کوٹری (فیصل مستوئی) مورخہ 13 فروری 2022ء کو کوٹری میں آر ایس ایف جامشورو کی جانب سے ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نوجوانوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ اسکول کا آغاز م نیاز سہتو نے تمام آئے کامریڈز کو خوش آمدید کہہ کر کیا۔ جس کے بعد ولہار نے اسکول کا باقائدہ آغاز کیا۔ اسکول دو سیشنوں پر مبنی تھا جس میں ’عالمی و ملکی صورتحال‘ اور ’مارکس کا نظریہ بیگانگی‘ شامل تھے۔

’عالمی و ملکی صورتحال‘ پر لیڈ آف دیتے ہوئے فیصل مستوئی نے پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر بحث رکھی اور ساتھ ہی عالمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم انسانی تاریخ کے سب سے پر انتشار عہد میں سانس لے رہے ہیں اور اس عہد کی سب سے خاص بات اس میں واقعات کا ایک غیر یقینی تسلسل ہے جو اس سامراج کے نامیاتی بحران کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمیں دنیا کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت امریکہ کی افغانستان سے شکست خوردہ واپسی اور افغانستان پر طالبان کے قبضے کا واقعہ نظر آتا ہے۔ یہ سارا عمل جہاں ایک انتہائی رجعتی انداز میں امریکی سامراج کی بدترین شکست کی غمازی کرتا ہے وہاں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سامراجی قوتوں کی ہزاروں ارب ڈالروں کی عسکری اور مالیاتی سرمایہ کاری بھی کٹھ پتلی ریاستوں کے دوام اور استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ لیڈ آف کے بعد موضوع پر ساجد شاہ، سارنگ جام، علی حیدر اور کامران نے کنٹریبوشن کئے جبکہ صدام کھوسو نے انقلابی نظم پڑھی جبکہ اکرم مصرانی نے سیشن کا سم اپ کیا۔

اسکول کے دوسرے سیشن ’مارکس کا نظریہ بیگانگی‘ پر لیڈ آف دیتے ہوئے اکرم مصرانی نے کہا کہ موجودہ عہد خلائی سفر، انٹرنیٹ اور جینیاتی انجینئرنگ کا عہد ہے۔ ٹیکنالوجی کے ایسے ایسے شاہکار ہمارے سامنے آ رہے ہیں جن کا تصور بھی گزشتہ معاشروں میں ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود آج انسان اپنے آپ کو اپنی ہی تخلیق کردہ قوتوں کے سامنے بے بس محسوس کرتا ہے۔ آج سے پہلے کبھی بھی انسان کے اپنی ہی محنت کے ثمرات اس کے وجود کے لیے اتنے خطرناک ثابت نہیں ہوئے تھے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں خود انسان کا اپنی محنت پر اختیار اور کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف یہ کہ محنت کا عمل ایک بوجھ بن جاتا ہے بلکہ خود محنت کرنے والوں کو سرمایہ دار کے ہاتھوں کا کھلونا بنا دیتا ہے اور انسان پہلے سماج سے اور پھر اپنی ذات سے بیگانہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ لیڈ آف کے بعد موضوع پر مشعود لغاری نے کنٹریبوشن کی جبکہ آخر میں راہول نے تمام تر بحث و مباحثوں کو سمیٹتے ہوئے اسکول کا سم اپ کیا۔