حارث قدیر

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیرکو مودی سرکار کی جانب سے ”نیا جموں کشمیر“ بنانے کا منصوبہ اڑھائی سال بعد امن اور خوشحالی کی بجائے تشدد اور بربریت کی ایک نئی شکل دھار چکا ہے۔ اگست 2019ء میں ’وِکاس‘ کے دعوؤں کے ساتھ بھارتی آئین میں جموں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو تحفظ دینے والی دفعہ 370 کو غیر فعال اور اس کی تمام ذیلی دفعات کو معطل کرتے ہوئے اس خطے کو دو حصوں میں تقسیم اور وفاق کے زیر انتظام چلنے والے علاقوں (یونین ٹیریٹریز) میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے بعد ہزاروں کروڑ کے ترقیاتی پیکیج جاری کیے گئے تھے اوریہ باور کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس سے قبل اس خطے پر دو خاندانوں (شیخ عبداللہ اور مفتی خاندان) کی حکمرانی رہی اور وہ خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہے۔ تاہم یہ سب بیانات محض بیانات ہی تھے۔ اصل منصوبہ پس پردہ رہا جس پر مرحلہ وار عملدرآمد کی کوششیں شروع کی گئیں۔ وادی کو جیل خانہ میں تبدیل کر کے داخلی خود مختاری اور خصوصی حیثیت چھینے جانے کے عمل کے خلاف احتجاجوں کو روک دیا گیا تھا۔ مواصلات کے تمام ذرائع بند کر دیئے گئے تھے۔ پورے خطے میں ایک سکوت اور ایک خوف طاری تھا۔ ایک طوفان سے پہلے کی خاموشی اس خطے کے باسیوں کے جذبات اور احساسات کو گہنا رہی تھی۔

مودی سرکار نے سب سے پہلے شہریت کے قوانین کے خاتمے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ریاستی افراد کے ڈومیسائل بنانے کیلئے قانون سازی کی اور نئے ڈومیسائلوں کا اجرا کرتے ہوئے آبادیاتی تبدیلی کے اسرائیلی طرز کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا۔ اس کے بعد بلدیاتی اداروں کے پنچائتی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسلوں (ڈی ڈی سی) کیلئے حلقہ بندیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیاسی جماعتوں کا اعتراض تھا کہ ڈی ڈی سی انتخابات کے ذریعے ممبران اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ نریندر مودی کی بی جے پی‘ ڈی ڈی سی انتخابات جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور اپوزیشن اتحاد وہ انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔

تاہم اب منتخب ضلعی چیئرمینوں کی شکایت ہے کہ انہیں نوکر شاہی کے ماتحت کرتے ہوئے جمہوریت کے نام پر کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ تمام اختیارات نوکر شاہی کے پاس ہیں جو مرکز کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی مرضی و منشا کے تحت ان اختیارات کو ایکسرسائز کر رہے ہیں۔ پنچائت ممبران اور ضلعی افسران کے مابین تلخ کلامی اور ہاتھاپائی کے واقعات بھی سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ دو ماہ قبل بارہمولہ میں ایک تقریب کے دوران پنچائت ممبران کی افسران کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے نتیجے میں وہ تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔

گزشتہ دو سال سے ہی اسمبلی انتخابات کیلئے نئی حلقہ بندیوں پر منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ریاستی سیاسی جماعتوں کا یہاں بھی اعتراض یہی تھا کہ مودی حکومت اپنے مذموم عزائم کیلئے یہ نئی حلقہ بندیاں کر رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا موقف تھا کہ 2026ء کی مردم شماری تک نئی حلقہ بندیوں پر پورے بھارت میں پابندی عائد ہے۔ تاہم حلقہ بندی کمیشن نے دسمبر 2021ء میں انتخابی نشستوں میں اضافے کی تجویز پیش کر دی۔ مقامی جماعتوں نے اس تجویز کو مسترد کیا ہے اور اسے جموں اور کشمیر کے مابین نفرتیں اور دوریاں بڑھانے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔

20 دسمبر کو پیش کیے گئے حلقہ بندی کمیشن کے مسودہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اضلاع کی تعداد 12 سے بڑھ کر 20 اور تحصیلوں کی تعداد 52 سے بڑھ کر 207 ہو گئی ہے۔ کمیشن نے بین الاقوامی طور پر معروف آبادی کے تناسب کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے جغرافیائی علاقوں کی نمائندگی میں توازن پیدا کرنے کا اصول وضع کیا اور اس کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں اور اضلاع و تحصیلوں کی تقسیم کی گئی ہے۔

کمیشن نے مجموعی طور پر 7 انتخابی نشستوں کا اضافہ کیا ہے جن میں سے وادی کشمیر کیلئے ایک نشست کا اضافہ کیا گیا جبکہ جموں کیلئے 6 نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی اسمبلی کی نشستیں 90 ہو جائیں گی جن میں سے 9 شیڈول ٹرائب اور 7 شیڈول کاسٹ کیلئے مختص ہوں گی۔

یہ حد بندی 2011ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی ہے جس کے تحت وادی کشمیر کی آبادی 68.8 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور جموں کی آبادی 53.5 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ قبل ازیں ریاستی اسمبلی میں وادی کشمیر کی 46، جموں کی 37 اور لداخ کی 4 نشستیں تھیں۔ تاہم تجویز کردہ مسودہ کے مطابق اب کشمیر میں 47 اور جموں میں 43 نشستیں ہونگی۔ لداخ الگ یونین ٹیریٹری ہونے کی وجہ سے اس کی نشستیں جموں کشمیر کی اسمبلی سے خارج ہو جائیں گی۔ یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کیلئے مختص 24 علامتی نشستوں میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں کی گئی ہے۔ اس طرح مجموعی نشستیں 107 سے بڑھ کر 114 ہو جائیں گی جن میں سے 90 پر ہی انتخابات ہوں گے۔

سیاسی جماعتوں کے ایک حصے نے اس کمیشن کے اجلاسوں میں شرکت سے انکار کیا ہے جبکہ نیشنل کانفرنس کے ممبران نے شرکت بھی کی ہے۔ پی ڈی پی کا اعتراض یہ تھا کہ جب جموں کشمیر میں اس وقت منتخب ممبران قانون ساز اسمبلی موجود ہی نہیں ہے تو کمیشن کا قیام ہی غیر آئینی ہے۔ تاہم کمیشن میں شرکت کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کو بھی اختلاف کا کوئی حق نہیں مل سکا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے تبصرہ کیا کہ ”ہم کمیشن میں ایسوسی ایٹ ممبر ہیں اور ہمیں اختلاف رائے کا کوئی حق نہیں، کوئی ویٹو پاور نہیں، ہمارا اختلاف بھی ریکارڈ نہیں کیا جائے گا اور ہمارا نقطہ نظر بھی رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔“

یوں جبر کی بنیاد پر مودی حکومت ایک اور منصوبے میں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ اراضی کو نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے، فوج کو سیاحتی زمینوں پر قبضے کی کھلی چھوٹ دینے اور ریاستی اثاثوں کی نجکاری جیسے منصوبوں کے ذریعے معاشی پیکیج کی آڑ میں معاشی ڈاکہ زنی کا منصوبہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ ایک منظم حکمت عملی کے تحت شال بافی کی صنعت کو بیرونِ ریاست منتقل کرنے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ باغبانی اور خشک میوہ جات کی کاشت کے ذریعے روزگار کے ذرائع بھی مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست میں بجلی کی ترسیل کا کام کرنے والے محکمہ پاور ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈی ڈی) کو مرکزی پاور گرڈ کارپوریشن میں ضم کرنے اور محکمے کے تمام اثاثے نجی کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ وقتی طور پر محنت کشوں کی جدوجہد کی وجہ سے ملتوی تو کیا گیا ہے لیکن یہ حملہ ایک مرتبہ پھر کیا جائے گا۔

مودی حکومت کی ظاہری فسطائیت، فرقہ وارانہ پالیسیوں اور مظالم کے پس پردہ معاشی، سیاسی اور انتظامی مقاصد ہیں۔ گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحران سے پنپنے والے مسائل اور ان کے خلاف محنت کش طبقے کے اندر جنم لیتی نفرت کو مذہبی، فرقہ وارانہ، علاقائی اور قبائلی تعصب کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے بحران زدہ نظام میں حکمرانی جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم حاکمیت کیلئے استعمال کیا جانے والا یہ ہتھکنڈا اور جعلی حب الوطنی ابھارنے کا طریقہ کار نئی سماجی پیچیدگیوں کو جنم دے رہا ہے۔ ناگالینڈ سے جموں کشمیر تک بھارتی ریاست کے خلاف محنت کشوں اور نوجوانوں میں نفرت نئی انتہاؤں تک پہنچ رہی ہے۔ اس نفرت اور غم و غصے کو کچلنے کیلئے ریاستی جبر اور فوجی بربریت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ اس ننگی فوجی جارحیت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ جو درحقیقت نئی عسکریت، مسلح سرگرمیوں اور بغاوتوں کا موجب بنتی ہے۔ درحقیقت یہ عسکری سرگرمیاں نہیں ہیں جن کے خلاف فوج کشی ہو رہی ہے بلکہ یہ فوج کشی ہے جس کے خلاف عسکری سرگرمیاں پنپ اور پھل پھول رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستانی ریاست کی مداخلت کو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا۔ اب سرکاری اعداد و شمار ہی یہ واضح کر رہے ہیں کہ پاکستانی ریاست کی مداخلت بتدریج کم ہو رہی ہے لیکن مقامی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بے شمار واقعات ایسے بھی رونما ہو رہے ہیں کہ پولیس اہلکاران اور افسران سرکاری اسلحہ لے کر عسکریت کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والے صحافی شاکر میر لکھتے ہیں کہ ”2016ء تک عسکریت میں غیر ملکیوں کی شرکت 77 فیصد تھی، 2017ء میں کم ہو کر 60 فیصد ہوئی، پھر 2018ء میں 45 فیصد، 2019ء میں مزید کم ہو کر 19 فیصد، 2020ء میں مزید کم ہو کر 15 فیصد تک رہ گئی، جبکہ رواں سال یہ شرکت 10 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ تاہم اس دوران مقامی بھرتی کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ 2020ء میں 145 نئے مقامی نوجوان عسکریت کی صفوں میں شامل ہوئے۔“

شاکر میر کا ماننا ہے کہ ”مشتعل سیاسی اور سکیورٹی ماحول پرتشدد رجحانات کو ابھرنے کی اجازت دیتا ہے۔“ ماضی میں عسکری سرگرمیوں کیلئے مشہور عسکری تنظیمیں بھی اب سرگرم نظر نہیں آتیں جبکہ ان کی جگہ نئی مقامی تنظیمیں ابھر رہی ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں 45 ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے 13 عام شہری تھے۔ 2019ء میں 283 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 2020ء میں 229 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 32 عام شہری تھے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار میں عام شہری ہلاکتوں کی تعداد ہمیشہ کم ظاہر کیے جانے کے الزامات رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے جن افراد کو عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کیا ہے ان میں سے صرف وہ شہری ہلاکتیں قرار دی جاتی ہیں جن کی ہلاکت آبادیوں کے اندر ہونے والی مسلح جھڑپوں کے دوران ہو ئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے شہری ہیں جنہیں شک کی بنیاد پر یا پھر جعلی اطلاعات کی بنیاد پر کی جانیوالی کارروائیوں کے دوران دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور ان کی میتیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی جاتی ہیں۔ اس طور شہری ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی زیادہ ہونے کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس کی ایک اور مثال یوں دیکھی جا سکتی ہے کہ سرکاری اعداد شمار کے مطابق 1989ء سے اب تک 47000 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ہلاکتیں 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں۔

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد شہری ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ نوے کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتیں اتنی بڑی تعداد میں ہوئی ہیں۔ 2021ء کے دوران 28 شہری مختلف واقعات میں مارے گئے جن میں سے 5 کا تعلق مقامی ہندو/سکھ برادری سے ہے اور ان میں 2 غیر مقامی ہندو مزدور بھی شامل تھے۔ گزشتہ سال صرف سرینگر میں کم از کم 10 شہری ہلاک ہوئے، جنوبی کشمیر کے کولگام میں 5، اونتی پورہ میں 4، بارہمولہ اور اننت ناگ میں دو دو اور بڈگام اور بانڈی پورہ میں ایک ایک شخص مارا گیا۔ کم از کم 4 کشمیری پنڈت پچھلے سے پچھلے سال اور 3 پچھلے سال مارے گئے۔ اس طرح کی ہلاکتوں نے 1990ء کی دہائی کے دوران وادی نہ چھوڑنے والے غیر مسلموں کے درمیان خوف کی تجدید کی ہے۔ مذہبی اقلیتوں اور غیر مقامی افراد کے خلاف ابھرنے والے اس تشدد کی جہاں تمام ہی سیاسی قوتوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے اورسماجی و سیاسی بنیادوں پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے وہاں کشمیر سے مذہبی اقلیتوں کی ہجرت کے واقعات بھی دوبارہ سے شروع ہو رہے ہیں۔

آج کے عہد میں یہ بات ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ انفرادی دہشت گردی کے ذریعے سے آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ممکن نہیں رہی ہے۔ لیکن محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کیونکہ ہتھیار اٹھانا، عسکریت کا راستہ اپنانا کسی فرد کیلئے ایک سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہر گز نہیں ہوتا۔ سماجی، معاشی اور سیاسی حالات، مخصوص ریاستی منصوبہ بندی، جبر کی مخصوص شدت اور ہیئت کے درمیان نجات کے کسی درست راستے کے سیاسی خلا میں انسانی جذبات اور احساسات کا ردعمل ناگزیر اور بے سمت ہوتا ہے۔ جو بیشتر صورتوں میں عسکری شکل میں اپنا اظہار کرتا ہے۔ جب سامنے مستقبل کی تاریکی، تشدد، جبر اور اندھی موت انتظار کر رہی ہو تو انسان اپنی سدھ بدھ کھو دیتا ہے اور غیر ارادی طور پر بھی پشت پر موجود دشمن پر بغیر سوچے سمجھے ٹوٹ پڑتا ہے۔ روح اور احساس کے زخموں سے چور نوجوانوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی موجود نہیں ہے۔

ریاستی جبر کی کھلی اور قانونی چھوٹ کو جمہوریت اور آئین کی جدوجہد کے ذریعے نظر انداز کرنے کی قیادتوں کی پالیسی بھارتی فوج اور سکیورٹی اداروں کیلئے جبر کا یہ اندھا کھیل جاری رکھنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ پی ایس اے، یو اے پی اے، افسپا اور ٹاڈا سمیت ایسے ڈریکولائی قوانین جموں کشمیر اور ناگالینڈ جیسے علاقوں میں نافذ کیے گئے ہیں جو فوج اور سکیورٹی اداروں کو اس قتل عام اور بربریت کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔ اوپر سے اس ننگے قتل عام کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت کی طرف سے افسروں اور اہلکاروں کو خصوصی مراعات، ترقیاں اور تمغے دیئے جانے کی حکمت عملی بھی موجود ہے۔

صحافی و تجزیہ کار ڈیوڈ دیوداس لکھتے ہیں کہ ”کشمیر میں پولیس افسروں کو نسبتاً کم مدت میں کئی ترقیاں اس لئے ملتی ہیں کیونکہ انہوں نے بہت زیادہ قتل کیے ہوتے ہیں۔“ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ”فوج میں جو لوگ انسداد دہشت گردی کے آپریشن کرتے ہیں انہیں نہ صرف ہلاکتوں کے بدلے آؤٹ آف ٹرن ترقیاں ملتی ہیں بلکہ بعض مواقع پر خصوصی تنخواہ، مراعات اور میڈلز ہلاکتوں کے حوالہ جات کے ساتھ دیئے جاتے ہیں۔ تاہم دوسری طرف جن افسران نے دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کیلئے قتل عام کا سہارا نہیں لیا ہوتا ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور انہیں استحقاق کے باوجود ترقیاں نہیں دی جاتیں۔“ ڈیوڈ کے مطابق گزشتہ 30 سالوں کے دوران جموں کشمیر میں یونٹ کمانڈروں کے مابین زیادہ قتل کرنے کا ایک طرح کا مقابلہ ہوا ہے۔ یہی صورتحال ناگالینڈ میں بھی نظر آتی ہے۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران جہاں مزید 5000 سے زائد فوجی و نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے وہاں سرینگر اور نواحی اضلاع میں فوجی چوکیوں اور اڈوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ 30 سال قبل قائم کی گئی متعدد ایسی چوکیوں کو دوبارہ سے فعال کیا گیا ہے جو گزشتہ 15 سے 20 سال سے غیر فعال تھیں۔ سرکاری عمارتوں، شادی ہالوں اور سکولوں میں فوجی و نیم فوجی دستوں کی اضافی نفریوں کو رکھا گیا ہے اور آبادیوں میں موجود فوجی و نیم فوجی دستوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نام پر عام شہریوں کی تضحیک و تذلیل اور تشدد کے نئے سلسلے کو شروع کیا گیا ہے۔ شناخت پریڈ کے دوران شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا، تلاشیوں کے نام پر چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا معمول بن چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ہونے والی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نفرت اور غم و غصہ پہلے سے کئی زیادہ شدت پکڑ چکا ہے۔ اگست 2019ء کے بعد ایک لمبے عرصے تک چلنے والا سکوت اب ٹوٹ رہا ہے۔ مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والی جھڑپوں کے دوران عام شہریوں‘ بالخصوص خواتین کا احتجاج کرنا اور فوجی دستوں پر پتھراؤ کا سلسلہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق مسلح جدوجہد کو عوامی حمایت ملنے کا تاثر ایک مرتبہ پھر قائم ہونا شروع ہو گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ عام شہری اور خواتین مبینہ عسکریت پسند نوجوانوں کی پشت پر کھڑے ہو رہے ہیں۔

ایسی کیفیت میں جہاں حکمران فوج کو ایک دہشت گرد گروہ کے طورپر استعمال کر رہے ہوں‘ مقامی سطح پر ریاستی ایما پر ایسے گروہ تشکیل دیئے جا رہے ہوں جو رقوم اور مراعات کے عوض عسکریت پسندی کی معلومات کے نام پر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی راہ ہموار کر رہے ہوں‘ جہاں روزگار دن بدن ختم ہو رہا ہو اور بیروزگاری کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21.40 سے تجاوز کر گئی ہو‘ کسان سہولیات کے فقدان اور کسان دشمن قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہوں‘ مقامی دستکار اپنے مستقبل سے پریشان ہوں‘ سیاسی قیادتیں تمام تر مسائل کی جڑ جمہوریت اور سکیولرازم کے فقدان کو قرار دے کر سماج میں پنپنے والے مسائل سے صرف نظر کر رہی ہوں‘ علیحدگی پسند قیادتیں اپنے پالنہار کے ہاتھ اٹھائے جانے پر شرمندہ ہوں اور تحریک آزادی کے نام پر لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کیلئے آئین ہند سے وفاداری کے حلفیہ بیانات جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہو تو پھر بیشتر نوجوانوں کے پاس اس اذیت ناک زندگی سے نجات کیلئے بندوق اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچ جاتا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوان اب سیکھ رہے ہیں۔ بھارتی کسانوں کو پر امن سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی فتح نے بھی اس خطے کے نوجوانوں اور محنت کشوں پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ 2008ء میں شروع ہونے والے سنگ باز کشمیر انتفادہ نے جہاں اس پورے خطے کے نوجوانوں میں انقلابی جذبات کو ابھارا تھا اور پورے برصغیر جنوب ایشیا پر اپنے اثرات مرتب کیے تھے‘ آج پنجاب کے کسانوں کی فتح یاب تحریک جموں کشمیر کے نوجوانوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مقامی سطح پر ابھرنے والے احتجاجی مظاہرے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جبر اور خوف کے سائے کو اب شہریوں نے جھٹکنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر جوڑتے ہوئے اس نظام کے خلاف مرتکز کیے بغیر کامیابی کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ جموں کشمیر کے دکھ کا ازالہ جمہوریت اور سیکولرازم کے ذریعے ممکن نہیں رہا ہے۔ اس نظام میں اب وہ گنجائش ہی باقی نہیں رہی کہ جمہوری، شہری اور شخصی آزادیوں کو برقرار رکھتے ہوئے قوموں کو حق خودارادیت فراہم کیا جائے۔ بحران زدہ نظام کو چلانے کیلئے ریاستی جبر اور تشدد کا سہارا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ملک کے آئینی حصوں پر حکمرانی کو جاری رکھنے کیلئے جعلی حب الوطنی کو ابھارا جاتا ہے اور نو آبادیاتی خطوں پر جبر کو تیز کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے درمیان نفرتوں، عدم تحفظ اور وطن پرستی کے جذبات پیدا کیے جاتے ہیں۔ اصلاح پسند قیادتیں اس گھٹن میں ہمیشہ سکیولر اور جمہوری اقدار تلاش کرتے غرق ہو جایا کرتی ہیں۔ محنت کش طبقے کے مسلسل بڑھتے ہوئے اجتماعی دکھ اور تکالیف انہیں اس وحشت و بربریت کے خلاف جدوجہد پر اکساتے ہیں۔ دکھوں اور اذیتوں کا یہی اشتراک اجتماعی شعور کا باعث بنتا ہے اور سماجی بغاوتیں ابھرتی ہیں۔

جموں کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کی یہ قربانیاں اور اذیتیں بہت لمبی ضرور ہو چکی ہیں لیکن یہ جاوداں نہیں ہیں۔ وقت اور حالات کے تھپیڑوں نے بہت کچھ سکھایا ہے اور بہت سے نتائج اخذ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس خطے میں حکمرانوں کی پھیلائی ہوئی رجعتی نفرتوں کو جھٹکتے ہوئے ابھرنے والی اجتماعی بغاوت اگر انقلابی راستے پر گامزن ہو جائے تو یہاں کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے مقدر بدل سکتی ہے۔