تجارتی جنگ اور تحفظاتی رحجانات میں ہونے والے اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیں...
ہمالیہ کی کوکھ سے اب انقلاب پھوٹے گا!
نریندرا مودی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ہی جموں کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کے خاتمے پر عملی کام شروع کر دیا تھا۔
ایمازون: سرمایہ داری کی آگ میں جلتے دنیا کے پھیپھڑے
گزشتہ ایک دہائی کی شدید ترین آتشزدگی دنیا کی بیس فیصد سے زائد آکسیجن پیداکرنے والے جنگلات کو برباد کررہی ہے۔
تشدد کا راج
”تم لوگوں نے تشدد کس سے سیکھا ہے؟“
کشمیر کا زخم
فوجی جبر کے ذریعے مسلط کردہ پاکستان کی نیم فسطائی”جمہوری“ حکومت کیلئے یہ وار ایک تحفہ بن کر وارِد ہوا ہے۔
9/11: کرے کوئی، بھرے کوئی!
اس دہشت گردی کو بہت سی ریاستیں اور حاکمیتیں بھی اپنے مذموم مقاصد اور مالیاتی و عسکری مفادات کے لیے پراکسیوں کے طور پر استعمال کرنے لگیں۔
ترکی: انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کے کامیاب سمر کیمپ کا انعقاد
کیمپ میں ارجنٹینا سے ایم ایس ٹی، اسپین سے ایس او ایل اور پاکستان سے طبقاتی جدوجہد کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔
ملتان میں ’کشمیر یکجہتی‘ مشاعرہ
قومی خودمختاری تمام کشمیریوں کا بنیادی حق ہے۔
بہتر سال میں تیسرا ’نیا پاکستان‘
تحریک انصاف کی نامرادی کا آغاز برسراقتدار آنے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔
دادو:’برصغیر کی موجودہ صورتحال پر 1947ء کے بٹوارے کے اثرات‘ پر لیکچر پروگرام کا انعقاد
راہول نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے حکمران طبقات بٹوارے سے پہلے اور بعد میں بھی سامراجی کاسہ لیسی میں ملوث رہیں ہیں۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام آرٹیکل 370 کی منسوخی پر مختلف شہروں میں مظاہرے
جہاں ہندوستان کی جانب سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کو منسوخ کیا گیا وہیں پاکستان بھی گلگت بلتستان میں اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔
لیون ٹراٹسکی: سچائی کبھی مرتی نہیں!
انقلاب کے بعد شروع ہوجانے والی خانہ جنگی میں سرخ فوج کے قائد کی حیثیت سے ٹراٹسکی رد ِانقلابی فوجوں کے سامنے آہنی دیوار بن گیا۔
ہندوستان: ترقی کے سراب۔۔۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی اس ترقی کو نہ صرف بہت مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے بلکہ یہ کسی صحتمند کردار سے عاری ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی غیر مستحکم اور ناہموار بھی ہے۔
حماقت کا راج
قدامت پرست اور نیم فسطائی سوچ رکھنے والے سیاستدانوں اور پارٹیوں کا ابھار ہو رہا ہے۔
ہانگ کانگ: سر کش نوجوانوں کے’غیر قانونی‘ مظاہرے
چینی ریاست کی جانب سے یہ صورتحال مرکزی حکومت کی رِٹ پر حملہ تصورکی گئی اور تحریک کو کچلنے کے لئے مزید پرتشدد ذرائع استعمال کیے گئے۔















