حکمرانوں نے جوا مداد حاصل کی وہ ایک ایسا زہر ِ قاتل تھی جس سے پاکستانی معیشت مسلسل سامراجی جکڑ میں دھنستی چلی گئی۔
تجزیہ
بارانِ رحمت‘ زحمت کیوں؟
بارش کا پہلا قطرہ زمین کو چھوتا ہے اور مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
کشمیر کے سوداگر
المیہ یہ ہے کہ 72 سال بعد بھی یہاں پر ایک سامراجی طاقت کے جارح، مغرور، نسل پرست اور ناقابلِ اعتماد حکمران سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔
بیرونی سرمایہ کاری: تریاق یا زہر؟
ان کارپوریشنوں نے محنت کشوں کا خون پسینہ نچوڑ کر دولت کے انبار لگائے ہیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔
کشمیر کب تک سلگتا رہے گا؟
جس آگ میں کشمیر کے محنت کشوں کا لہو جل رہا ہے، سامراجی منافع خوری اور برصغیر کے حکمرانوں کا تسلط اس طرح سے بہتر ہو رہی ہے۔
تعلیم کا کاروبار
ماضی میں جن مقاصد کے لئے تعلیم کو اتنی اہمیت حاصل تھی آج کے موجودہ عہد میں تعلیم کی افادیت اور وہ مقاصد اب نظر نہیں آتے۔
کرہ ارض پہ سرمائے کا کہرام!
مسئلہ یہ ہے کہ دولت کا یہ نظام مزید چلنے کی سکت نہیں رکھتا اور لہو بہا کر اس کو زبردستی عوام پر مسلط کیا جارہا ہے۔
عوام کی عدالت سے فرار!
ایک تماشا لگا ہواہے جس کے گرد ریٹنگ بنتی ہے اور ٹیلی ویژن چینلوں کے اداکاروں کو صحافی اور سیاستدان بنانے کے معیار طے کرتی ہے۔
معراج محمد خان کی جدوجہد!
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے ہمیشہ ہار ماننے سے انکار کیا۔
دربارِ ٹرمپ میں….
معاشی امداد کی استدعا بھی کی جائے گی، چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور سی پیک پر بھی پوچھ گچھ ہوگی۔
جب نظام ہی متروک ہو !
مروجہ دانش اپنی محدود سوچ اور تناظر کی وجہ سے کسی دور رس حل یا تناظر کو تخلیق کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
مسئلہ کشمیر: انقلابی حل کیا ہے؟
مسئلہ کشمیر دونوں سرکاروں کی لوٹ مار کا سب سے بڑا جواز ہے۔
تعلیم پر’ تبدیلی‘ کا وار
طلبہ اپنے اوپر لگائے جانے والے ان گھاوکا حساب ضرور لیں گیں۔
ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں!
جبر نظام کی طاقت نہیں اس کی کمزوری کی غمازی کر رہا ہوتا ہے۔
معاشی دہشتگردی
ہر اعشاریہ معیشت کی شدید بحرانی کیفیت کی غمازی کر رہا ہے۔















