ادب بچوں کا کھیل نہیں اور ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج‘ غالبؔ کے اس نکتے سے واقف تھے۔ وہ تو بھلا ہو کہ غالب پر مارکس وادی ہونے کا الزام نہیں‘ ورنہ اس کو بھی ترقی پسند اور نعرہ باز کہہ کر رد کر دیا جاتا۔
تبصرے
مارکسی فلسفہ اور ادب
ادب کو تازہ زمانوں کا معمار ہونا چاہئے۔ یہ سماجی تضادات کے اظہار کا وسیلہ ہے۔ اپنے عہد کی زندگی کا عکس بھی ہے۔ اور محض عکس ہی نہیں ہے۔ نئے سماج اور نئے صبح و شام کی تعمیر و تشکیل کا اوزار بھی ہے۔
’انقلابی سوڈا‘
کوک سٹوڈیو کے صوفی میوزک پر تھرکتی ہوئی مڈل کلاس اب اس بات پہ شاد نظر آتی ہے کہ اس نے ریاست کے ’استحصالی طبقات‘ کو ووٹ کے ذریعے شکست دے دی ہے۔۔۔



