اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں یمن کی صورتحال پر نام نہاد مہذب دنیا کی مجرمانہ خاموشی ان کی اس واردات میں درپردہ حمایت اور شمولیت کا پتہ دیتی ہے۔
دنیا
افغانستان: سامراجی اکھاڑے میں انتخابات کا کھلواڑ!
امریکہ کو افغانستان میں ایک بدترین شکست کا سامنا ہوا ہے۔
سامراج یاترا
دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلسل جاری جنگوں اور بربادیوں سے اس ادارے کی حقیقت بے نقاب ہے۔
عالمی معیشت نئے بحران کے دہانے پر؟
تجارتی جنگ اور تحفظاتی رحجانات میں ہونے والے اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ہمالیہ کی کوکھ سے اب انقلاب پھوٹے گا!
نریندرا مودی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ہی جموں کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کے خاتمے پر عملی کام شروع کر دیا تھا۔
9/11: کرے کوئی، بھرے کوئی!
اس دہشت گردی کو بہت سی ریاستیں اور حاکمیتیں بھی اپنے مذموم مقاصد اور مالیاتی و عسکری مفادات کے لیے پراکسیوں کے طور پر استعمال کرنے لگیں۔
ہندوستان: ترقی کے سراب۔۔۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی اس ترقی کو نہ صرف بہت مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے بلکہ یہ کسی صحتمند کردار سے عاری ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی غیر مستحکم اور ناہموار بھی ہے۔
حماقت کا راج
قدامت پرست اور نیم فسطائی سوچ رکھنے والے سیاستدانوں اور پارٹیوں کا ابھار ہو رہا ہے۔
ہانگ کانگ: سر کش نوجوانوں کے’غیر قانونی‘ مظاہرے
چینی ریاست کی جانب سے یہ صورتحال مرکزی حکومت کی رِٹ پر حملہ تصورکی گئی اور تحریک کو کچلنے کے لئے مزید پرتشدد ذرائع استعمال کیے گئے۔
یہ داغ داغ اجالا…
1947ء کے بعد کوئی ہندوستان نہیں رہا۔ صرف پاکستان، مشرقی بنگال اور بھارت ہی باقی بچے۔
پاک امریکہ تعلقات: مطلب کی سفارتکاری کے 72 سال
حکمرانوں نے جوا مداد حاصل کی وہ ایک ایسا زہر ِ قاتل تھی جس سے پاکستانی معیشت مسلسل سامراجی جکڑ میں دھنستی چلی گئی۔
کشمیر کے سوداگر
المیہ یہ ہے کہ 72 سال بعد بھی یہاں پر ایک سامراجی طاقت کے جارح، مغرور، نسل پرست اور ناقابلِ اعتماد حکمران سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔
بیرونی سرمایہ کاری: تریاق یا زہر؟
ان کارپوریشنوں نے محنت کشوں کا خون پسینہ نچوڑ کر دولت کے انبار لگائے ہیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔
کشمیر کب تک سلگتا رہے گا؟
جس آگ میں کشمیر کے محنت کشوں کا لہو جل رہا ہے، سامراجی منافع خوری اور برصغیر کے حکمرانوں کا تسلط اس طرح سے بہتر ہو رہی ہے۔
کرہ ارض پہ سرمائے کا کہرام!
مسئلہ یہ ہے کہ دولت کا یہ نظام مزید چلنے کی سکت نہیں رکھتا اور لہو بہا کر اس کو زبردستی عوام پر مسلط کیا جارہا ہے۔















