خواتین کا عالمی دن، جوانقلابِ روس کاآغاز بنا!

| تحریر: شکیلا بلوچ |

روس کا فروری 1917ء کا انقلاب عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر شروع ہوا تھا (پرانے کیلنڈر کے مطابق)۔ جس میں محنت کش خواتین نے ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا، جو پہلی عالمی جنگ میں شدید متاثر ہوئیں تھیں۔ بالشویک پارٹی کا محنت کش خواتین میں کام بورژوا حقوقِ نسواں کی تحریکوں سے بالکل مختلف تھا۔ بالشویک، محنت کش خواتین کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرتے ہوئے اوراسے سوشلسٹ انقلاب کے تناظر سے جوڑتے ہوئے جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔
1915ء کے بعد روس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ’ورک فورس‘ کا حصہ بن چکی تھی۔ پہلی عالمی جنگ میں مردوں کی ایک بڑی تعداد کو فوج میں جبری بھرتی کیا گیا تھا۔ جن کی جگہ پر خواتین کوورک فورس میں شامل کیا گیا تھا۔ 1913ء میں لوہے کی فیکٹریوں میں محنت کش خواتین کی تعداد 3.2 فیصدتھی جو کہ 1917ء تک بڑھ کر 20.3 فیصدہوچکی تھی۔ جنگ کے دوران محنت کش خواتین کی سماجی اور معاشی صورت حال مزید بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی نے انہیں مجبور کر دیا تھا کہ وہ زار شاہی کی عالمی جنگ میں شرکت کے خلاف ہڑتالوں اور تحریکوں میں شرکت کریں۔ جیسے جیسے جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی تھی، ویسے ویسے روسی عوام کی صورت حال خستہ ہوتی جا رہی تھی۔
1917ء تک پیٹروگراڈ میں روٹی کے حصول کی خاطر عورتوں کی چار چار قطاریں میلوں تک لگی ہوتیں تھیں۔ ان سماجی حالات اور بحرانات میں بالشویکوں نے جنگ اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی اور مہنگائی کی ذمہ داری زار شاہی پر عائد کی تھی جس کی وجہ سے ان کی عوام میں مقبولیت کا تناسب بڑھتا جا رہا تھا۔ روس کے عوام پر یہ جنگ ایک تباہی اور بربادی کے طور پر نمودار ہوئی تھی جو لاکھوں افراد کی اموات کا باعث بنی۔ اسطرح فوج میں لاکھوں مزدوروں اور کسانوں کو جبری بھرتی کیاگیا اور ان مزدوروں کی جگہ فیکٹریوں اور صنعتوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد، جنہیں پہلے فیکٹریوں میں کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا، کو بھرتی کیا گیا۔ جنگ نے انہیں گھریلو زندگی سے نکال کرنئے سماجی حالات میں ڈال دیا تھا۔ خواتین کا کردار فیکٹریوں، ہسپتالوں اور دوسرے اداروں میں اہمیت اختیار کرتا گیا۔ اس طرح ان محنت کشوں کی طبقاتی جدوجہد کا شعلہ انہیں تحریک میں کھینچ لایا۔
پیٹریم سورکین جو کہ فروری انقلاب کا چشم دیدگواہ تھا نے لکھا کہ ’’مستقبل کے تاریخ دان اگر روس کے انقلاب کے بارے میں لکھیں گے تو انہیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ روس کا انقلاب بھوکی عورتوں اور بچوں سے شروع ہوا جو کہ روٹی کا مطالبہ کر رہے تھے۔‘‘ سورکین کی یہ بات درست ہے کی سڑکوں پر محنت کش خواتین کے مظاہروں کی اپنی ایک افادیت ہے جس سے زار شاہی کا خاتمہ ہوا۔ لیکن عورتوں کی جدوجہد انقلاب میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔
بڑے بڑے شہروں میں خواتین کے سڑکوں پر مظاہرے کئی کئی ماہ تک ہوتے رہے لیکن ان ہنگاموں میں یقیناًکسی حد تک توڑ پھوڑ اور دوکانوں وغیرہ کو لوٹا جا رہا تھا۔ 23 فروری 1917ء کو خواتین کے عالمی دن پر مظاہرے سیاسی شکل اختیار کر گئے جو پورے شہر میں منعقد ہوئے۔ ہزاروں فیکٹریاں ہڑتال میں شامل ہوئیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ خواتین کے اس عالمی دن کو مختلف تنظیمیں پمفلٹ تقسیم کرنے اور جلسے وغیرہ کر کے منانا چاہتی تھیں۔ جبکہ کسی کی بھی یہ حکمت عملی نہیں تھی کہ وہ اس دن جنرل ہڑتال کی کال دے۔ 22 فروری کی شام کو کچھ محنت کش خواتین ڈسٹرکٹ کمیٹی کے بالشویک پارٹی کے انچارج (وی۔ کیوروف) کے پاس آئیں اور انہوں نے خواتین ڈے کے موقع پر ہڑتال کرنے کی بحث کیا۔ لیکن انچارج نے انہیں انتباہ کیا کہ وہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کوئی بھی خود رو ایکشن نہ لیں۔ اس انتباہ کے باوجود اگلے دن یعنی 23 فروری کو ٹیکسٹائل مل کی سینکڑوں محنت کش خواتین نے فیکٹریوں کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر ایک دن کی ہڑتال کی اور کمیٹیوں سے ڈیلیگیٹ کا انتخاب کیا اور انہیں دوسری فیکٹریوں میں بھجوایا تاکہ وہ بھی اس ہڑتا ل میں شامل ہو جائیں۔ انچارج نے لکھا کہ وہ ’’ایریکسن‘‘ کی ایک فیکٹری کی گلی میں چار ورکرز کے ساتھ میٹنگ کر رہا تھا کہ ہڑتالی عورتوں کا یہ ڈیلیگیٹ پلانٹ میں داخل ہوا اور اسے اس ہڑتال کے ایکشن کے بارے میں علم ہوااس کے بقول اسے اس ایکشن پر شدید غصہ اس لیے آیا کہ ان محنت کش خواتین نے پارٹی کی ڈسٹرکٹ کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی (اس واقعہ کوجورج کیٹکوف نے فروری انقلاب کے حوالے سے قلم بند کیا)۔
دوپہر تک اس ہڑتال میں 90,000 ورکرز شامل ہو چکے تھے جن میں زیادہ تر محنت کش خواتین تھیں۔ اس ہڑتال سے ٹراٹسکی کی اس بات کا کہ’’ انقلاب کی شروعات نیچے سے ہوتی ہے ‘‘ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ہی تنظیم کے قدامت پرستانہ رویے کو توڑتے ہوئے خود پہل قدمی کی، جو سب سے زیادہ متاثر اور بدحال تھیں اور ان میں زیادہ تر وہ خواتین تھیں جن کے شوہر محاذ جنگ پر تھے۔ بالشویک پارٹی روس میں محنت کش طبقے کی خواتین میں کام کو بہت اہمیت دیتی تھی۔ لینن پارٹی میں خواتین کے کام کو اور انہیں انقلابی سیاسی دھارے میں جوڑنے کے لیے مسلسل اقدامات کرتا رہا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بالشویک پارٹی نے 1914ء میں ’’Robotinista‘‘ (روبوٹنسٹا/محنت کش خواتین) کے نام سے ایک اخبار کا اجرا کیا تھا تاکہ محنت کش خواتین کے کام کو منظم کرتے ہوئے طبقاتی جدوجہد میں ان کے رول کو شعوری بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ اس کے برعکس منشویک جو محنت کش خواتین کی جدوجہد کو محنت کش طبقے کی جدوجہد سے علیحدہ سمجھتے تھے، نے بھی ایک رسالے کا اجرا کیا جس کا نام ’’Galos Robotinista‘‘ (گلوس روبو ٹنسٹا/محنت کش خواتین کی آواز ) تھا اور جس کی ایڈیٹر ’’کلونڈیا نیکولیونیف‘‘ تھی جو بعد میں بالشویک پارٹی میں شامل ہوئی اورروبوٹنسٹا کی ایڈیٹر بھی بنی۔ اس نے منشویکوں کی ایک ماس میٹنگ کو اس طرح بیان کیا ہے’’مینشویکوں کی کال پر ایک میٹنگ کے دوران کئی محنت کش خواتین اور فرنٹ لائن کے سپاہی موجود تھے کہ اچانک بالشویک خواتین ہال میں داخل ہوئیں اور انہوں نے ا سٹیج کی طرف رخ کیا۔ تین میں سے دو خواتین سٹیج تک رسائی نہیں حاصل کر سکیں جبکہ تیسری ورکر سٹیج تک پہنچ گئی اور اس نے منشویک مقرر سے سٹیج چھین لیا اور انقلاب کے مقصد پر ایک پر جوش تقریر کی جس سے ہال میں موجود تمام خواتین باہر نکل گئیں اور بالشویک پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ صرف منشویک حضرات ہال میں باقی رہ گئے۔‘‘
روس میں 1913ء میں پہلی دفعہ خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ جسے محنت کش طبقے کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بالشویک پارٹی نے اپنے اخبار ’’پراودا‘‘ کا ایک صفحہ محنت کش خواتین کو درپیش مسائل کی اشاعت کیلئے وقف کر دیا تھا۔ روبوٹنسٹا میں محنت کش خواتین کی حالت زندگی اور ان کی محنت اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر مضامین اور رپورٹیں شائع کی جاتی تھیں۔ جنہیں فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں محنت کش خواتین میں تقسیم کیا جا تا تھا۔ اس رسالے نے محنت کش خواتین کو منظم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 1917ء سے قبل خواتین پر زار شاہی کے سخت قوانین کے تحت مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ انقلاب کے بعد بالشویک پارٹی نے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق اور مساوات دینے کا عمل شروع کیا۔ اسقاط حمل کے حق کو قانونی قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ شادی کا اندراج جو پہلے نہیں کیا جاتاتھا، کو عمل میں لایا گیا۔ شوہر یا بیوی اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے نا م اپنا سکتے تھے۔ عورتوں کو گھروں کی محنت سے نجات دلانے کی خاطر عوامی ریستورانوں، مرکزی لانڈریوں اور نرسریوں کو فروغ دیاگیا۔ تاکہ خواتین کو گھروں سے نکال کر انہیں حقیقی زندگی میں شامل کیا جا سکے۔ ان انقلابی اقدامات سے پرانا رجعتی خاندانی نظام ٹوٹ رہا تھا۔ اور اس کی جگہ نیا سوشلسٹ اجتماعی نظام جنم لے رہا تھا۔ جہاں عورتوں کے لیے پہلی مرتبہ معاشی اور ثقافتی کا م کے تمام پہلوؤں کو ممکن بنایا جا رہا تھا۔
ٹراٹسکی اپنی کتاب ’’انقلاب سے غداری‘‘ میں خاندان کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’اکتوبر انقلاب نے خاندان کے نام نہاد چولہے کو تباہ کرنے کی جر أت مندانہ کاوشیں کیں۔‘‘ اس قدیم اور فرسودہ ادارے کا خاتمہ جس میں محنت کش خواتین جنم سے لے کر موت تک غلام کی طرح محنت کرتی ہیں، سماجی خوراک خانے، بچوں کی نگہداشت کے مراکز اور دیکھ بھال کی سہولت کے مراکز، عوامی لانڈریوں سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن 1935ء میں خوراک کے لیے کارڈ سسٹم کے خاتمے کے ساتھ ہی خاندان واپس چولہے کی طرف آتے ہیں۔ گھر میں کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کا سسٹم دوبارہ سے شروع ہوتا ہے یعنی محنت کش خواتین امور خانہ داری کی طرف پھر سے لوٹ آتی ہیں۔ اسقاط حمل کو دوبارہ غیر قانونی قرار دیاگیا۔ سوشلزم کا کام ان اسباب کا خاتمہ کرنا تھا جن سے عورت نابرابری اور استحصال کا شکار تھی۔ رجعتی سٹالنسٹ بیوروکریسی کی سماجی اور معاشی بنیادوں کی استواری میں جرمن انقلاب کی ناکامی اور سماجی، معاشی اور ثقافتی پسماندگی کا بڑا عمل دخل تھا۔ جس کا رجعتی نظریہ عالمی انقلاب کی بجائے ایک ملک میں سوشلزم پر مبنی تھا۔ جس نے سوویت زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کیا اور رد انقلاب فتح یاب ہوا۔ جو عورتوں کی آزادی پر بھی ایک کاری ضرب تھی۔ جس نے خاندان کے دوبارہ بحالی کے عمل کو شروع کرتے ہوئے وہ تمام حاصلات جس میں اسقاط حمل، بچوں کی نگہداشت اور خاندان کے متعلق ابتدائی بنیادی آزادیاں اور مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کر دیا جو محنت کش خواتین پر ایک بڑے ردانقلاب کے طور پر ثابت ہوئیں۔
اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو پاکستان اور برصغیر میں محنت کش خواتین کی جدوجہد، سوشلسٹ انقلاب میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی براہ راست مداخلت موجودہ حالات اور واقعات میں ابھرنا ایک حقیقی امر ہے دیر اس بات کی ہے کہ انہیں طبقاتی اور سیاسی بنیادوں پر اکھٹا کیا جائے۔ اس نظام کو ختم کیے بغیر محنت کش خواتین کی نجات ممکن نہیں۔ اور یہ نظام صرف طبقاتی جڑت اور جدوجہد کے ذریعے برپا ہونے والے سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی اکھاڑ پھینکا اور تبدیل کیا جا سکتاہے۔ اس طبقاتی یکجہتی کو رنگ‘ نسل، ذات پات، جنس، قوم، مذہب اور ماضی کے تمام دوسرے تعصبات کو ختم کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہم مارکسسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر محنت کش عورت اپنے اندر ایک مضبوط عورت ہے۔ جس دن محنت کش خواتین اس بات کا ادراک کر لیں گی وہ دن ان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک سنہرا باب ہو گا۔ جو آگے چل کر سوشلسٹ انقلاب کی تعمیر اور کمیونزم کے راستے پر آگے بڑھنے کیلئے پہلا قدم ہو گا۔ اس عمل میں وہ نہ صرف عورت کے جنسی اور معاشی مسائل کو ختم کرنے کا فریضہ اد اکر سکیں گی بلکہ پوری انسانیت کو حقیقی آزادی اور انسان کی بحیثیت انسان کے تاریخ کا آغاز کریں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*