لال خان

(2014ء میں لکھا گیا کامریڈ لال خان کا مضمون بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی برسی کے موقع پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے)

  23 مارچ کا دن برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدوجہد کے کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ تاہم اس دن سے وابستہ ایک اہم تاریخی واقعے کو حکمران طبقے کے تاریخ دان دانستہ طور پر چھپاتے یا مسخ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان اور پاکستان، دونوں ریاستوں کے سرکاری تاریخ دانوں کا کردار ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ 23 مارچ ’’ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن ایسوسی ایشن‘‘ (HSRA) کے پرچم تلے برطانوی سامراج اور اس کے استحصالی سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے 23 سالہ انقلابی نوجوان بھگت سنگھ اور اس کے جرات مند ساتھیوں سکھ دیو اور راج گرو کی شہادت کا دن ہے۔ علم بغاوت بلند کرنے والے ان تینوں انقلابیوں کو برطانوی سامراج نے 23 مارچ 1931ء کی تاریک رات میں لاہور جیل کے پھانسی گھاٹ کے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔

آج ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) سے وابستہ نوجوانوں کی جدوجہد کو پاکستان اور بھارت کا کارپوریٹ میڈیا اور حکمران طبقے کے مختلف دھڑے اپنے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے تحت مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا مذہبی دایاں بازو بھگت سنگھ کو کافر اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے۔ بھگت سنگھ کے حقیقی نظریات کو بگاڑنے کے لئے اس کے سکھ پس منظر کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ دائیں بازو کے سیاست دان تحریک آزادی میں بھگت سنگھ کے کردار کو اس لئے بھی مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس کی جدوجہد اور نظریات آج بھی برصغیر کے محنت کش عوام کو اس غیر انسانی استحصالی نظام کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر یکجا ہوکر لڑنے کا پیغام دیتے ہیں۔ سیاسی دایاں بازو اور مذہبی بنیاد پرست اس گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کے سب سے بڑے حمایتی اور خیر خواہ ہیں۔ ایچ ایس آر اے کے انقلابیوں نے برطانوی راج کی برصغیر پر براہ راست حکمرانی کے ساتھ ساتھ اس سامراجی نظام کے خلاف بھی جدوجہد کا پیغام دیا تھا جو ’’آزادی‘‘ کی چھ دہائیوں بعد بھی سرحد کے دونوں اطراف عوام کو معاشی غلامی اور استحصال کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ وہ جرم ہے جسے سامراجی آقا اور ان کے مقامی دلال کبھی معاف نہیں کرسکتے۔

بھارتی حکمران طبقے کی جانب سے بھگت سنگھ کی بالواسطہ کردار کشی یہاں کی نسبت زیادہ افسوسناک ہے۔ یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ کچھ مہینے پہلے درندہ صفت ہندو بنیاد پرست اور بھارتی سرمایہ داروں کے محبوب سیاستدان نریندرا مودی کو بھگت سنگھ کی آپ بیتیوں پر مبنی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اپنی شہادت کی سات دہائیوں بعد بھی بھگت سنگھ نوجوانوں میں مقبول ہے اور دایاں بازو اسی مقبولیت کو کیش کروانے کی کوشش کررہا ہے۔ دائیں بازو کی طرح کانگریس اور اصلاح پسند بایاں بازو بھی ’’تبدیلی‘‘ کی لفاظی اور سیاسی شعبدے بازی کے لئے بھگت سنگھ کے نام کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن حکمران طبقے کے مختلف حصوں کی یہ بیہودہ چالبازیاں بھگت کے حقیقی نظریاتی ارتقا پر پردہ نہیں ڈال سکتی ہیں۔ موت کے وقت وہ اپنی سیاسی زندگی کے اس نظریاتی نچوڑ اور نتیجے پر چٹان کی طرح قائم تھا کہ برصغیر کے عوام کی نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔

اپنی تحریروں میں بھگت سنگھ واضح طور پر طبقاتی مصالحت اور موقع پرستی کو مسترد کرتا ہے۔ ’’انقلابی پرگرام کا بنیادی خاکہ: نوجوان سیاسی کارکنان کے نام ایک خط‘‘ میں وہ واضح طور پر لکھتا ہے کہ ’’آپ لوگ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس نعرے کا مطلب کیا ہے۔ ہماری تعریف کے مطابق انقلاب کا مطلب اس سماجی نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ نظام قائم کرنا ہے…  اگر آپ کسانوں اور مزدوروں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ جان لیجیے کہ وہ جذباتی باتوں سے بیوقوف بننے والے نہیں۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ جس انقلاب کے لئے آپ ان سے قربانی مانگ رہے ہیں وہ انہیں کیا دے سکتا ہے؟ آپ کو انہیں یقین دلانا پڑے گا کہ انقلاب ان کا ہے اور انہی کے فائدے کے لئے ہے۔ پرولتاریہ کے لئے پرولتاری انقلاب…  اگر لارڈ ریڈنگ کی جگہ سر پرشوتم داس ٹھاکر حکومت کا نمائندہ بن جائے تو عوام کی زندگیوں میں کیا فرق پڑے گا؟ اگر لارڈ ارون کی جگہ سر تیج بہادر سپارو لے لے تو ایک کسان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ قوم پرست سراسر ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ آپ کو ان سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔‘‘ (2 فروری 1931ء)

بھگت سنگھ اخباری مضامین اور سیاسی اشتہاروں میں مہاتما گاندھی کی عیاری اور جھوٹ کو بھی بے نقاب کرتا ہے: ’’وہ (گاندھی) اچھی طرح جانتا تھا یہ تحریک کسی نہ کسی طرح مصالحت پر ہی منتج ہوگی۔ ہمیں سیاسی ذمہ داری کے اس فقدان سے نفرت ہے۔‘‘ کانگریس کے بارے میں وہ لکھتا ہے: ’’کانگریس کا مقصد کیا ہے؟ میں نے پہلے کہا ہے کہ موجودہ تحریک کسی مصالحت یا مکمل ناکامی پر ختم ہوگی۔ میں نے ایسا اس لئے کہا تھا کہ حقیقی انقلابی قوتوں کو تحریک میں شامل ہونے کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ اس تحریک کی بنیاد چند ایک مڈل کلاس دکاندار اور کچھ سرمایہ دار ہیں۔ یہ دونوں طبقات اپنی جائیداد کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ انقلاب کی حقیقی افواج دیہاتوں اور فیکٹریوں کے کسان اور مزدور ہیں۔ یہ سوتے ہوئے شیر اگر جاگ گئے تو ہمارے سیاسی رہنماؤں کا فوری مقصد پورا ہونے کے بعد بھی رکیں گے نہیں۔‘‘ بھگت سنگھ کے یہ الفاظ اس وقت سو فیصد درست ثابت ہوئے جب بمبئی میں کپڑے کی صنعت کے محنت کشوں کی جرات مندانہ تحریک کے بعد گاندھی نے انقلاب کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیاسی مقاصد کے لئے پرولتاریہ (مزدوروں) کا استعمال بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ ایک بیان گاندھی جیسے مقامی حکمران طبقے کے سیاسی نمائندوں کی برصغیر کے محنت کش طبقے سے نفرت اور خوف کی خوب غمازی کرتا ہے۔

یہ درست ہے کہ ایک وقت میں بھگت سنگھ ’’غدر تحریک‘‘ سے بہت متاثر تھا اور کرتار سنگھ سرابھا کو اپنا ہیرو سمجھتا تھا۔ غدر تحریک کے اندرونی حالات پر مبنی سچندرا ناتھ سنیال کی کتاب ’’بندی جیون‘‘ کو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی لاہور کے نیشنل سکول میں طالب علمی کے عہد میں پڑھتے تھے۔ یہ نوجوان غدر تحریک پر 1918ء میں برطانوی حکومت کی ’’رولٹ کمیٹی‘‘ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ پر بھی تبصرے کرتے تھے۔ بھگت سنگھ غدر پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملا بھی تھا۔ غدر پارٹی کا سیکولر نظریہ بھگت سنگھ کی نظر میں مذہبی اورصوفیانہ طرز فکر سے بہتر تھا۔ تاہم بعد ازاں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے غدر تحریک کی ناکامی کے پیچھے کارفرما سیاسی اور نظریاتی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے نیا لائحہ عمل مرتب کیا۔ ستمبر 1928ء میں ’’ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن‘‘ کے نام میں ’’سوشلسٹ‘‘ کا اضافہ بنیادی نظریاتی تبدیلی کا اظہار تھا۔ ایسوسی ایشن کے کانپور میں ہونے والے اجلاس میں بھگت سنگھ نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا بنیادی فریضہ عوام سے جڑنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔‘‘

پنجاب سٹوڈنٹس کانفرنس کے نام بھگت سنگھ اور بی کے دت کا پیغام انتہائی اہم ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’ہم نوجوانوں کو پستول اور بم چلانے کا نہیں کہہ سکتے۔ نوجوانوں کو دیہاتوں اور صنعتی مراکز کی جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بیدار کرنے کا تاریخی فریضہ سرانجام دینا ہے۔‘‘ 2 فروری 1931ء کے خط میں ہی بھگت سنگھ لکھتا ہے کہ ’’میں نے اپنے سابقہ نظریات اور عقائد کا ازسر نو جائزہ لے کر کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ پرتشدد طریقوں کے رومانس کی جگہ اب سنجیدہ نظریات نے لے لی ہے۔ تصوف اور اندھے یقین کو ختم کرنا ہوگا۔ انقلابی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سوشلسٹ سماج انسانی نجات کی واحد ضمانت ہے۔‘‘

اس نام نہاد آزادی کے 67 سال بعد برصغیر میں آباد نسل انسانی کے بیس فیصد حصے کی حالت 1947ء سے بھی بدتر ہے۔ اس ذلت اور محرومی سے رہائی کا راستہ بھگت سنگھ اور اس کے کامریڈ بہت پہلے ہی دکھا چکے ہیں!