اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں یمن کی صورتحال پر نام نہاد مہذب دنیا کی مجرمانہ خاموشی ان کی اس واردات میں درپردہ حمایت اور شمولیت کا پتہ دیتی ہے۔
مشرق وسطیٰ
ایران، امریکہ جنگ کے امکانات اور مضمرات
ٹرمپ کی یہ قلابازیاں دراصل امریکی سامراج کی کم اعتمادی اور تذبذب کی عکاسی کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ تاراج کیوں؟
مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ماضی کی سامراجی پالیسیوں کا ناگزیر نتیجہ ہے۔
سعودی عرب: تنخواہوں سے محروم محنت کشوں کے احتجاج پر پولیس فائرنگ سے آٹھ زخمی، سینکڑوں گرفتار، پاکستانی حکام خاموش
سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں سرکاری آئل کمپنی سعودی آرامکو کے تعمیراتی منصوبہ کی کنٹریکٹنگ کمپنی ازمیل کنٹریکٹنگ کمپنی کیلئے کام کرنے والے محنت کشوں کی یہ تیسری بڑی ہڑتال تھی۔
امریکی فوجوں کا انخلا: زوال پذیر سامراج کی عسکری پسپائی
ہنستے بستے سماجوں کا بیڑا غرق کرنے کے بعد یہ سامراجی خود دم دبا کے بھاگ رہے ہیں۔
یمن: بربادیوں کی داستان
اس وقت یمن ایک بڑے قحط کے دہانے پر کھڑا ہے۔
خاشقجی کا قتل: شاہی جبر اور سامراجی منافقت
ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کچھ لوگوں نے کسی حکومتی ایما یا اشارے کے بغیر اپنے طور پر ہی خاشقجی کو قتل کر دیا ہے!
عراق: بربادیوں کی کوکھ سے ابھرتی زندگی
موجودہ تحریک جس میں عوام اپنی آزادی کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں‘ ایک امید کی کرن ہے۔
اردن میں عوامی بغاوت
چھ جون کو اردن کے مزدوروں اور ٹریڈ یونین کے سرگرم کارکنان کی عام ہڑتال اتنی شدید تھی کہ پوری ریاست لرز کے رہ گئی۔
سعودی عرب: ’وژن 2030ء‘ اور غیر ملکی محنت کش
سعودی عرب میں ایک بار پھر شدید اذیت میں زندگی بسر کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں کو نکالنے پر زور دیا جارہا ہے۔
سرمایہ دارانہ بحران کے سیاسی مضمرات
’معاشی استحکام‘ کے حصول کے لئے مستقل کٹوتیوں، نجکاری، ڈاؤن سائزنگ وغیرہ کی جو پالیسیاں لاگو کی گئی تھیں‘ ان کا نتیجہ سیاسی اتھل پتھل کی شکل میں سامنے آیا ہے۔











