شمالی کوریا کا معمہ

تحریر: راہول

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اْن نے سنگاپور کے جزیرہ سنتوزا میں منگل 12 جون کو دو ملاقاتوں کے بعد ایک دستاویز پر دستخط کئے۔ میڈیا کے مطابق ان دستاویز کو جامع اور اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دستخط کے بعد ٹرمپ نے پوری دنیا کو یہ باور کرایا کہ دستاویز میں تمام معاملات شامل کیے گئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایک تاریخی ملاقات تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا ایک نیا باب کھلا ہے۔ دراصل امریکی صدر یہ جتانا چاہ رہے تھے کہ ان ملاقاتوں کی روشنی میں دنیا بڑی ’’تبدیلیاں ‘‘دیکھے گی اورشمالی کوریا کے ساتھ تعلقات اب ماضی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہوں گے جبکہ جوہری ہتھیاروں کے تلف کیے جانے کا عمل ’’بہت جلد‘‘شروع ہو گا۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اْن نے اس ملاقات کے انعقاد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ممنونیت کا اظہار کیا اور اس تاریخی ملاقات کو سراہتے ہوئے ماضی کا صفحہ پلٹ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ کم کا کہنا تھا کہ اس ’’تاریخی ملاقات ‘‘کے بعد ایک نیا عہد شروع ہوگا اور ایک بڑی تبدیلی دنیا کے سامنے آئے گی۔
دونوں سربراہوں کی تمام تر یقین دہانیوں اور ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے اخراجات کے باوجود بھی یہ ملاقات دراصل عالمی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی اور مسکراہٹوں کے تبادلے او خوشگوار ر فوٹو سیشن کے علاوہ کوئی بھی ایسی چیز میٹنگ میں طے نہ ہوسکی جسکی توقع کی جارہی تھی۔ دراصل ملاقات کے نتیجے میں ایک عام سا معاہد ہ ہوا ہے جو بے معنی بھی ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی موڑ یا فیصلہ بھی سامنے نہیں آیا۔ اس ساری ملاقات میں ’شوبازی‘ زیادہ تھی اور آج کے عہد کے میڈیا اور مروجہ دانش کا جو گرا ہوا معیار ہے اسی حوالے سے ملاقات کے پروٹوکول اور کاروائیوں کو سنسنی خیز انداز سے ترتیب دیا گیا تھا۔ درحقیقت ساری ملاقات اور معاہدے کے تمام پہلو پس پردہ سفارتی مذاکرات کے ذریعے دونوں حکومتوں میں پہلے ہی طے پا گئے تھے۔ کِم کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے پاک خطے کی حامی ضرور بھری گئی لیکن وہ ایسا کب کرے گا اس حوالے سے کوئی بھی تاریخ یا وقت کا تعین نہیں کیا گیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاہدہ آخر کب تک برقرار رہتا ہے اور جن ’’جنگی مشقوں‘‘ کو روکنے کی ٹرمپ نے حامی بھری ہے وہ اس پر کیسے پورا اترتا ہے اور اگر وہ یہ کربھی لے تو ایسی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ دوبارہ اس معاہدے کو توڑ نہیں سکتا ۔
اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو گزشتہ پچیس برسوں ہی سے بات چیت کا یہ سلسلہ جاری تھا اور متعدد معاہدے بھی ان ملاقاتوں کے نتیجے میں سامنے آئے لیکن دونوں ممالک ہی ان معاہدوں پر پورا نہیں اتر سکے۔ اس سے قبل 1994ء میں بل کلنٹن نے ایک معاہدہ کیا تھاجو محض دو سال ہی برقرار رہ سکا ۔اس کے بعد سال 1999ء میں بھی بات چیت کا آغاز کیا گیا جو ایک سال بعد ہی اپنے اختتام کو پہنچا ۔ ایسا گزشتہ کچھ سالوں میں متعدد بار ہوتا رہا لیکن تمام تر بات چیت کا سلسلہ اس وقت بند ہوگیا جب 2009 ء میں شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کیا اور اس کے بعد بڑھکبازیاں اور دھاڑیں دونوں اطراف سے پوری دنیا سنتی رہی۔کبھی ٹرمپ نے کِم کو ’راکٹ مین‘ اور ’تاریک جوکر‘ کے خطابات سے نوازاتوکبھی کِم نے ٹرمپ کو ذہنی مریض اور ’ہلڑ باز ‘ قرار دیا۔ لیکن کِم جونگ اُن کی دھمکیوں سے آج ٹرمپ مرعوب دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ سوویت یونین کے سپریم لیڈر نکیٹا خروشچیف کے بعد شاید ہی کسی نے یہ دھمکی لگائی ہو کہ ہم امریکہ پر گرانے کے لئے ایٹمی میزائل تیار کر رہے ہیں اور گرائیں گے بھی!
جزیرہ نما کوریا کی تاریخ غیر ملکی حملوں سے بھری پڑی ہے ۔ صدیوں سے یہاں ایک کے بعد دوسرے حملہ آور نے قبضہ جمانے کی کوشش کی جن میں منگول، چینی، جاپانی اور انیس ویں صدی میںیورپی شامل تھے۔ بالآخر 1905ء کی روسو – جاپان جنگ کے اختتام پر جاپان یہاں قابض ہونے میں کامیاب ہوا۔ اسی دور میں یہاں بڑے پیمانے کی انڈسٹریلائزیشن کی گئی اور ریلوے لائن بھی اسی وقت بچھائی گئی کیونکہ جاپان کے بھی یہاں وہی سامراجی عزائم تھے جو برصغیر میں برطانوی سامراج کے تھے اور اسی کے چلتے جاپان اس خطے کی کئی سالوں تک اندھی لوٹ مار کرتا رہا ۔
سماج میں جاپان کے خلاف بغاوت پل رہی تھی اور کچھ ہی عرصے بعد تحریکِ آزادی کا آغاز ہو گیا۔ یہ تحریک ایک اہم موڑ پر اس وقت پہنچی جب یکم مارچ 1919ء کو ایک مظاہرے میں ہزاروں مظاہرین ہلاک کردیئے گئے جبکہ لاکھوں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ہزاروں کورین کمیونسٹوں نے کم سنگ دوئم کی قیادت میں ’’چینی عوام کی لبریشن آرمی‘‘ (Chinese Peoples’ Liberation Army)میں شمولیت اختیار کی اور چین اور کوریا میں جاپان کے خلاف لڑائی جاری رکھی اور دوسری عالمی جنگ میں جہاں جاپان کو شکست ہوئی وہیں کوریا کو اس سے آزادی حاصل ہوئی ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کی طرز پر ہی کوریا کو بھی امریکی سامراج اور سوویت یونین نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جس میں سوویت یونین کے زیر اثر شمالی کوریا وجود میں آیا جبکہ امریکہ کی آشیر باد میں جنوبی کوریا میں سرمایہ دارانہ حکومت قائم ہوئی۔ 1948ء میں باضاطہ طور پر ’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا‘ (DPRK) کی بنیاد رکھی گئی اور یہاں اُس وقت کے سوویت یونین کی طرز پر ایک سٹالنسٹ حکومت قائم کی گئی جس کا سربراہ کِم اِل سنگ (موجودہ سپریم لیڈر کا دادا) تھا۔
سرمایہ داری اور قبل از سرمایہ داری کی باقیات کا شمالی کوریا سے خاتمہ اگرچہ مشرقی یورپ کی طرح سٹالنسٹ طرز پر ہی کیا گیا لیکن یقیناًایک ترقی پسندانہ اقدام تھا۔ لیکن اپنے آغاز ہی سے شمالی کوریا ایک ’مسخ شدہ مزدور ریاست‘ تھی جس میں منصوبہ بند معیشت تو موجود تھی لیکن ریاست اور معیشت کا کنٹرول محنت کشوں کی جمہوریت کی بجائے سٹالنسٹ افسر شاہی کے پاس تھا۔ منصوبہ بند معیشت کے تحت شمالی کوریا نے ابتدائی دہائیوں میں تیز ترقی کی اور صنعت کاری کا عمل شروع ہوا۔ لیکن تمام سٹالنسٹ ریاستوں کی طرح ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کی یہ ترقی ایک وقت پر جمود کا شکار ہونے لگی اور معیشت بحران میں گھرنے لگی۔ بالخصوص چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد شمالی کوریا عالمی سطح پر بالکل تنہا ہو کے رہ گیا۔ اِن حالات میں برسراقتدار افسر شاہی نے بھی زیادہ قوم پرستانہ روش اختیار کر لی۔ ’مارکسزم لینن ازم‘ کی لفاظی کو بھی سرکاری ڈاکٹرائن سے کم و بیش خارج کر دیا گیا اور اس کی جگہ ’جوچے‘ (Juche) کے نظریات نے  لے لی جو درحقیقت سوشلزم کی انتہائی بگڑی ہوئی کورین قوم پرستانہ شکل ہے۔ حتیٰ کہ 1997ء میں عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کیلنڈر کو منسوخ کر کے ایک ’جوچے کیلنڈر‘ متعارف کروایا دیا گیا جو کِم اِل سنگ کی 1912ء میں پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور اس سے پیشتر اس میں کوئی تاریخ نہیں ہے۔ یوں افسر شاہی نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے شمالی کوریا کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی طور پر دنیا سے بالکل کاٹ کے رکھ دیا۔ آج کیفیت یہ ہے کی شمالی کوریا میں انٹرنیٹ تک بھی باقی دنیا سے کٹا ہوا ہے اور صرف ریاستی میڈیا کو براڈ کاسٹنگ کی اجازت ہے۔ اس کیفیت میں آج معیشت انتہائی دگرگوں کیفیت کا شکار ہے اور لوگوں کا معیار زندگی پچھلی کئی دہائیوں میں گرا ہی ہے۔ لیکن شمالی کوریا کی ریاست کو فی الوقت اگر کسی طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ پھر ’’مسخ شدہ مزدور ریاست‘‘ ہی ہے۔ شاید اسے خاصی مسخ شدہ مزدور ریاست کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اگرچہ پچھلے کچھ عرصے سے برسراقتدار افسر شاہی اپنے پینترے بدلتے ہوئے محسوس ہو رہی ہے۔ پچھلے عرصے میں شمالی کوریا نے نجی کمپنیوں کے لئے اپنی معیشت کھولنے کے اشارے دئیے ہیں۔ بیرونی تجارت پر بھی ریاستی اجارہ داری اور کنٹرول کو ڈھیلا کیا جا رہا ہے۔ تاہم اکثریتی معیشت اب بھی ریاست کے کنٹرول میں ہے۔لیکن یہ ساری صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شمالی کوریا کی افسر شاہی کا جھکاؤ بھی کئی حوالوں سے اس کے سرپرست چین کی طرح اب منڈی کی معیشت کی طرف ہوتا جا رہا ہے ۔ لیکن اگر سرمایہ داری کی طرف مکمل واپسی ہوتی ہے تو شاید کچھ بیرونی سرمایہ کاری (زیادہ تر چینی) آ جائے اور کچھ معاشی بحالی بھی ہو جائے لیکن سرمایہ داری اپنے ساتھ اپنی تمام تر غلاظتیں بھی لائے گی۔ ایک طرف کورین افسر شاہی کا ایک حصہ ایک نئے سرمایہ دار طبقے میں تبدیل ہو جائے گا اور اپنی جیبیں بھرے گا تو دوسری طرف محنت کشوں کے حصے میں مہنگائی اور بدترین استحصال ہی آئے گا۔ اور ایسی سرمایہ داری اپنے ساتھ اتنی ہی جمہوری آزادیاں لائے گی جتنی چین میں میسر ہیں!
دوسری طرف اگر جنوبی کوریا کی بات کی جائے تو وہاں کی سرمایہ داری کی چکاچوند روشنیوں اور بلند و بالا عمارتوں کے نیچے بھی بہت غربت پلتی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دوسرے ’’ایشین ٹائیگرز‘‘ کی طرح جنوبی کوریا کی ترقی بھی کسی آزاد منڈی کا معجزہ نہیں تھی بلکہ امریکی سامراج کی براہِ راست نگرانی میں انتہائی سخت ریاستی منصوبہ بندی کی مرہون منت تھی۔ سامراجیوں کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی سے یہ ’ایشین ٹائیگرز‘ کھڑے کرنے کا بنیادی مقصد مشرقی ایشیا میں چلتی سرخ آندھی کے راستے میں ایسے سرمایہ دارانہ جزیروں کے بند باندھنا تھا۔ لیکن جوں جوں پچھلی کچھ دہائیوں سے یہاں ریاستی سرمایہ داری کو بتدریج پرزے پرزے کیا گیا ہے اور بڑے پیمانے کی نجکاری ہوئی ہے توں توں معاشی ناہمواری، کرپشن اور جرائم میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ تنہائی اور ڈپریشن جنوبی کوریا میں ایک وبا کی کیفیت اختیار کر گئے ہیں۔ نصف سے زائد بزرگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور پوش علاقوں میں قائم بڑی بڑی عمارات کے سائے میں وسیع و عریض کچی بستیاں قائم ہیں۔
ٹرمپ نے شاید امن کے نوبل انعام کے چکر میں یہ معاہدہ تو کر لیا ہے لیکن اس نظام میں ایسے کسی امن معاہدے کی بنیادیں انتہائی نازک ہوتی ہیں۔ ایک طرف داخلی معاشی بحران کے پیش نظر ٹرمپ امریکی ریاست کے جنگی اور فلاحی اخراجات میں کٹوتیوں کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری جانب ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی منافع خوری برقرار رکھنے کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں جنگی حالات اور تناؤ پیدا کرنے کی پالیسیاں بھی جاری ہیں اور رہیں گی۔ دوسری طرف مغربی دنیا کے حکمران حلقوں میں بھی ٹرمپ اس وقت شدیدتنقید کی زد میں ہے۔ اپنے پرانے ’اتحادیوں‘ کی بے عزتی کرنے کے بعد جی سیون کے اجلاس کے اختتام سے قبل ہی شمالی کوریا جیسے روایتی دشمنوں سے یارانے بڑھانے کے عمل نے کئی سامراجی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مغربی میڈیا پر خوب شور مچایا جا رہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک سفارتی دنگل کی حیثیت اختیار کر جانے والی اِس ملاقات میں کِم نے ٹرمپ کو چاروں شانے چِت کر دیا ہے۔ یوں ٹرمپ سے نالاں مغربی حکومتیں اور ان کا میڈیا اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جہاں ٹرمپ کو ذلت اٹھانی پڑی ہے تو کِم جونگ اُن کی آمریت کے لئے بھی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ شمالی کوریا کی افسر شاہانہ آمریت ہمیشہ سے داخلی جبر کے لئے بیرونی دشمنی کا سہارا لیتی رہی ہے۔ اس لئے تناؤ کا خاتمہ اور دور رس امن اُن کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔
دھمکیوں اور مذاکرات کے فریب کے ذریعے مغربی سامراجی‘ شمالی کوریا کی معیشت کو سرمایہ دارانہ منافع خوری اور لوٹ مار کے لئے کھولنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب اُن کے لئے ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ اگر کِم شمالی کوریا کی معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھولتا بھی ہے تو مغربی اجارہ داریوں سے پہلے چینی کمپنیاں ہلا بول دیں گی ۔ اس لئے اگر کوئی خاموشی سے مسکرا رہاہے تو وہ چینی حکمران اشرافیہ ہے جن کو شمالی کوریا کی منڈی کا لالچ بھی ہے اور ٹرمپ کی تضحیک کی خوشی بھی ۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ کِم اس معاہدے سے کبھی بھی مکر سکتا ہے۔ یا پھر اس طرح سے عمل درآمد کرے گا کہ یہ سارا معاملہ سست روی سے چلتا ہی رہے گا۔
سرمایہ دارانہ نظام آج اپنے بدترین بحران کی زد میں ہے ۔ جہاں کی اس معیشت زوال پذیر ہے وہاں سفارت بھی انتہائی پرانتشار اور غیریقینی ہو گئی ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا جیسی تقسیموں کی لکیریں اس نظام میں مٹنے والی نہیں ہیں۔ سامراجی طاقتوں کے معاہدوں اور وعدوں سے امن اور خوشحالی نہیں آنے والی۔ جنگیں اورتناؤ اس نظام کی ضرورت اور ناگزیر پیداوار ہیں۔ جن سے نجات اس نظام کو اکھاڑ پھینک کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*