مسئلہ کشمیر دونوں سرکاروں کی لوٹ مار کا سب سے بڑا جواز ہے۔
دنیا
ایران، امریکہ جنگ کے امکانات اور مضمرات
ٹرمپ کی یہ قلابازیاں دراصل امریکی سامراج کی کم اعتمادی اور تذبذب کی عکاسی کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ تاراج کیوں؟
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ماضی کی سامراجی پالیسیوں کا ناگزیر نتیجہ ہے۔
پاک بھارت تعلقات کی پیچیدگیاں!
پچھلی کچھ دہائیوں سے کھلی جنگ کی بجائے ”حالت جنگ“ کی پالیسی کو پروان چڑھایا گیا ہے۔
ایٹمی طاقتوں کی مفلسی
ہر ریاست کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے: قومی جنون کو ابھار کر طبقاتی کشمکش کو کچلنا۔
جنوبی افریقہ: حکمرانوں کا رنگ بدلا‘ کردار نہیں!
حالات کیخلاف غم و غصہ سب سے زیادہ نئی نسل میں پایا جاتا ہے۔
ہندوستان کے انتخابات میں ”بھارت“ کی جیت
یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ بی جے پی کی حکومت موقع پرستانہ انداز میں اپنے فوری مفادات کے تقاضوں کے مطابق اپنی نعرہ بازی تبدیل کرتی رہے گی۔
مذہبی دہشت گردی کا معمہ
سرمایہ دارانہ نظام کے عمومی زوال خصوصاً 2008ءکے معاشی بحران کے بعد سے نہ صرف مغربی سماجوں میں معاشی محرومی اور مشکلات بڑھی ہیں بلکہ سماجی بیگانگی بھی ناگزیر طور پر شدت اختیار کر گئی ہے۔
سوڈان: بربادیوں کی کوکھ سے ابھرتا انقلاب
مظاہرین کا سب سے اہم نعرہ تھا، ”ہم اپنے لہو سے انقلاب کی حفاظت کریں گے۔“
ہندوستان: الیکشن یا پیسے والوں کی ’سلیکشن‘؟
انتخابات میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں کا معاشی پروگرام عملاً ایک ہی ہے۔
کرائسٹ چرچ کا قاتل کون؟
اِس مذہبی و نسلی جنون، جو وقتاً فوقتاً دہشت گردی کی شکل اختیار کرتا ہے اور اپنے مخالف جنون پر پلتا ہے، کا فائدہ کس کو ہوتا ہے؟
’ہندوتوا‘ کی سیاسی معاشیات
مذہبیت کی زیادہ تر سماجی بنیادیں درمیان میں موجود تیس پینتیس کروڑ کی مڈل کلاس میں پائی جاتی ہیں جس کے وسیع ہجم اور ثقافتی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہندوتوا کا غلبہ بظاہر زیادہ لگتا ہے۔
جنگی حالات کیوں اور کب تک؟
’جنگیں ان سیاسی نظاموں سے ناقابلِ علیحدگی ہیں جو انہیں جنم دیتے ہیں۔‘
کشمیر کا المیہ!
وقتی خلل یا رکاوٹوں کے باوجود حکمران اس بغاوت کو کمزور اور بے سمت نہیں کر سکتے۔
امریکہ طالبان مذاکرات کا سراب
اتنی بربادی اور تباہی پھیلانے کے بعد یہ ’’مذاکرات‘‘ کروڑوں متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔















