ظفر مرزا

ترجمہ: حسن جان

یہ مضمون 3 دسمبر 2021ء کو روزنامہ ڈان کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔ جس کا ترجمہ اپنے قارئین کے لئے ہم شائع کر رہے ہیں۔

مریضوں کے خلاف ایک غیر مقدس اتحاد کارفرما ہے۔ دوا ساز کمپنیوں، ڈاکٹروں اور صحت کے شعبے سے منسلک دیگر افراد کے درمیان انتہائی غیر اخلاقی معاہدے ہو رہے ہیں۔

پچھلے سال امریکی میڈیکل ایسو سی ایشن کے جریدے نے رپورٹ شائع کی کہ امریکہ میں 2003ء اور 2016ء کے درمیان 26 دوا ساز کمپنیوں نے 33 اَرب ڈالر کے جرمانے ادا کئے۔ امریکی حکام نے یہ جرمانے رشوت خوری، جان بوجھ کر خراب ادویات فارمیسی کو مہیا کرنے، غیر قانونی استعمال کے لیے ادویات فراہم کرنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے لگائے تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2016ء میں یو کے ایڈ کی معاونت سے دوا سازی کے شعبے میں کرپشن پر ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق صرف امریکہ میں ہر سال دوا سازی کی صنعت ڈاکٹروں کے ذریعے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے 42 اَرب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ یعنی فی ڈاکٹر 61 ہزار ڈالر۔

عالمی ادارہ صحت نے 2010ء میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ نظام صحت میں نااہلی کے دس بڑے ماخذوں میں سے تین کا تعلق ادویات سے ہے جبکہ کرپشن اس نااہلی کا پہلا ماخذ ہے۔

اس طرح کی زیادہ تر تحقیق یورپ اور امریکہ میں ہوتی ہے۔ کچھ ملٹی نیشنل کارپوریشنیں کم اور متوسط آمدنی کے حامل ملکوں میں بھی سرگرم ہیں۔ زیادہ آمدنی کے حامل ممالک میں سخت ریگولیٹری قواعد اور قوانین کی عملداری کے بارے میں بلند سماجی شعور کے باوجود یہ کمپنیاں اس طرح کی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے باز نہیں آتیں۔ یہی کمپنیاں اُن غریب ممالک میں کیا کرتی ہوں گی جہاں متعلقہ قوانین یا تو سرے سے ہیں ہی نہیں یا کمزور ہیں اور انتظامی ادارے نااہل ہیں اور کرپشن زندگی کا معمول ہے؟

مقامی دوا ساز کمپنیاں بین الاقوامی کمپنیوں سے مل کر میڈیکل کے شعبے میں بدعنوانی پھیلاتی ہیں۔ سادہ لوح مریض مہنگی ادویات کے لیے بڑی رقم خرچ کرتے ہیں حالانکہ ان ادویات کی شاید ضرورت ہی نہ ہو یا اُن سے زیادہ مؤثر ادویات کم قیمت پر دستیاب بھی ہوتی ہیں۔ سیلز ایجنٹوں کو اہداف دیئے جاتے ہیں اور وہ ان ادویات کی فروخت کے لیے ڈاکٹروں کے نسخوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک ہی دوائی کو بنانے والی مختلف کمپنیاں مشہور ڈاکٹروں کو راغب کرنے کے لیے پرکشش مراعات دیتی ہیں جس سے صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے۔ ”غیر اخلاقی“ کا لفظ میڈیکل کی منڈی میں جاری کھلواڑ کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔

حال ہی میں مجھے چند نوجوان محققین سے ملنے کا اتفاق ہوا جو اس صورت حال سے کافی پریشان تھے اور اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے مؤثر راستے کی تلاش میں تھے۔ اپنی تحقیق میں انہوں نے سیلز ایجنٹوں اور ڈاکٹروں کے درمیان ہونے والے معاملات کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دونوں طرف سے بات کی۔ ان کے تحقیقی نتائج انتہائی خوفناک تھے:

ایک مشہور و مصروف ڈاکٹر کے بیٹے کے ولیمے کی پوری تقریب کو ایک دوا ساز کمپنی نے سپانسر کیا۔ ایک مشہور سرجن کی پوری فیملی اور دیگر دوستوں کو ایک کمپنی نے جنوب مشرقی ایشیائی ساحلی پکنک پوائنٹ کی ایک ہفتے کی سیرکرائی۔ ایک سیلز ایجنٹ نے ایک ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ انہیں مطلوبہ رقم تو نہیں دے سکتا لیکن ایک اے سی دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے اسے اے سی ایک دکان میں رکھنے کو کہا جہاں سے ڈاکٹر نے پیسے وصول کیے۔

ایک سیلز ایجنٹ ڈاکٹر کے لیے کار سروس مہیا کر سکتا ہے، اس کے دفتر کی مرمت کر سکتا ہے، مہنگے سکول کی فیس، بل اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ اپنے انفرادی شوق اور ترجیحات کی بنیاد پر کچھ ڈاکٹروں نے دوا ساز کمپنی کی جانب سے پیش کردہ شراب اور دیگر چیزوں بشمول عمرہ پیکیجوں کو بھی قبول کیا۔ عمرہ پیکیج اپنی روحانی تسکین کے لیے‘ وہ بھی اُن تکلیف میں مبتلا مریضوں کی قیمت پر جو دوائیاں خرید نہیں سکتے۔ یہ سب ان کمپنیوں کی سرمایہ کاری ہے جن کے دیوہیکل فائدے ہیں۔

دوا ساز کمپنیوں کی یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ ان کی مصنوعات کی قیمتیں اس لیے زیادہ ہیں تاکہ وہ اپنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اخراجات کو برابر کر سکیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دس سب سے بڑی دوا ساز کمپنیوں میں سے نو کمپنیوں نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سے زیادہ اپنی مارکیٹنگ پر خرچ کیے۔ یعنی ادویات کی بلند قیمتوں کی ایک بڑی وجہ کمپنیوں کی جانب سے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے ہونے والے اخراجات ہیں جن کا بڑا حصہ ڈاکٹروں کو اس بات پر راغب کرنے میں خرچ ہوتا ہے کہ وہ اُن کی کمپنیوں کی ادویات کو اپنے مریضوں کو تجویز کریں۔

اس کا حل کیا ہے؟ عالمی سے لے کر مقامی سطح تک دوا سازی کی صنعت اپنے مارکیٹنگ کے شعبے پر قدغن برداشت نہیں کرتی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عالمی ادارہ صحت اس حوالے سے کوئی سخت قانون نہیں بنا سکا۔ یورپ اور امریکہ نے اس حوالے سے سخت ترین قوانین متعارف کروائے ہیں۔ 2014ء میں امریکہ نے ’فزیکل پیمنٹ سن شائن ایکٹ‘ کا قانون منظور کیا جو کمپنیوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو دس ڈالر سے زائد کی ادائیگی کو آن لائن ڈیٹا بیس میں دکھائیں۔

ہمارے ہاں غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا فن بغیر کسی قید و بند کے ناقابل تصور حد تک آگے بڑھا ہے۔ 17 نومبر کو حکومت پاکستان نے بالآخر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ذریعے ’Ethical Marketing to Healthcare Professionals Rules 2021‘ جاری کیے۔ یہ قوانین نہ صرف تاخیر زدہ ہیں بلکہ حالات سے مطابقت بھی نہیں رکھتے۔ آج کل ادویات کی آن لائن تشہیر اور فروخت ہوتی ہے جبکہ اس قانون میں اس بات کا ذکر تک نہیں۔ ان قوانین کا سب سے کمزور حصہ عملدرآمد، خلاف ورزی اور سزا سے متعلق ہے جو بہت غیر واضح ہے۔ ان پر کس طرح عمل درآمد ہو گا یہ واضح نہیں ہے۔ حسب توقع ان سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔ بہر حال اس حوالے سے ہمارے پاس اب ایک قانون ہے۔ ان پر عملدرآمد کو سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرین اور میڈیا کو اپنی نظر میں رکھنا ہو گا۔ اسی سے قوانین مزید سخت ہو سکتے ہیں اور بالآخر ان کے اثرات کی امید کی جا سکتی ہے۔