جامشورو (دانش چانڈیو) مورخہ 26 جون 2022ء کو جامشورو میں آر ایس ایف کی جانب سے ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوجوانوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ اسکول دو ایجنڈوں پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں ”عالمی و ملکی صورتحال“ جبکہ دوسرے سیشن میں ”سوشلسٹ انقلاب کے بعد پاکستان“ کو زیر بحث لایا گیا۔ عالمی و ملکی صورتحال کی چیئر دانش نے کی جبکہ لیڈ آف کامران پنہیار نے دی۔ لیڈ آف دیتے ہوئے کامران نے عالمی سیاسی و معاشی صورتحال پر بحث کی اور ساتھ ہی پاکستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی طاقتوں کے باہمی تذویراتی اور سامراجی متضاد مفادات کے ٹکراؤ کا مرکزی نقطہ بن کر شدید خلفشار کا شکار بن گیا ہے۔ بحرانات کی شکار نحیف معاشی حالت اور دیوہیکل و تاریخی مالیاتی خساروں کے باعث حکمرانوں کے مختلف گروہ اور ریاستی ستون گومگو کی کیفیت میں رہ کر کوئی بھی فیصلہ کرنے کی طاقت کھو چکے ہیں۔ لیڈ آف کے بعد نواب چانڈیو، ولہار، حاجی خان اور نادر چانڈیو نے بحث کو آگے بڑھایا۔

دوسرے سیشن ”سوشلسٹ انقلاب کے بعد پاکستان“ پر لیڈ آف دیتے ہوئے فیصل مستوئی نے کہا کہ موجودہ عہد میں پاکستان کا بنیادی اسٹرکچر مکمل طور پر بربادی کا منظر پیش کر رہاہے۔ سوشلسٹ فیڈریشن کے بعد نہ صرف ہر طرح کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائیگا بلکہ تمام مادری زبانوں پر وسائل خرچ کر کے ان میں جدت اور ترقی لائی جائے گی۔ پاکستان میں بننے والی مزدور ریاست کو آزاد قوموں کی ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے طور پہ منظم کیا جائیگا۔ اس سیشن پر مشود لغاری اور اختر عباسی نے کنٹریبوشن کئے جبکہ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اکرم مصرانی نے اسکول کا سم اپ کیا۔