راہول

کورونا وبا اور بدترین امریکی پابندیوں کے نتیجے میں سنگین ہوتے معاشی بحران، اشیائے ضرورت و ادوایات کی قلت، مہنگائی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر کیوبا کے مختلف شہروں میں لوگ حکومت کے خلاف 11 جولائی کو اچانک سڑکوں پر نکل آئے۔ ردعمل میں کیوبا کے صدر دیاز کینل نے ان مظاہروں کو ملک میں سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی امریکی سازش قرار دیا اور انہیں رد انقلابی گردانتے ہوئے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی ان مظاہروں کا مقابلہ اور انقلاب کا دفاع کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ جس کے بعد ایک بڑی تعداد میں حکومت کے حمایتی لوگ بھی مظاہرے کرنے لگے۔

ان حکومت مخالف مظاہروں کا نقطہ آغاز آرٹیمیسا صوبے کا علاقہ ’سین انٹنیو ڈی لوس بانوس‘ بنا جہاں عوام گزشتہ کئی روز سے بجلی کی بندش کے شکار تھے۔ سین انٹنیو سے شروع ہوئے یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے دارالحکومت ہوانا سمیت کیوبا کے کئی شہروں میں پھیل گئے۔ یہ احتجاج 1994ء کے بعد حکومت کے خلاف ہونے والے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کی فوری وجہ بجلی کی بندش اور مہنگائی تھی مگر ان کے پھیلاؤ میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں کورونا وبا کے بعد پیدا ہوئی بدترین معاشی صورتحال کا اہم کردار ہے جس نے کیوبا کے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کی حالیہ تاریخ میں سب سے طویل اور سخت ترین امریکی پابندیوں کے باعث گزشتہ چند ماہ میں کیوبا میں خوراک اور ادوایات کے ایک سنگین بحران نے جنم لیا ہے۔ چونکہ کیوبا تقریباً 60 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے‘ ایسے میں ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے دور میں سخت کی گئی پابندیوں (جنہیں بائیڈن دور میں بھی جاری رکھا گیا ہے) نے یہاں عوام کے معاشی حالات کو بدتر کیا ہے۔ اسی طرح رواں سال گنے کی کاشت میں تاریخی کمی رکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کیوبا کی وہ واحد فصل ہے جس پر 1908ء سے اب تک کیوبا کی برآمدات کا انحصار رہا ہے۔ گزشتہ سال سے ہی کیوبا کی معاشی صورتحال ابتر تھی۔ صرف 2020ء میں کیوبن معیشت 10.9 فیصد تک سکڑاؤ کا شکار تھی جبکہ رواں سال کے شروعاتی چھ ماہ میں معیشت مزید 2 فیصد تک سکڑ چکی ہے۔ کورونا وبا کے سبب سیاحت، جو کیوبن معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور تارکین ِ وطن سے حاصل ہونے والی رقوم میں بھی کمی ہونے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گراوٹ کا شکار ہیں۔ اپنے روایتی اتحادی وینزویلا کے اپنے معاشی بحران کے سبب وہاں سے حاصل ہونے والے سبسڈائزڈ تیل میں کمی نے بھی بحران میں شدت پیدا کر دی ہے۔ ایسے میں حکومت نے کٹوتیوں کی پالیسی اپناتے ہوئے پہلے سے بدحال عوام کی معاشی زندگی کو مزید تکلیفوں میں دھکیل دیا تھا جس کے نتیجے میں حالیہ مظاہروں کا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ کورونا وائرس کی نئی اقسام کی وجہ سے اس وبا کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ محض 15 فیصد افراد کو ہی مکمل ویکسین لگائی جا سکی ہے۔

اپنے روایتی طریقہ واردات کو قائم رکھتے ہوئے ’انسانی ہمدردی‘ اور حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ کے الزامات کی آڑ میں امریکی سامراج نے پچھلے دنوں کیوبا پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ حالانکہ اپنی صدارتی مہم کے دوران جو بائیڈن نے ٹرمپ کی کیوبا مخالف پالیسیوں کو منسوخ کرنے کاوعدہ کیا تھا۔

امریکہ و کیوبا کے مابین سفارتی تعلقات انقلابِ کیوبا کے کچھ عرصے بعد 1961ء میں منقطع ہوئے تھے۔ 2015ء میں یہ تعلقات بحال تو ہوئے لیکن ملک پر امریکہ کی جانب سے سخت معاشی پابندیاں بدستور عائد ہیں اور کیوبن حکومت کے مطابق گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں کے دوران کیوبا کو ان پابندیوں کے سبب 1100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایسے حالات میں پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ امریکہ کے غیر انسانی و عوام دشمن سامراجی منصوبوں کو عیاں کرتا ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں سے محنت کشوں کے اس انقلاب کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ لیکن ہر بار امریکی سامراج کو اپنی دیوہیکل جنگی و معاشی طاقت کے باوجود کیوبا کے محنت کشوں سے شکست کا سامنا ہی کرنا پڑا ہے۔ جبکہ تمام تر پابندیوں، محاصرے اور سامراجی دھونس کے باوجود کیوبا میں آج بھی معیشت بڑی حد تک منصوبہ بند ہے جس کے ذریعے عوام کو علاج، تعلیم اور رہائش وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات کم و بیش مفت میسر ہیں۔

انقلابِ کیوبا کی شروعات فیڈل کاسترو اور چے گویرا کی سربراہی میں 1953-59ء کی ایک مسلح سرکشی کے ذریعے ہوئی تھی جسے ”26 جولائی کی تحریک“ کہا جاتا ہے۔ یہ سرکشی اتار چڑھاؤکے ساتھ یکم جنوری 1959ء تک جاری رہی جب امریکی کٹھ پتلی جنرل بیٹسٹا کا تختہ الٹا کر انقلابی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ تاہم انقلاب کی حتمی کامیابی میں دارلحکومت ہوانا اور دوسرے بڑے شہروں کے محنت کشوں کا کردار کلیدی تھا جن کی ہڑتالوں نے سرمایہ دارانہ ریاست کو مفلوج کر دیا تھا۔ اس انقلاب کے لاطینی امریکہ اور دنیا بھر میں دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوئے۔ انقلاب کے بعد ٹھوس معاشی اور سماجی ترقی کا آغاز ہوا۔ سیاہ فام آبادی اور خواتین کو مساوی حقوق دئیے گئے۔ بڑے پیمانے پر رہائشی فلیٹ، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور بنیادی انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔ 1959ء سے پہلے کیوبا کی آدھی سے زائد آبادی نا خواندہ تھی۔ لیکن چند سالوں میں ہی ملک کا ہر بچہ زیر تعلیم تھا اور تعلیم بالغاں کے ہنگامی منصوبے کے تحت شرح خواندگی تقریباً سو فیصد تک پہنچائی گئی۔ ہر شہری کو صاف پانی اور مناسب غذا کی فراہمی انقلابی حکومت کی جانب سے مختصر عرصے میں یقینی بنائی گئی۔ علاج کو مفت قرار دیا گیا اور دنیا کا جدید ترین ہیلتھ کیئر سسٹم تعمیر کیا گیا۔ یہی سبب تھا کہ دنیا بھر میں اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ڈاکٹروں کی تعداد کیوبا میں ہی ہے۔

2006ء میں راؤل کاسترو کے صدر بننے کے بعد معیشت کے بعض حصوں کو نجی شعبے کے لئے کھولنے کی کوشش کی گئی۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد اس عمل کو روک دیا گیا اور ان ’اصلاحات‘ کو واپس لینا پڑا۔ حالیہ عرصے میں پھر سے معیشت میں منڈی کے کچھ عناصر متعارف کروائے گئے ہیں جن پر کمیونسٹ پارٹی کے اندر اختلاف موجود ہے۔ سابقہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ سخت کرنے کا مقصد درحقیقت کیوبا کی قیادت کو ’مصالحت‘ پر راضی کرتے ہوئے سرمایہ داری کی طرف دھکیلنا تھا۔ اس عرصے میں کیوبا نے ونیزویلا، بولیویا اور ایکواڈور وغیرہ میں ابھرنے والی بائیں بازو کی حکومتوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے رکھے ہیں۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ ان حکومتوں کو سرمایہ داری کی حدود سے تجاوز نہ کرنے کا مشورہ دینے میں بھی کیوبن افسر شاہی پیش پیش رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اصلاح پسندانہ روش کی وجہ سے یہ بائیں بازو کی تحریکیں اور حکومتیں زوال پذیری کا شکار ہیں۔ بالخصوص ونیزویلا میں سخت بحران کی وجہ سے انقلابِ کیوبا کی تنہائی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔

انقلاب کے دوسرے ممالک تک نہ پھیل سکنے اور تنہا رہ جانے سمیت معاشی منصوبہ بندی پر سوویت طرز کی افسرشاہانہ جکڑ کے باعث انقلاب ِ کیوبا کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ کیوبا کے حالات پر تجزیہ کرتے ہوئے چند سال قبل کامریڈ لال خان نے لکھا تھا کہ ”کیوبا کے ہر طرف سے سرمایہ داری میں گھرے ہونے کے پیش نظر یہاں ’مکمل سوشلزم‘ کا تصور فی الوقت بالکل بچگانہ ہے۔ ایک سائنسی نظرئیے کے طور پر مارکسزم ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کے تصور کو بالکل مسترد کرتا ہے۔ بالخصوص وہ بھی ایک صنعتی طور پر پسماندہ ملک میں۔ ریاست کا افسر شاہانہ کردار اور انقلاب کیوبا کی تنہائی ایک صحت مند اور ترقی یافتہ سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ معاشی منصوبہ بندی پر افسر شاہانہ جکڑ سے انتشار اور بدنظمی جنم لیتی ہے۔ محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول اور فیصلہ سازی کی عدم موجودگی میں معیشت کا دم رفتہ رفتہ گھٹنے لگتا ہے۔“

کیوبن معیشت کی نازک صورتحال اور ریاست کے افسر شاہانہ کردار کی وجہ سے حالیہ مظاہروں جیسے واقعات کا ہونا ایک ناگزیر عمل تھا۔ یقینا امریکی سامراج اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش میں ہے۔ تاہم ان مظاہروں کو امریکی سامراج کی سازش قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مظاہروں میں سرمایہ داری کے حامی بھی موجود ہوں گے۔ لیکن بالعموم یہ مظاہرے غربت سے پریشان حال لوگوں کا احتجاج ہے جس میں محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد نے خود رو طور پر متحرک ہو کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ واقعات کے یوں اچانک افق پر نمودار ہونے کے پیچھے متعدد وجوہات کارفرما ہیں جن میں کاسترو خاندان کے بعد ایک نحیف حکومت کا برسرِاقتدار ہونا بھی شامل ہے۔ نیا صدر اور اس کی حکومت اپنی کمزور اتھارٹی کے سبب حالات کو اُس طرح کنٹرول نہیں کر پا رہی جس طرح کاسترو کے دور میں کیا جاتا رہا ہے۔

آج بطور مارکس وادی جہاں ہمیں کیوبا میں ہر قسم کی امریکی مداخلت کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے اور انقلاب کیوبا کے دفاع کو اپنا انقلابی فرض سمجھنا چاہئے وہیں ریاست کے افسر شاہانہ کردار کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ انقلاب کیوبا کی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ہی ان کی تصحیح کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے کیوبا پر سامراجی پابندیوں کے فوری اور غیرمشروط خاتمے کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح ہر طرح کی سامراجی جارحیت اور مداخلت کی بھرپور مذمت اور مخالفت کی جانی چاہئے۔ ساتھ ہی کیوبن افسر شاہی کے مصالحت پسند دھڑوں کی مخالفت اور ملک میں جمہوری آزادیوں کے لئے جدوجہد کرنے والے کیوبن محنت کشوں، نوجوانوں اور ترقی پسند دانشوروں کی حمایت ضروری ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں انقلاب ِ کیوبا نے نہ صرف یہ ثابت کیا ہے کہ ایک چھوٹے سے پسماندہ جزیرے میں بھی منصوبہ بند معیشت بے پناہ سماجی ترقی دے سکتی ہے بلکہ دنیا بھر کے انقلابیوں کے لئے یہ انقلاب ایک حوصلے اور شکتی کا باعث ہے جسے لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کے سوشلسٹ انقلاب کے ساتھ جوڑ کے ہی محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔