حارث قدیر

افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے انخلا کے بعد چند ہی روز میں طالبان کابل پر قبضہ کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قیام میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ماضی میں سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایما پر لڑنے والے مسلح گروہوں میں سے ایک بڑی تعداد نے جموں کشمیر کا رخ کیا تھا اور بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہونے والی مسلح بغاوت میں بطور پراکسی شامل ہو کر نہ صرف جموں کشمیر کے شہریوں کا قتل عام کیا تھا بلکہ بھارتی فورسز پر حملوں کے نتیجے میں بھارتی ریاست کو جموں کشمیر کے شہریوں کا قتل عام کرنے کا ایک جواز بھی فراہم کیا۔

1990-91ء میں افغان جنگی سردار گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی کے سینکڑوں جنگجوؤں کے وادی کشمیر میں مسلح عسکریت میں حصہ لینے کے علاوہ افغان جنگ میں شریک دیگر پراکسی گروہوں کے جنگجوؤں کی بھی ایک بڑی تعداد نے جموں کشمیر کا رخ کیا تھا۔ 1988ء کے اواخر میں شروع ہونے والی اس مسلح عسکریت پسندی کے نتیجے میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 40 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

طالبان نے حکومت میں آتے ہی یہ واضح کیا ہے کہ افغان سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ جموں کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کی مدد بھی نہیں کی جائیگی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز ضرور اٹھائیں گے۔ دوسری طرف بھارتی ریاست سمیت کچھ عالمی طاقتوں کو یہ خدشہ ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ میں طالبان کے ساتھ لڑنے والے پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی جانب سے جموں کشمیر میں دراندازی کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار اور ریاستی ذمہ داران کے علاوہ بھارتی میڈیا بھی طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار نظر آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں سرگرم دو اہم عسکریت پسند گروہوں ’جیش محمد‘ اور ’لشکر طیبہ‘ کے طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لشکر طیبہ اور جیش محمد کے 6 ہزار 500 کے لگ بھگ جنگجو افغان جنگ میں سرگرم ہیں۔ ’گارڈین‘سے گفتگو کرتے ہوئے جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا میں سی آئی اے کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ رہنے والے ڈگلس لندن نے کہا کہ وہ عسکریت پسند کشمیری گروہوں کو افغان سر زمین پر کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے وعدوں اور اعلانات پر بہت کم یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ”نریندر مودی کی قیادت میں حکمران جماعت کی ہندو قوم پرست سیاست کے نتیجے میں بھارت کی سکیورٹی صورتحال خاص طور پر غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ کیونکہ اس پالیسی کے تحت ملک بھر میں مسلمانوں کو حملوں اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مودی اسلامی برادری کے خلاف سخت اور جابرانہ لائن اپناتے ہوئے جہادی گروہوں کو بھرتی میں بنیادی طور پر مدد کر رہے ہیں۔ نریندر مودی کا یہ بیانیہ جہادی خطرے کو کشمیر سے بھارت تک بڑھا رہا ہے۔“

بھارتی حکمرانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغانستان میں اقتدار میں آنے والے طالبان مکمل طور پر پاکستانی ریاست کے کنٹرول میں ہیں اور انکا اقتدار میں آنا بھارتی مفادات کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔ عسکریت اور طالبان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے اس میڈیائی واویلے میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھارتی مظالم اور سختیوں میں اضافے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔اسے بھارت کے اندر موجود کسانوں کی بغاوتوں اور سماجی و معاشی مسائل سے دو چار کروڑوں محنت کشوں کی ممکنہ بغاوت کے خطرات کو ٹالنے کی کوشش کے علاوہ گہرے معاشی اور سماجی بحران سے توجہ ہٹانے کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مختلف واقعات اور تاریخی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نہ تو طالبان پاکستانی ریاست کے مکمل کنٹرول میں رہے ہیں اور نہ ہی بھارت نے طالبان کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کیا ہے۔ ماضی میں بھی 1996ء سے 2005ء تک بھارتی ریاست کے طالبان کے ساتھ بیک چینل تعلقات استوار رہے ہیں اور حال میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے سے قبل ہی بھارتی ریاست نے طالبان کے ساتھ یہ خفیہ تعلقات پھر سے استوار کر لیے تھے۔ کچھ ذرائع کے مطابق طالبان کے کچھ دھڑوں کے ساتھ بھارتی ریاست کے خفیہ تعلقات درمیان کے سالوں میں بھی رہے ہیں۔ دوسری طرف طالبان کے گزشتہ اقتدار کے دوران پاکستان کے ان کے ساتھ سب سے مثالی تعلقات قرار دیئے جاتے تھے لیکن مثالی تعلقات کے ہوتے ہوئے بھی طالبان نے ڈیورنڈ لائن کو سرکاری سرحد تسلیم نہیں کیا تھا۔ آج نہ صرف طالبان کے پاکستانی ریاست پر بے شمار تحفظات موجود ہیں بلکہ افغان شہروں میں ہونے والے احتجاج میں پاکستان کے خلاف ہونے والی نعرے بازی بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ افغان عوام میں پاکستانی ریاست کیلئے شکوک و شبہات پہلے سے کئی زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ طالبان کے اندر بھی پاکستان کے خلاف رد عمل موجود ہے۔ طالبان کی کابینہ میں شامل کئی رہنما پاکستان کی جیلوں میں برسوں گزار چکے ہیں۔ کئی طالبان رہنماؤں کو پاکستانی فورسز نے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے رکھا ہے۔

ان تمام تر حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مفادات کے تحت قائم ہونے والے ان رشتوں کی ڈوریں کافی کمزور ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ طالبان مکمل طور پر پاکستانی ریاست اور اداروں کے کنٹرول میں رہنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ آزادانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کریں گے اور فیصلہ جات میں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی طاقتوں کے مفادات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی کوشش کریں گے۔

بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، بجلی گھروں، ڈیموں اور پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر سمیت مختلف منصوبوں پر افغانستان میں 3 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں اور طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے منصوبے جاری رہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے جہاں طالبان کے اقتدار میں آنے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور پنجشیر ویلی کی مزاحمت کو امید کی آخری کرن قرار دیا جا رہا ہے‘ وہیں بھارتی حکمرانوں نے سی اے اے کے قانون کے مطابق صرف افغانستان سے انخلا کرنے والے سکھوں اور ہندوؤں کو ہی اپنے ملک میں جگہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ لاکھوں کی تعداد میں ہزارہ اور دیگر نسلوں کے مسلمان بھی طالبان کی جبر و وحشت کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ ہزارہ نسل کے لاکھوں انسانوں کو طالبان اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں۔ لیکن نریندرا مودی کے چمکتے بھارت میں ان بے بس اور لاچار انسانوں کیلئے صرف ان کے مذہب کی وجہ سے کوئی جگہ نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 131 صفحات پر مشتمل ایک ڈوزیئر پیش کرتے ہوئے نہ صرف جموں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی نشاندہی کی ہے بلکہ اسی پریس کانفرنس میں دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے نشاندہی کی ہے کہ عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش) کی بھارتی ریاست سرپرستی اور تربیت کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گلمرگ، رائے پور، جودھ پور، چکراٹا، انوپ گڑھ اور بیکانیر میں بھارتی ریاست کی ایما پر پانچ تربیتی کیمپ چلائے جا رہے ہیں۔

یہ بھارتی ریاست پر پہلا الزام نہیں ہے۔ ماضی میں بھی بھارتی ریاست جموں کشمیر میں عسکریت پسندی کا راستہ روکنے کیلئے اس طریقے کو استعمال کر چکی ہے۔ 1988ء کی مسلح عسکریت میں جب لبریشن فرنٹ کے مقابلے میں حزب المجاہدین اور دیگر مذہبی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستانی ریاست کی جانب سے جموں کشمیر میں لانچ کیا گیا تھا تو اس وقت بہت سے منحرف جنگجوؤں کو بھارتی ریاست نے خرید کر متحارب گروہوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ مسلح گروہوں کے مابین تصادموں میں سینکڑوں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھارتی حکمران کھل کر چین اور پاکستان کے اتحاد کی بنیاد پر عسکریت پسندی کی پشت پناہی کے خدشات کا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ امریکی آشیرباد سے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کریں۔

بحران زدہ نظام میں اقتدار کو جاری رکھنے کیلئے حکمران طبقات کے کسی حد تک جانے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ داخلی تضادات کو دبانے اور محنت کش طبقات کو تقسیم کرنے کیلئے مذہبی، قومی، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو بھڑکانے اور انسانیت کا قتل عام کروانے جیسے حکمران طبقات کے مکروہ اقدامات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ نریندرا مودی کی اقتدار کو جاری رکھنے کیلئے ہندوتوا کی پالیسی اور آر ایس ایس کے ذریعے مسلم اقلیتوں میں مظالم اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی فتح نے لازمی طور پر بنیاد پرستی کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ نہ صرف پاکستان میں بنیاد پرستی کو حوصلہ ملا ہے بلکہ درمیانے طبقے کی وسیع پرتوں اور حتیٰ کہ محنت کش طبقے کی پسماندہ پرتوں کا شعور بھی پراگندہ ہوا ہے۔ پاکستانی و بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی عسکریت پسندی کو طالبان کی اس فتح سے ضرور حوصلہ ملا ہے۔ خاص کر کے افغان جنگ میں حصہ لینے والے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عسکریت پسندوں کی واپسی اور استقبال کے واقعات نے ریاستی پشت پناہی کے عوامل سے بھی پردہ چاک کیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کے جبر، تشدد اور سخت گیر پابندیوں کی وجہ سے نفرت کی آگ میں جلتے کشمیری نوجوانوں کو بھی عسکریت کی صفوں میں شامل ہونے کیلئے تحریک فراہم کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال میں 163 مقامی نوجوانوں نے عسکریت پسندی کا راستہ چنا ہے جبکہ رواں سال کے ابتدائی سات ماہ میں 80 سے زائد نوجوان عسکریت کے راستے کو اپنا چکے ہیں۔ رواں سال جنوری سے 31 جولائی تک 95 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان مقابلوں کے دوران 23 بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ تاہم جنہیں عسکریت پسند قرار دیکر ہلاک کیا گیا ان میں سے متعدد کے حوالے سے مقامی شہریوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسند نہیں تھے بلکہ سویلین کو فوجی جبر کے ذریعے قتل کر کے عسکریت پسند قرار دیا گیا۔ انسانی حقوق کے ایک گروپ کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2018ء میں کل 586 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 162 سے زائد عام شہری شامل تھے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کاررائیوں کی آڑ میں کس طرح سول آبادی کو مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے ایک فوجی چھاؤنی کی شکل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ افسپا اور ٹاڈا جیسے کالے قوانین کے نفاذ اور جگہ جگہ پر شہریوں کی تلاشیوں کے نام پر تذلیل، گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے شہریوں کے ذہنوں پر ایک ایسے خوف کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں کہ وہ رد عمل میں کسی بھی انتہا تک جا سکتے ہیں۔ ہڑتالوں اور احتجاجوں کو روکنے کیلئے کرفیو کے نفاذ، لاک ڈاؤن اور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو معطل کیے جانے، سکولوں کو طویل عرصہ تک بند کرنے اور معاشی بدحالی نے وادی کشمیر کے باسیوں کو متعدد ذہنی امراض کا شکار بنا دیا ہے۔ اس طرح کے حالات میں جوان ہونے والے بچوں کی نفسیاتی حالت کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے۔ 2016ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق وادی کشمیر کی 45 فیصد آبادی انتہائی ذہنی امراض سے دو چار ہے اور تقریباً ہر پانچ میں سے ایک کشمیری میں ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی جہاں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی وہاں بھارتی ریاستی جبر کی ایک طویل داستان بھی رقم کی گئی۔ سینکڑوں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور جنسی تشدد کے واقعات کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مسلح افواج کے خصوصی اختیارات اور بھارتی افواج کو بڑے اور سنگین جرائم سے استثنیٰ فراہم کیے جانے کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 سالوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے بھارتی مسلح افواج کے اہلکاروں کے جنگی جرائم پر ایک بھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

جموں کشمیر کا تنازعہ برصغیر پاک و ہند کے حکمرانوں کیلئے ایک ایسا اہم ہتھیار ہے جس کی بنیاد پر جنگ و امن کا کھیل جاری رکھتے ہوئے اس خطے کے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کے مقدر سے کھلواڑ اور اس نظام کی حکمرانی کو جاری رکھا جاتا رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ سے دونوں اطراف کے کشمیریوں کے قتل عام کے علاوہ ان کی املاک کو شدید نقصان پہنچائے جانے کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2010ء سے 2021ء کے درمیان کنٹرول لائن پر 14 ہزار 114 سے زائد فائرنگ کے تبادلے کے واقعات ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے اور عام آبادیوں کو نشانہ بنایا جانا معمول ہے۔ رواں سال فروری میں سیز فائر لائن معاہدے کے تحت ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ دنوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات پھر رونما ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے کشمیریوں کے خدشات ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے ہیں۔

بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا گیا ہے کہ پونچھ اور راجوری کے اضلاع میں دراندازی کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی ریاست کی جانب سے 2 دراندازوں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس متعلق کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ راجوری اور پونچھ کے علاوہ کشتواڑ، ڈوڈا اور رام بن اضلاع میں بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔ دراندازی کی کوششوں کو روکنے کے نتیجے میں 5 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ایک خاصی تعداد کنٹرول لائن عبور کر نے میں کامیاب بھی ہو گئی ہے۔

مذکورہ بالا تمام تر حالات و واقعات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر حکمران طبقات اپنے بحران کی قیمت جموں کشمیر کے باسیوں سے وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کے محنت کشوں کو تعصبات اور نفرتوں کی بھینٹ چڑھانے کی کوششوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔ جہاں جموں کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر کے خلاف بندوق اٹھانے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے وہیں تیس سالہ عسکریت سے حاصل ہونے والے اسباق سے نوجوانوں نے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی بندوق اٹھانے کے منفی اور سنگین نتائج سے نوجوان بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔ حکمران طبقات ماضی کے ان حربوں کے ذریعے سے زیادہ دیر تک محنت کشوں کو تقسیم بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی دہشت اور وحشت کا خوف مسلط کر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو زیادہ دیر تک خوفزدہ کیا جا سکتا ہے۔ جموں کشمیر پر فوجی قبضے اور جبر کے سائے تلے پلنے والی غربت، لا علاجی، جہالت اور معاشی و سماجی عدم استحکام کے خلاف جدوجہد کے راستے میں اپنا سب کچھ کھو دینے والے کشمیریوں کی نئی نسل جوان ہو رہی ہے۔ ماضی کے تجربات سے سبق بھی سیکھ رہی ہے اور ترقی پسند نظریات سے روشناس بھی ہو رہی ہے۔ انقلابی نظریات کی ماضی کی تاریخ پھر سے دہرائے جانے کا وقت قریب تر ہے۔ تمام تر نفرت اور حقارت کو مرتکز کرتے ہوئے انقلابی نظریات کا دامن تھامنے والے نوجوانوں کی پکار پورے برصغیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت اور اہلیت کی حامل ہو گی۔ محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام ہی خطے کی محکوم قومیتوں اور محروم طبقات کی معاشی، سیاسی اور سماجی آزادیوں کا ضامن ہو گا۔