راجہ پکسا کی تمام انتخابی مہم سنہالی نسل پرستی اور دہشت گردی کے خاتمے کے گرد گھومتی رہی جس میں بنیادی مسائل کی بجائے دائیں بازو کے نعروں کے گرد سنہالی اکثریت کو اکٹھا کیا گیا۔
مزید پڑھیں...
ہندوستان: چپا چپا گونج اٹھا ہے طلبہ کے ان نعروں سے…
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے طلباو طالبات کی آواز آج بھارت سمیت پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔
جب بات بگڑ جائے!
یہ بحران ڈیپ سٹیٹ کے اندر کئی دہائیوں سے پنپتے ہوئے تضادات کی عکاسی بھی کرتا ہے جو بعض اوقات شدت اختیار کر کے بھڑک اٹھتے ہیں اور پورے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
طلبہ یونین بحالی: تنقید پر تنقید
اس سیاسی عمل سے گزرتے ہوئے غلطیاں بھی ہونگی لیکن ان غلطیوں سے سیکھا جائے گا۔
عراق: ریاستی جبر کو چیرتے عوامی مظاہرے
یہ مظاہرے بنیادی طور پر عراق میں بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور دیگر معاشی وجوہات کی بنیاد پر سماج میں سطح کے نیچے موجود عوامی بے چینی کا اظہار کر رہے ہیں۔
انقلاب کا سندیسہ
اس بھیانک کیفیت میں 29 نومبر کو ہونے والا طلبہ مارچ اس گھٹن میں بادِ نسیم کے جھونکے کی طرح ابھرا۔
کراچی: ”بالشویک انقلاب اور دورِ حاضر کی تحریکیں“ کے عنوان پر تقریب کا انعقاد
مقررین نے انقلاب کے حالات اور اس کے بعد ہونے والی عالمی صورت حال کے تناظر میں آج کی تحریکوں کو زیر بحث لایا۔
برطانیہ میں انتخابات: لیبر پارٹی کی معاشی پالیسی اور درپیش چیلنج
معیشت بحران زدہ اور سماج منقسم ہے۔
انقلابی سوشلزم کے علمبردار
دہائیوں سے دبی بحث جب کھلی تو طاقت کے سارے سر چشمے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔
”جنوبی امریکہ جاگ اٹھا ہے!“
کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا بلکہ لمبے عرصے سے چلی آرہی چھوٹی تبدیلیوں کا معیاری اظہار ہوا کرتا ہے۔
50سے زائد شہروں میں ’طلبہ یکجہتی مارچ‘
طلبہ ایکشن کمیٹی کی اس کال پر 29 نومبر کو 50 سے زائد شہروں میں ’طلبہ یکجہتی مارچ‘ منعقد کرائے گئے۔
کیا یہ وہی پیپلز پارٹی ہے؟
ان 52 سال میں پیپلز پارٹی کو تین مرتبہ محنت کش عوام نے اقتدار دلوایا۔ لیکن پارٹی قیادت کا اس بنیادی انقلابی پروگرام سے انحراف بڑھتا ہی چلا گیا۔
دادو میں بالشویک انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر لیکچر پروگرام کا انعقاد
بالشویک انقلاب 1917ء کی سالگرہ کے موقع پر لیکچر پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں دادو، کے این شاہ اور جوہی سے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ایران: عوامی مظاہروں سے لرزتی مُلاں اشرافیہ!
ایران میں کسی بھی انقلابی تحریک کی کامیابی کسی ایک شخص کے جانے پر منتج نہیں ہوگی بلکہ پورے مُلائی نظام کے خاتمے پر منتج ہوگی۔
کُرد قومی سوال کا تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل
انقلابی قیادت کی موجودگی میں ایسی ہی تحریکیں مشرق وسطیٰ کی ان جابر سرمایہ دارانہ ریاستوں کو ڈھا سکتی ہیں۔















