قمرالزماں خاں

کسی انقلابی معروض کے برعکس عمومی صورتحال میں معاشرے مختلف سوچوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان سوچوں پر حکمران طبقات کے نظریات کی چھاپ ہوتی ہے۔ ان نظریات و خیالات کو پوری منصوبہ بندی کے ذریعے ذرائع ابلاغ، تعلیمی نصاب، مذہبی اداروں اور مختص کردہ دانشوروں کے ذریعے عام لوگوں کے خیالات بنایا جاتا ہے۔ یقینی طور پر یہ سوچیں اور نظریات انقلابی نہیں ہوتے بلکہ ان کو حد درجہ دقیانوسی اور مایوس کن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے ادوار میں مایوسی اور بیگانگی کی کیفیات زیادہ حاوی ہو کر سماج کی گھٹن میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ موجودہ معروض نہ صرف کسی حد تک جمود کا شکار ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری سے پھیلنے والی بے روزگاری، غربت، جرائم اور بیماریوں نے سماجی مایوسی کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ ایسی کیفیات میں کسی بھی قسم کا ردعمل بعید ازقیاس نہیں ہوتا۔ حکمران طبقہ ہمیشہ ایسی تحریکوں کے ابھار سے ڈرتا ہے جو سرمایہ دارانہ معاشی رشتوں کو بدلنے کی طرف جا سکتی ہوں۔ کئی دہائیوں سے بالکل گم سم اور ہر قسم کے معاشی اور قانونی حملوں کو برداشت کرنے والا پاکستان کا محنت کش طبقہ پچھلے کچھ عرصے سے بالکل مختلف انداز میں پہلے کی نسبت متحرک نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ملک بھر سے آنے والے مزدوروں کی بڑی پرتوں کا ا سلام آباد میں دھرنا حکمران طبقے کو چونکا دینے والا واقعہ تھا۔ ان دھرنوں میں صرف ایک ادارے یا ٹریڈ یونین کی بجائے مختلف قسم کے اداروں، فیکٹریوں اور شعبوں کی مزدور یونینوں اور ایسوسی ایشنوں کے نمائندگان نے شرکت کی تھی۔ لاکھوں مزدوروں کے یہ نمائندگان جو کہ ہزاروں کی تعداد میں اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے‘ اپنی طرز کا منفرد اجتماع تھا۔ یقینی طور پر ان سب کیلئے فکر انگیز جن کے استحصالی نظام کا انحصار ہی محنت کش طبقے کے جمود پر قائم رہتا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ بے انصافی اور جبر کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی جیسے عوامل حکمران طبقے کیلئے کسی طور پر خوش کن اور قابل برداشت نہیں ہیں۔ اس صورتحال کو سیاہ بادلوں سے ڈھانپنے کیلئے ذمہ داروں کی تھیلیوں میں کافی سامان جمع کیا جاتا ہے۔ ماضی کے رجعتی خیالات کو ابھار کر موجودہ مسائل سے توجہ منتشر کرانا کسی بھی حکمران طبقے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ کار ہوتا ہے‘ جس کا مظاہرہ پچھلے ستر سالوں میں بار بار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں بنیاد پرستی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ 1947ء میں ہندوستان کا بٹوارہ ہی مذہبی بنیادوں پر کرایا گیا تھا۔ برصغیر میں ہندوؤں کے ساتھ سینکڑوں سال اکھٹے رہنے کے بعد مسلمانوں کیلئے یکایک ابھر آنے والا ’دوقومی نظریہ‘ گہرے مضمرات کا حامل تھا۔ یہ نظریہ کسی مقامی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کی بنیادیں برطانوی سامراج کے منجھے ہوئے لیڈروں کی مشاورت سے رکھی گئی تھیں۔ یہ ایک کارآمد تدبیر تھی جس نے اس سامراج دشمن طبقاتی یکجہتی کو گہری ضرب لگائی تھی جو 1943ء اور 1946ء کی مزدور تحریکوں کے ذریعے مجتمع ہوتی جا رہی تھی۔ خاص طور پر اکتوبر 1945ء میں ہندوستانی فوج نے انڈونیشیا میں آزادی پسندوں پر گولی چلانے سے انکار کر کے برطانوی سامراج کے پالیسی سازوں کوپریشان کر دیا تھا۔ یہ غیر معمولی پیش رفت تھی جس کا اظہار فروری 1946ء میں سامراج مخالف تحریک کی صورت میں نکلا جس کا مرکز ہندوستانی بحریہ تھی اور جس میں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب اور قومیتوں کے سپاہی علم بغاوت بلند کیے ہوئے تھے۔ یہ واقعات مذہبی بنیادوں پر ہندوستانی سماج کی تقسیم کی نفی کرتے پائے جاتے ہیں۔ مگر اس صورتحال کے برعکس کانگریس اور مسلم لیگ کا کردار آزادی پسند باغی سپاہیوں کے برخلاف اور سامراج نواز تھا۔ جب کہ انگریزوں کے خلاف باغیوں کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی حمایت بھی حاصل تھی اور باغیوں نے سرخ پرچم کو ہی اپناپرچم بنا لیا تھا۔ یہی وہ نظریاتی پوزیشن تھی جس کا احیا بعد ازاں بٹوارے کے بعد بطور خاص پاکستان میں ہوا۔ حکمران طبقے کو نئے بننے والے پاکستان میں انقلابی نظریات کی بیخ کنی کیلئے جس نظریاتی کمک کی ضرورت تھی اس کا بھرپور بندوبست مذہبی فرقہ وارانہ بنیادوں پر کیا گیا۔ حکمران طبقے کو ہر طرف کمیونزم کا خطرہ نظر آنے لگا تو انہوں نے پاکستان مخالف جماعت اسلامی کے مولانا مودودی سمیت بہت سے دیگر ملاؤں کی خدمات حاصل کیں۔ بغیر کسی حد کے جائیداد اور دولت کے حق میں مضامین اور ادارئیے اس وقت کے اخبار ایسٹرن ٹائمز اور نوائے وقت میں چھپوائے گئے۔ ان اخبارات میں حدود سے ماورا جاگیروں، دولت اور اثاثوں کے حق میں مذہبی بیانیہ اختیار کیا گیا۔ یہ بیانیہ اس وقت کے حکمران طبقے کی اکثریت کی ضرورت تھی۔ مراعات یافتہ طبقے کی اعانت کیلئے اسلامی نظام کے رائج کرنے کے مطالبات کا آغازبھی 1947ء کے آخری مہینوں میں ہو گیا تھا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ اگر پاکستان میں اسلام کا قانون وراثت قائم ہو جائے تو زکواۃ کے نظام کی وجہ سے صدقہ خیرات کیلئے فضا قائم ہو جائے گی اور معاشی عدم مساوات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یوں میاں افتخار الدین کی زرعی اصلاحات اور زمینوں کی تقسیم، زرعی زمین کے فی خاندان یونٹ کو محدود کیا جانا اور متروکہ املاک و کارخانوں کو قومی تحویل میں لینے کی تجاویز کو بنیاد پرستی کی فضا پیدا کر کے رد کیا گیا۔ اس ”اسلامی نظام“ کی تحریک، جو دراصل متروکہ جاگیروں، صنعتوں اور مال و زر پر نظر رکھنے والے ٹوانوں، دولتانوں اور ممدوٹوں وغیرہ کی ضرورت تھی، کو سرکاری آشیر باد حاصل تھی۔ اس موقع پر سامراجی آقا بھی بیدار تھے۔ 22 دسمبر 1947ء کا مانچسٹر گارڈین لکھتا ہے کہ ”پاکستان کے ریڈیکل ازم کی جانب جھکنے کا امکان ہے۔ مسلم لیگ میں ریڈیکل عناصر موجود ہیں۔ جب جناح کا کنٹرول ختم ہو جائے گا تو ان عناصر کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جائے گا۔“ اخبار نے اس موقع پر ریڈیکل عناصر بطور خاص میاں افتخار الدین کے غیر فرقہ وارانہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مسئلہ کشمیر کے بالکل آغازمیں نو مولود ریاست کو لشکر کشی کیلئے مذہب کا کارڈ استعمال کرنا پڑا۔ قبائلی لشکر اور گلگت بلتستان سے جہادیوں کو مذہبی بنیادوں پر استعمال کیا گیا۔ یوں ریاست پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو بھی اوائل سے ہی مذہبی بنیادوں پر دیکھا جاتا رہا۔ حقیقی اور پائیدار حل کے مشقت طلب کام کی نسبت لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے مذہب کا استعمال آسان کام ہوتا ہے۔ یہی وجوہات تھیں کہ نئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی اساس مذہبی نعرے بازی پر رکھی گئی۔ بعد ازاں فرقہ وارانہ سوچ کو گہرا کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً مذہبی فسادات سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے حکمران طبقے کے پاس کوئی الگ سے پرکشش اور عوامی ضرویات کی تکمیل کا نظریہ نہیں تھا۔ آزادی کے تصور کی بٹوارے سے زیادہ کوئی تفہیم نہیں تھی۔ معیشت کو سامراجی غلامی سے نکالنے کی نہ سوچ تھی، نہ ضرورت تھی اور نہ ہی ایسی کوئی اہلیت تھی کہ اس کے مضمرات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکے۔ اسی طرح نئے ملک میں روزگار، تعلیم، صحت، نئی مملکت میں نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کی سوچ کسی بھی سیاست دان کے ایجنڈے کا حصہ نہ تھی۔ ہندوستان سے الگ ہونے کے بعد ملکی معیشت کی تعمیر نو کیسے کی جائے؟ پہلے سوالوں کی طرح اس سب سے اہم سوال کوبھی اقتدار کے ایجنڈے سے باہر ہی رکھا گیا۔ یوں ایک اپاہج معیشت اور طفیلی مملکت کی بنیادیں سامراجی تابعداری کے بدلے میں امداد اور قرض پر استوار کی گئیں۔ مملکت کے خرچے اور حکمران طبقے کی عیاشیاں تو امداد سے چل سکتی ہیں مگر عوام کے مسائل کو فرقہ واریت اور حب الوطنی کے اوزاروں سے حل کرنے کی روش اختیار کی گئی۔ یوں ایک طرف مذہبی جنون اور دوسری طرف تحفظ وطن کے مسائل کو پروان چڑھایا گیا۔ اس عمل میں مذہبی جماعتوں بطورخاص جماعت اسلامی کو استعمال کیا گیا اور بدلے میں تمام تر مراعات اور مالی مفادات دیئے گئے۔ ایوبی آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک پہلی بغاوت تھی جس نے حکمران طبقے کی طے کردہ لائن سے انحراف کرتے ہوئے نئے زاویے سے پاکستان کا تعارف پیش کیا۔ کروڑوں محنت کشوں نے مذہبی و نسلی تقسیم اور جذباتی ڈھکوسلوں کو رد کرتے ہوئے بھوک، افلاس اور دولت کی تقسیم کے سوالوں کو سیاسی و سماجی افق کی جلی سرخی بنا دیا۔ یہ ایک طاقتور تحریک تھی جس کے سامنے مصنوعی نظریات اور جعلی ہتھکنڈے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ریاستی وسائل کا فیڈر پینے والی بنیاد پرستی کا ’طاقتور دیو‘ ایک حقیر بت کی طرح گر کر پاش پاش ہو گیا۔ تمام فتوے، حربے اور حملے محنت کشوں کی یلغار کے سامنے مذاق بن کر رہ گئے تھے۔

اگر اس تحریک کے پاس انقلابی پارٹی اور واضح طور پر سوشلسٹ انقلاب کے اطلاق کا طریقہ کار ہوتا تو یہ حتمی کامیابی سے ہمکنار ہونے کی تمام ترطاقت اور صلاحیتوں سے مالا مال تھی۔ اس کی اسی داخلی کمزوری کافائدہ اٹھا کر انقلاب کی منزل کی جستجو رکھنے والی اس تحریک کو انتخابات کی طرف موڑ دیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ پہلی ’سیاسی مفاہمت‘ تھی جس کااعتراف مرحوم بھٹو نے اپنی کتاب ”اگرمجھے قتل کردیا گیا!“ میں بھی کیا تھا۔ بھٹو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا مددگار اور ساتھی رہا تھا مگر تحریک کے آغازمیں طبقاتی کشمکش کے ایجنڈے کو اختیار کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے مقاصد سے انحراف پر پاکستانی ریاست نے اس کو قرار واقعی سزا دی۔ بھٹوسے بھی نجات کے لئے 1976ء میں ”تحریک لبیک“ سے بڑی بنیاد پرستی کھڑی کی گئی۔ اس کی نظریاتی، تنظیمی اورسیاسی تیاری مقتدر حلقے 1974ء کے قادیانی مسئلے پر فسادات کے ذریعے کر چکے تھے۔ اس کو اگلے سال (مارچ 1977ء) کے انتخابات کے نتائج رد کرنے اور ”تحریک نظام مصطفی“ چلانے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔ یہاں پر نہ صرف دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں مجتمع تھیں بلکہ آج ہی کی طرح نام نہاد بائیں بازو کی چند جماعتیں بھی ”پاکستا ن قومی اتحاد“ (PNA) کا حصہ تھیں۔ بھٹو کے دو تہائی قاتل آج کی پی ڈی ایم میں اور چوتھا حصہ پی ڈی ایم کے مخالف قرار دی جانے والی قوتوں میں پایا جاتا ہے۔ بھٹوسے نجات کے بعد حاکمیت پھر بند گلی میں تھی۔ اس کے پاس بحرانوں کا کوئی حل نہ تھا۔ استعمال شدہ بنیاد پرستی اقتدار میں حصہ داری کیلئے تڑپ رہی تھی۔ اس کے زیادہ تر حصوں کو ضیا الحق نے رد کر دیا۔ ضیا الحق نے جماعت اسلامی کو مزدور یونینوں، طلبہ تحریک اور بنیادی حقوق کی مانگوں کے خلاف استعمال کیا اور سیاسی طور پر بنیاد پرستی کے نعم البدل کے طور پر نئی مسلم لیگ بنا لی۔ جونیجو کے بعد والی مسلم لیگ نظریاتی طور پر اتنی ہی زہریلی تھی جتنی آج کی تحریک لبیک ہے۔ اس مسلم لیگ کو عوامی مینڈیٹ کے خلاف خوب استعمال کیا گیا۔ فرقہ وارانہ ہتھیاروں سے مسلح یہی مسلم لیگ تحریک طالبان کے ساتھی اور مددگار اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اشتراک سے پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو الٹنے کی سازشوں میں ملوث رہی ہے۔ مسلم لیگ کے بھرپور استعمال سے اس کی قیادت کو اپنے ناگزیر ہونے کے زعم نے راندہ درگاہ کرا دیا۔ ماضی میں امریکی سامراج کی خواہش اور حکمت عملی کے تحت پاکستانی عسکری اداروں نے افغانستان میں مداخلت کیلئے پراکسی جنگ کا طریقہ کار اختیار کیا۔ اس جنگ کا ایندھن بنیاد پرستی سے اٹھایا گیا۔ یوں ایک بڑی سپاہ کو ناقابل یقین وسائل سے تیار کر کے افغانستان کی بربادی کیلئے جھونک دیا گیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان کو تاراج کرنا بند نہ کیا گیا۔ اپنی تیار کردہ بنیاد پرستی اور اس کے افغان حلیفوں پر مبنی طالبان حکومت قائم کی گئی۔ افغانستان، سعودی عرب، امارات اور پاکستان سمیت مسلمان ممالک کے ایک قابل ذکر حصے کے نزدیک یہ ایک حقیقی اسلامی مملکت تھی۔ مگرتضاد یہ تھا کہ وہ ایک طرف اس حکومت کو تسلیم کرتے اور اس کے نظام کو حقیقی اسلامی نظام قرار دیتے تھے مگر وہ اپنی مملکتوں میں اس نظام کو رائج کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ اسی طرح افغانستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان آبادی والے ممالک کے عوام کی بڑی اکثریت اپنے رہن سہن اور جدید سماجی ضروریات کی وجہ سے اس ماضی کے نظام کی کبھی بھی حمایتی نہیں رہی۔ وہ جدید تمدن کو چھوڑ کر غاروں اور پتھر کی زندگی کی طرف مراجعت کیلئے کسی طور آمادہ نہیں تھے۔

پراکسی جنگ کی پالیسی سے واپس پلٹنے کے باجود لاکھوں کی تعداد میں طالبان، مجاہدین، لشکر، جیش اور مختلف ناموں کے گروہ ”مجھے کام بتاؤ‘ میں کس کو کھاؤں؟“ کے نعرے مارتے پھرتے تھے۔ پھر یہ عفریت ملک کے اندر مذہبی نظام کے قیام کی طرف گامزن ہو گیا۔ سوات میں شریعت قائم کر دی گئی۔ وزیرستان میں انہی کا راج قائم ہو گیا۔ مگر یہ نظام جو قائم کیا گیا تھا وہ نہ تو عوام میں جڑیں رکھتا تھا اور اسی لئے قابل قبول بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس عفریت کے پالن ہار بھی اپنے اس پالتو کو طے شدہ اہداف سے آگے قبول کرنے کیلئے تیارتھے۔ جس مذہبی نظام کو وہ قائم کرنا چاہ رہے تھے اور کچھ جگہوں پر اس کا اطلاق بھی کر چکے تھے وہ جدید طرز زندگی رکھنے والے حکمران طبقے کیلئے کسی طور قابل قبول نہیں تھا۔ جدید معیشت، معاشرت اور سیاست کو ماضی کے اصولوں کے مطابق اگرچلانا ممکن ہوتا تو کم ازکم ایران اور سعودی عرب میں رچائے گئے بنیاد پرستی کے ڈھونگ سماجی بنیادیں حاصل کر چکے ہوتے۔ ایرانی ملاؤں کا رد انقلاب وہاں کی کمیونسٹ پارٹی (تودہ پارٹی) کی نظریاتی کمزوریوں اور طریقہ کار کے سقم پر استوار ہو سکا ہے۔ یہ تودہ پارٹی ہی تھی جس کی محنت کشوں میں بے پناہ مقبولیت اور طاقت نے شاہ ایران کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ ورنہ ملائیت کسی طور بھی شاہ ایران کی حکمرانی ختم کرنے کے قابل نہیں تھی۔ ایران میں جبر اور تشدد سے مذہبی ریاست کا مصنوعی تاثر قائم کیاگیا۔ وہا ں پر’ٹنوں‘ کے حساب سے کتابیں لکھنے کے باوجود ایرانی ملاں منڈی کی معیشت کا مذہبی متبادل تیار نہیں کر سکے۔ سعودی بادشاہت کا سارا مذہبی کھیل اب اپنے انت پر ہے۔ مگر اپنے عروج پر بھی سوائے سزاؤں کے ایران اور سعودی عرب اپنے اپنے سماجوں کو آگے بڑھنے یا دنیا سے مسابقت کا کوئی بنیاد پرستانہ راستہ نہیں دے سکے۔ ملاں سماجی طور پر بھی کچھ زیادہ بدل نہیں سکے۔ ان کے پاس موجودہ عہد میں کوئی متبادل اور قابل عمل پروگرام نہیں ہے۔ مادی ضروریات کو مادی بنیادوں پر ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ فقط عقائد، نعروں، جذباتیت اور عہد وسطیٰ کی اخلاقی قدروں کو جبری طور پر استوار کرنے سے بحران بڑھتا اور پروان چڑھتا رہتا ہے۔ اگر باہر نہ نکل سکے تو زیر زمین زلزلوں کو پالتا رہتا ہے۔ ایران کے رد انقلاب کے اقدامات سطحی اور مصنوعی اقدامات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ عورتوں پر کالے برقعے چڑھا دیئے گئے مگر جینز کا پہناوا ترک نہیں کروا سکے۔ غربت اور بھوک نے جسم فروشی کو فروغ دیا۔ منافقت پر مبنی خارجی جنگوں اور سامراجی حکمت عملی کے ذریعے ایرانی عوام کو یرغمال بنا کر ان کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ بدترین سزائیں، تشدد اور قید و بند ایران جیسی وحشی ملائیت پر مبنی ریاست میں بار بار ابھرنے والی بغاوتوں کو کچلنے سے قاصر ہیں۔ سینکڑوں مظاہرین کے ہر قتل عام کے بعد پھر سے لوگوں کا علم بغاوت بلند کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ لوگوں نے اگر زندہ رہنا ہے توماضی کی بجائے ان کو مستقبل کے راستوں پر گامزن ہونا پڑے گا۔ جدید عالمی منڈی کے اصولوں کے سامنے عہد قدیم کی سادہ اور مختصر سی معیشت کے طریقوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آج کی معاشرت کے تقاضے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہی پورے کیے جا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے سب سے پہلے سائنس کے بنیادی اصولوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو سب سے پہلے اعتقاد اور طے شدہ تصورات سے ٹکراتے ہیں۔ بنیاد پرستی کی سماج میں جڑیں‘ پرسکون پانی پر جمی کائی اور خس و خاشاک کی طرح ہوتی ہیں۔ دیکھنے میں یہ بدبودار اور بد وضع منظر پائیدار نظر آتا ہے کیونکہ منظر نامے پر بس یہی ہوتا ہے۔ یہ منظر بہت مستحکم رہتا ہے حتیٰ کہ زور دار پانی کا پہلا ریلہ ہی اس کا نشان ایسے مٹا دیتا ہے گویا اس کا کبھی وجود ہی نہ ہو۔ سماجی ٹھہراؤ سے پیدا ہونے والے خلا کے اپنے مضمرات ہوتے ہیں۔ ایسے ادوار میں ماضی کے توہمات اور پسماندہ نظریات اوپر والی سطحوں پر تیرتے رہتے ہیں۔ بنظر غائر یہی سماج کا تعارف ہوتے ہیں۔ ساکت سماج پر حاوی نظر آنے والے یہ ڈراؤنے سائے اپنے مضمرات مرتب کرتے ہیں، تعفن پھیلاتے ہیں اور اپنی بدبو سے گرد و نواح کے کچھ حصوں کو عادی بھی بناتے رہتے ہیں۔ مگر جب سماجی تبدیلی کی انقلابی تحریکیں اٹھتی ہیں تو پہلی لہر ہی ثابت کر دیتی ہے کہ سماج ویسا بالکل نہیں تھا جیسا بالائی آلودگی سے دکھتا تھا۔ انقلابی تھپیڑے ماضی کے سائے پھیلائے کالے بادلوں کو تحلیل کر دیتے ہیں۔ جیسے ان کا کبھی وجود ہی نہ رہا ہو۔ ظاہریت اور سطحی مظاہر سے مرغوب ہو کر نتائج وضع کرنے کی بجائے مارکس وادیوں کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ زیر زمین پنپنے والے طوفانوں کو بھانپ کر انقلابی راستے ہموار کریں۔ انقلابی قوتوں کو تیار کریں۔ انقلابی تحریکوں کو موضوعی عنصر سے ہم آہنگ ہونے والا لائحہ عمل اور افرادی قوت فراہم کریں۔ سماجی پسماندگی پر مبنی عارضی و لمحاتی ناموافق معروض سے مغلوب ہونے کی بجائے اس کی ساخت، تاریخی متروکیت اور جدید سماج سے قدیم خیالات کے تضادات اور غیر ہم آہنگی کے پیش منظر کی وضاحت کریں۔ مارکس وادیوں کی آنکھیں تاریکیوں سے بصارت کھونے کی بجائے مستقبل کے اجالوں کی کھوج لگانے کا آلہ ہوتی ہیں۔ رکے ہوئے عہد یا بہت ہی سست رو تبدیلوں کے عہد میں سب سے اہم تقاضا استقامت، جرات اور دور تک دیکھنے کی انقلابی بصیرت کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ بالآخر دھول بیٹھ جاتی ہے اور مادی حقائق منظر عام پر اپنے حقائق سمیت سب کو نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی سماج کا تناظر کسی جنازے کے شرکا کی تعداد، عارضی جذبوں یا عقائد پر مبنی اشتعال انگیز ردعمل سے نہیں جانچا جا سکتا۔ کھلی اور پوشیدہ سرکاری اعانت سے پیدا کردہ مظاہر کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ مگر چند لاکھ عقیدت مندوں کے یکجا ہو کر اپنے دکھ کے اظہار کرنے کے مناظر سے پاکستانی سماج کی سرشت اور کیفیت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی جذباتی کیفیات میں بڑے المیے تو جنم دیئے جا سکتے ہیں مگر عہد حاضر اور مستقبل کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔ برصغیر کے بٹوارے کو مذہبی جواز دینے اور اس کی بنیاد پر بیس لاکھ سے زائد انسانوں کے قتل عام کرانے سے لے کر ریاستی پیوند کاری کے باوجود بنیاد پرستی کی جڑیں کبھی بھی پاکستانی سماج میں پیوست نہیں ہو سکیں۔ اس کا اظہار (2002ء کے الیکشن میں پرویز مشرف کی تجربہ گاہ سے نکلنے والی ایم ایم اے کے استثنا کے ساتھ) 1970ء سے لے کر 2018ء کے الیکشن تک ہر نتائج نے سماج میں بنیاد پرستی کی جڑوں کی نفی کی ہے۔ تمام تر مختلف الانواع مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی اور قومی مظاہر اور قومی جمہوری انقلاب کی عدم وقوع پذیری کے باوجود پاکستان کا سماج 21ویں صدی کے پیداواری رشتوں سے پیوستہ ہے۔ اس کو سینکڑوں سال پرانی معاشرت میں لے جانے کیلئے بہت شدید قتل و غارت گری درکار ہے۔ ماضی کے زمانوں میں مراجعت کے لئے عہد حاضر کی تمام معاشی، اقتصادی اور تجارتی بنیادوں کو مسمار کر کے ایسا کھنڈر بنانا ضروری ہے جہاں زندگی کی بجائے موت کے فلسفے کو اولیت دی جا سکے۔ ایسا ہونا کافی مشکل ہے۔ اگر سماجوں کی ہیئت قطعی طور پر ریاستی اہلکاروں اور حکمران طبقے کی خواہشات کے مطابق وضع ہوتی یا جامد رہتی تو پھر جدلیات کا فلسفہ بے معنی ہو جاتا۔ یہاں اہم پہلو یہ ہے کہ بنیاد پرستی کی سماج میں جڑیں تو درکنار اس عفریت کو ابھارنے والے حکمران دھڑوں کا اپنا رہن سہن تک قدامت کے نظریات سے بہت دور اور جدید غیر مذہبی معاشرت سے مرصع و ہم آہنگ ہے۔ ان کی زندگی اور اس کے لوازمات مذہبی طرز زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر قدامت اور جدت کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو پہلا میدان جنگ ان اعلیٰ افسروں کے گھر بنیں گے جن کی اعانت و مدد سے ملائیت آکسیجن لیتی ہے۔ مگر یہ تناظر بہت ہی موہوم اور ناممکن کے قریب ہے۔ 21ویں صدی کو گھسیٹ کر ماضی میں لے جانا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی معدودے کوشش جاری ہے۔ پاکستان کے محنت کش طبقے کو اپنی بقا، ترقی اور آزادی کیلئے پیچھے کی بجائے آگے بڑھنا ہے۔ اس سفر میں ٹھٹھرے اور شکستہ سرمایہ داری نظام کو پھلانگ کر اگلے نظام کی طرف مراجعت کی ضرورت ہے۔ یہ نظام آگے بڑھنے کی سکت کھو کر کچھ لوگوں کو پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ پیچھے مڑ کر جتنا بھی دیکھا جائے‘ ماضی میں جا کر رہنا ممکن نہیں ہے۔ نسل انسان کو ہر حال میں آگے کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ خواہش کا مسئلہ نہیں بلکہ زندہ رہنے کی مجبوری کا اٹل قانون ہے۔