صدف زہرا

بچپن سے ہی میری سوچ اور خیالات کچھ ”عجیب“ تھے۔ چھوٹا سا دماغ مختلف سوالات میں الجھا رہتا تھا۔ ننھا سا دل کڑھتا رہتا کہ جو کام لڑکے کر سکتے ہیں لڑکیاں کیوں نہیں؟ کسی کے پاس زیادہ پیسہ اور کسی کے پاس کم کیوں ہے؟ میرے والدین بہت سی چیزیں کیوں ”افورڈ“ نہیں کر سکتے؟ وغیرہ وغیرہ۔

کلاس دوئم کی طالبہ تھی اور ایک دن حیران پریشان اپنے پڑوس کے گھر میں بیٹھی تھی تبھی ہمارے پڑوسی کامریڈ چاچا نور احمد کی نظر مجھ پر پڑی اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ”پریشان کیوں ہو؟“ میں نے مندرجہ بالا سارے سوالات ان کے سامنے رکھ دیئے۔

انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ جب سوشلزم آئے گا تمہارے سارے سوال ختم ہو جائیں گے۔ سوشلزم کیا ہے اس وقت تو نہیں جانتی تھی مگر یہ لفظ دماغ میں کہیں جگمگاتا رہا۔ بڑی ہوئی۔ یوینورسٹی میں پہنچی تو خیالات فیمینزم سے میل کھانے لگے اور وومن ایکشن کمیٹی کے کچھ پروگراموں میں جانے کا موقع ملا۔

ایک دن میرے بھائی ثقلین نے مجھے ایک سیمینار میں آنے کی دعوت دی جس کا اہتمام کامریڈ ذیشان حسین نے قائد اعظم لائبریری (لارنس گارڈن) میں کیا تھا۔ سیمینار میں منو بھائی اور ڈاکٹر لال خان نے خطاب کیا۔ لال خان کی باتیں جیسے دل و دماغ میں پلنے والے بیشتر سوالات کا جواب دے رہی تھیں اور ”سوشلزم“ کا نام دماغ کے کسی کونے سے نکل کر پھر سے جگمگانے لگا۔ سیمینار ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے گزرتے گزرتے سوال کیا کہ سوشلزم میں خواتین کا کیا مقام ہو گا؟ انہوں نے کچھ کتابیں اور حوالے پڑھنے کا مشورہ دیا۔

یہ تھی ڈاکٹر لال خان سے میری پہلی ملاقات۔ اس کے بعد بہت دفعہ جدوجہد کے دفتر اور ان کے گھر (جو کامریڈوں کے لئے اپنے گھر کا درجہ رکھتا تھا اور رکھتا ہے اور ہمیشہ کامریڈوں کا گھر ہی رہے گا) پر بحث مباحثوں میں شرکت کرنے کاموقع ملا اور میں بھی سوشلزم کی عملی جدوجہد کے دستوں میں شامل ہو گئی۔

ڈاکٹر صاحب محبت کے بارے میں اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے ”محبت ایک دوسرے کو دیکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک سمت میں دیکھنے کو محبت کہتے ہیں“ اور یہی ایک سمت ہمارے درمیان محبت کا سبب بنی۔ 30 جنوری 1999ء کو ہم دو کامریڈ ایک ہو گئے۔

کامریڈ لال خان کی سیاسی زندگی اور ذاتی زندگی ایک ہی تھی۔ وہ گھر پر بھی ایک انقلابی تھے اور باہر بھی۔ ان کی سوچ اور عمل میں کوئی رتی بھر کا بھی فرق نہیں تھا۔ وہ مجھے اپنی بیوی نہیں اپنی ساتھی سمجھتے اور انہوں نے میرے اوپر زندگی بھر گھر کے کام کاج اور ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ڈالا۔ ہر وہ آزادی جو ایک عورت خواہش کرتی ہے‘ یا پھر یوں کہہ لیں کہ جو اس کا حق ہے‘ مجھے حاصل تھی۔ کامریڈ لال خان اور میں دن رات انقلابی جدوجہد میں مصروف رہے۔

”Partition: can it be undone?“ کتاب کے لکھنے کے دوران ہم تقریباً 14 سے 16 گھنٹے تک کام کرتے تھے۔ اس کتاب کے لکھنے کے عمل اور اشاعت میں تقریباً آٹھ ماہ لگے اور یہ تمام وقت لال خان کے ساتھ دن رات بتانے کا موقع ملا اور تبھی ان کو اچھی طرح سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ جو ہماری کامریڈشپ کے مضبوط ہونے کا باعث بھی بنا۔

کامریڈ کے ساتھ بتائے گئے اکیس سالوں میں زیادہ تر وہ لال خان ہی تھے مگر کبھی کبھی وہ یثرب تنویر گوندل بھی ہوتے تھے۔ تب وہ دنیا کے سب سے معصوم انسان لگتے تھے جسے شاید دنیا کی ہوا بھی نہیں لگی تھی۔ کوئی دورغ گوئی، کوئی غیب، کوئی چالاکی نہ تھی اور نہ وہ یہ پسند کرتے تھے۔

میں خود ایک ماں ہوں اور میرے بچے بھی ہر ایک کے بچوں کی طرح مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں ہر ماں کی طرح ان سے محبت کرتی ہوں۔ مگر ماں اور بچے کا جو تعلق تنویر گوندل اور ان کی ماں کا تھا وہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ 50 سال کی عمر میں بھی وہ اپنی ماں سے ایک چھوٹے سے بچے کی طرح انسیت رکھتے تھے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوتے اپنی ماں سے روزانہ رابطے میں رہتے۔ ماں کے چلے جانے کے بعد میں نے ان کو کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہر شام ان کی آنکھیں پرنم رہتیں اور دوستوں کی محفلیں اور دعوتیں دھیرے دھیرے کم ہوتی گئیں۔ جب خود باپ بنے تو گویا بچے ہی بن گئے۔ بچے کو کیسے اٹھانا ہے، کیسے سلانا ہے، کیسے جگانا ہے اور کیسے کھلانا ہے سب سیکھا۔ بیٹے کا نام شیر زمان رکھا جو ان کے والد کا نام بھی ہے (یہ ان کی اپنے باپ کے ساتھ محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا)۔ شیر زمان اور سحر تنویر بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں تنویر گوندل جیسا شفیق باپ ملا۔ وہ اپنے بچوں کے بھی باپ کم اور ساتھی زیادہ تھے۔ دونوں بچے جب کبھی بھی اپنے بچپن کو مڑ کر دیکھیں گے تو ایک لمحہ بھی ایسا یاد نہیں کر پائیں گے جب ان کے باپ نے انہیں سخت نظروں سے بھی دیکھا ہو۔ جیسے وہ بیٹے تھے ویسے ہی باپ تھے۔ شدت سے محبت کرنے والے۔

ڈاکٹر صاحب کی دوستی بھی انقلاب کے لئے تھی اور دوستوں سے دوری کی وجہ بھی انقلاب کی سچی تمنا ہی تھی۔ یہاں میں نے دشمنی کا لفظ نہیں لکھا کیونکہ وہ ذاتی زندگی میں اس لفظ سے ناآشنا تھے۔ ان کی دشمنی ہمیشہ اس نظام اور اس کے پہرے داروں سے رہی۔ وہ سرمایہ داری کی ہر شاخ سے نفرت کرتے تھے اور ان کی یہی نفرت انہیں اس نظام کیخلاف دن رات لڑنے کا حوصلہ اور جرات دیتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کمال کے سامع تھے۔ تنظیمی اجلاسوں اور کامریڈوں سے ون ٹو ون بحثوں میں کامریڈ ہمیشہ دوسروں کو پہلے بولنے کا موقع دیتے تھے اور پوری توجہ سے ان کا موقف سننے کے بعد اپنی بات رکھتے تھے۔ بلکہ اسی طرح گھریلو معاملات میں حتیٰ کہ میری ”چیخ“ کو بھی سنتے اور ”برداشت“ کرتے تھے (کیونکہ آخری تجزیے میں وہ شوہر ہی تھے)۔ جب کبھی بھی میں اپنی دوستوں، بہنوں اور ملنے والیوں کی زندگیاں دیکھتی تو اپنی زندگی اور اپنے ہم سفر پر نازاں ہوتی جس نے ہمیشہ پہلی ملاقات جیسا پیار دیا۔

ڈاکٹر صاحب ہمیشہ بچوں کا اور میرا خیال رکھتے تھے۔ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ انقلابی جدوجہد میں مصروف گزارا لیکن جو بھی وقت ملتا بچوں کے ساتھ بھرپور طریقے سے گزارتے اور ان کی ہر بات ہر حرکت سے محظوظ ہوتے تھے۔ وہ ہمارا اتنا خیال رکھتے تھے کہ جب بیمار ہوئے اور ان کے مرض کی تشخیص ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بچوں کو اس بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گے۔ بچوں سے چھپاتے چھپاتے وہ مجھ سے بھی اپنی حالت کے بارے میں چھپانے لگے تھے۔ اپنی ”کیمو تھراپی“ کے لئے کامریڈ رنگی کے ساتھ خود ڈرائیو کر کے جاتے تھے، خود ہی اکیلے ڈاکٹروں سے ڈسکشن کرتے تھے اور گھر آ کر مجھے گلے لگا کر ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ دیتے۔ اور سب اچھا دِکھنے بھی لگا تھا کہ بیماری نے دوبارہ سے حملہ کر دیا۔ اس پورے سال میں ڈاکٹر صاحب باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے رہے اور تنظیمی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ یہاں تک کہ بستر پر پڑنے سے ایک دن پہلے انہوں نے ”پاکستان پیش منظر“ پر اپنے حصے کا کام ختم کیا۔ ”طبقاتی جدوجہد“ کے لئے لکھے گئے ان کے آخری اداریے پر خون کے دھبے ان کی ان تھک محنت اور جدوجہد کی گواہی دیتے ہیں۔ آخری اداریہ لکھنے کے بعد وہ زمین پر گر پڑے اور انہیں سر پر گہری چوٹ آئی اور اس دن کے بعد انہوں نے کچھ نہیں لکھا۔

وہ بچ نہیں پائیں گے یہ بات وہ بیماری کے آغاز سے ہی جانتے تھے۔ مگر جس وقار کے ساتھ وہ اس بیماری سے لڑے وہ ناقابل فراموش ہے۔ اکتوبر 2019ء میں ہی ڈاکٹروں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ ان کے پاس ٹائم نہیں ہے۔ شاید ایک مہینہ، شاید ایک ہفتہ، شاید ایک دن یا شاید ایک لمحہ۔ مگر وہ موت سے ڈرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ روزانہ صبح اٹھ کر کافی خود بناتے اور اگر میں اٹھ کر بنانے کی کوشش کرتی تو کہتے کہ ”تم آرام کرو۔“ دوپہر میں ہم دونوں مل کر کھانا بناتے اور شام ہوتے ہی ٹی وی پر سیاسی پروگرام دیکھتے اور پھر کوئی انڈین پنجابی فلم لگا لیتے۔ اسے انجوائے کرتے اور کھانے کھاتے اور خوب گپ شپ لگاتے۔ ان سارے دنوں میں ڈاکٹر صاحب نے ایک دفعہ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ جا رہے ہیں۔ مجھے شاید اس لئے نہیں بتایا کہ وہ مجھے بے چین نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اپنے فیصلوں پر ہمیشہ اٹل رہے اور آخری وقت تک ان پر قائم رہے۔ کینسر ان کے دماغ کے ہر حصے پر چھا گیا تھا مگر کامریڈ رنگی اور ہم کہتے تھے کہ بغاوت کے خانے پر آنے کی جرات نہیں کر سکا۔ روزانہ باتھ روم جاتے ہوئے گرتے مگر کرسی کااستعمال نہیں کرتے تھے اور نہ ہی مدد لینا پسند کرتے تھے۔ اپنی پرائیویسی کا نیم بے ہوشی میں بھی خیال رکھا۔ جب بھی ہسپتال اٹینڈنٹ کپڑے بدلنے وغیرہ کے لئے آتا تو مزاحمت کا سامنا کرتا۔

ہسپتال میں جب بیماری نے انہیں نیم بے ہوش کر دیا تھا تب بھی ان کی تنظیمی معاملات پر نظر تھی۔ یہ یاد تھا کہ کانگریس قریب ہے اس لئے کامریڈ پال سیٹھ سے کہتے کہ فلاں دوست کو بلاؤ اور اس سے اتنا فنڈ لو۔ یورپ سے آنے والے کامریڈ کا گانا گا کر استقبال کیا۔ آخری رات جب ان کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی اور آئی سی یو میں شفٹ کرنے کو کہا گیا تو ان کے ڈاکٹرنے ان سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں؟ تو ڈاکٹر لال خان نے مسکرا کر کہا کہ”میں ٹھیک ہوں، گزاراہو رہا ہے۔“ وہ ڈاکٹر بھی حیران تھا۔ اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ بندہ کیا چیز ہے؟ اس وقت اس کے اندر طوفان برپا ہے مگریہ اتنے سکون سے کہہ رہا ہے کہ میں ٹھیک ہوں اور مسکرا رہا ہے۔ اس لمحے میرے دماغ میں ایک گانا گونجا جو ڈاکٹر صاحب کو بے حد پسند تھا اور آج وہ اس کی جیتی جاگتی تصویر تھے:

روتے ہوئے آتے ہیں سب
ہنستا ہوا جو جائے گا
وہ مقدر کا سکندر
جانِ من کہلائے گا!

وہ اس لئے مطمئن اور پرسکون تھے کہ زندگی بھر جن نظریات کا پرچار کرتے رہے آخری سانس تک ان پر قائم رہے۔ حتیٰ کہ ان کا آخری جملہ بھی ان کے نظریات پر پختہ یقین کا گواہ ہے: ”شیری، ضیا کو مار دو!“