نجی ملکیت کے ظہورکے ساتھ عورت بھی آلات پیدوار کی طرح مرد و خاندان کی ملکیت بنتی چلی گئی۔
خواتین
سوشلسٹ انقلاب اور حقوقِ نسواں کی جدوجہد
قومی سوال کی طرح خواتین کے حقوق اور آزادی کے سوال کو جب تک طبقاتی بنیادوں پر نہ سمجھا جائے کوئی حقیقت پسندانہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
محنت کش عورت کی آزادی: سوشلزم!
جس معاشرے میں ماں آزاد نہ ہو وہ معاشرہ غلام رہتا ہے۔
سرخ پرچم کو عورت اٹھائے گی اب!
روس میں بھی پردے کے لیے سکارف اور چادروں کا استعمال درمیانے اور نچلے طبقات میں عام تھا۔ لیکن فروری کے انقلاب کا آغاز ہی محنت کش خواتین کے عالمی دن سے ہوا تھا۔
’می ٹو‘
خواتین کے معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور جنسی استحصال کا اگر جائزہ لیا جاتا تو سب سے زیادہ مظلوم محنت کش طبقے کی خواتین ہیں۔
عورت اور انقلاب
اٹل حقیقت ہے کہ محنت کش طبقہ ہی اس درندہ صفت نظام کا گورکن ہے جو اس نظام کو دفن کر کے صنفی اور جنسی تفریق سمیت تمام تر تعصبات کو ختم کر دے گا۔
تھا اک دل بھی زیرِ پستاں…
پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں خواتین بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، مگر پھر بھی بہت سی خواتین سوچے سمجھے بغیر اپنا غلامانہ کردار قبول کئے ہوئے ہیں۔




