گوجرانوالہ: درندہ صفت فیکٹری مالک نے دو مزدوروں کو آگ میں زندہ جلا دیا

[رپورٹ: ڈاکٹر عمر نصیر]
پاکستان میں فیکٹری مالکان کا محنت کشوں پر جبر ویسے تو معمول ہے لیکن کچھ واقعات ضمیر رکھنے والوں کا دل دہلا دیتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ15 جولائی کو گوجرانوالہ میں راہوالی کے قریب پیش آیا جب 12کروڑ روپے سے زائد انشورنس کی رقم ہڑپ کرنے کے لیے امرت پورہ راہوالی میں آفتاب رائس ملز کے مالک میاں آصف کے ایما پر دو معصوم محنت کشوں کو آگ میں جھلسا کر ہلاک کر دیا گیا۔
محمد یاسر اور عمران آفتاب رائس مل میں ملازم تھے اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ان کی مفلسی اور معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے درندہ صفت مل مالکان اور اس کے ساتھیوں نے انشورنس کی رقم ہتھیانے کے منصوبے کو سچ کا روپ دینے کے لیے ان کی جان لے لی۔
22سالہ محمد یاسر گوجرانوالہ میں راہوالی پھاٹک کے قریب اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔اس کا والد بھی محنت کش ہے اور ساری زندگی محنت کر کے روزی کماتا رہا۔اس کا گزر بسر پھیری لگا کر ہوتا تھا۔یاسر کے دیگر تین بھائی شادی شدہ ہیں جن میں سے دو گھر کے قریب ایک چھوٹی سی کرائے کی دوکان میں ہئیر کٹنگ کا کام کرتے ہیں۔عیدالفطر کے بعد اس کی بھی شادی طے تھی۔یاسرنے 4ماہ قبل 8ہزار روپے پر آفتاب رائس مل میں ملازم کے طور پر کام شروع کیا۔ اسے کسی قسم کا کوئی باقاعدہ لیٹر جاری کیا گیا اور نہ ہی وہ سوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ ہوا۔اسی طرح دیگر لیبر قوانین کا بھی اس فیکٹری میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔وہ بوریاں اٹھانے سے لے کر فیکٹری کی صفائی اور دیگر کام کیا کرتا تھا جس کے دوران اس کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کیا جاتا۔

مرنے والے مزدوروں کے اہلخانہ

اسی طرح 26سالہ عمران بھی راہوالی کے قریب ہی بازیگروں کے محلے کا رہائشی تھا۔یہ محلہ اپنی کسمپرسی اور مفلسی کی مثال ہے۔محلے میں جاتے ہی وہاں موجود غلاظت ، بیماریاں اور ننگے بچے آنے والے کا استقبال کرتے ہیں۔ محلے میں رہنے والے تمام افراد کو ہی علاقے میں ان کی انتہائی غربت، تنگدستی اور کام کے باعث حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔عمران نے بچپن سے ہی بوریاں سینے کا فن حاصل کیا اور قتل کے وقت تک وہ یہی کام کرتا رہا۔وہ ٹھیکے پر آفتاب رائس مل اور قرب و جوار کی دیگر فیکٹریوں میں ٹھیکے پربوریا ں سینے کا کام کرتا تھا اور دس ہزار کے قریب ماہانہ کماتا تھا۔اس کے محلے والوں نے بتایا کہ وہ علاقے کا سب سے ملنسار اور معصوم آدمی تھا۔بوریاں سینے کے علاوہ بھی مالکان یا ان کے کارندے اسے جو کام کہتے وہ کر دیتا تھا۔ خواہ بیت الخلا کی صفائی ہو یا کوئی دوسرا کام اس نے کبھی انکار نہیں کیا تھا۔
عمران کے بھائی محبوب علی نے بتایا کے واقعے کے روز اسے صبح چھ بجے فیکٹری مالک کے کارندے گھر سے بلا کر لے گئے اور کہا کہ آج بہت ضروری کام ہے۔ درحقیقت اس دن منصوبہ یہ تھا کہ چاولوں کی تمام بوریاں نکال لی جائیں اور خالی بوریوں کو آگ لگا کر ڈرامہ رچایا جائے کے فیکٹری میں موجود تمام سامان کو آگ لگ گئی ہے۔اس طرح انشورنس کی 12کروڑ سے زائد رقم ہڑپ کی جائے گی۔فیکٹری کا مالک اس واقعے کی منصوبہ بندی کرنے کے بعد عمرے پر روانہ ہو گیا اور تمام کام اپنے بیٹے آفتاب ، منشی لطیف اور دیگرکارندوں پر چھوڑ دیا۔یاسر کے بھائی محمد آصف کے مطابق اس وقت علاقے میں موجود پولیس کا ایس ایچ او راناا سلام بھی اس منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور اس نے اس جرم کو چھپانے کے 22لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
کارندوں نے شام کے وقت جب فیکٹری کو آگ لگائی تو یاسر اور عمران فیکٹری میں موجود تھے اور انہیں اس منصوبے کی حقیقت کا علم ہو گیا۔یاسر نے تو اس واقع کی ویڈیو اپنے موبائل فون پر بنا لی جو اس رپورٹ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ویڈیو میں واضح ہے کہ فیکٹری مالکان کے کارندے خود آگ لگا رہے ہیں۔درندہ صفت فیکٹری مالک میاں آصف کے کارندوں نے جب دیکھا کے یہ دونوں محنت کش اس جھوٹ پر پردہ نہیں ڈالیں گے اوربات پھیل سکتی ہے اور دوسرا اس ڈرامے کو حقیقت کا روپ دینا بھی ضروری ہے تو انہوں نے یاسر اور عمران کو اس گودام کی جانب زبردستی بھیجا جہاں آگ لگی ہوئی تھی۔جب وہ وہاں پہنچے تو دونوں مقتولین کے ورثا کا قیاس ہے کہ انہیں دھکا دیا گیا جس سے ان کے جسم کا بیشتر حصہ بری طرح جھلس گیا۔

اس کے بعد دوسرے مزدور انہیں ہسپتال لے کر دوڑے تا کہ ان کا علاج کرایا جا سکے۔یاسر کو گکھڑ میں ابتدائی طور پر دکھانے کے بعد میو ہسپتال لاہور لے جایا گیا جہاں وہ چار دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد 19جولائی کو دم توڑ گیا۔عمران اپنا علاج گوجرانوالہ میں ہی کسی عطائی سے کرواتا رہا۔ایک تو اس کے پاس علاج کروانے کے پیسے ہی نہیں تھے دوسرااسے خوف تھا کہ ہسپتال میں مالکان اسے مروا دیں گے تا کہ وہ اس کا راز فاش نہ کر سکے۔26جولائی کو عمران بھی دم توڑ گیا۔ آخری دم تک دونوں مقتولیں خوفزدہ رہے کہ اگر وہ بولے تو انہیں اس حالت میں بھی مروا دیا جا ئے گا۔یاسر کے والد محمد افضل نے بتایا کہ جھلسنے کے بعد یاسر کی تمام جلد مکمل طور پر جل چکی تھی اوراکثر جگہوں پر اس کا گوشت نظر آتا تھا جبکہ چند جگہوں پر تو صرف ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں۔ جبکہ عمران پانچ بچوں کا باپ تھا جن میں سب سے بڑی بیٹی ماہ نور دس سال کی ہے۔عمران اپنے بیوی بچوں کا واحد کفیل بھی تھااور ایک انتہائی خستہ حال جگہ پر رہتا تھا۔
ظلم کی یہ داستان شاید اس ملک میں نئی نہیں لیکن یہ بربریت بہت سے سوال بھی ابھارتی ہے۔کیاقاتل کیفر کردار تک پہنچ پائیں گے؟پولیس حکام کے مطابق مالک اور اس کے بیٹے سمیت 8افراد پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ایک نامزد ملزم فیکٹری کے منشی کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔دیگر تمام ملزمان مفرور ہیں اور مقتولین کے ورثا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔وقوعے کا مرکزی ملزم فیکٹری کا مالک میاں آصف اس سے پہلے بھی جرائم کے بہت سے مقدمات میں ملوث رہا ہے لیکن ہمیشہ وہ سزا سے بچتا رہا ہے۔اب بھی وہ مقتولین کے ورثا کو رقم اور دھمکیاں دے کر خاموش رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
اگر قاتل اور مقتولین کے طبقاتی فرق کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور شخص یہی کہے گا کہ موجودہ نظام میں اس قاتل کو کبھی سزا نہیں ہو گی۔درندہ صفت فیکٹری مالک گوجرانوالہ کینٹ کے فیز 1میں محل نما گھر میں رہائش پذیر ہے جبکہ مقتولین کے محلے اور رہن سہن ہی ان کی مفلسی اور غربت کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہیں۔ان کا قتل تو ان کی غربت نے کیا ہے۔ان کا قاتل تو یہ پورے کا پورا سرمایہ دار طبقہ ہے جو مزدوروں کو کم تر اور گھٹیا انسان سمجھتا ہے۔ جہاں کام کرنے والے کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔جہاں کام نہ کرنے والے درندے کو افضل جانا جاتا ہے۔ان کا قاتل یہ ظلم پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ایسا نظام جہاں چند وکیلوں کی فیسیں کروڑوں روپے میں ہیں۔جہاں عدالتوں کے رکھوالے خود اعتراف کرتے ہیں کہ عدلیہ کرپشن کی دلدل میں پھنسی ہے اور ہر قدم پر رشوت چلتی ہے۔جہاں انصاف سر عام بکتا ہے، جہاں لاشوں کے سودے ہوتے ہیں، جہاں قانون کے رکھوالے مجرموں کو پناہ دیتے ہیں ، جہاں پیسے سے عزتیں، تن ، من سب خرید لیا جاتا ہو وہاں یاسر اور عمران جیسے محنت کشوں کے لیے ان حکمران طبقات اور ان کے نظام سے انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
پاکستان ٹریڈ یونین دیفنس کمپئین اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔در حقیقت پی ٹی یو ڈی سی گوجرانوالہ کے راہنماؤں کی کوششوں کے باعث ہی ڈیڑھ ماہ بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے اور علاقے میں نیا ایس ایچ او تعینات ہوا ہے۔لیکن ابھی بھی قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے دیگر مزدور تنظیموں کو ساتھ جوڑتے ہوئے جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا تا کہ سرمایہ داروں کے ظلم اور جبر کو روکا جا سکے اور ان کے نظام کے مکمل خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز کیا جا سکے۔

متعلقہ:

لاہور میں موت کی فیکٹری

Tags: ×

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*