لاہور (آر ایس ایف) ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام 23 مارچ 2022ء کو بھگت سنگھ کی 91 ویں برسی کے موقع پر زیر انتظام جموں کشمیر سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ رپورٹ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:

کراچی

کراچی (حاتم خان) برصغیر کے بہادر اور عظیم انقلابی سپاہی شہید بھگت سنگھ کی 91 ویں برسی کے موقع پر ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے ارتقا انسٹیٹیوٹ میں سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مرشد میڈیکل کالج، ڈاؤ یونیورسٹی، لیاری یونیورسٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو لا کالج سے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ مجموعی طور پر سیمینار دو سیشنوں پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں بھگت سنگھ کی زندگی پر بنی فلم ”دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ“ دیکھی گئی۔

اس کے بعد دوسرے سیشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جس کو چیئر دانش زؤنر نے کیا۔ شرکا کو ویلکم کرتے ہوئے پروگرام کی ابتدا عبدالرزاق بگھیو نے اپنی تقریر سے کی جس کے بعد بحث کو آگے بڑھایا گیا۔ بحث میں فرحہ، ذکا، ریاض بلوچ، ماجد میمن اور کراچی آر ایس ایف کے صدر فیاض چانڈیو نے حصہ لیا جس میں انہوں نے بھگت سنگھ کی زندگی کے واقعات اور نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھگت سنگھ انقلاب کا بے خوف سپاہی تھا جس نے برطانوی سامراج کی پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کا اصل چہرا لوگوں کے سامنے عیاں کیا اور اس وقت کے سیاسی و سماجی اجتماعی پروگرام میں اپنے سیاسی لیفلٹ اور نعروں کے ساتھ مداخلت کی۔ یہاں تک کہ اپنی بات انگریز سامراج کو سنانے اور سوشلسٹ انقلاب کے لیے ہنسی خوشی اپنی زندگی قربان کر دی۔ ہمیں بھگت سنگھ کی اس جدوجہد سے سیکھنا چاہئے۔ وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور برصغیر کے اس عظیم انقلابی کا مشن آگے بڑھاتے ہوئے اس خطے میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کے لیے ہمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ پروگرام کا باقاعدہ اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔

جامشورہ

جامشورو (زارا چانڈیو) آزاد ہاؤس جامشورو میں آر ایس ایف کے زیر اہتمام بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی 91 ویں برسی کے موقع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں آر ایس ایف سمیت دیگر ساتھی تنظیموں کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

پروگرام کی چیئر کے فرائض آر ایس ایف حیدر آباد کے فنانس سیکرٹری راہول ڈیسر اور آر ایس ایف سندھ یونیورسٹی کی سینئر نائب صدر سحر نے سر انجام دیے۔

آر ایس ایف حیدر آباد کے صدر نواب چانڈیو نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے بھگت سنگھ اور اسکے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کامریڈ بھگت سنگھ برصغیر کے نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی نظریاتی و عملی جدوجہد ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔

سہیل چانڈیو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھگت سنگھ کی موت کا ذمہ دار صرف برطانوی سامراج نہیں بلکہ یہاں کا مقامی دلال حکمران طبقہ بھی اس قتل میں برابر کا شریک ہے۔

ونود نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بھگت سنگھ نوجوانوں کے لیے مثال ہیں۔ نوجوانوں کو اسے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نظام چانڈیو، حاجی شاہ، شیراز پتوجو، ساجد شاہ اور دیگر ساتھیوں نے بھگت سنگھ کی عظمت اور نظریاتی پختگی پر روشنی ڈالی۔

آر ایس ایف سندھ یونیورسٹی کے صدر فیصل مستوئی نے بھگت سنگھ کے افکار اور نظریات پر تفصیلاً بات رکھی جس میں انہوں نے کہا کہ 23 سال کی عمر میں شہادت نوش کرنے والا بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی کھوکھلے یا جذباتی انقلابی نہیں تھے بلکہ بھگت سنگھ نے مارکس، لینن اور ٹراٹسکی کے انقلابی نظریات کو نہ صرف سمجھا بلکہ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن آرمی کی صورت میں ایک سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کی۔ وہ کسی قوم یا نسل کی آزادی کی جدوجہد نہیں کر رہے تھے بلکہ محکوموں و محروموں اور محنت کش طبقے کی نجات کی جہدوجہد کر رہے تھے۔ اب یہ فریضہ ہم لے کر آگے بڑھیں گے اور حقیقی معنوں میں بھگت سنگھ کے مشن کی تکمیل کریں گے۔ اکرم مصرانی نے پروگرام کا اختتام کیا۔

کے این شاہ

کے این شاہ (عیسیٰ) ریولوشنری اسٹوڈنٹ فرنٹ کی طرف سے شہید بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں سکھ دیو اور راج گرو کی 91 ویں یوم شہادت کے موقع پر ان کی انقلابی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے لیے لیکچر پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس کو چیئر عیسیٰ نے کیا اور لیکچر کار صدام مصطفی تھے۔ پروگرام کا آغاز بشیر ببر نے انقلابی نظم سے کیا۔

صدام نے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی برطانوی سامراج کے جبر اور ظلم کے خلاف انقلابی جدوجہد کو تفصیل سے بیان کیا اور برصغیر کے بٹوارے اور آج کے بھارت اور پاکستان کی موجودہ صورتحال پہ بھی روشنی ڈالی۔ کامریڈ نے مزید کہا کہ بھگت سنگھ کی جدوجہد آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ لیکچر کے بعد اعجاز ببر اور پورہیت مزاحمت کے رکن ماجد بگھیو نے بحث میں حصہ لیا۔ عزیز عبدالرؤف نے انقلابی گیت پیش کیا۔ صدام نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پروگرام کا سم اپ کیا۔ پروگرام کا باقاعدہ اختتام محنت کشوں کے عالمی ترانے سے کیا گیا۔

بھان سید آباد

بھان سید آباد (بدرالدین پنہور) ریولوشنری اسٹوڈنٹس فرنٹ اور بیروزگار نوجوان تحریک کی طرف سے بھان سید آباد میں شہید بھگت سنگھ اور ان کے انقلابی ساتھیوں راج گرو اور سکھ دیو کی برسی کی مناسبت سے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے بدرالدین پنہور، اقبال میمن، پریل حیدر چنہ، حسنین جویو اور انور پنہور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد برصغیر میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے جدوجہد تھی۔ اس کا سارا زور سوویت یونین کی طرح ہندستان میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا تھا۔ اس لیے انہوں نے گاندھی کی کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کو مسترد کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کا نعرہ بلند کیا تھا کیونکہ وہ اس انقلاب کی بدولت یہاں کے محنت کشوں اور کسانوں کو معاشی اور سماجی آزادی دلانا چاہتے تھے۔ آخر میں سوال جواب کی بھی نشست ہوئی، جس میں نوجوانوں نے بڑی دلچسپی سے حصہ لیا۔

سیالکوٹ

سیالکوٹ (ایاز ٹیپو) تاریخ کے کچھ ابواب، حکمرانوں اور ان کے گماشتوں کے لیے بھیانک خواب کے مانند ہوتے ہیں، جن کو صفحات سے کھرچ دیا جاتا ہے یا انقلابی نظریات کو، بے ضرر شبیہ بنا کر، کند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سردار بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو، برصغیر کی انقلابی تاریخ کے ایسے ہی کردار ہیں۔

23 مارچ 1931ء کا دن، ان تینوں انقلابیوں کی شہادت کا دن ہے۔ لہٰذا اس دن کی مناسبت سے، سیالکوٹ میں ایک یاد گاری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں فیکٹری کے محنت کشوں سمیت کالج، اور یونیورسٹی کے دوست شریک ہوئے۔

شرکا نے بھگت سنگھ، راج گرو، سکھ دیو اور ہندوستان سوشلسٹ رپبلیکن آرمی کے کردار اور سیاسی پروگرام پر سیر حاصل بحث کی اور ان انقلابیوں کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کیا۔ شرکا کا مزید کہنا تھا کہ یہ انقلابی کردار تمام انقلابیوں کی میراث ہیں، جو سرخ سویرے کے حصول میں مشعل راہ ہیں۔

آخر میں محنت کشوں کا عالمی ترانہ گا کر نشست کو، اس عہد کے ساتھ برخاست کیا گیا کہ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کو منطقی انجام تک جاری رکھا جائے گا۔

لاہور

 بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کی 91 ویں برسی پر، پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے پاک ٹی ہاؤس لاہور میں ”بھگت سنگھ اور اس کی طبقاتی جدوجہد“ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں آر ایس ایف کے وفد نے شرکت کی اور انقلابی رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام میں کامریڈ ڈاکٹر طاہر شبیر نے بھگت سنگھ کی زندگی پر مفصل مضمون بھی پیش کیا۔

لائل پور (حویلی سردار بھگت سنگھ)

لائل پور (ادیبہ) شہید بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی 91 ویں برسی کے موقع پر ”طبقاتی جدوجہد“ کے وفد نے شہید بھگت سنگھ کے آبائی گھر کا دورہ کیا اور انقلابی شہید کو خراج تحسین پیش کیا۔

ادیبہ نے بھگت سنگھ کے گھر ان کو خراج تحسین پیش کرنے آئے افراد میں طبقاتی جدوجہد کا پرچہ بھی فروخت کیا۔

کامریڈز نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے اسے ایک سوشلسٹ انقلاب کے حصول تک جاری رکھنے کا عزم بھی کیا۔

اسلام آباد/راولپنڈی

راولپنڈی (رجیش کمار) آر ایس ایف اسلام آباد/راولپنڈی نے 23 مارچ کو عظیم انقلابی بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی 91 ویں برسی پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ کامریڈز نے ان کی مزاحمت کو یاد کیا اور عہد کیا کہ بھگت سنگھ کی جدوجہد سوشلسٹ انقلاب تک جاری رہے گی۔

مظفر آباد

شہید بھگت سنگھ، راج گورو اور سکھ دیو کی برسی کے موقع پر جے کے این ایس ایف آفس میں ’برصغیر کی تقسیم‘ کے عنوان سے نشست کا انعقاد کا انعقاد کیا گیا اور عہد کیا گیا کہ بھگت سنگھ کی جدوجہد کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

راولاکوٹ

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام بھگت سنگھ، راج گورو اور سکھ دیو کی برسی کے موقع پر ”برصغیر میں نوجوانوں اور محنت کشوں کی جدوجہد“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

کھائیگلہ

بھگت سنگھ کی 91 ویں برسی کے موقع پر جے کے این ایس ایف کی جانب سے بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد اور برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

ہجیرہ

بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کی 91 ویں برسی کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں فلم ”دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ“ پر ایک سیشن منعقد کیا گیا اور بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی۔