طلبہ یونینز سے خوفزدہ کون؟

| تحریر: لال خان |

11 جنوری کو سینیٹ میں طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کی قراردار کا منظور ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ قرار دار پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی ضیاالحق کی رجعتی آمریت کے دوران نافذ کی گئی تھی۔ ضیا آمریت کے دوران ٹریڈ یونینز پر بدترین جبر روا رکھا گیا، کالونی ٹیکسٹائل مل کے ڈیڑھ سو محنت کشوں کو حقوق مانگنے کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اور وحشت پر مبنی اس طرح کے دوسرے اقدامات کے ذریعے مزدور تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ طلبہ یونین پر پابندی بھی اسی بربریت کا حصہ تھی۔ اس کا مقصد طلبہ تحریکوں کی شکل میں ابھرنے والے بغاوت کے ریلوں کو دبانا اور غیر نظریاتی سیاست کو پروان چڑھانا تھا۔
1977ء میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد بدترین ریاستی جبر کے باوجود کئی ایسے واقعات ہوئے تھے جو ملک میں وسیع پیمانے پر نوجوانوں کی بغاوت کے امکانات ظاہر کر رہے تھے۔ ان میں سب سے اہم نشتر میڈیکل کالج ملتان میں بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی سٹوڈنٹس یونین کی ضیا آمریت کے خلاف جرات مندانہ لڑائی تھی۔ اس بغاوت کو پہلے ریاستی جبر کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی جس میں ناکامی کے بعد اکتوبر 1979ء میں پورے ملک میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ 1984ء میں اس پابندی کو باضابطہ شکل دے دی گئی۔
طلبہ اور نوجوانوں کی تحریکوں میں وہ چنگاری ہوتی ہے جو انقلاب کے شعلے بھڑکا سکتی ہے اور ایسی صورت میں محنت کش طبقہ تاریخ کے میدان میں داخل ہو کر جبر و استحصال کے نظام کو ہی اکھاڑ سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھرمیں اٹھنے والے بیشتر انقلابات کا آغاز طلبہ نے ہی کیا تھا۔اس کی بڑی مثال پاکستان میں 1968-69ء کی انقلابی تحریک ہے جس کا آغاز 6 نومبر 1968ء کو راولپنڈی پولی ٹیکنیکل کالج کے ایک طالب علم عبدالحمید کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے ہوا تھا۔ یہاں سے ابھرنے والی بغاوت پشاور سے لے کر چٹاگانگ تک، انقلاب بن کر پھیل گئی۔
دنیا بھر کی طرح یہاں بھی 1970ء کی دہائی تک تعلیمی اداروں اور طلبہ سیاست پر بائیں بازو کے انقلابی اور ترقی پسند نظریات حاوی تھے۔ اداروں کا ماحول خوشگوار ہوا کرتا تھا اور طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات بھی سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی تھیں۔ رجعت، قدامت پسندی اور بنیادی پرستی کی قوتیں اس وقت تعلیمی اداروں میں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اسی طلبہ سیاست کے محنت کش طبقے کے ساتھ ملاپ سے انقلاب ابھرا تھا جس کے نتیجے میں سوشلسٹ نظریات پر قائم ہونے والی نو عمر پیپلز پارٹی چند مہینوں میں ایک عوامی سیاسی قوت کا درجہ اختیار کر گئی۔
رجعت پر قائم آمریت کی حفاظت کے لئے معاشرے کے ہر روشن اور ترقی پسند معمول کو توڑنا ضیا الحق کے لئے لازم تھا۔ ضیاآمریت نے جو کیا سو کیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ 1988ء کے بعد کئی بار جمہوری حکومتوں کو اقتدار ملا لیکن ان کی پالیسیاں ضیا آمریت کا ہی تسلسل ثابت ہوئیں، کیونکہ محض نظام کو چلانے کا سیاسی طریقہ کار تبدیل ہوا تھا، نظام اپنی جگہ موجود تھا اور آج بھی ہے۔ طلبہ یونینز پر پابندی بھی یہ جمہوریت آج تک نہیں اٹھا سکی۔ اعلانات کئی بار ہوئے لیکن یہ انتہائی بنیادی جمہوری مطالبہ عملی شکل میں کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا نظریاتی انحراف بڑھتا چلا گیا اور اس کے ادوار میں طلبہ اور مزدور دشمن پالیسیاں ہی نافذ کی جاتی رہیں۔ آج جس آئین کو اتنا مقدس بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس میں ضیا الحق کی ڈالی گئی شقوں کو کوئی جمہوری حکومت ختم نہیں کر سکی۔
آج طلبہ یونین کی بحالی کی مخالفت کرنے والے زیادہ تر سیاسی رہنما اور ’دانشور‘ ضیاالحق کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب ایجوکیشن مافیا ہے جو تعلیم کا بیوپار کر کے تجوریاں بھر رہا ہے اور طلبہ یونینز کو کسی طور برداشت نہیں کرے گا۔ان کے مفادات نجی صنعتیں چلانے والے سرمایہ داروں سے مختلف نہیں ہیں جن کے لئے ٹریڈیونین ناقابل قبول ہوتی ہے۔
نہ صرف نجی بلکہ سرکاری تعلیمی ادارے بھی آج جیل خانوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی بدترین دھونس موجود ہے، ہر وقت نکالے جانے کا خوف اور بات بات پر جرمانے ہیں، شدید گھٹن کا ماحول ہے، نصاب قدامت پرست اور طریقہ تعلیم انتہائی غیر سائنسی ہے۔ طلبہ پر خود غرضی، مقابلہ بازی اور ’’کیریئر ازم‘‘ کی نفسیات مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں نوجوان کسی صورت سماج کا صحت مند حصہ نہیں بن سکتے۔ ثقافتی گراوٹ، جرائم، منشیات اور بیگانگی اس عمل کی واضح علامات ہیں۔ طلبہ سیاست میں کلاشنکوف کلچر، تشدد، غنڈہ گردی، منشیات اور لسانی و فرقہ وارانہ تعصبات کی سرایت سب سے پہلے ضیاالحق کے دور میں کروائی گئی تھی۔آج طلبہ یونین پر پابندی کا یہی عذر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یونینز پر پابندی سے دہشت گردی اور غنڈہ گردی کم ہوئی ہے یا بڑھی ہے؟
1972ء کے بعد طلبہ سیاست میں بنیاد پرست تنظیموں کے بڑھتے کردار کاجائزہ لیا جائے تو اس کی سب سے کلیدی وجہ خود پیپلز پارٹی حکومت کی حکمران طبقے اور اس کے نظام سے مصالحت تھی۔ انقلاب کو ادھورا چھوڑ کر پارٹی کے بنیادی سوشلسٹ نظریات سے انحراف کیا گیا جس سے محنت کشوں اور نوجوانوں میں بددلی پھیلی اور رجعتی رجحانات کی راہ ہموار ہوئی۔ بعد ازاں انہی مذہبی پارٹیوں کو ضیا آمریت میں پروان چڑھایا گیا اور ان کی ذیلی طلبہ تنظیمیں تعلیمی اداروں پر مسلط کر دی گئیں۔ آج بھی ان تنظیموں کی طلبہ میں کوئی بنیاد نہ ہونے کے باوجود ریاستی پشت پناہی میں قائم رکھا گیا ہے۔
آمرتیوں کے بعد اس ’’جمہوریت کے تسلسل‘‘ نے جو کچھ عوام کے ساتھ کیا ہے اس سے سماج میں پراگندگی، گھٹن اور حاوی سیاست سے بیزاری میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ پورا معاشرہ تعفن اور اذیت کا شکار ہے۔سیاست کی کمرشلائزیشن کے اس دور میں طلبہ یونینز اگر بحال ہوتی ہیں تو یہاں بھی قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات کی طرح دولت کی پارٹیاں پیسے کے ذریعے اپنا جبر قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن ساتھ ہی حقیقی مسائل کی بات اور نظریاتی مباحث کا بھی آغاز ہو گا۔ دولت اور انقلابی نظریات کی یہ لڑائی اگر کھلتی ہے تو دولت کی شکست لازمی ہے۔ جن نظریات کا وقت آجاتا ہے انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں کچل سکتی۔
طلبہ، مزدور، کسان آج اذیت ناک استحصال سے دو چار ہیں ، ایسے میں طلبہ سیاست بڑے پیمانے پر بحال ہوتی ہے تو یہ انقلاب کی نرسری کا کردار ادا کرے گی۔ حکمران اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں اور یہی ان کا خوف ہے۔ سینیٹ اور پارلیمنٹ جیسے ادارے، جن کی نشستوں میں کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور جو مکمل طور پر حکمران طبقے کے کلب بن چکے ہیں، ان کے ذریعے طلبہ یونین کی بحالی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ حق بھی طلبہ اور نوجوانوں کو جدوجہد کے ذریعے ہی چھیننا پڑے گا۔
مارکسزم کی سائنس واضح کرتی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ بلند پیمانے پر دہراتی ہے۔اگر اس بار بھی طلبہ یونینز پر پابندی نہیں اٹھائی جاتی تو نوجوانوں کا انقلابی کردار ختم نہیں ہوجائے گا۔ انہیں کب تک اس نظام کی چکی میں ڈگریوں اور کیرئیر کے پیچھے دوڑا کر کچلا جا سکتا ہے؟ قوی امکانات ہیں اس ملک میں ناگزیر ضرورت بن جانے والی انقلابی تحریک کی پہلی چنگاری طلبہ تحریک سے ہی ابھرے گی۔ طلبہ کو اپنے بنیادی حقوق کی لڑائی کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد سے جوڑنا ہوگا، جو تمام تر ذلتوں اور مسائل کی جڑ ہے۔اس عظیم مقصد میں انہیں محنت کشوں اور غریبوں کے لئے اپنے دل میں عاجزی اور احترام کے جذبات پیدا کرنا ہوں گے، ان سے سیکھنا ہو گا۔ اسی صورت میں وہ محنت کش طبقے کے ساتھ جڑت بنا کر تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔
روس میں انسانی تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا کرنے والی بالشویک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی اوسط عمر 29 سال تھی۔ مخالفین ’’بچوں کی پارٹی‘‘ کہہ کر بالشویکوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔لیکن تاریخ ساز واقعات نے لینن کے اس قول کو سچ کر دکھایا کہ ’’جس کے پاس نوجوان ہیں، مستقبل اسی کا ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*