حارث قدیر

جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار (برما) میں اقتدار پر فوجی قبضے کے خلاف تحریک عروج پر ہے۔ فوجی حکومت کا مظاہرین اور اقلیتی نسلی گروہوں کے خلاف کریک ڈاﺅن اور آپریشن بھی وحشیانہ اور انسانیت سوز مظالم کی صورت جاری ہے۔ جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں اس وقت تک 738 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، ہزاروں زخمی ہیں، 7 ہزار سے زائد افراد گھر بار چھوڑ کے اندرون و بیرون ملک محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں فرار ہونے پر مجبور ہیں اور 3300 سے زائد افراد ابھی بھی زیر حراست ہیں۔ میڈیا پر پابندیوں اور معلومات تک رسائی پر شدید سرکاری پہروں کی وجہ سے حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہڑتالوں اور احتجاجوں میں شامل ڈاکٹروں، پولیس اہلکاران و افسران اور ریلوے ملازمین سمیت دیگر شعبوں کے محنت کشوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کئی پولیس اہلکاران فرار ہو کر بھارت اور تھائی لینڈ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چکے ہیں۔ نسلی ملیشیاﺅں کے خلاف فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

میانمار میں احتجاج کا یہ تازہ سلسلہ رواں سال یکم فروری کو سویلین اقتدار پر فوجی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ نسلی اقلیتوں کے قتل عام میں ملوث ایک وحشی جرنیل من آنگ ہلینگ کی سربراہی میں میانمار کی فوج نے گزشتہ سال نومبر میں ہونیوالے عام انتخابات کی فاتح آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی فتح کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ اس طرح فوج انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے اور نئے انتخابات کے وعدے کے ساتھ اقتدار پر براجمان ہو گئی۔ آنگ سان سوچی سمیت این ایل ڈی کی ساری قیادت کو حراست میں لے لیا گیا۔ جنرل من آنگ ہلینگ نے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کرتے ہوئے تمام تر اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

فوج کے اقتدار پر قبضے کے ساتھ ہی بین الاقوامی طاقتوں نے میانمار پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور سرمایہ کاری روکنے کے اقدامات شروع کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ کے اندر میانمار کی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی اور سیاسی بنیادوں پر ایک ہیجان اور افراتفری کی کیفیت موجود ہے۔ صنعتیں اور کارخانے بند ہیں۔ تمام پیداواری عمل منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے معاشی بحران میں مزید شدت آنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یکم فروری سے ہی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو بدستور جاری ہے۔ یہ احتجاج 1988ءمیں’ نوجوانوں کی تحریک کی نسل ‘اور ’جنرل سٹرائیک کمیٹی فار نیشنیلٹیز‘ (قومیتوں کی کمیٹی برائے عام ہڑتال) کی کال پر ہو رہا ہے۔ ماضی کے احتجاجی گروپ کا تعلق ملک کے اکثریتی نسلی گروہ سے ہے اور وہ آنگ سان سوچی کی رہائی اور این ایل ڈی کو اقتدار سونپنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ ’جنرل سٹرائیک کمیٹی فار نیشنیلٹیز ‘ایک متنوع گروپ ہے جو ملک میں موجود تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اگرچہ اس گروپ میں بھی زیادہ تعداد اکثریتی نسلی گروہ ’بامار‘ کی ہی ہے لیکن اس گروپ نے تحریک میں تمام نسلی گروہوں کو نہ صرف نمائندگی دے کر طبقاتی یکجہتی کی مثال قائم کی ہے بلکہ تمام شعبہ جات کے محنت کشوں کو ایک عام ہڑتال کی تحریک بھی دی ہے۔ اس گروپ کے مطالبات بھی صرف فوجی حکومت کے خاتمے اور این ایل ڈی کی سویلین قیادت کو اقتدار کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ 2008ءمیں منتخب ہونے والے متنازعہ آئین کے خاتمے اور تمام قومیتوں کے اشتراک اور وسائل پر قومیتوں کا اجارہ حاصل کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔

میانمار جنوب مشرقی ایشیاکے شمال مشرق میں واقع قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جو اپنے مخصوص محل وقوع، متنوع موسمی حالات اور وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے صدیوں سے سامراجی اکھاڑا بنا ہوا ہے۔ 677000 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس خطے کے شمال مشرق میں چین، مشرق میں لاﺅس، جنوب مشرق میں تھائی لینڈ، شمال مغرب میں بھارت اور مغرب میں بنگلہ دیش کی سرحدیں لگتی ہیں جبکہ جنوب مغرب میں بحیرہ انڈامان اسے بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ 54 ملین آبادی پر مشتمل اس خطے کی مجموعی قومی پیداوار 76 ارب ڈالر ہے اوریہ ریجن کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ معیشت کا انحصار تیل، گیس، زراعت، ماہی گیری، زنک، کاپر، ٹن، سرما، لیڈ، کوئلہ، قیمتی پتھروں، ربڑ اور ماہی گیری پر ہے۔ آبادی کا پچاس فیصد سے زائد دو ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 فیصد بیروزگاری ہے اور 24 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

میانمار کا سابقہ نام ’برما ‘تھا اور یہ 1939ءتک برصغیر کا حصہ رہا ہے۔ برطانوی سامراج نے 1853ءمیں اس خطے سے خام تیل کی برآمد کا آغاز کر دیا تھا۔ اس خطے میں 135 سے زائد مختلف نسلی گروہ آباد ہیں جو برطانوی سامراج کے قبضے سے قبل مختلف آزاد راجدھانیوں کی صورت میں یہاں آباد تھے۔ ان گروہوں میں سب سے زیادہ 68 فیصد آبادی بدھ مت مذہب کے پیروکار’ بامار‘ نسلی گروہ کی ہے۔ جبکہ دیگر نسلی گروہوں کی آبادی بتیس فیصد کے لگ بھگ ہے۔ برطانویوں نے اس خطے کے وسائل کو لوٹنے کےلئے نسلی گروہوں میں پھوٹ ڈالنے اور ان کے مسلح گروہ بنانے کا آغاز کیا تھا۔ مذہبی اور نسلی بنیاد پر اس تقسیم نے برطانوی سامراج کےلئے وسائل لوٹنے کی راہ ہموار کی لیکن اس خطے میں نفرتوں کے ایسے بیج بو دیئے جو برطانوی سامراج سے آزادی کے 72 سال بعد بھی رستے ہوئے زخموں کی صورت میں موجود ہیں۔

1946ءمیں میانمار میں برطانوی قبضے کے خلاف احتجاج ملک گیر ہڑتال کی صورت پھیل گیا۔ تمام سرکاری اور نجی اداروں اور تجارتی مراکز میں ہڑتال اور تمام قومیتوں کے اتحاد نے برطانوی سامراج کو اس خطے کے مستقبل کے حوالے سے جلد فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ میانمار کے قومی ہیرو سمجھے جانے والے تیس سالہ نوجوان ’آنگ سان‘ کی قیادت میں انڈر گراﺅنڈ قومی آزادی کی تحریک منظم کرنے والی’ اینٹی فاشسٹ پیپلز فریڈم لیگ‘ (اے ایف پی ایف ایل) نے یونائیٹڈ فرنٹ کی صورت اس احتجاج کی قیادت کی۔ برطانوی حکمرانوں نے جواہر لعل نہرو کی خدمات حاصل کیں اور آنگ سان کو 1947ءمیں میانمار میں عام انتخابات کا انعقاد کروا کر ایک سال کے اندر آزادی دینے پر رضامند کر لیا گیا۔ آنگ سان کی قیادت میں اے ایف پی ایف ایل نے لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی اور آنگ سان تمام نسلی گروہوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے باہمی اتفاق رائے سے اقتدار کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آنگ سان کا یہ اقدام برطانوی حکومت کو زیادہ پسند نہیں آیا اور اسے اپنی کابینہ کے دیگر افراد کے ہمراہ قتل کروا دیا گیا۔ جس کے بعد میانمار کو آزادی تو نصیب ہوئی لیکن نسلی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے معاہدے کی بجائے اکثریت بدھ مت نسلی گروہ بامار کی اشرافیہ کی اقتدار پر برتری اور وفاقیت پر مبنی سخت گیر کنٹرول کے ساتھ یہ آزادی میانمار کے محنت کشوں کی زندگیوں میں آسودگی لانے کی بجائے مزید تباہی، بربادی، خانہ جنگی اور بالواسطہ سامراجی لوٹ مار کا موجب بن گئی۔ اے ایف پی ایف ایل کے اقتدار میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی نیم خانہ جنگی کا خاتمہ 1962ءمیں اقتدار پر فوجی قبضے کی صورت میں ہوا۔ اس تمام خانہ جنگی میں سامراجی مداخلت اور وسائل پر قبضے کی لڑائی کے علاوہ بائیں بازو کے نظریات پر مشتمل گروہ بھی موجود تھے جو سامراجی لوٹ مار کے خلاف برسرپیکار تھے۔ تمام ہی متصادم گروہوں کو کسی نہ کسی سامراجی ریاست کی پشت پناہی حاصل تھی۔

1962ءمیں ’جنرل نی ون‘ کی قیادت میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں بدھ مت اکثریتی بامار کی حکومت قائم ہو گئی۔ جنرل نی ون نے ’بدھ ازم‘ اور ’سوشلزم‘ کا ملغوبہ بنا کر ”برمیز وے ٹو سوشلزم“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار کا آغاز کیا اور 1988ءتک کے 26 سال تک یہ فوجی اقتدار جاری رہا۔ برما کمیونسٹ پارٹی کے خلاف آپریشن میں فوجی حکومت کو چین کی طرف سے بھی معاونت اور مدد فراہم کی گئی۔ وسائل کی لوٹ مار کےلئے مختلف نسلی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں سے زمینیں اور علاقے خالی کروانے کےلئے جاری آپریشنوں کے نتیجے میں 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو بنگلہ دیش فرار ہونا پڑا، ہزاروں ہجرتوں اور فوجی آپریشنوں کے دوران مارے گئے۔ 1974ءمیں ایک نئے آئین کے تحت یہ فوجی اقتدار نیم فوجی اقتدار میں تبدیل کیا گیا۔ ’برما سوشلسٹ پروگرام پارٹی ‘ کا سربراہ بھی جنرل نی ون ہی کو بنایا گیا اور پارٹی کے ممبران کی نصف سے زیادہ تعداد فوجی، پولیس اور سرکاری اہلکاران پر مبنی تھی۔ جبکہ باقی ماندہ بدھ مت اکثریت سے تعلق رکھنے والے گروہ کی اشرافیہ پر مبنی تھی۔ آئین کی منظوری کےلئے ہونیوالے ریفرنڈم کے علاوہ پانچ عام انتخابات میں یہ پارٹی سو فیصد ووٹ حاصل کرتی رہی!

نی ون انتظامیہ نے سوشلزم کے نام پر تمام اراضی اور زیادہ تر تجارت اور صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ جمہوری منصوبہ بند معیشت کی بجائے آمرانہ معاشی منصوبہ بندی نافذ کی گئی۔ فوجیوں کو اہم عہدوںپر تعینات کیا گیا اور تمام سرکاری ملازمین کو فوجی تربیت دینے کے علاوہ اکثریتی بدھ مت پیروکار بامار نسلی گروہ پر مبنی مسلح ملیشیا بھی تشکیل دی گئی۔ اس کے علاوہ فوج کی بٹالینوں کو کاروبار کے ذریعے اپنے وسائل پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ جس کی وجہ سے میانمار کی فوج نے کاروبار میں قدم رکھا جو بعد ازاں ’نی ون‘ حکومت کے خاتمے کے بعد باضابطہ کارپوریشنوں کے تحت فوج کے موجودہ اور سابقہ قائدین کے بڑے کاروباروں کی بنیاد رکھنے کا موجب بنا۔ فوج کے لائٹ انفنٹری ڈویژن (ایل آئی ڈی) تشکیل دئیے گئے جو کئی دہائیوں سے نسلی اقلیت والے علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو کچلنے اور بغاوتوں کا قلع قمع کرنے میں مشغول رہے اوران ڈویژنوں نے قتل عام کی وحشت ناک تاریخ رقم کی۔ اس مقصد کےلئے کمال مہارت سے اکثریتی بامار نسلی گروہ کے شاﺅنزم کا استعمال کیا گیا اور اس کے علاوہ دیگر تیس فیصد آبادی پر مشتمل نسلی اقلیتوں کی اشرافیہ اور سرمایہ داروںسے تعلق رکھنے والے افسران کی بنیاد پر فوج کی تشکیل کی گئی۔ ایل آئی ڈی نے روہنگیا، راخائن، تاک، کاچن، شان اور دیگر نسلی اقلیتوں کا قتل عام کیا۔

نی ون کے اقتدار کا خاتمہ 1946ءکے بعد پہلی مرتبہ 1988ءمیں ابھرنے والی عوامی بغاوت کے نتیجے میں ہوا۔ 32 سال بعد یہ پہلا موقع تھا جب میانمار کے تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے فوجی آمریت کے خلاف بغاوت کر دی۔ گو اس بغاوت کو فوج نے کچل ڈالا لیکن نی ون کا اقتدار ختم ہو گیا۔ عام انتخابات کے انعقاد میں گزشتہ 26 سال میں پہلی مرتبہ برما سوشلسٹ پروگرام پارٹی کو شکست ہوئی اور تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی ’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ (این ایل ڈی) بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی۔ یہ نتائج بھی فوج نے تسلیم نہیں کیے اور میانمار کے مشترکہ ہیرو سمجھے جانے والے آنگ سان کی صاحبزادی آنگ سان سوچی سمیت این ایل ڈی کی قیادت کو گرفتار کر لیا گیا۔ فوجی آمریت کا یہ سلسلہ 2011ءتک جاری رہا۔ بربریت اور نسلی اقلیتوں کی نسل کشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ موجودہ اور سابق فوجی جرنیلوں کے کاروبار پھیلتے گئے۔ تیل، گیس، مائننگ، بینکاری سمیت سگریٹ کی پیداوار اور سیاحت کے شعبہ جات تک فوج کی دو کمپنیاں ملک کی سب سے بڑی سرمایہ کار ہیں۔ فوج کی اس لوٹ مار میں سامراجی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی خوب مال و دولت بنایا۔ جہاں، جس علاقے میں وسائل کی موجودگی نظر آئی اس خطے سے محنت کشوں کو بے دردی سے قتل عام کر کے بے دخل کیا گیا اور وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کی گئی۔

2008ءمیں میانمار کی فوج نے متنازعہ آئین کےلئے ریفرنڈم کروایا۔ فوجی طاقت کے زور پر 94 فیصد ووٹروں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ اس آئین کے تحت فوج کی اقتدار میں شراکت کےلئے پچیس فیصد نشستیں مختص کرنے کے علاوہ اہم انتظامی، خارجہ اور سکیورٹی امور کی وزارتیں بھی فوج کو سونپ دی گئیں۔ تمام زمینیں اور قدرتی وسائل حکومتی ملکیت قرار دیئے گئے اور حکومت کو اختیار دیا گیا کہ وہ وسائل اور زمینوں کے استعمال کےلئے کسی بھی طرح کی قانون سازی کر سکے گی۔ صدر تمام سات نسلی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کرے گا۔ ریاستوں اور نسلی اقلیتوں کو اقتدار اور فیصلہ سازی سے بے دخل کر دیا گیا۔ این ایل ڈی کی سربراہ آنگ سان سوچی پر کوئی بھی پبلک آفس سنبھالنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ نئے آئین کی روشنی میں نومبر 2010ءمیں انتخابات کا انعقاد کروایا گیاجس کے نتیجے میں فوج کی حمایت یافتہ ’یونین سولیڈیریٹی ڈویلپمنٹ پارٹی‘ (یو ایس ڈی پی) نے فتح حاصل کی اور دوسرے بڑے نسلی گروہ ’شان ‘کی قوم پرست پارٹی نے بھی کچھ نشستیں حاصل کیں۔ سویلین اقتدار پر بھی فوج کا قبضہ برقرار رہا اور ہائبرڈ اقتدار (یعنی فوج اور سویلین کا مشترکہ اقتدار) کا یہ تجربہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلئے زیادہ خون آشام ثابت ہوا۔ راخائن ریاست میں صدیوں سے بسنے والے روہنگیا نسل کے مسلمانوں کے خلاف فسادات کا سلسلہ شروع کروایا گیا اور اس خطے کے وسائل پر قبضے اور سامراجی لوٹ مار کی راہ ہموار کرنے کےلئے پہلے یہ قتل و غارت گری فسادات کی صورت میں کروائی گئی۔ بعد ازاں انتخابات میں نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی پارٹی این ایل ڈی کی فتح کے بعد وحشت اور بربریت کی تمام حدیں پار کی گئیں۔ 7 ہزار سے زائد روہنگیا نسل کے مسلمانوں کو بچوں اور عورتوں سمیت بے دردی سے قتل کیا گیا۔ 7 لاکھ سے زائد بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ بھارت، انڈونیشیا، ملائشیا اور تھائی لینڈ میں بھی بڑی تعداد میں روہنگیا فرار ہو کر پہنچے۔ اس ہجرت کے دوران بھی ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں جن کے اعداد و شمار کا درست تخمینہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

میانمار میں فوجی بربریت کے ساتھ ساتھ نسلی گروہوں کی اپنی ملیشیائیں بھی موجود ہیں۔ فوج اور نسلی ملیشیاﺅں کے مابین ہونے والے تصادموں اور فوج میں جبری مشقت سے بچنے اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈرگ مافیا کے مسلح جتھوں کے ہاتھوں قتل عام سے فرار ہونے والے 60 لاکھ سے زائد شہری ایسے ہیں جو ملک کے اندر ہی آئی ڈی پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ فوجی آمریت کے 50 سالہ دور کے خاتمے کے بعد نام نہاد جمہوریت میں جہاں سامراجی سرمایہ کاری کے سلسلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا وہاں نسلی اقلیتوں کے خلاف بربریت اور جنگی جرائم کے تمام سابقہ ریکارڈ بھی توڑے گئے اور استحصال اور لوٹ مار کی انتہا کی گئی۔ 2017ءمیں روہنگیا مسلم اقلیت کی نسل کشی کا سلسلہ مکمل کرنے کے بعد 2018ءمیں ریاست’ کاچن ‘میں ہونے والے فضائی حملوں میں آئی ڈی پیز کو محفوظ انخلا کا راستہ فراہم کرنے کی بجائے ان کا راستہ روکا گیا۔ ’چن ‘اور ’راخائن ‘میں ایک سال تک انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا اور اطلاعات تک رسائی کے ہر امکان کو بند کیا گیا۔

موجودہ فوجی بغاوت کے خلاف جہاں امریکی سامراج اور عالمی ادارے چیخ و پکار کر رہے ہیں اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں وہاں چین اور روس جیسے ممالک فوجی حکومت کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ حالیہ عرصہ میں چین نے مائننگ، زراعت اور گارمنٹس کی پیداوار کےلئے بڑے پیمانے پر میانمار میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ ’چین میانمار اکنامک کوریڈور ‘بھی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا حصہ ہے جو براستہ ریاست ’منڈالے ‘چین کی بحر ہند تک تجارتی رسائی کو یقینی بنائے گا۔

ماضی میں میانمار میں اقتدار اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کےلئے بامار نسلی اکثریت کو ہتھیار کے طور پر نسلی اقلیتوں کے قتل عام اور نسل کشی کےلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ فوجی حکومت کے خلاف جنرل سٹرائیک کمیٹی فار نیشنیلٹیز کے بینر تلے احتجاج میں فوجی اقتدار کے خاتمے اور 2008ءکے وفاقیت پر مبنی متنازعہ آئین کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور تمام نسلی اقلیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے اتحاد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ماضی کے برعکس نسلی اکثریتی گروہ بامار کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جانب سے صرف اتحاد اور مشترکہ جدوجہد پر ہی زور نہیں دیا جا رہا بلکہ میانمار کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نسلی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پرسر عام معافی کے پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں۔

ہوٹل میں کام کرنے والے ایک نوجوان ’ین ین‘ نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم اب ماضی سے سیکھ چکے ہیں۔ ہمارا نظریہ تبدیل ہو چکا ہے۔ ہم ماضی میں ہونیوالے واقعات پر شرمندہ ہیں۔ جب سے بغاوت شروع ہوئی ہے ہم سب کو ایک ہی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ پورے ملک میں ایک جیسے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم برمی ہیں، کاچن ہیں، چن ہیں یا کسی اور نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تک ہم میانمار میں رہ رہے ہیں ہمارے یکساں حقوق ہیں اور ہمیں ایک جیسی آزادی کی ضرورت ہے۔“ فارن پالیسی کے مطابق ”اس طرح کے اعلانات میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔ خاص کر نوجوان نسل میں جو ماضی کی نا انصافیوں میں اصلاحات لانے اور ایک مساوی معاشرے کی تشکیل کے خواہشمند ہیں۔“ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کے دوران بلاامتیاز محنت کشوں اور نوجوانوں کا قتل عام اور ریاستی بربریت کا سلسلہ طبقاتی یکجہتی کو یقینی بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔

سامراجی جبر اور فوجی بربریت جس قدر بڑھتا جا رہا ہے‘ تحریک میں اسی قدر شدت آتی جا رہی ہے۔ متنوع آبادیوں پر مشتمل مختلف نسلی گروہوں کے محنت کشوں کا اس تحریک میں شامل ہونا، جمہوری مطالبات کی مانگ اور طبقاتی یکجہتی کا مظاہرہ ابھی پہلا قدم ہے۔ احتجاج میں شریک نوجوانوں اور محنت کشوں کو ابھی کئی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ تحریک میں مختلف اتار چڑھاﺅ آئیں گے۔ جمہوری مطالبات کے گرد احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ ایک لمبا اور تھکا دینے والا عمل ہوتا ہے۔ ریاستی بربریت وقتی طور پر حوصلے پست بھی کر سکتی ہے مگر جو نفرت کی آگ حکمران طبقات اور فوجی اشرافیہ کے خلاف بھڑک چکی ہے وہ اب جلد ٹھنڈی ہونے والی نہیں ہے۔ میانمار کے محنت کشوں نے ملک گیر طبقاتی یکجہتی کا مظاہرہ کر کے اور گولیوں کی گھن گرج کے سامنے سینے تان کر پہلے مرحلے کی فتح حاصل کر لی ہے۔ نوجوان انقلابیوں کو حکمران طبقے کے لبرل نمائندوں کے متبادل قیادت تراشنا ہو گی۔ سرمائے کے جبر پر مبنی ریاست کے خاتمے کے نظریات اپنانا ہوں گے۔ محض متنازعہ آئین کی معطلی اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بحالی کے ذریعے سے اس پسماندہ ترین خطے میں ہم آہنگ ترقی اور تمام قومیتوں کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے اس جبر و استحصال کے نظام کو چیلنج کرنا ہو گا۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سے ہی تمام قومیتوں اور نسلی ریاستوں کی رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔