کشمیر، جسے سرمایہ داری نے تاراج کر ڈالا!

[تحریر: یاسر ارشاد]
گزشتہ ماہ آنیوالے تاریخ کے تباہ کن سیلاب نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے زیادہ تر علاقوں کو اجاڑ دیا ہے۔ کشمیر کی تحریرشدہ تاریخ میں تیس بڑے سیلابوں کا ذکر موجود ہے جن میں دو بڑے سیلاب بیسویں صدی میں آئے۔ ستمبر 2014ء کے سیلاب سے پہلے 1928ء میں آنیوالے سیلاب کو سب سے زیادہ بدترین قرار دیا جاتا تھا جس میں دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر پانی کا بہاؤ 80 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا تھا حالیہ سیلابی ریلے میں جہلم میں سنگم کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بپھرے ہوئے دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلابی ریلے جموں اور سری نگر کے بیشتر علاقوں سے محکوم و مظلوم عوام کا سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے گئے اور اپنے پیچھے لاکھوں اجڑے خاندانوں کی دردناک داستانیں اور پہلے سے مفلوک الحال زندگیوں کیلئے کبھی نہ بحال ہو سکنے کی طویل اور کٹھن مشقت چھوڑ گئے، ابتدائی سرکاری تخمینوں کے مطابق سیلاب سے ہونیوالے نقصان کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اخبارات میں شائع ہونیوالی غیر مستند رپورٹوں کے مطابق چار سے چھ ہزار دیہات سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہنگامی امداد کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبروں کے مطابق سیلاب میں سب سے پہلے بہنے والی چیز جموں و کشمیر کی انتظامیہ تھی۔ سری نگر سے شائع ہونیوالے اخبار کشمیر عظمیٰ میں ایک سرکاری آفیسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرکشمیر حکومت کی بے بسی اور نااہلی کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کروائی جس کی اشاعت پر حکومت کشمیر نے مذکورہ اخبار کو حکومت کو بدنام کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ “Tragedy of Errors” ’’غلطیوں کا المیہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہونیوالی رپورٹ میں اس گمنام آفیسر نے سیلاب کے بعد کے دنوں میں انتظامی مشینری کی نااہلی کے کئی افسوسناک واقعات تحریر کرتے ہوئے موجودہ حکومت کا موازنہ 1920ء کی دہائی کی مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت سے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’1928کے سیلاب کے دوران جب دریائے جہلم کی سیلابی موجیں لال چوک تک پہنچ گئی تھیں تو مہاراجہ ہری سنگھ اپنی تمام انتظامیہ کو لے کر لال چوک گیا۔ ایک برطانوی آفیسر نے مہاراجہ کو چیخ کر پیچھے ہٹنے کا کہا کہ تم ڈوب جاؤ گے تو مہاراجہ نے جواب دیا تھا کہ اگر وادی محفوظ رہتی ہے تو مجھے ڈوب جانے دو لیکن اگر میں بچ گیا اور وادی ڈوب گئی تو میں کس پر حکومت کروں گا۔‘‘ مہاراجہ جیسا سفاک اور ظالم حکمران کم از کم اتنی جرات تو رکھتا تھا کہ وہ وادی کو اس لئے ڈوبنے سے بچائے تاکہ اس پر حکومت کر سکے لیکن کشمیر کے موجودہ حکمران اتنے بزدل، کمزور اور نااہل اور چور ہیں کہ وہ وادی پر حکمرانی تو کر رہے ہیں لیکن اس کو سیلابوں سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔
وہ آفیسر مزید لکھتا ہے ’’سیلاب کے تیسرے دن میں بڑی مشکل سے اپنے ایک ساتھی سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا جو سری نگر ایئر بیس میں تھا جس کو حکومتی امدادی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو درجنوں ہیلی کاپٹر اور جہاز امدادی سامان لے کر پہنچ رہے تھے۔ ہم نے چند دن وہاں گزارے لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیا کیا جائے، کوئی منصوبہ بندی یا ہدایت نہیں تھی۔ اگرچہ وزیراعلیٰ ذرائع ابلاغ میں دیئے گئے بیانات کے ذریعے اس تاثر کو کہ انتظامیہ بکھر گئی ہے زائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل بے بس تھا اور اس کے احکامات سننے والا کوئی نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ نے دن میں دو میٹنگز کرنے کی ہدایات جاری کیں، ایک صبح نو بجے جس میں دن کے تمام کام کی منصوبہ بندی کی جائے اور دوسری شام کو جس میں کئے جانے والے کام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اگلے روز صبح کے اجلاس میں ایک سیکرٹری نے کہا کہ اس کو بے شمار امدادی سامان موصول ہو گیا ہے جس میں تقریبا دس ہزار کلو گرام چاولوں کے پچاس ٹرک ہیں۔ وزیر اعلیٰ یہ سن کر خوش ہو گئے اور کہا کہ آج ہی سری نگر شہر میں یہ پچاس ٹرک چاول تقسیم کئے جائیں چونکہ کھانے پینے کے سامان کا شدید فقدان ہے۔ شام کی میٹنگ میں اسی آفیسر نے بتایا کہ اس کو موصول ہونیوالے سامان میں محض چند سو کلو گرام چاول ہے، اسی قسم کے بے شمار ناکام اجلاسوں کے بعد وزیر اعلیٰ نے اٹھارہ ستمبر کو سیکرٹریٹ کو کھولنے کا فیصلہ کیا تاکہ حکومت کی غیر موجودگی کے احساس کو کم کیا جا سکے لیکن سڑکوں پر بے شمار پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہمیں بے حد ندامت کے ساتھ آدھے راستے سے واپس آنا پڑا۔‘‘ وہ آفیسر آخر میں لکھتا ہے کہ ’’میرے بس میں ہوتا تو میں جموں و کشمیر کی بے حس اور مفلوج بیوروکریسی کی بے عملی کو دیکھنے اور برداشت کرنے کی اذیت سے گزرنے کی بجائے سیلابی پانی کے ساتھ بہہ جانے کو ترجیح دیتا۔‘‘

حکومتی مشینری کے ایک آفیسر کے یہ تاثرات درحقیقت اس بڑے پیمانے کی نااہلی اور بے عملی کی ایک معمولی سی جھلک ہیں جس کا مظاہرہ حالیہ سیلاب کے دوران کشمیر کی حکومت نے کیا۔ ہنگامی امدادی کاروائیوں کا پچانوے فیصد سے زیادہ کام لوگوں خاص کر نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کیا۔ پانچ فیصد امدادی کام ہندوستانی فوج نے کیا جس میں پھر جبر اور وحشت کے مکروہ چہرے پر انسانی ہمدردی کا غلاف چڑھانا تھا۔ فوج کی معمولی سی امدادی سرگرمیوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے نہ صرف بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا بلکہ جن لوگوں کو فوج نے بچایا ان سے زبردستی فوج کے حق میں اور شکریہ کے پیغامات ریکارڈ کرائے گئے۔ فوج کی ہر کشتی اور ہیلی کاپٹر میں ایک یا دو سرکاری صحافی اور کیمرہ مین ہوتے تھے جو صرف اس کام پر مامور تھے کہ جس شخص کو بھی اس کشتی یا ہیلی کاپٹر میں سوار کیا جائے ان سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے کہ کیا اس کی مدد کرنے یا جان بچانے پر وہ ہندوستانی فوج کے مشکور ہیں؟ امدادی سرگرمیوں کی شدید ضرورت کے ابتدائی ایام میں فوج اور انتظامیہ کی عدم موجودگی نے ان کیخلاف شدید رد عمل کو جنم دیا۔ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں لوگوں نے سرکاری کیمپوں میں جانے سے انکار کر دیا۔ پچیس ہزار فوجیوں کے امدادی کاموں میں شریک ہونے کے بیانات پر عام لوگ حقارت آمیز لہجے میں تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ فوجی دہلی نواز حکومت جو سیلاب میں بہہ گئی ہے اس کو تلاش کر رہے ہوں گے عوام کی امداد تو کسی فوجی نے نہیں کی۔ نہ صرف کشمیر کے اندر بلکہ پورے ہندوستان میں بھی حکومتوں سے پہلے اور موثر طریقے سے امدادی سرگرمیاں نوجوانوں نے خود منظم کیں۔ نئی دہلی کی جامعہ ملیہ میں زیر تعلیم چار کشمیری طلبہ و طالبات نے دلی سے کشمیری رضا کاروں کی امداد برائے سیلاب زدگان کے نام سے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کاآغاز کیا۔ اس مہم نے حکومت ہند سے پہلے کشمیر کے مختلف علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کئے اور امدادی سرگرمیوں کا اتنا وسیع نیٹ ورک بنا دیا جس سے حکومت کو خوف محسوس ہونا شروع ہو گیا اور ہندوستان کے مختلف شہروں سے اس مہم کے ذریعے اکٹھا کیا جانیوالا سامان جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر بھیجا جا رہا تھا اس کو حکومت نے ضبط کر دیا کہ یہ رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے جس کے بعد ان نوجوانوں نے ہوائی جہاز کی بجائے ٹرکوں کے ذریعے سامان بھیجنا شروع کیا۔ اس مہم کے بانیوں کا کہنا ہے کہ حکمران ہمیں تقسیم کرنے کیلئے مذہب کا زہریلا تعصب پھیلاتے ہیں ہماری مہم میں زیادہ چندہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے دیا اور یہاں تک کہ ہندو توا کے حامی طالب علموں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کشمیر کی انتظامیہ اور خاص کر حکومت ہند سیلاب کی تباہ کاریوں کو کشمیر پر اپنی سامراجی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امداد اور بحالی کے تمام تر کام کو ہندوستانی فوج کے ذریعے انتہائی ذلت ناک طریقے سے کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور تمام عوامی امدادی مہموں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اجڑے ہوئے برباد لوگوں کو امداد کے نام پر بھکاری بنانے کی پوری کوشش کی جائیگی۔ سرکاری کیمپوں کے سامنے طویل لائنوں میں کھڑا کر کے خواتین، بزرگوں اور عام لوگوں کی تذلیل کی جائیگی۔ کشمیری عوام کی قاتل ہندوستانی فوج کو عوام کا مسیحا بنا کر پیش کیا جائیگا۔ دہلی میں برسر اقتدار بی جے پی کے دائیں بازوکے انتہاء پسند اپنے مذہبی جبر اور منافرت کو مزید تقویت دینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کشمیری پنڈتوں کی دوبارہ کشمیر میں آبادکاری کے مسئلے کو بدترین مذہبی منافرت کو پھیلانے کیلئے استعمال کیا جائیگا۔
پنڈتوں کو دوبارہ کشمیر میں ایک الگ اور مخصوص زون میں آباد کرنے کی پالیسی اور منصوبہ بندی جہاں ایک جانب کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سوچ کی غمازی ہے وہیں ایک الگ تھلگ جگہ پر پنڈتوں کی بستیاں بسانے کا منصوبہ ہندو بنیاد پرستی کی ایک اماجگاہ تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔ تمام کشمیری محنت کشوں کو پنڈتوں کی الگ بستیوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی سابقہ زمینوں پر آباد ہونے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ حکمران امدادی سامان اور رقوم کی بندر بانٹ اور لوٹ مار کا بازار گرم کریں گے۔ عوام کی بربادیوں پر حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کا ایک نیا کھیل شروع ہو گا۔ طبقاتی استحصال میں مزید شدت آئیگی اور جلد یا بدیر حکمرانوں کے اس آگ و خون کے کھیل کیخلاف عوامی اور خاص کر نوجوانوں کے غیض و غضب کا لاوا پھٹ کر ایک احتجاجی لہر کی شکل اختیار کرے گا۔ جس قدر بربادی اس سیلاب کی وجہ سے ہوئی ہے اس کو دوبارہ تعمیر کرنا ہندوستانی سرمایہ داری کے بس کی بات ہی نہیں خاص کر ایک ایسی کیفیت میں جب عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کو گہرے اور طویل معاشی بحران کا سامنا ہے۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کے حکمران خود کو ظاہری اور مصنوعی طور پر ایک بڑی معاشی طاقت ثابت کرنے کے خبط کا شکار ہیں اس کی وجہ سے وہ کسی بھی دوسرے ملک سے ہر قسم کی امداد لینے سے لازمی طور پر انکار کریں گے۔ ایک طرف ہندوستان مریخ پر کمند ڈال چکا ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر سیلاب جیسی نام نہاد زمینی آفت کا مقابلہ کرنے کی مالی صلاحیت اور وسائل سے محرومی کا اعتراف اس کی طاقت کے کھوکھلے پن کو فوری عیاں کر دے گا۔ ہندوستان کی شرح ترقی پہلے ہی گر کر پانچ فیصد سے نیچے آچکی ہے جس کے دوبارہ نو سے دس فیصد کی شرح حاصل کرنے کے امکانات کافی مخدوش ہیں۔ حکومت ہند اس بحران اور زوال کی کیفیت میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے درکار بے پناہ وسائل فراہم کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہے۔ در حقیقت یہ آفات قدرتی سے زیادہ اس زوال پذیر نظام کی بڑھتی ہوئی نااہلی کا نتیجہ ہیں۔ سرمایہ داری نظام کے حکمران طبقات اپنے نظام کے زوال، بحران اور تاریخی استرداد کی وجہ سے عام لوگوں کے بنیادی مسائل تک حل کرنے سے قاصر ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی دراصل اس نظام کی نااہلی ہے جس پر وہ براجمان ہیں اور جب تک یہ بحران زدہ نظام باقی رہے گا تب تک عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔ اس صورتحال میں کشمیری عوام کی بحالی اور تعمیر نو کا عمل انتہائی سست رو تکلیف دہ، ناہموار، کٹھن اور اذیت ناک ہوگا اور شاید مکمل بحالی سرمایہ داری کے اند رکبھی بھی ممکن نہیں ہوگی۔ پھربھی جیسے تیسے زندگی کی روانی ایک نئے معمول کے ساتھ جلد ہی شروع ہو جائے گی لیکن اس سانحہ کی ثبت شدہ مہر کا نشان لوگوں کی یاد کے ساتھ ساتھ ان کے معیار زندگی پر بھی طویل عرصہ تک موجود رہے گا۔ دوسری جانب سرمایہ دارانہ نظام کااستحصال، سامراجیت کی وحشت اور حکمرانوں کا جبر سرمائے کے نظام کے زوال کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتا جائے گا۔ پاک و ہند کے حکمران اپنی داخلی بحران اور سیاست کے خارجی محاذ کے طور پر مسئلہ کشمیر کو زیادہ شدت کے ساتھ استعمال کرنے پر مجبور ہونگے۔

دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات پر احتجاج کرتے ہوئے مودی حکومت کے مذاکرات کے عمل کو معطل کرنے کے اقدام سے صاف ظاہر ہے کہ مودی حکومت مسئلہ کشمیر کو محض پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعے تک محدود کر دینا چاہتی ہے اور اس تاثر کو مکمل ختم کرنا چاہتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے حکمران طبقات اپنی حمایتی آزادی پسند جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے آنے والے کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم چلوا کر کوئی قابل ذکر اہمیت دلوانے کی پالیسی پر عملدرآمد کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے عملی تجربات کے دوران جہاں انفرادی دہشتگردی، مسلح جدوجہد اور نام نہاد مذہبی بنیاد پرستی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں نام نہاد اعتدال پسند بورژوا قوم پرستی کی حمایت بھی ختم ہوئی ہے۔ کشمیری عوام اور نوجوانوں کی وسیع اکثریت اب سیاسی طور پر صرف اپنے بنیادی طبقاتی مسائل کے حل کیلئے ہی سرگرم ہوتے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے ان طبقاتی مسائل کو زیادہ شدید کر دیا ہے ان طبقاتی مسائل کے حل کیلئے طبقاتی جدوجہد کے بھی شدید ریلے اُبھریں گے۔ یہ طبقاتی جدوجہد صرف کشمیر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ برصغیر کے طول عرض پرپھیلے گی۔

ہندوستان کے محنت کش طبقات ایک فیصلہ کن طبقاتی تحریک کے ذریعے ہی ہندوستان کی سامراجی ریاست کے جبر اور وحشت کو توڑ سکتے ہیں۔ اس طبقاتی تحریک کو ہندوستان کے تمام مظلوم و محکوم محنت کش طبقات کی عملی سرگرم حمایت اور جڑت درکار ہے۔ ہندوستان کے ہر اول محنت کشوں کو تمام مظلوم قومیتوں پر ہندوستانی فوج کے جبر کی عملی طور پر مخالفت کرتے ہوئے تمام محکوم اقوام کے محنت کشوں کو سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی میں متحد کرنا ہوگا۔ ہندوستان کے محنت کشوں کو تمام مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں پر حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کی مکمل حمایت کرنا ہوگی۔ یہی واحد صورت ہے کہ ہندوستانی ریاست کے جبر کا شکار تمام مظلوم و محکوم محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کئے جانے کی۔ اس لیے کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو حکمرانوں کی پیدا کردہ ہر تقسیم کو مٹاتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر ہندوستان کے محنت کشوں کے ساتھ ایک انقلابی جڑت تشکیل دینا ہو گی۔ اس انقلابی جڑت کو قوم و مذہب جیسے ماضی کے نظریات کے برعکس صرف سائنسی سوشلزم کے انقلابی نظریات کی بنیاد پر تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیاں اپنے دو مراحل پر مبنی انقلاب کے غلط نظریے پر کار بند ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے محنت کشوں کو انقلابی پلیٹ فارم، رہنمائی اور پروگرام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہندوستان کے اس سال ہونے والے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں کی شرمناک شکست نے ان پارٹیوں کے اندر ایک سیاسی بحران کو جنم دیا ہے جس میں شکست کی وجوہات پر قیادت میں موجود افراد کی پالیسیوں اور کردار پر تنقید اور بحث کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جہاں افراد کی پالیسیوں اور کردار پر تنقید اور بحث ضروری ہے وہیں بنیادی نظریاتی سوالات پر بحث زیادہ ضروری ہے۔ ان بحث و مباحثوں کے ذریعے مارکسزم کے درست نظریات کو کمیونسٹ پارٹیوں اور محنت کشوں تک پھیلاتے ہوئے ہندوستانی سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی سامراجی ریاست کا خاتمہ کیے بغیر کشمیر پر ہندوستانی ریاست کے جبر کا خاتمہ ممکن نہیں اور ہندوستان کی سامراجی ریاست کا خاتمہ صرف کشمیر کے محنت کشوں، نوجوانوں اور عوام کا ہی فریضہ نہیں۔ ہندوستانی ریاست صرف کشمیریوں کی قاتل نہیں بلکہ ہندوستان کے طول و عرض پر بسنے والے کروڑوں محنت کشوں اور مظلوم عوام کی بھی قاتل ہے۔ اس لیے یہ جدوجہد ان تمام کروڑوں مظلوموں کی مشترک جدوجہد ہے۔ جس دن یہ کروڑوں محنت کش اور مظلوم حکمرانوں کی پیدا کردہ ہر تقسیم کو مٹاتے ہوئے ایک طبقاتی یکجہتی اور انقلابی جڑت بنانے میں کامیاب ہو گئے دنیا کی کوئی فوج ہندوستان کی سامراجی ریاست کا تحفظ نہیں کر سکے گی۔ سرحد کے اس پار اگر اس قسم کی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے تو سرحد کے اس پار سے اس کو پایہء تکمیل تک پہنچانے اور دنیا بھر میں پھیلانے کے عمل کا آغاز ہو گا۔

متعلقہ:

مسئلہ کشمیر کا مسئلہ!

کشمیر: خاموشی کی کوکھ میں پلتے طوفان

کشمیر کی پکار

برصغیر پاک و ہند کے بحران اور تنازعات

عذابوں کے سمندر میں دریاؤں کا سیلاب!

غربت میں امن؟

One Comment

  1. Pingback: نیپال: حسین وادی میں موت کا رقص!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*