مذہبیت کی زیادہ تر سماجی بنیادیں درمیان میں موجود تیس پینتیس کروڑ کی مڈل کلاس میں پائی جاتی ہیں جس کے وسیع ہجم اور ثقافتی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہندوتوا کا غلبہ بظاہر زیادہ لگتا ہے۔
مزید پڑھیں...
جنگی حالات کیوں اور کب تک؟
’جنگیں ان سیاسی نظاموں سے ناقابلِ علیحدگی ہیں جو انہیں جنم دیتے ہیں۔‘
فروری 1946ء کی گمنام بغاوت
اِس انقلاب کی فتح تاریخ کے دھارے کو موڑ سکتی تھی۔
کشمیر کا المیہ!
وقتی خلل یا رکاوٹوں کے باوجود حکمران اس بغاوت کو کمزور اور بے سمت نہیں کر سکتے۔
امریکہ طالبان مذاکرات کا سراب
اتنی بربادی اور تباہی پھیلانے کے بعد یہ ’’مذاکرات‘‘ کروڑوں متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
سانحہ ساہیوال: سفاک حاکمیت کے اندھے ضابطے!
جبر کے اداروں کی وردیوں کے رنگ بدلنے یا کوئی دوسری نام نہاد اصلاحات کرنے سے وہ ’’عوام دوست‘‘ نہیں بن سکتے۔
تعلیمی اداروں میں بڑھتے جبر سے کیسے لڑا جائے؟
اتنی پولیس اب تھانوں میں نہیں ہوتی جتنی تعلیمی اداروں میں گھسا دی گئی ہے۔
اعتراف!
قاضی فائز عیسیٰ جیسے نسبتاً سنجیدہ جج نے یہ انتہائی ریڈیکل فیصلہ اس نظام کے خلاف نہیں بلکہ اسے ٹھیک کرنے کے لئے دیا ہے۔
’’تبدیلی‘‘ کا دیوالیہ پن
عمران خان نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے بنفس نفیس بیل آؤٹ ’پیکیج‘ کی بھیک مانگی ہے…
بدحواس سامراج
یہ سامراجی اس قدر بدحواس اور پاگل ہو چکے ہیں کہ تاریخ سے کچھ سیکھنے کی اہلیت ہی کھو چکے ہیں۔
ایسنشل سروسز ایکٹ کا نفاذ، ظلمتوں کا نیا راج
یہ واردات نجکاری کے اُس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے جاری ہے جو موجودہ حکومت ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑے پیمانے پہ کرنے کے لئے پر تول رہی ہے۔
وینزویلا ایک بار پھر سامراجی یلغار کی زد میں
یہ سامراجی بوکھلاہٹ، ضد اور ہٹ دھرمی کے عالم میں اتنے آگے آگئے ہیں کہ انتہائی اقدامات کی جانب بھی جاسکتے ہیں۔
سعودی عرب: تنخواہوں سے محروم محنت کشوں کے احتجاج پر پولیس فائرنگ سے آٹھ زخمی، سینکڑوں گرفتار، پاکستانی حکام خاموش
سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں سرکاری آئل کمپنی سعودی آرامکو کے تعمیراتی منصوبہ کی کنٹریکٹنگ کمپنی ازمیل کنٹریکٹنگ کمپنی کیلئے کام کرنے والے محنت کشوں کی یہ تیسری بڑی ہڑتال تھی۔
پانی کا سوال
پاکستان ان چند ممالک میں سرِفہرست ہے جہاں پانی کا بحران آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرتا جائے گا۔
امریکی فوجوں کا انخلا: زوال پذیر سامراج کی عسکری پسپائی
ہنستے بستے سماجوں کا بیڑا غرق کرنے کے بعد یہ سامراجی خود دم دبا کے بھاگ رہے ہیں۔















