فرانس میں ہڑتالوں کی نئی لہر

تحریر: لال خان

فرانس میں محنت کشوں کی جدوجہد کی ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف پہلی وسیع مزاحمتی تحریک میں منگل کو ملک کی شہرت یافتہ ہائی سپیڈ ٹرینوں کو ایک ہڑتال میں جام کردیا گیا۔ مین سٹریم میڈیا نے اس ہڑتال کو ’سیاہ منگل‘ کا نام دیا ہے۔ تاہم ہڑتالی اقدام کی یہ حکمت عملی تین مہینے تک محیط ہوگی تاکہ کٹوتیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ نیشنل ریل اتھارٹی نے کہا ہے کہ ہڑتال کے پہلے دن صرف 12 فیصد ٹرینیں چل رہی ہیں۔ جرمنی اور برطانیہ جانے والی ٹریفک بھی متاثر ہوئی ہے۔ توانائی اور ویسٹ کلیکشن کے شعبے بھی متاثر ہوئے۔ یونینز کا کہنا ہے کہ قرضوں میں ڈوبی ریاستی ریل کمپنی (SNCF) کی ’تنظیم نو‘ کے منصوبے اس کی نجکاری کا راستہ ہموارکرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔’SNCF‘ کے تقریباً 77 فیصد ڈرائیور ہڑتال پر تھے۔
فرانس کی ورک فورس کا صرف 11 فیصد یونینوں سے منسلک ہے جو یورپی یونین میں سب سے کم شرح ہے۔ لیکن روایتی طور پر یونینز بہت طاقتور رہی ہیں اور فرانس کی سیاست اور معیشت پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ ریل یونین کے ایک رہنما ایمانوئل گرونڈن نے کہا، ’’ہم صرف ریل مزدوروں کا ہی نہیں بلکہ فرانس کے عوامی خدمات کے شعبوں کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘ اس ہڑتال کا سماج پر گہرا اثر پڑا ہے اور روزمرہ کے معاملات متاثر ہوئے ہیں۔ دارالحکومت میں ’کار ٹریفک‘ کو ماپنے والی ویب سائٹ کے مطابق رش آورز میں 420 کلومیٹر کے ٹریفک جام ہوئے۔
لیکن میکرون کی نیو لبرل سرمایہ دارانہ حکومت کے خلاف یہ بغاوت محض ریل تک محدود نہیں ہے۔ دوسرے شعبوں میں بھی ہڑتالیں اور مظاہرے ہوئے ہیں۔ مثلاً ہزاروں طلبہ یونیورسٹی کیمپسوں میں احتجاج کر رہے ہیں جبکہ کچرا جمع کرنے والے مزدور بھی کام کے حالات کار کے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں۔ مزدور تنظیموں نے ان مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی سطح کی کلیکشن سروس اور بہتر ریٹائرمنٹ کی مراعات کے لیے جدوجہد کریں۔ مزدوروں نے کچھ ’ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس‘ کو بند کر دیا ہے۔ توانائی کے شعبے کے مزدوروں نے توانائی کی منڈیوں کی لبرلائزیشن اور ڈی ریگولیشن کے خلاف ہڑتالوں کا اعلان کیا ہے۔ فضائی نقل و حمل کے نظام میں بھی خلل آیا ہے۔ منگل کو ایئر فرانس کو تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کی وجہ سے اپنی ایک چوتھائی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ایئر فرانس کے ملازمین تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چار دن سے ہڑتال پر ہیں۔
میکرون ‘فرانس کی معیشت میں ’اصلاحات‘ لانے کے لیے کٹوتیوں کے اقدامات میں تیزی لایا ہے۔ اس کے اقدامات کو فرانس کی ٹریڈ یونینز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ میکرون کے اس ایجنڈے کے خلاف مزاحمت 22 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب ہزاروں اساتذہ، نرسز اور دیگر شعبوں کے مزدوروں نے ریلوے کے مزدوروں کی ہڑتال میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے میکرون کی حکومت کو مسترد کیا ہے جس کے ترجمان گیبرل اٹل نے چند ہفتے پہلے کہا تھا کہ ’’ہمیں اس ہڑتالی ثقافت سے جان چھڑانا ہوگی۔‘‘ بی بی سی کے نمائندے لوسی ویلیم سن کے مطابق ’’بہت سے یونین اراکین سمجھتے ہیں کہ میکرون ٹریڈ یونینز کی طاقت کو توڑنا چاہتا ہے۔‘‘
2007-8ء کے عالمی بحران سے بہت سالوں پہلے یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ یورپی سرمایہ داری ایک حتمی زوال کے دور میں داخل ہوگئی ہے اور سماجی فلاحی نظام کو مزید جاری نہیں رکھ سکتی۔ مزدوروں کی اجرتوں، پنشن، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر حملے کیے گئے تاکہ ایک بیمار نظام کو بچایا جا سکے۔ یہ تمام تر مراعات محنت کش طبقے نے بیسویں صد ی میں ایک سخت جدوجہد کے بعد حاصل کی تھیں۔ حکمرانوں کی جانب سے مزدوروں کو دی جانے والی ان مراعات کی ایک اور وجہ یورپ کے طاقتور مزدور طبقے کی انقلابی سرکشی کا خوف تھا۔ سرد جنگ، سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں منصوبہ بند معیشت کی موجودگی یورپی حکمرانوں کے خوف میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ داری میں آنے والا معاشی ابھار اور تیسری دنیا کے ممالک میں شدید استحصال کی وجہ سے حکمران طبقات کو یہ موقع ملا کہ وہ ان مراعات کا خرچہ برداشت کرسکیں اور ساتھ ہی اپنی شرح منافع میں اضافہ بھی قائم رکھ سکیں۔ اب معاملات الٹ ہوچکے ہیں۔ سرمایہ دارانہ بحران کی وجہ سے یورپ میں ایک نئے سماجی معاشی معمول نے جنم لیا ہے جہاں پہلی دفعہ عام لوگوں کا معیار زندگی ان کی پچھلی نسلوں سے نچلی سطح پر ہے۔ معاشی توازن کے ٹوٹنے سے سیاسی ڈھانچے کا توازن بھی بگڑ گیا ہے اور دائیں اور بائیں بازو کی روایتی پارٹیاں بحران میں چلی گئی ہیں۔اصلاح پسندی اور ’سوشل ڈیموکریسی‘ کی گنجائش آج موجود نہیں ہے ۔ سماجی بحران میں نسل پرست اور مہاجر دشمن رجحانات بھی ابھرے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر جلد ہی بکھر جاتے ہیں۔ سیاسی پولرائزیشن کا مظاہرہ ہمیں فرانس میں بھی نظر آتا ہے جہاں دائیں بازو کی ’میری لی پین‘ کی جماعت نیشنل فرنٹ تیزی سے ابھری اور دوسری طرف بائیں بازو کے رہنما ’میلنشوں‘ کا ابھاربھی نظر آیا۔
اصلاحات کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں کا تباہ کن زوال سامنے آیا ہے۔ یہ مظہر تاریخی طور پر اصلاح پسندی (سوشل ڈیموکریسی) کی شکست کی غمازی کرتا ہے جس نے یورپ اور دیگر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں ایک صدی تک طبقاتی مصالحت یعنی محنت کش طبقے سے غداری کا کردار ادا کیا۔ لیکن اگر یہ اصلاح پسندی یا نام نہاد ’’سوشل ڈیموکریسی‘‘ ترقی یافتہ ممالک میں ناکام ہوچکی ہے تو پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں محروم اور استحصال زدہ عوام کی زندگیوں میں کیسے خوشحالی لا سکتی ہے؟ یورپ میں دائیں بازو کی روایتی پارٹیاں بھی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ’میکرون ‘کا ابھار اور صدارت تک پہنچنا اسی مظہر کی غمازی کرتا ہے۔ وہ سوشلسٹ پارٹی سے الگ ہوا اور دائیں بازو کی اصلاحات کے نعروں سے اقتدار تک پہنچا جس طرح اس کے پیشرو ’اولاندے‘ نے مزدوروں سے غداری کرکے کٹوتیوں کی پالیسیوں کا اجرا کیا۔ لیکن میکرون کی پیٹھ پر تو اصلاح پسندی کا بوجھ بھی نہیں ہے۔ وہ زیادہ جارحیت سے یہ اقدامات کر رہا ہے۔ لیکن حالیہ ہڑتالوں نے مزدوروں کی امیدوں کو جلا بخشی ہے اور حالات کو تبدیل کردیا ہے۔ یہ فرانس اور بالعموم یورپ میں طبقاتی جدوجہد کے ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔
پچھلے عرصے میں یورپ میں عارضی رجعتی رجحانات کے ابھار سے قطع نظر فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں مزدوروں اور نوجوانوں کی جدوجہد مسلسل جاری رہی ہے۔ یہ فرانسیسی محنت کشوں کی شاندار تحریک ہی تھی جس نے تیونس میں انقلابی تحریک کو جنم دیا تھا جو وہاں سے پورے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک پھیل گئی تھی۔ مارکس اور اینگلز نے فرانس کو انقلابات کی ماں کہا تھا۔ موجودہ ہڑتال کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی تحریک یعنی 1968ء کے انقلاب کوپچاس سال مکمل ہونے میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ فرانس کا اس وقت کا ’’مرد آہن‘‘ صدر چارلس ڈیگال محنت کشوں اور طلبہ کی اس انقلابی تحریک سے خوفزدہ ہوکر جرمنی بھاگ گیا تھا اور کہا تھاکہ ’’یورپ میں بتیاں گُل ہو رہی ہیں… بالشویک اقتدار پر قبضہ کر رہے ہیں!‘‘ لیکن انقلابی قیادت کی غیر موجودگی میں انقلاب پسپا ہوا اور روایتی اصلاح پسند قیادتوں نے چند مراعات کے بدلے ساری جدوجہد کو حکمرانوں کی جھولی میں ڈال دیا۔ لیکن فرانسیسی محنت کش اور نوجوان عظیم انقلابی روایات کے امین ہیں۔ 1968ء کے انقلاب فرانس کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اس ہڑتالی تحریک کا ابھار پورے یورپ میں وسیع انقلابی مضمرات کو جنم دے سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*