں بھی ہڑتالوں کی ایک لہر اٹھی۔ آسٹیریٹی کے اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پبلک سروسز، اجرتوں اور پنشنوں کے دفاع میں مظاہرے کیے گئے۔

بنیادی سبب: ایک ایسا نظام جو معاشرے کی اکثریت کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے…

اس پورے عمل کی جڑ سرمایہ داری کا ساختی بحران اور یورپی سامراجی بلاک کے اندر اس کے مختلف مضمرات ہیں۔ حکومتیں معاشرے کی اکثریت سے قربانیاں مانگتی ہیں۔ جبکہ کارپوریشنوں کے منافع، مالیاتی سٹہ بازی اور بڑے جائیداد مالکان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔

اجرتوں کی قوتِ خرید میں کمی آ رہی ہے، خوراک اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور رہائش عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ بے روزگاری اور روزگار کا عدم تحفظ نوجوانوں کے لیے خودمختار زندگی اختیار کرنا مشکل بنا رہے ہیں۔ جبکہ بجٹ میں کٹوتیاں تعلیم، صحت اور پبلک سروسز کو کمزور کر رہی ہیں۔ مزید برآں تارکینِ وطن کی آبادی کو امتیازی پالیسیوں، محنت کے استحصال اور ایسے جابرانہ اقدامات کا سامنا ہے جن کا مقصد یکساں طبقاتی مفادات رکھنے والوں کو تقسیم کرنا ہے۔

اس صورتِ حال کے ساتھ ادارہ جاتی بدسلوکی، احتجاج کو جرم قرار دینے کے رجحانات اور مستقبل کے امکانات کا فقدان بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومتیں آبادی کی اکثریت کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ لیکن جب احتجاجی مظاہرے ان کے قابو سے باہر ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ پولیس کی قوت میں اضافہ کرتی ہیں اور احتجاج کے حق پر پابندیاں عائد کر دیتی ہیں۔

سامراجی جنگوں کے لیے ازسرِنو اسلحہ بندی (ری آرمامنٹ) اور عوام کے لیے آسٹیریٹی

جیسے جیسے سماجی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے‘ یورپی حکومتیں ازسرِنو اسلحہ بندی اور سامراجی جنگوں کی تیاریوں پر زیادہ سے زیادہ وسائل صرف کر رہی ہیں۔ عسکریت پسندی کو سلامتی کی ضرورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کی قیمت آبادی کی اکثریت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ سماجی مراعات میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، پبلک سروسز کا معیار گرتا جا رہا ہے اور اجرتوں کو محدود رکھنے کی بات کی جا رہی ہے۔ جبکہ فوجی بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسلحہ سازی کی صنعت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

اسی لیے ہم، انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL) کی یورپی پارٹیاں، پرزور انداز میں یہ نعرے بلند کر رہی ہیں: ’’یورپ کو ایک قلعے میں تبدیل کرنے کی پالیسی نامنظور! سامراجی جنگوں کے لیے آسٹیریٹی نامنظور! محنت کشوں کی حکومتیں اور ایک سوشلسٹ یورپ قائم کرو!‘‘

سماجی و سیاسی پولرائزیشن: انتہائی دائیں بازو کا عروج، لیکن مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے…

یہ بحران سیاسی پولرائزیشن کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی قوتیں عوامی بے چینی کے ایک حصے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تارکینِ وطن، حقوقِ نسواں اور سماجی حقوق کے خلاف بیان بازی کر رہی ہیں۔ وہ مقامی محنت کشوں کو تارکِ وطن محنت کشوں کے مقابل کھڑا کرنے، نوجوانوں کو تقسیم کرنے اور سماجی نظام کے پیدا کردہ مسائل کی ذمہ داری سب سے زیادہ کمزور طبقات پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم موجودہ احتجاجی تحریکیں ایک متضاد رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ سڑکوں پر عوام بجٹ میں کٹوتیوں، غیر محفوظ اور غیر مستحکم حالاتِ زندگی، عسکریت پسندی اور ریاستی جبر کو مسترد کر رہے ہیں۔ مختلف جگہوں پر مظاہرین دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی حکومتوں کو واضح طور پر چیلنج کر رہے ہیں۔ رہائش، پبلک سروسز اور نوجوانوں کے حقوق کی جدوجہد طبقاتی یکجہتی کو مضبوط بنا سکتی ہے اور بائیں بازو کے راستے سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

ہمیں ایک ایسا آزاد متبادل تعمیر کرنا ہوگا جو دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس مقصد کے لیے سرمایہ دارانہ مراعات کا دفاع کرنے والی اصلاح پسند قوتوں کے تابع ہونے سے گریز کرے۔

محنت کش طبقہ اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے!

سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ محنت کش طبقہ اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے اور نوجوانوں کی جدوجہد کو برسرِ روزگار محنت کشوں، غیر مستقل اور غیر محفوظ روزگار سے وابستہ محنت کشوں، بے روزگاروں اور تارکینِ وطن کی جدوجہد کے ساتھ یکجا کرے۔ سپین میں 11 نومبر اور اٹلی میں 20 نومبر کو دی جانے والی عام ہڑتالوں کی کالیں اس سمت میں آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔ انہیں الگ تھلگ اقدامات یا اوپر سے کنٹرول کی جانے والی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے مسلسل اور پائیدار عوامی تحرک کے لیے نقطہ آغاز بننا چاہیے۔

ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ ٹریڈ یونینوں کی قیادتیں اپنی تمام تر تنظیمی صلاحیت جدوجہد کی خدمت میں وقف کریں۔ اس کے ساتھ ان کی حدود و قیود، بے عملی اور ان معاہدوں پر قابو پانا بھی ضروری ہے جو ہمارے مطالبات کو حکومتوں کی انتخابی ضروریات کے تابع کر دیتے ہیں۔ ہڑتالوں کی تیاری‘ کام کی جگہوں پر اجتماعات، ہڑتالی کمیٹیوں، مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری اور جمہوری فیصلہ سازی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔

نوجوانوں کو منظم محنت کش طبقے کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ان دو قوتوں کا اتحاد ان کے مطالبات کو وسعت دے سکتا ہے، ان کی جدوجہد کو تسلسل فراہم کر سکتا ہے اور انہیں تقسیم کرنے اور دبانے کی کوششوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

انقلابیوں کے فوری فرائض اور تذویراتی چیلنج

انقلابی سوشلسٹوں کے لیے یہ صورتِ حال فوری نوعیت کے فرائض سامنے لاتی ہے۔ ہمیں ہر جدوجہد کو آگے بڑھانا، عملی اتحاد کو فروغ دینا اور مخصوص مطالبات کا دفاع کرنا ہو گا۔ لیکن اس بنیادی حل کی ضرورت کو نظروں سے اوجھل کیے بغیر جو اس نظام کی جگہ ایک نئے نظام کے قیام سے ہی ممکن ہے۔

جدوجہد میں اتحاد کا مطلب سیاسی اختلافات کو چھپانا نہیں ہے۔ مشترکہ تجربات ہمیں حکمت عملی پر بحث کرنے اور یہ واضح کرنے کا موقع دیتے ہیں کہ کون سی تجاویز جدوجہد کو آگے بڑھانے میں مؤثر ہیں۔ اس عمل سے جدوجہد کی ایک نئی، لڑاکا، جمہوری اور آزادانہ سمت کے تعین میں مدد ملتی ہیں۔ اس میں اپنا آزاد سیاسی متبادل تعمیر کرنا بھی شامل ہے۔

سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک مضبوط سوشلسٹ، انقلابی اور انٹرنیشنلسٹ متبادل کی تعمیر کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر انقلابیوں کو متحد کیا جائے۔ انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL) اس جدوجہد میں سرگرم ہے اور مختلف سیاسی رجحانات سے تعلق رکھنے والی ان تنظیموں اور ساتھیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں۔ ہماری کوشش ایک ایسی نئی سیاسی روایت کی تشکیل ہے جو اتفاقِ رائے، اصولی پروگرام اور اختلافات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے طریقہ کار کو ترجیح دے۔

ہمیں اپنی فوری جدوجہدوں کو سرمایہ داری کو شکست دینے اور محنت کش عوام کی حکومتیں قائم کرنے کے تذویراتی مقصد کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ تاکہ ایک سوشلسٹ یورپ کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔