مارکسسٹ انفرادی دہشت گردی کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

تحریر: لیون ٹراٹسکی (1909)
(ترجمہ: آدم پال)

ہمارے طبقاتی دشمنوں کو اکثرہماری دہشت گردی کی شکایت رہتی ہے ۔ ان کا مطلب ابھی تک غیر واضح ہے۔ وہ چاہیں گے کہ پرولتاریہ کے طبقاتی دشمنوں کے مفادات کے خلاف تمام سرگرمیوں کو دہشت گردی قرار دیں۔ان کی نظر میں ہڑتال دہشت گردی کا بنیادی طریقہ ہے۔ ہڑتال کی دھمکی ، ہڑتال کی تیاری، ظالم افسر کا معاشی بائیکاٹ، اپنے درمیان کسی غدار کا اخلاقی بائیکاٹ، اس سب کو وہ دہشت گردی کہتے ہیں۔ اگر دہشت گردی کو ان معنوں میں لیا جائے جیسے کوئی بھی کام جس سے خوف پیدا ہو، یا دشمن کو نقصان پہنچایا جائے تو پھر ساری طبقاتی جنگ دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔ اور جو سوال رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیابورژوا سیاستدانوں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ پرولتاری دہشت گردی کی طرف نفرتوں کا سیلاب بہا دیں جبکہ ان کی اپنی حکومت اپنے قانون، پولیس اور فوج کے ساتھ سرمایہ دارانہ دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں!
لیکن یہ ضرور کہنا چاہیے کہ جب وہ ہمیں دہشت گرد کہ کر تنقید کرتے ہیں تووہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں (چاہے غیر شعوری طور پر)کہ اِس لفظ کو بلا واسطہ مطلب دیا جائے۔ مثال کے طور پر مزدوروں کی طرف سے مشینوں کو نقصان پہنچانا، اس لفظ کے مطابق دہشت گردی ہے۔ آجر کا قتل، فیکٹری کو آگ لگانا یا مالک کو قتل کی دھمکی، کسی وزیر کے قتل کا ارادہ صحیح معنوں میں دہشت گردی ہے۔ لیکن جوبھی عالمی سوشل ڈیموکریسی کے بار ے میں علم رکھتاہو گا وہ یہ ضرور جانتا ہو گا اس نے ہمیشہ اس قسم کی دہشت گردی کی پر زور مخالفت کی ہے۔
کیوں؟
ہڑتال کی دھمکی سے یا ہڑتال کر کے’ دہشت‘ پھیلانا ایسا کام ہے جو صرف صنعتی مزدور ہی کر سکتے ہیں۔ ہڑتال کی سماجی افادیت سب سے پہلے اس چیز پر منحصر ہے کہ وہ صنعت یا کمپنی کے کتنے بڑے حصے کو متاثر کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ جو مزدور اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ کس حد تک منظم ہیں اور لڑائی کے لئے کتنے تیار ہیں۔ یہ سیاسی ہڑتال کے لئے بھی اتنا ہی صحیح ہے جتنا کہ معاشی ہڑتال کے لئے۔ یہ جدوجہد کا وہ طریقہ ہے جو پرولتاریہ کے جدید معاشرے میں پیداوری کردار کی ایک کڑی ہے۔
عوام کے کردار کی اہمیت کو کم کرنا
سرمایہ داری نظام کو قائم کرنے کے لئے ایک پارلیمانی سٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ پرولتاریہ کو سیاسی چالبازی میں قید نہیں رکھ سکتا، اس لئے جلد یا بدیر اسے مزدور کو پارلیمنٹ میں حصہ لینے کی اجازت دینی پڑتی ہے۔ الیکشنوں میں پرولتاریہ کا عوامی کردار اور اس کے سیاسی ارتقاء کی سطح (مقداریں جن کا تعین سماجی کردار جو کہ سب سے زیادہ پیداواری کردارسے ہوتا ہے) اپنا اظہار ڈھونڈتی ہیں۔
ہڑتال میں یا الیکشنوں میں جدوجہد کا طریقہ کار، مقصد اور نتیجہ ہمیشہ پرولتاریہ کی ایک طبقے کی حیثیت سے طاقت اور سماجی کردار پر منحصر ہوتا ہے۔ صرف مزدور ہی ہڑتال کر سکتے ہیں۔ جن کاریگروں کو کارخانے نے تباہ کر دیاگیا ہے، وہ غریب جن کا پینے کا پانی کارخانے کی وجہ سے زہر آلود ہو رہا ہے یا لوٹ کے متلاشی ناچار لوگ مشینوں کو تباہ کر سکتے ہیں، فیکٹری کو آگ لگا سکتے ہیں یا مالک کو قتل کر سکتے ہیں۔
صرف باشعور اور منظم محنت کش طبقہ پارلیمنٹ میں اپنے مضبوط نمائندے بھیج سکتا ہے تا کہ وہ پرولتاریہ کے مفادات کی ترجمانی کر سکیں۔ جبکہ ایک نمایا ں افسر کو قتل کرنے کے لئے اپنے ساتھ عوامی حمایت کی ضرورت نہیں۔ تباہ کن مواد بنانے کا طریقہ ہر کسی کے لئے موجود ہے اور بارود کہیں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کی جدوجہد کے لئے ایک سماجی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے جس کا طریقہ کار اور وسائل موجود سماجی نظام سے حاصل کئے جاتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے طریقہ کار میں ایک میکانکی ردِعمل ہوتا ہے جو ہر معاشرے میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے ، بظاہر بڑا جازبِ نظر ہوتا ہے ( قتل، دھماکے وغیرہ) لیکن جہاں تک سماجی نظام کی تبدیلی کی بات ہے تو اس کے لئے یہ بالکل بے ضرر ہوتا ہے۔
ایک ہڑتال ، چاہے زیادہ بڑی نہ ہو، سماجی نتائج رکھتی ہے: محنت کشوں کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتی ہے، ٹریڈ یونین کو بڑھوتری دیتی ہے اور پیداواری تکنیک میں بہتری لاتی ہے۔ کارخانے کے مالک کا قتل صرف پولیس کی سطح کے اثرات مرتب کرتا ہے یا مالکوں میں تبدیلی لاتاہے جس کی کوئی سماجی افادیت نہیں۔ ایک دہشت گردانہ کوشش ، چاہے’ کامیاب‘ ہی کیوں نہ ہو، حکمران طبقے کو پریشانی میں ڈالتی ہے یا نہیں ٹھوس سیاسی حالات پر منحصر ہے۔ لیکن کوئی بھی حالات ہوں یہ پریشانی تھوڑی مدت کے لئے ہوتی ہے؛ سرمایہ دارانہ ریاست سرکاری وزیروں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ یہ ریاست جن طبقوں کی خدمت کر رہی ہوتی ہے وہ ہمیشہ نئے لوگ ڈھونڈ لیں گے، یہ نظام موجود رہے گا اور کام کرتا رہے گا۔
لیکن محنت کش طبقوں میں ان دہشت گردانہ کوششوں سے جو مایوسی پھیلتی ہے وہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ایک پستول کے ساتھ مسلح ہو کر اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے تو پھر طبقاتی جدوجہد کی کیا ضرورت ہے؟
اگر چٹکی بھر بارود اور تھوڑا سا سیسہ ایک دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے کافی ہے تو طبقاتی طور پر منظم ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اعلی افسروں کو دھماکوں کے ذریعے خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو انقلابی پارٹی کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کوئی بھی شخص پارلیمانی گیلری سے وزیر کا نشانہ لے سکتا ہے تو پھر جلسے ، جلوس اور الیکشن کس لئے ضروری ہیں؟
ہماری نظروں میں انفرادی دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں کیونکہ یہ عوام کے شعور میں ان کے کردار کو گھٹاتا ہے، اُن کو کمزوری کااحساس دلاتا ہے اور ان کی امیدوں کو ایک بہت بڑے مسیحا کی جانب لگا دیتا ہے جو ایک دن اُن کو اُن کی مصیبتوں سے چھٹکارا دلا کر ان کا مقصد پورا کرے گا۔عملی کام کا پراپیگنڈہ کرنے والے انارکسٹ اس بات کے لئے بے شمار دلائل دے سکتے ہیں کہ دہشت گردی کس پرزور انداز میں عوام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ نظریاتی غور اور سیاسی تجربات اس کے بر عکس صورتحال پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا عمل جتنا زیادہ ’پر اثر ‘ ہو گا ، اتنا ہی وہ عوام کی اپنی تعلیم اور تنظیم میں دلچسپی کو کمکرے گا۔ جیسے ہی پریشانی کی فضا ختم ہوتی ہے، زندگی دوبارہ اپنی پرانی ڈگر پر چلنا شروع کر دیتی ہے، سرمایہ دارانہ استحصال کا پہیہ پھر سے گھومنے لگتا ہے، صرف پولیس تشدد زیادہ وحشی ہو جاتا ہے۔ اور نتیجے میں، امیدیں روشن ہونے اور مصنوعی طور پرہنگامہ خیزی کی جگہ بے حسی اور مردہ دلی لے لیتی ہے۔
ردِ انقلابی قوتوں کی کوششیں کہ ہڑتالیوں اور محنت کشو ں کی تحریکوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے، ہر دفعہ ناکام ہوئی ہیں۔ سرمایہ دار معاشرے کو ایک متحرک اور سمجھدار پرولتاریہ کی ضرورت رہی ہے، اس لئے یہ کبھی بھی زیادہ عرصے تک پرولتاریہ کے ہاتھ پیر باندھ کرنہیں رکھ سکتا۔ دوسری طرف انارکسٹوں کا ’ عملی کام‘ کا پراپیگنڈہ ہر دفعہ یہ دکھاتا ہے کہ ریاست دہشت گرد گروپوں سے زیادہ تباہی اور بربادی پھیلا سکتی ہے۔
اگر ایسا ہی ہے تو پھر انقلاب کیسے آئے گا؟ اس صورتحال میں کیا یہ ناممکن ہے؟ بالکل نہیں۔ انقلاب صرف میکانکی وسائل کا اجتماع نہیں۔ انقلاب طبقاتی جدجہد کے آگے بڑھنے سے آتا ہے، اور یہ صرف پرولتاریہ کے سماجی کردار کی بدولت ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ وسیع پیمانے پر ہڑتال، مسلح بغات، ریاستی اقتدار پر قبضہ، اس کا تعین ان چیزوں سے ہوتا ہے کہ پیداوار کس مرحلے پر پہنچ چکی ہے، طبقاتی طاقتوں کی صف بندی، پرولتاریہ کا سماجی وزن، اورسب سے آخرمیں یہ کہ فوج کی سماجی بنتر کیا ہے کیونکہ مسلح افواج ہی وہ عنصر ہے جو انقلاب کے وقت ریاستی اقتدار کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔
سوشل ڈیموکریسی اتنی حقیقت پسند ہے کہ جو انقلاب موجودہ تاریخی حالت کے علاوہ جنم لے رہا ہے اس سے اجتناب نہ کرے بلکہ اس کے بر عکس ، انقلاب کو کھلی آنکھوں کے ساتھ جا کے ملے۔ لیکن ( انارکسٹوں کے
برعکس اوران کے خلاف جدوجہدمیں) سوشل ڈیموکریسی ان تمام طریقوں اور وسائل کو رد کرتی ہے جو مصنوعی طور پر معاشرے کی ترقی تبدیل کرنا چاہتے ہیں اورپرولتاریہ کی ناکافی قوتوں کو کیمیائی طریقوں سے مدد فراہم کرتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ اسے سیاسی جدوجہد کے درجے تک پہنچا دیا جائے، دہشت گردی انتقام کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسا کہ روس میں تھا ، جو کہ دہشت گردی کا تاریخی وطن ہے۔ سیاسی قیدیوں پر تشدد نے ویرا زیولچ کو ابھارا کہ وہ عوامی نفرت کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل تریپوف پر قاتلانہ حملہ کرے۔ اس کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے انقلابی دانشور وں نے ،جوپہلے ہی عوامی حمایت ڈھونڈ رہے تھے، اس کی نقل کرناشروع کر دی ۔ جو عمل بغیر سوچے ایک انتقامی عمل تھا 1879-81میں ترقی کر کے ایک مکمل نظام بن چکا تھا۔ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں انارکسٹ قتلوں کے پیچھے ہمیشہ حکومت کی کوئی نہ کوئی ظالمانہ کاروائی ہوتی ہے، جیسا کہ ہڑتالیوں پر گولی چلانا یا سیاسی مخالفوں کا قتل۔دہشت گردی کا سب سے اہم نفسیاتی ماخذ انتقام کا جذبہ ہوتا ہے جوباہر نکلنے کا کوئی رستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔
اس نکتے پر محنت کرنے کی ضرورت نہیں کہ سوشل ڈیموکریسی اوران بکاؤاخلاقیات پسندوں میں کوئی قدر مشترک نہیں جو کسی بھی دہشت گردی کے عمل کے جواب میں انسانی زندگی کی ’قدر‘ کے بارے میں بیان دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو دوسرے موقعوں پر، اسی’ قدر ‘کے نام (مثال کے طور پر، قومی غیرت یا حکمران کی عزت)پرلاکھوں لوگوں کو جنگ کے دوزخ میں دھکیل دیتے ہیں۔ آج ان کا ہیرو وہ وزیر ہے جو نجی ملکیت کا مقدس حق دیتا ہے، اور کل جب مزدور کا بے چین ہاتھ مٹھی بن جاتا ہے یا اسلح اٹھا لیتا ہے، تو وہ تشدد کی کسی بھی شکل میں اجازت دینے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے حق میں خرافات بکتے ہیں۔
اخلاقیت پسندی کے درباری جو بھی کہیں، انتقام کے جذبے کے اپنے حقوق ہیں۔ یہ محنت کش طبقے کو وہ اخلاقی طاقت دیتا ہے جو اس دنیا میں کہیں اور سے مہیا نہیں کی جا سکتی۔ پرولتاریہ کی انتقام کی جلتی ہوئی آگ کو بجھنے نہیں دینا، بلکہ اسے بار بار بھڑکانا ہے، تا کہ اسے اور تیز کیا جا سکے، اور اسے نا انصافی اور انسانی تذلیل کے اصل محرکات کی طرف موڑا جا سکے۔ یہی سوشل ڈیموکریسی کا مقصد ہے۔
ہم انفرادی دہشت گردی کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کیونکہ انفرادی انتقام ہمیں تسکین نہیں پہنچاتا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہمیں جو حساب چکتا کرنا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اسے ایک سرکاری ملازم جسے وزیر کہتے ہیں پورا نہیں کر سکتا۔ انسانیت کے خلاف تمام جرائم کو ہوتے ہوئے دیکھنا، وہ تمام تذلیل جوانسانی جسم اور روح کے ساتھ کی جاتی ہے، اسے موجودہ معاشرے کے اظہار کے طور پر سمجھنا اور اپنی تمام توانائیوں کوموجودہ نظام کے خلاف جدوجہد میں اکٹھے کرنا۔۔ یہی وہ رستہ ہے جس پر انتقام کے بھڑکتے ہوئے جذبات اپنی اعلی ترین تسکین پا سکتے ہیں۔

4 Comments

  1. Pingback: آزادی فلسطین: مذاکرات یا انقلاب؟

  2. Pingback: بلوچستان: قومی آزادی کی جدوجہد میں مزدوروں کا قتل عام؟

  3. Pingback: مرتضیٰ بھٹو کا لہو کب دُھلے گا؟

  4. Pingback: صیہونیت کی درندگی، آخر کب تک؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*