انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ

ترجمہ: فرہاد کیانی

یوکرائن کے مستقبل کے گرد روس اور امریکہ کا تنازعہ، جو ایک جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور خوفناک شکل میں مزید بھڑک بھی سکتا ہے، عالمی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں مغربی سامراجی کیمپ کا ایک حصہ یوکرائن کو نیٹو میں شامل کرنے کے درپے ہے جسے روس اپنی سکیورٹی، خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سامراجی عزائم کے لئے خطرہ سمجھ رہا ہے اور یوکرائن پر چڑھ دوڑا ہے۔ علاوہ ازیں یوکرائن کی موجودہ مغرب نواز حکومت کو بھی کسی طور یوکرائنی محنت کش عوام کا نمائندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ نے یوکرائنی انقلابیوں کی مشاورت سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ آج جبکہ عالمی سطح پر بائیں بازو کے بیشتر حصے دونوں کیمپوں میں سے کسی ایک کی کھلی یا در پردہ حمایت کر رہے ہیں، یہ اعلامیہ یوکرائن کے مسئلے پر مارکسی پوزیشن کو سمجھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

1: 24 فروری کی صبح کو روسی سامراج نے بالآخر یوکرائن پر حملہ کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر جنگ کی بربریت نے یورپ کے دل میں وار کیا ہے۔ حملہ آور فوج اوڈیسا کے ساحلی شہر میں داخل ہوئی اور یوکرائن کی فوج سے لڑائی جاری ہے۔ روسی حکام حملے کے لئے ”یوکرائن میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے تحفظ“ اور ”یوکرائن سے نازیوں اور عسکریت کے خاتمے“ کو جواز بنا کر پیش کر رہے ہیں اور ”فوجی آپریشنوں“ کو مشرقی یوکرائن تک محدود رکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن در حقیقت روسیوں نے بڑے پیمانے پر فوجی قبضہ شروع کر دیا ہے۔ بڑے شہروں ڈنیپرو (Dnipro)، خارکوف (Kharkov) اور دارالحکومت کیف (Kiev) پر میزائل اور زمینی حملے جاری ہیں۔ روسی ٹینک کیف شہر سے چند کلو میٹر ہی دور ہیں۔ فوجی حکمت عملی اور معاشی اعتبار سے روسی‘ ڈونیٹسک (Donetsk) علاقے کے سب سے بڑے صنعتی شہر ماریوپول (Mariupol) پر جلد از جلد قبضہ کر کے زاپوروزیا (Zaporozhye) اور خیرسن (Kherson) پر پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں تا کہ روس کے زیر قبضہ کرائمیا (Crimea) کے لئے پانی لے جانے والی نہر کو پھر سے کھولا جا سکے۔ یوکرائنی سوشلسٹ لیگ سے تعلق رکھنے والے ہمارے کامریڈوں کی رپورٹوں کے مطابق دارلحکومت کے مضافات میں لڑائی، سائرن اور دھماکے جاری ہیں اور یوکرائن کی حکومت نے عوام کو مسلح مزاحمت کرنے کی کال دی ہے۔

2: 21 فروری کو حملے کا عذر مکمل کر لیا گیا تھا۔ ولادیمیر پیوٹن کو روسی پارلیمان کی جانب سے روسی افواج کو ملک سے باہر استعمال کرنے کی منظوری مل گئی تھی اور ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک (DPR) اور لوہانسک پیپلز ریپبلک (LPR) کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ یہ دونوں علاقے 2014ء میں روس کی مدد سے یوکرائن سے علیحدہ ہوئے تھے۔

3: ان اقدامات سے پیوٹن نے 5 ستمبر 2014ء اور 12 فروری 2015ء کو طے ہونے والے منسک پروٹوکول(Minsk Protocol) کو بے اثر کر دیا ہے جس پر جرمنی، فرانس، روس اور یوکرائن نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے سے مکمل طور پر جنگ بندی ہوئی ہی نہیں تھی اور یوکرائن اور روس کی حکومتوں نے اس پر عمل بھی نہیں کیا تھا۔ یوکرائن ڈی پی آر اور ایل پی آر علاقوں میں انتخابات کروانے سے گریز کرتا رہا جو کہ 12 فروری 2015ء کی دستاویز کے مطابق اسے کروانے تھے۔ جبکہ روس نے ان علاقوں سے روسی سیاسی اور فوجی کنٹرول قائم رکھنے والے فوجی دستوں اور ”نجی ملٹری کمپنیوں“ کا انخلا نہیں کیا تھا۔

4: یہ حملہ روسی سامراج کی جانب سے ان علاقوں پر بالا دستی قائم کرنے کا ایک اور قدم ہے جو ماضی میں سٹالنسٹ بیورو کریسی کے کنٹرول میں تھے اور 1990ء کی دہائی میں ان کے اثر سے نکل گئے تھے۔ روسی سامراج خود کوابھرتے ہوئے چینی سامراج کا مضبوط اور مراعت یافتہ سانجھے دار بنانا چاہتا ہے اور نیٹو اور امریکی و یورپی سامراجوں کی اس خطے میں پیش رفت کو روکنا چاہتا ہے۔

5: یوکرائن کے عوام کے خلاف اس جارحیت پر دنیا بھر کے محنت کش خاموش نہیں رہ سکتے۔ روسی سامراج کے اس حملے اور خونریزی کی بھرپور انداز میں مذمت کرنا ضروری ہے۔ ہم باآواز بلند کہتے ہیں اور ساری دنیا سن لے: روسی فوج یوکرائن سے باہر نکل جائے! یوکرائن کے محنت کشوں اور عوام کے ساتھ یکجہتی زندہ باد!

6: کئی ہفتوں سے منڈلاتے ہوئے روسی حملے کے تناظر میں امریکی سامراج اور اس کے اتحادی ایک دغاباز مہم چلا کر خود کو امن اور یوکرائن کی سالمیت کے محافظ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ امریکی اور یورپی سامراجوں کی بے شرمی کی کوئی انتہا نہیں۔ ان کی فوجیں ساری دنیا میں موت بانٹ رہی ہیں اور وہ نیٹو کے ذریعے اس خطے میں جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں اور یوکرائن کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لئے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اس جنگ کو چھیڑنے میں وہ بھی ہر طرح سے ذمہ دار ہیں۔ سرمائے کے کارندوں اور ان قصابوں پر دنیا بھر کے محنت کش کوئی اعتبار نہیں کر سکتے۔ نیٹو اور مغربی سامراج مشرقی یورپ سے نکل جاؤ!

7: روسی حملے کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے روس پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن کا بظاہر روس کے سرکاری حکام اور کچھ دولت مندوں پر اثر ہو گا۔ جرمنی کی حکومت نے روس سے یورپ تک گیس کی ترسیل کرنے والی زیر تعمیر پائپ لائن نورڈ سٹریم 2 کے سرٹیفیکیشن کے عمل کو روک دیا ہے۔ تاہم پیوٹن کو توقع ہے کہ صارفین کو ملنے والی گیس کی قیمت میں اضافہ اور جرمنی کا توانائی کے لئے اس پر انحصار اس کی پوزیشن کو نرم کر دے گا۔

8: مغربی سامراجیوں نے یوکرائن اور روس کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جنگی آپریشن میں براہ راست حصہ نہیں لیں گے اور اسلحے کی فراہمی تک محدود رہیں گے۔ پراپیگنڈہ کو ایک طرف رکھیں تو ایسی رسد سے طاقتوں کے توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ روس کی دیو ہیکل فوج جدید اسلحہ سے لیس ہے۔ یوکرائن کی فوج بہت کمزور اور چھوٹی ہے اور اس کے پاس سابقہ سوویت یونین کے 50 سال پرانے ہتھیار اور متروک جنگی جہاز ہیں۔ صرف دنیا بھر کے محنت کشوں کی بین الاقوامی یکجہتی، جن میں سب سے پہلے روسی محنت کش شامل ہیں، حملہ آوروں کی قوت اور تباہی کو روک سکتی ہے اور انہیں مقبوضہ علاقوں سے پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے۔

9: روسی حملے کی مذمت، مخالفت اور مزاحمت کسی طور بھی یوکرائن میں ولادیمیر زیلنسکی (Volodymyr Zelensky) کی بورژوا حکومت کی حمایت نہیں ہے۔ جو مغربی سامراج کا حامی ہے اور ان کے مفادات کی خاطر یوکرائن کے محنت کشوں پر سماج مخالف نیو لبرل پالیسیاں نافذ کرتا رہا ہے اور حب الوطنی کے جذبات کو استعمال کر کے انتہائی دائیں بازو کی راہ ہموار کر رہاہے۔ انتہائی دائیں بازو کو مضبوط کر کے اور نیٹو کا راستہ کھول کر زیلنسکی نے بالواسطہ طور پر پیوٹن کو حملے کا جواز فراہم کیا۔ نہ ہی ہم ان علاقوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرنا چھوڑ سکتے ہیں جنہوں نے یوکرائن سے علیحدگی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

10: جنگیں اور سامراجوں کا تصادم ساری انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ ان کے خلاف اور محنت کشوں اور عوام کے حق میں امن اور فلاح کی خاطر جبر اور استحصال کے اس نظام کا خاتمہ کرنے کے لئے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

11: آئی ایس ایل کی جانب سے ہم روسی سامراجی جارحیت کے خلاف اور یوکرائن کے محنت کش عوام کے حق میں دنیا بھر میں متحدہ اقدامات اور اعلانات کی کال دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم مغربی سامراج کی کاروائیوں کی بھی مذمت کرتے ہیں جو روس کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بحیرۂ اسود میں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتے ہیں، یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانا چاہتے ہیں اور یونان میں فوجیں اکٹھی کر رہے ہیں۔ اور جو بائیڈن جارحانہ طور پر امریکہ کی کھوئی ہوئی طاقت واپس حاصل کرنا چاہتا ہے اور ”امریکہ کی واپسی“ کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔

12: ہم بالخصوص ٹریڈ یونینوں، سماجی تحریکوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، فن اور ثقافت سے جڑی شخصیات اور دنیا بھر بالخصوص یورپ کی سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جنگ کے خلاف وسیع تر اتحاد اور تحریک بنائیں۔ جیسا کہ روس اور دیگر ممالک کے محنت کش اور تنظیمیں کرنا شروع ہو چکی ہیں۔

• روسی سامراج یوکرائن سے نکل جاؤ!
• یوکرائن کے محنت کشوں اور عوام کے ساتھ یکجہتی!
• نیٹو اور مغربی سامراج مشرقی یورپ سے نکل جاؤ!
• ڈونیٹسک، لوہناسک اور کرائمیا کو حق خود ارادیت دو!
• سامراجی مفادات کی جنگیں نا منظور!