یہ سامراجی اس قدر بدحواس اور پاگل ہو چکے ہیں کہ تاریخ سے کچھ سیکھنے کی اہلیت ہی کھو چکے ہیں۔
دنیا
وینزویلا ایک بار پھر سامراجی یلغار کی زد میں
یہ سامراجی بوکھلاہٹ، ضد اور ہٹ دھرمی کے عالم میں اتنے آگے آگئے ہیں کہ انتہائی اقدامات کی جانب بھی جاسکتے ہیں۔
سعودی عرب: تنخواہوں سے محروم محنت کشوں کے احتجاج پر پولیس فائرنگ سے آٹھ زخمی، سینکڑوں گرفتار، پاکستانی حکام خاموش
سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں سرکاری آئل کمپنی سعودی آرامکو کے تعمیراتی منصوبہ کی کنٹریکٹنگ کمپنی ازمیل کنٹریکٹنگ کمپنی کیلئے کام کرنے والے محنت کشوں کی یہ تیسری بڑی ہڑتال تھی۔
امریکی فوجوں کا انخلا: زوال پذیر سامراج کی عسکری پسپائی
ہنستے بستے سماجوں کا بیڑا غرق کرنے کے بعد یہ سامراجی خود دم دبا کے بھاگ رہے ہیں۔
فرانس میں ’پیلی جیکٹ والوں‘ کی تحریک، مزاحمت اور جدوجہد کے نئے باب کا آغاز
اِس تحریک نے نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سطح پر مزاحمت اور جدوجہد کے نئے باب کا آغاز کیا ہے جو آنے والے دنوں میں سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران کیساتھ جاری رہے گا۔
سوشلزم اور چین
’’چینی خاصیتوں والا سوشلزم‘‘، جو چین کا سرکاری نظریہ ہے، بنیادی طور پر ریاستی سرمایہ داری کی ایک شکل ہے۔
بنگلہ دیش: ’ترقی‘ کا تشدد
بنگلہ دیش میں جمہوریت کا ڈھونگ خود اس کے معماروں نے بے نقاب کر دیا ہے۔
یمن: بربادیوں کی داستان
اس وقت یمن ایک بڑے قحط کے دہانے پر کھڑا ہے۔
امریکہ: زوال پذیر ریاست کے مڈٹرم الیکشن
نوجوانوں کی بڑی تعداد ریڈیکل نظریات کی طرف راغب ہو رہی ہے جنہیں انقلابی سوشلزم کے پروگرام پر جیتا جا سکتا ہے۔
’بریگزٹ‘ کا بحران
ڈھائی سال مکمل ہوچکے لیکن اس کے باوجود بھی برطانوی حکومت یورپی یونین سے علیحدگی کے بارے میں کوئی معاہدہ کرنے میں ناکام رہی۔
سری لنکا کا بحران
اس بحران کی بڑی وجہ بیرونی طاقتوں بالخصوص بھارت اور چین کی سری لنکا میں مداخلت اور مفادات کی جنگ ہے۔
خاشقجی کا قتل: شاہی جبر اور سامراجی منافقت
ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کچھ لوگوں نے کسی حکومتی ایما یا اشارے کے بغیر اپنے طور پر ہی خاشقجی کو قتل کر دیا ہے!
بحران زدہ برازیل میں انتخابات، مضمرات کیا ہوں گے؟
بولسنارو جیسے دائیں بازو کے پاپولسٹ کا ابھار بائیں بازو کی اصلاح پسندی کی ناکامی کا نتیجہ ہی ہے۔
امریکہ چین تناؤ
جدلیاتی طور پر چیزیں اپنی الٹ میں تبدیل ہوچکی ہے اور سستی لیبر والا یہی چین آج مغرب کے سامنے ایک معاشی طاقت کے طور پر کھڑا ہے۔
بھارت: جمہوریت میں چھپی مطلق العنانیت
نریندرا مود ی اب مذہبی منافرتوں کو نئی ہولناک انتہاؤں پر لے جانا چاہتا ہے جس سے وہ ہندو بنیاد پرستی کی وحشت کو ابھار کر 2019ء کا انتخاب جیت سکے۔















