لاہور (شعبہ نشر و اشاعت آر ایس ایف) مورخہ 04 اکتوبر بروز سوموار ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور پری میڈیکل کے طلبہ کی طرف سے ’PMC‘ کے تحت ہونیوالے ’MDCAT‘ کے امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرے میں آر ایس ایف، پری میڈیکل اور میڈیکل کے شعبے کے طلبہ اور ان کے والدین اور عزیزوں، پی ایس سی سمیت دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں، صحافیوں اور وائی ڈی اے کے نمائندگان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرے سے ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی آرگنائزر اویس قرنی، ایم ڈی کیٹ طلبہ کے نمائندے صبائقہ طارق اور سعد، پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے رہنما حسن اور نائل، پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر عمر رشیدنے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ پری میڈیکل طلبہ کے والدین نے بھی اظہار خیال کیا۔ مقررین نے ٹیسٹ کے دوران ہونے والے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کے انعقاد کے فوراً بعد ہی طلبہ کی طرف سے بے شمار شکایات موصول ہوئیں۔ سسٹم کی سست روی، انٹرنیٹ کی سست رفتار اور دیگر بے شمار مسائل طلبہ کے لئے درد سر بنے رہے۔ اسی طرح سکپ (Skip) کیے گئے سوالات دوبارہ شو نہیں ہوتے تھے۔ سوالات سلیبس سے باہر سے بھی آئے اور نتائج کو بار بار تبدیل کیا گیا۔ ان تمام تر بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے آن لائن ٹیسٹ کو مسترد کر دیا اور’MDCAT‘ کو دوبارہ ایک ہی دن پورے ملک میں کنڈکٹ کرنے اور آنسرز کی (Answers Key) مہیا کرنے کا مطالبہ کیا۔ جو اس دفعہ پی ایم سی نے مہیا نہیں کی۔ انہی دو بنیادی مطالبات کے گرد ملک بھر میں پری میڈیکل کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں آن لائن ٹیسٹ کا انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ اور نگران ٹیچرز کو بالکل ہی ایسے امتحانات کی ٹریننگ نہیں دی گئی جس سے دہرے تہرے مسائل نے جنم لیا۔

مقررین نے کہا کہ پی ایم سی نے داخلی امتحان کے اندر بے شمار تبدیلیاں کیں اورٹیسٹ کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ٹیسٹ جو کہ پہلے ایک ہی دن میں ہوتا تھا اس دفعہ تقریباً ایک مہینے تک روزانہ دو شفٹوں میں چلتا رہا جو کہ اس کرپٹ نظام میں اس ٹیسٹ کی شفافیت پر خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں جہاں اتنی زیادہ ڈیجیٹل تقسیم موجود ہے اور وبا کے دوران یونیورسٹی طلبہ بھی آن لائن کلاسوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں وہیں پر پری میڈیکل کے طلبہ کے اوپر اس قسم کے تجربے کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ٹیسٹ لینے کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی ٹی ای پی ایس (TEPS) کو دیا جاتا ہے اور ٹھیکے کا اس کمپنی کو ملنا بھی اپنے اندر ایک بہت بڑی کرپشن ہے جس میں اس کمپنی کی رجسٹریشن ہی مقررہ تاریخ کے بعد ہوتی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے من پسند لوگوں کو نوازانا تھا۔ جس کے بعد اس کمپنی نے ٹیسٹ کی فیس تین ہزار سے بڑھا کر چھ ہزار کر دی۔ تقریباً 2 لاکھ کے قریب طلبہ نے اس ٹیسٹ کی رجسٹریشن کروائی اور اس حساب سے یہ کل رقم 1.5 ارب کے قریب بنتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بلا جواز اس کمپنی کو حکومت کی طرف سے 115 ملین روپے بھی ایڈوانس میں دیے جاتے ہیں۔

مظاہرے میں شریک نمائندگان نے اسلام آباد، کوئٹہ، کراچی اور پشاور سمیت ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں طلبہ پر ہونے والے تشدد کی بھرپور مذمت کی۔ میڈیکل کے شعبے کے طلبہ نمائندگان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی کی طرف سے متعارف کردہ ’NLE‘ ٹیسٹ بالکل بلا جواز ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ منافع خوری کی ہوس میں ایم بی بی ایس (MBBS) کے طلبہ پر این ایل ای (NLE) کی صورت میں ایک نیا امتحان مسلط کیا گیا ہے جس کی فیس 12 ہزار روپے رکھی گئی ہے اور جس کے بغیر کوئی بھی ڈاکٹر اپنی پریکٹس کا آغاز نہیں کر سکتا۔ البتہ اس ٹیسٹ کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس سے میڈیکل فیلڈ اور ڈاکٹروں کے معیار کو بہتر کیا جائے گا حالانکہ یہ بیانیہ سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے اور مضحکہ خیز ہے۔ یہ امتحان بنیادی طور پر اس تعلیمی نظام کے لئے نہ صرف ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ اس کے منہ پر ایک تمانچہ ہے کہ پانچ سال کے درجنوں امتحانات کے بعد قابلیت پرکھنے کے لیے کیونکر ایک اور امتحان کی ضرورت رہ سکتی ہے۔ آج قوم کا سرمایہ ڈاکٹرز مسلسل صحت کی نجکاری کے خلاف اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حکمرانوں کے لیے شرم کا مقام ہے کہ ڈاکٹرز کے احتجاجوں پر کیمیکل سپرے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف طلبہ پر لاٹھی چارج ہو رہے ہیں۔

آر ایس ایف سمیت تمام ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے نمائندگان نے میڈیکل کے طلبہ کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کی اورکہا کہ مفت اور معیاری تعلیم ہر فرد کا بنیادی آئینی حق ہے اور موجودہ حکومت آئی ایم ایف زدہ نجکاری کی پالیسی کے تحت تعلیم و علاج کا حق عام عوام سے چھین رہی ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں چلنے والی طلبہ و محنت کشوں کی تحریکوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ طلبہ رہنما ؤں نے عندیہ دیا کہ اگر ’MDCAT‘ کا دوبارہ فزیکلی امتحان نہیں لیا جاتا تو ملک بھر کے طلبہ کو منظم کرتے ہوئے ملک گیر سطح کی تحریک منظم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا اگر چہ مختلف شعبہ جات کے طلبہ کے مسائل مختلف ہیں لیکن ان کا حل ایک ہی ہے کہ سب طالب علم ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے حقوق کی خاطر اور طلبہ یونین بحالی کی جدوجہد کو منظم کریں۔