حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دسویں عام انتخابات اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف پچیس نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی گیارہ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اس خطہ میں حکمران رہنے والی مسلم لیگ ن محض چھ نشستیں ہی حاصل کر پائی ہے۔ ریاستی جماعتیں کہلانے والی پاکستان نواز مسلم کانفرنس اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے محض ایک ایک نشست ہی حاصل کی ہے۔

قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں جن میں سے پینتالیس پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے۔ تینتیس نشستیں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی جغرافیائی حدود میں موجود انتخابی حلقوں پر مشتمل ہوتی ہیں اوربارہ نشستیں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی ہوتی ہیں۔ یہ حلقے پاکستان کے چاروں صوبوں میں پھیلے ہوئے جموں کشمیر کے مہاجرین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مہاجرین کے حلقوں میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے الیکشن کمیشن کا اختیار محض بیلٹ پیپر پہنچانے اور ووٹر فہرستیں مرتب کرنے تک ہی ہوتا ہے۔ انتخابات کا باقی عمل چاروں صوبوں کے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ہی مکمل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابی حلقوں میں سے ہمیشہ وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جس کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہو۔ قانون ساز اسمبلی میں آٹھ مخصوص نشستیں ہوتی ہیں جن میں ایک ٹیکنوکریٹ، ایک علما مشائخ، ایک سمندر پار کشمیریوں کی نمائندگی کیلئے اور پانچ خواتین کی مخصوص نشستیں شامل ہوتی ہیں۔ ان نشستوں پر انتخاب منتخب ممبران اسمبلی کے ذریعے ہوتا ہے۔

اس خطہ میں عمومی طور پر وہی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی آئی ہے جس کی پاکستان کے وفاق میں حکومت ہو۔ طاقت کا اصل مرکز وزیر اعظم پاکستان اور وزارت امور کشمیر کا ہونا، مخصوص قبائلی، علاقائی، برادری جیسے تعصبات پر مبنی معاشرے میں تعصبات اور تقسیموں کے توازن کوحکمران جماعت کے حق میں استعمال کرنا اور سب سے بڑھ کر ریاستی طاقت، وسائل اور اثر و رسوخ کو ایک مخصوص میکنزم کے تحت استعمال میں لا کر کسی مخصوص جماعت یا گروہ کے حق میں رائے ہموار کرنا اس سب کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کا انتظام و انصرام ایک نو آبادی کے طورپر چلایا جاتا ہے۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میں استعمال ہونے والے تمام طریقے اور اصول یہاں پر بھی اسی طرح سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک ’ایکٹ‘(جسے عبوری آئین 1974ء کہا جاتا ہے) کے ذریعے سے قانون ساز اسمبلی کی ایکسرسائز کی جاتی ہے۔ قانون ساز اسمبلی کے پاس چھوٹی سڑکیں بنانے اور دیگر چھوٹے موٹے تعمیراتی کام کروانے کے علاوہ کم ہی اختیارات موجود ہیں۔ قانون ساز اسمبلی دو تہائی اکثریت کے باوجود اس ’عبوری آئین‘ میں کوئی ترمیم اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک وزیر اعظم پاکستان منظوری نہ دے۔ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کیلئے بھی وزیر اعظم پاکستان کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ درجہ چہارم کی آسامیوں کے علاوہ دیگر تمام درجوں کی آسامیوں کی تخلیق کیلئے بھی پاکستان سے بھیجے گئے سیکرٹری مالیات سے مالیاتی منظوری لینا ضروری ہوتی ہے۔ پچاس میگا واٹ سے زائد بجلی کی پیداوار کیلئے ہائیڈل پاور پلانٹ لگانے کا اختیار بھی مقامی اسمبلی اور حکومت کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ’فور جی‘ انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ گو وہ بھی افغانستان سے کچھ درجے ہی بہتر ہے تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ابھی تک ’فور جی‘ انٹرنیٹ کیلئے لائسنس ہی سیلولر کمپنیوں کو جاری نہیں کیے جا سکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی نے اپنے تمام تر اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے محض ممبران اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے اور ہر ممبر اسمبلی، چاہے وہ ایک ہی دن ممبر رہا ہو، کو تاحیات پنشن کی ادائیگی کے قوانین ضرور منظور کیے ہیں۔ لیکن کورونا وبا سے متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں، دیہاڑی دار مزدوروں سمیت بیرون ملک کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے مزدوروں کو مالی امداد فراہم کرنے کیلئے ایک روپے کی منظوری دینے کی اہلیت اور صلاحیت یہ اسمبلی اور حکومت ظاہر نہیں کر سکی ہے۔

چالیس لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل اس خطے میں 90 ہزار کے لگ بھگ سرکاری ملازمین پر مشتمل ’سروسز سیکٹر‘ کے علاوہ روزگار کا کوئی باضابطہ ذریعہ موجود نہیں ہے۔ 141 ارب روپے کے بجٹ سے 113 ارب روپے کا بجٹ انتظامی اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ 28 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہوتا ہے جس کاتقریباً 80 فیصد حصہ 53 ممبران اسمبلی ترقیاتی سکیموں کے نام پر حاصل کرتے ہیں اور انہی سکیموں اور ٹھیکوں سے مال بھی کمایا جاتا ہے اور انتخابات میں سیاسی رشوت کے طور پر بھی یہی سکیمیں استعمال ہوتی ہیں۔ انہی سکیموں کی رشوت پر پلنے والی ایک سیاسی پرت تیار ہوتی ہے جو علاقائی اور قبیلائی سربراہان کو حلقہ انتخاب پر مسلط رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بجٹ کا 28 فیصد محکمہ تعلیم پر خرچ ہونے کے باوجود سیاسی مداخلت، بوسیدہ انفراسٹرکچر، منصوبہ بندی کے فقدان اور تعلیمی معیار کی گراوٹ کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جہاں طلبہ سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں۔ تعلیم کے کاروبار کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا رہا ہے اور ایک بڑے انفراسٹرکچر پر مشتمل سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی راہیں ہموار کرنے کیلئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں کو برباد کیا جا رہا ہے۔

60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل آبادی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10.26 فیصد بیروزگاری ہے۔ خواتین میں بیروزگاری کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 23.91 فیصد ہے۔ 20 سے 30 سال کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 25 فیصد سے زائد ہے۔ محکمہ تعلیم اور صحت کے علاوہ خواتین کیلئے روزگار کے مواقع نجی بینکوں اور نجی تعلیمی اداروں میں ہی موجود ہیں۔ گریجویشن سے ایم فل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد خواتین پانچ سے پندرہ ہزار ماہانہ تنخواہ پر نجی تعلیمی اداروں میں نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری نوکریوں کے علاوہ روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ نجی تعلیمی ادارے اور چھوٹا کاروبار ہے۔ جس میں دکانداری، ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس وغیرہ شامل ہیں۔

اس خطے میں روزگار کا سب سے بڑا انحصار بیرون ملک محنت کی فروخت پر ہے۔ تقریباً 15 لاکھ محنت کش مشرق وسطیٰ، یورپ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، افریقہ اور دیگر ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چالیس لاکھ کی آبادی میں سے سالانہ اوسطً 30 ہزار نوجوان روزگار کے حصول کیلئے بیرون ملک جاتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد غیر قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ کی بنیاد پر ہی اس خطے میں نجی تعلیمی ادارے اور چھوٹے کاروبار چلتے ہیں اور ایک ’صارفین پر مشتمل معاشرہ‘ترتیب پاتا ہے۔

بجٹ کا ایک بڑا حصہ صحت پر بھی خرچ کیا جاتا ہے لیکن اس سب کے باوجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3954 افراد کیلئے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ جبکہ انہی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 963 افراد پر ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ پاکستان بھر میں شعبہ صحت کی خستہ حال صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر میں صحت کی سہولیات کی کیا کیفیت ہو گی۔ معمولی سے مرض میں مبتلا مریض کو بھی راولپنڈی اسلام آباد کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں الیکشن ہمیشہ سے سرمائے کا کھیل ہی رہا ہے اور عام حالات میں سرمائے نے ہی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔ محنت کش طبقے کے پاس سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ہر پانچ سال بعد استحصالی طبقے کے کسی ایک نمائندے کے انتخاب کا اختیار ہی ہوتا ہے۔ جسے وہ آزادانہ طور پر پھر بھی استعمال نہیں کر پاتا کیونکہ سرمایہ، میڈیا، نصاب اور ایک منظم انداز سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کا اختیار ہمیشہ حکمران طبقات کے پاس ہی رہتا ہے۔ اس لئے سرمایہ دارانہ نظام میں انتخابات کو شفاف اور منصفانہ قرار دینا ہی جرم ہے۔ تاہم تکنیکی پسماندگی اور تاریخی تاخیر زدگی کا شکار ان معاشروں میں جہاں سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقلاب کے فرائض مکمل نہیں ہو سکے وہاں سرمایہ داری کے معیارات کے مطابق آزادانہ اور شفاف انتخابات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جیسے معاشروں میں جاگیرداری کی باقیات موجود ہیں، ماضی کے تمام تر تعصبات بھی موجود ہیں، ریاست کا ایک ضرورت سے زیادہ بڑھا ہوا کردار موجود ہے، یہاں تک کے حکمران طبقہ تاریخی طور پر اتنا نااہل ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے تاریخی طور پر بنائی گئی ریاست کے تابع رہ کر حکمرانی کرنے کی اداکاری کرنے پرمجبور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام کے تحت ایک طاقتور ریاست کے عسکری تسلط میں موجود نو آبادیاتی خطوں کو جدید سیاسی و معاشرتی خطوط پر استوار کرنا کسی طور ممکن نہیں ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو انتظامی طور پر دس اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قبائلی دور کی طرز پر پہاڑوں پر پھیلی آبادی کو 141 ارب روپے کے بجٹ میں بنیادی سہولیات مثلاً تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، روزگار، رہائش، پینے کا صاف پانی اور سیوریج کا نظام دینا ناممکنات میں سے ہے۔ آبادی کی منصوبہ بندی کیلئے گزشتہ 70 سال میں کوئی ایک انتظام نہیں کیا جا سکا۔ چند شہروں میں سرکاری سطح پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کرنیکی کوشش کی گئی تھی جو سیاسی رشوت اور کرپشن کی نذر ہو گئی اور ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں کوئی ایک بنیادی سہولت فراہم نہیں کی جا سکی۔ بے ہنگم انداز میں ڈسپنسریاں، سکول، بنیادی مراکز صحت، پانی کے پائپ اور لنک روڈز کی سکیمیں سیاسی رشوت کے طور پر مہیا کی جاتی رہی ہیں لیکن آج تک کوئی ڈسپنسری اور بنیادی مرکز صحت فعال نہ ہو سکا۔ دور دراز دیہاتوں میں قائم سکولوں تک اساتذہ اور طلبہ کی ایک معقول تعداد میں رسائی ممکن نہیں ہو پاتی اور نہ ہی دور دراز دیہاتوں میں لنک روڈز کی تعمیر کے باوجود پرائیویٹ پبلک ٹرانسپورٹ بھی منافع بخش طریقہ سے چلائی جا سکتی ہے کہ لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مل سکے۔

ہزاروں سال پہلے جس طرح مختلف قبائل مخصوص علاقوں میں آباد تھے اسی طرز پر ابھی بھی آبادی کا تناسب موجود ہونے اور جدت کی جزوی و ادھوری سرایت کی وجہ سے ماضی کے تعصبات، عقائد اور اقدار کا جدید پارلیمانی نظام کے ساتھ ایک بیہودہ ملغوبہ موجود ہے۔ جس کی وجہ سے اس خطے میں انتخابات ظاہری طورپر تو جدید پارلیمانی طرز پر ہوتے ہیں لیکن عملدرآمد ماضی کے قبائلی، نمبرداری نظام کے تحت ہی ہوپاتا ہے۔ طاقتور قبیلوں میں دولت، طاقت اور ریاستی آشیرباد کے حامل افراد ہی الیکٹیبلز کے طور پر موجود رہتے ہیں۔ مختلف حلقوں میں ایک یا دو بڑے قبائل ہوتے ہیں۔ ان قبائل کے ایک ایک یا دو دو افراد ایک مخصوص ریاستی مداخلت سے پروان چڑھائے جاتے ہیں۔ ان افراد میں سے اپنے قبیلے کی حمایت کے علاوہ حلقہ انتخاب میں موجود کم تعداد والے قبائل کی حمایت حاصل کرنے والا انتخابات میں فاتح قرار پاتا ہے۔ فنڈز اور طاقت کا منبع حکومت پاکستان کے پاس ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان کے نمائندے کو زیادہ حمایت مل جاتی ہے۔ ان افراد کو ریاستی اداروں کی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے اور اگر وہ کسی سے نالاں ہو جائیں تو اس کے متبادل اسی طرح کی شخصیت تراش لی جاتی ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں روزگار کے متاثر ہونے، لاک ڈاؤن کے نفاذ سے مقامی سطح پر کاروبار کی بندش اور مہنگائی کے طوفان نے اس خطے میں محنت کشوں کی زندگیوں کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ معاشی بربادی نے موجودہ انتخابات پر مختلف نوعیت کے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بے روزگار ہو کر وطن واپس لوٹنے والے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد، ماضی میں پاکستان سے آپریٹ ہونے والی دو جماعتوں کی بجائے تین جماعتوں کے انتخابات میں حصہ لینے اور قبائلی، علاقائی اور برادری کے تعصبات میں شدت کی وجہ سے ٹرن آؤٹ 58 فیصد رہا ہے۔ تاہم اس مرتبہ انتخابی وعدوں کی بجائے انتخابات سے قبل ہی کچھ نہ کچھ وصول کرنے کا رجحان زیادہ حاوی رہا ہے۔

مریم نواز نے 19 بڑے جلسے کیے۔ جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ قومی تعصبات کو ابھارا گیا۔ تمام پارٹیوں نے خطے کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے امکانات کے گرد قومی سوال کو ابھار کر الیکشن مہم چلائی اور یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ اس خطے کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ جبکہ عمران خان نے قومی سوال کو ابھارے جانے کی وجہ سے مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر کشمیریوں کو ایک خود مختار ریاست بنانے کا اختیار دینے کے ریفرنڈم کا اعلان بھی کر ڈالا۔ تاہم موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے پاکستان کا صوبہ بنائے جانے یا آئینی و انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے اس خطے کے محکوم انسانوں کے مقدر نہیں بدلے جا سکتے اور نہ ہی اس نظام کے اندر رہتے ہوئے یہ بحران زدہ ریاستیں اور سامراجی ادارہ ’یو این او‘ کو ئی رائے شماری کروا سکتے ہیں۔ حکمران طبقات ہمیشہ قومی، لسانی، نسلی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں اور ان انتخابات میں بھی قومی مسئلے کو حکمران طبقات نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا ہے۔ درحقیقت ’قوم پرستی‘ حکمران طبقات کا ہی نظریہ ہے جو اس کا بہترین استعمال کرنا بھی جانتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت مسلط اس سامراجی قبضے کی موجودگی میں نہ تو جموں کشمیر کی محکومی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان پسماندہ خطوں کی ترقی جتنے وسیع پیمانے پر وسائل اور منصوبہ بندی کی متقاضی ہے اس کا سوال بھی اس دیوالیہ نظام میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ جموں کشمیر کی آزادی اور سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کی طاقت اور راستہ محنت کش طبقہ خود ہی بن سکتا ہے۔ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے جب ہاتھوں سے ووٹ دینے کی روش کو تبدیل کیا جائے گا۔ پیروں سے ووٹ دینے کی راہ اپنائی جائے گی۔ محکومی، استحصال اور ظلم کے خلاف صدیوں سے جدوجہد کی تاریخ رکھنے والے اس خطے سے اٹھنے والے نوجوانوں اور محنت کشوں کے طوفان پورے برصغیر میں انقلابی بغاوتوں کا موجب ہوں گے۔