فرانس میں ’پیلی جیکٹ والوں‘ کی تحریک، مزاحمت اور جدوجہد کے نئے باب کا آغاز

تحریر: آصف رشید

فرانس میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے صدر میکرون کی نیو لبرل حکومت کے خلاف ایک جاندار تحریک موجود ہے جس کا آغاز نومبر 2018ء کے وسط میں ہوا تھا۔ ڈیزل پر ٹیکس میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہے۔ پیلی جیکٹیں پہنے مظاہرین، جن کی اکثریت کا تعلق محنت کش طبقات سے ہے، ’امیروں کے صدر ایمانویل میکرون‘ کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن شاید فرانس میں تحریک سے بھی زیادہ اہم مظہر وہ مظاہرے ہیں جو مختلف ممالک میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے اِس تحریک سے متاثر ہو کے اپنے بنیادی مطالبات کے لئے منعقد کیے ہیں۔ ان مطالبات کی نوعیت بالعموم معاشی اور طبقاتی تھی۔ ان ممالک میں بیلجیم، بلغاریہ، کینیڈا، مصر، جرمنی، عراق، اسرائیل، اٹلی، لبنان، پاکستان، ہالینڈ، پولینڈ، پرتگال، روس، تیونس اور تائیوان وغیرہ شامل ہیں جہاں چھوٹے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں استحصال زدہ طبقات کی ہراول پرتیں‘ فرانسیسی محنت کش طبقے کی طاقت، مستقل مزاجی اور لڑاکا صلاحیتوں سے متاثر نظر آتی ہیں۔ 2011ء کی آکو پائی وال سٹریٹ تحریک اور عرب انقلابات کے بعد ایسی طبقاتی جڑت اور بین الاقوامیت کا مظاہرہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسے میں حکمران طبقات خاصے خوف کا شکار ہیں جس کا مضحکہ خیز مظاہرہ مصر میں دیکھنے کو ملا جہاں السیسی کی آمرانہ حکومت نے پیلی جیکٹوں کی فروخت پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔ یوں کئی سال کے ٹھہراؤ‘ بالخصوص یونان میں تحریک کی پسپائی کے بعد یہ تحریک سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کے نئے مرحلے کی غمازی کرتی ہے۔ کچھ مغربی ممالک میں دائیں بازو کے نیم فسطائی اور مہاجرین مخالف گروہوں نے بھی ’پیلی جیکٹ‘ کے سمبل کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے اور تحریک کا عمومی جھکاؤ بائیں بازو کی طرف ہے اور مطالبات کی نوعیت طبقاتی ہے۔

شروع میں ڈھٹائی اور بڑھک بازی کا مظاہرہ کرنے کے بعد 10 دسمبر کی شام کو صدر میکرون نے بالآخر قوم سے خطاب کرتے ہوئے فیول ٹیکس میں اضافے کو موخر کرتے ہوئے 10 ارب یورو مالیت کی مراعات کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان مراعات میں ماہانہ بنیادی تنخواہ میں 100 یورو اضافہ، پنشن میں اضافہ، اوور ٹائم تنخواہوں پر ٹیکسوں میں کمی اور بجلی کے ریٹ مارچ 2019ء تک نہ بڑھانا شامل تھا۔ میکرون نے کاروباری حضرات کو کرسمس پر مزدوروں کو بونس دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی صدارت کے آغاز پر امیروں کو ٹیکسوں میں جو چھوٹ دی تھی اس کی واپسی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ یہ تحریک کی پہلی کامیابی تھی لیکن اس اعلان کے اگلے روز مظاہروں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بڑی تعداد میں طلبہ نے بھی مظاہروں میں شرکت کی۔ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تادمِ تحریر مظاہروں کا سلسلہ اتار چڑھاؤ کیساتھ جاری ہے۔
میکرون کو اقتدار میں آئے صرف 18 ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور ان مظاہروں میں اس کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ اسے 1968 ء کی تحریک کا نیا جنم قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ فی الوقت یہ تحریک اُس ہجم، نظریاتی بلوغت اور زور کی حامل نہیں ہے۔ میکرون، جسے ان مظاہروں سے پہلے بڑا طاقتور صدر سمجھا جا رہا تھا، کی نیولبرل معاشی پالیسوں نے فرانس میں لاکھوں لوگوں کو خط غربت کی لکیر تک پہنچا دیا ہے۔ مظاہروں میں تمام محکوم سماجی پرتوں سے لوگ شامل ہوئے ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے فوری ایشو کے بعد مظاہرین کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوتا گیا ہے۔ مختلف میڈیا چینلوں اور ویب سائٹوں کو دئیے گئے انٹرویوز میں مظاہرین کی اکثریت نے یہی موقف رکھا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اُن کے صبر کے پیمانے کو لبریز ہی کیا ہے اور اُن کے مطالبات اور تحفظات اس فوری مسئلے سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ یہ ایک خودرو تحریک ہے جس کی کوئی باقاعدہ قیادت اور ڈھانچے وغیرہ نہیں ہیں (اگرچہ کچھ جگہوں پر مظاہرین نے خود کو کمیٹیوں میں منظم کیا ہے) لیکن جو مطالبات مختلف گروہ، سماجی پرتیں یا افراد اٹھا رہے ہیں ان میں محنت کشوں کی تنخواہوں، پنشنوں اور دیگر مراعات میں 40 فیصد تک اضافہ، نئے روزگار کی تخلیق، کرایوں میں کمی اور نئے گھروں کی تعمیر، ماحولیات کے تحفظ اور صحت کی سہولیات کے حوالے سے دس سالہ منصوبہ بندی، فرانس کی افریقہ سمیت دیگر تمام جگہوں پر فوجی مداخلت کا خاتمہ اور نیٹو سے علیحدگی وغیرہ شامل ہیں۔
پیرس اور ملک کے دیگر شہروں میں مظاہروں اور روڈبلاکس میں محنت کش شامل رہے۔ 10 دسمبر کو تقریباً سو سکولوں کے طلبہ کی شمولیت سے تحریک کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا تھا۔ فرانسیسی نوجوان بھی پے درپے نیولبرل اصلاحات پر بہت مشتعل ہیں جن کی وجہ سے یونیورسٹی تک پہنچنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
دنیا بھر کی طرح سرمایہ داری کے بحران کے نتیجے میں فرانس میں بھی غربت اور امارت کی خلیج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہولاندے کے تحت سوشلسٹ پارٹی کی پچھلی حکومت بھی بحران کا تمام تر بوجھ محنت کشوں اور غریبوں پر منتقل کرتی رہی جس کی وجہ سے اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن میکرون نے اقتدار سنبھالنے کے بعد زیادہ کھل کر معاشی حملے شروع کر دئیے جس کے ردِ عمل میں ابھرنے والی اِس تحریک نے ثابت کیا ہے حکمران طبقات کی من مانیاں صدا جاری نہیں رہ سکتیں اور محنت کش طبقہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ بھرپور جرات کا مظاہرہ کر کے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور بھی کر سکتا ہے۔ محنت کشوں کی تنخواہوں اور بچی کچھی مراعات کے خاتمے کے ایجنڈے کیساتھ برسر اقتدار آنے والا میکرون اب تنخواہوں اور سہولیات میں اضافے کا اعلان کرتا پھر رہا ہے۔
حالیہ مظاہروں میں تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پیرس میں کئی مقامات پر امرا کی پرتعش املاک کو جلایا گیا ہے جس سے عام لوگوں کی سرمایہ دار طبقے سے شدید نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ کچھ مظاہرین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’’اس قسم کی پرتشدد کاروائیاں کرنا ہمیں پسند نہیں ہے لیکن ہمیں نتائج چاہئیں۔‘‘ صدر میکرون کے بارے میں عام لوگوں کا بالکل صاف خیال ہے کے وہ فرانس کے عوام کا نہیں بلکہ امیروں کا نمائندہ ہے۔ تازہ سروے کے مطابق صدر میکرون کی مقبولیت 24 فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے جو فرانس کی تاریخ میں کسی بھی صدر کی کم ترین مقبولیت ہے۔ اس کی پارٹی میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور اب تک حکومت سات وزرا سے محروم ہو چکی ہے۔ شاید اُسے اپنے وزیر اعظم کی بھی قربانی دینی پڑے۔ دوسری طرف 70 فیصد فرانسیسی عوام اِس تحریک کے حق میں ہیں۔ یوں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو فی الوقت خود متحرک نہ ہونے کے باوجود تحریک میں شامل لوگوں سے ہمدردی رکھتی ہے۔ یوں تحریک کی طاقت اور ہجم اُس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ بظاہر نظر آتا ہے۔
مظاہرین کے خلاف طاقت کا بدترین استعمال بھی کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی درجنوں ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ان اقدامات نے لوگوں کے جذبات کومزید مشتعل ہی کیا ہے۔ کئی جگہوں پر پولیس نے بھی مظاہرین کی طرف نرمی اور ہمدردی کا رویہ اپنایا جس کے بعد حکومت کو پولیس والوں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اعلان بھی کرنا پڑا تاکہ ان کی ہمدردی خریدی جا سکے۔
اس تحریک کی ایک اہم خاصیت ماضی میں ’مڈل کلاس‘ سمجھی جانے والی سماجی پرتوں اور پیشوں کی شمولیت بھی ہے جنہیں حالات نے محنت کش طبقے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان میں وکلا اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ درمیانے طبقات کا یہی تذبذب دائیں اور بائیں بازو کے پاپولزم کی بنیاد بنتا ہے۔
محنت کشوں کی بڑی تعداد مظاہرین (جن کی مجموعی تعداد ایک دن میں تین لاکھ تک بھی گئی ہے) میں شامل ہے لیکن وہ بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک واضح، موثر اور مرکزی قیادت کی موجودگی کا عنصر ابھی تک موجود نہیں ہے۔ ’CGT‘ فرانس کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ہے۔ لیکن روایتی ٹریڈ یونین قیادت شروع میں ڈھکے چھپے الفاظ میں تحریک کی مخالفت اور اس سے علیحدگی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ بعد ازاں نیچے سے دباؤ کے تحت انہیں مجبوراً اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا ہے لیکن بالائی قیادت نے ملک گیر عام ہڑتال کی کال جیسا کوئی راست اقدام نہیں اٹھایا ہے۔ اگرچہ عام کارکنان کی اپنی پہل قدمی سے کچھ چھوٹی ہڑتالیں اور پیلی جیکٹوں والوں کیساتھ سی جی ٹی کی مقامی تنظیموں کی یکجہتی کے مظاہرے ہوئے ہیں۔ لیکن آنے والے دنوں میں ایک خود رو عام ہڑتال کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ 1968 ء میں ہوا تھا۔ پبلک سیکٹر کے 20 لاکھ مزدوروں کے تحرک سے ساری صورتحال ہی یکسر بدل سکتی ہے۔
جان لاک میلنشوں جو ریڈیکل بائیں بازو کا لیڈر ہے اور جس نے 2017ء کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 19 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، نے بھی پیرس میں مظاہروں کی کال دی ہے اور ’شہری انقلاب‘کو جاری رکھنے کی بات کی ہے لیکن اس نے تحریک کو آگے بڑھانے کے حوالے سے کوئی ٹھوس تجاویز نہیں دیں۔
خود رو تحریک کو سودے بازی اور وعدوں کے ذریعے زائل کرنے کے امکانات حکمران طبقات کے پاس بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن پھر ایسی تحریکوں کی کچھ حدود و قیود بھی ہوتی ہیں کہ واضح لائحہ عمل اور مرکزی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ سب سے بڑھ کر محنت کش طبقے کی فعال، سرگرم اور منظم شمولیت کے بغیر کوئی تحریک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن اگر یہ تحریک تھکاوٹ اور طوالت کا شکار ہو کے ہوا میں تحلیل ہو جائے یا کسی اور انداز سے ختم ہو جائے تو بھی اسے جنم دینے والے تضادات مٹیں گے نہیں۔ فرانس اور بالعموم سارا یورپ پچھلے کئی سالوں سے سیاسی و سماجی خلفشار کا شکار ہے۔ میکرون حکومت آگے بھی مشکلات کا شکار رہے گی اور اسے مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اِس تحریک نے نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سطح پر مزاحمت اور جدوجہد کے نئے باب کا آغاز کیا ہے جو آنے والے دنوں میں سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران کیساتھ جاری رہے گا۔ یہ نہ صرف حکمران طبقات بلکہ انقلابیوں کے لئے بھی ایک تنبیہ ہے کہ آنے والا وقت محنت کشوں کی بغاوتوں سے لبریز ہے جنہیں سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے کے منطقی انجام تک پہنچانے کی تیاری آج کرنا ہو گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*