کیا بالشویک انقلاب ایک کُو تھا؟

| تحریر: ٹیڈ گرانٹ |

ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ’’روس انقلاب سے ردِ انقلاب تک‘‘ سے اقتباس۔

بالشویکوں کو رسوا کرنے کیلئے تاریخی ریکارڈ کو مسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ ایک عام حربہ یہ ہے کہ اکتوبر انقلاب کوایک ’’کو‘‘ (Coup) یعنی ایک معمولی اقلیت کی ایسی تحریک کے طور پر پیش کیا جائے جس نے اکثریت کی پیٹھ پیچھے سازشی ہتھکنڈوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرلیا ہو۔ اس دلیل کی رو سے بالشویکوں نے فروری انقلاب میں برسراقتدار آنیوالی عارضی حکومت سے زبردستی اقتدار چھین لیا تھا۔ جس کے بارے میں فرض کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کی جمہوری امنگوں کی نمائندہ تھی۔ اس کہانی کے مطابق اگر لینن کی ’’سازش‘‘ کار گر ثابت نہ ہوتی تو روس مغربی پارلیمانی جمہوریت کے راستے پر گامزن ہو جاتا اور سب لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے۔ پریوں کے دیس کی یہ کہانی اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ بہت سے لوگ اسے بلا تنقید قبول کر چکے ہیں۔ پریوں کی دوسری کہانیوں کی طرح اس کا مقصد بھی تھپکیاں دے کر سلانا ہے اور اس قسم کی باقی کہانیوں کی طرح اس پر بھی صرف ننھے منے بچے ہی یقین کرتے ہیں۔
پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ اگر عارضی حکومت واقعی ایک بڑی اکثریت کی نمائندگی کرتی تھی تو بالشویک سازشیوں پر مشتمل ایک معمولی سا گروہ آخر کس طرح اول الذکر کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو گیا؟ کیونکہ کم از کم کاغذی طور پر حکومت کے پاس ریاستی مشینری کی ساری طاقت، فوج، پولیس اور قزاق موجود تھے جبکہ بالشویک ایک چھوٹی سی پارٹی تھے جس کے ارکان کی کل تعداد سارے روس کے اندر فروری انقلاب کے آغاز میں صرف آٹھ ہزار کے قریب تھی۔ ایسی معمولی سی اقلیت کیلئے ایک طاقتور ریاست کا تختہ الٹنا کس طرح ممکن تھا؟ اگر ہم بغاوت والی دلیل کو تسلیم کر لیں تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ لینن اور ٹراٹسکی جادوئی طاقتوں کے مالک تھے۔ یہ ہے پریوں کی کہانیوں والا مواد! مگر افسوس کا مقام ہے کہ حقیقی زندگی میں یا تاریخ میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔
دراصل نظریۂ سازش تاریخ کی وضاحت سے قاصر ہے۔ یہ اس شے کو فرض کر لیتا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہے۔ بحث کا یہ سطحی طریقہ، جس میں فرض کیا جاتا ہے کہ ہر ہڑتال کے پیچھے کارخانے کے مزدوروں کی مجتمع شدہ بے اطمینانی نہیں بلکہ تخریب کاروں کی کارروائیاں ہوتی ہیں، مخصوص پولیس والی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن جب یہ دلیل بزعم خود عالموں کی طر ف سے سنجیدگی سے پیش کی جاتی ہے تو بندہ حیرت سے صرف اپنا سر ہی کھجا سکتا ہے یا پھر یہ فرض کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کو ئی ذاتی مفاد پوشیدہ ہے۔ اس پولیس والے کا محرک تو بالکل واضح ہے جو ہڑتال کے پیچھے نادیدہ تخریب کاروں کی کار فرمائی دیکھتا ہے لیکن حقیقت میں بحث کا یہ انداز بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ بنیادی تصور یہ ہے کہ مزدور طبقہ اپنے مفادات کو سمجھنے کی اہلیت سے عاری ہے (جو بظاہر ان کے آقاؤں کے مفادات سے مماثل ہیں) لہٰذا اگر وہ اپنے مقدر کو اپنے ہاتھوں میں لینے کیلئے حرکت میں آتے ہیں تو اس کی ایک ہی وضاحت ہو سکتی ہے کہ کچھ بے ضمیر طالع آزما ان کو غلط راستوں پر لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن یہ دلیل بھی ، جسے عام طور پر جمہوریت کیخلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اپنے ہدف تک نہیں پہنچتی۔ لینن اور ٹراٹسکی نے کس طرح لوگوں کو ’’گمراہ‘‘ کر لیا کہ نو ماہ کے قلیل عرصے میں بالشویک پارٹی ایک معمولی اقلیت سے تبدیل ہو کر سوویتوں میں اکثریت حاصل کر گئی جو کہ سماج کی حقیقی نمائندہ تھیں اور پھر اقتدار پر بھی قبضہ کر لیا؟ محض اس لئے کہ بورژوا عارضی حکومت کا مکمل دیوالیہ آشکار ہو گیا تھا۔ محض اس لئے کہ وہ بورژوا جمہوری انقلاب کا ایک بھی فریضہ ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور اسے ثابت کرنے کیلئے یہ حقیقت ہی کافی ہے کہ اکتوبر میں بالشویک پارٹی نے ’’امن، روٹی اور زمین‘‘ کے پروگرام کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا تھا۔ یہ اس حقیقت کا واضح ترین اظہار ہے کہ عارضی حکومت روسی عوام کی انتہائی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تھی۔ صرف اور صرف اسی سے اکتوبر میں بالشویکوں کی کامیابی کی وضاحت ہوتی ہے۔
1917ء کے بارے میں جو بات سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ ہر مرحلے پر عوام کی اکثریت کی سرگرم شرکت ہے۔ دراصل یہی چیز کسی انقلاب کی اصل روح ہوتی ہے۔ عام حالات میں مردو زن کی اکثریت ذہنی طور پر اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوتی ہے کہ ان کی زندگیوں سے متعلق اہم فیصلے ’’سمجھدار لوگ‘‘ یعنی سیاستدان، نوکر شاہی، جج اور ’’ماہرین‘‘ کرینگے لیکن فیصلہ کن لمحات میں یہ ’’عام‘‘ لوگ ہر شے کو متنازعہ خیال کرنے لگتے ہیں اور اب وہ اس بات سے مطمئن نہیں ہوتے کہ دوسرے حضرات ان کے بارے میں فیصلے کرتے پھریں۔ وہ خود سوچنا اور عمل کرنا چاہتے ہیں۔ قصہ مختصر، وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ بیوروکریٹوں اور پولیس والوں کو (اور کچھ تاریخ دانوں کو بھی جن کی ذہنیت ان سے ملتی جلتی ہوتی ہے) یہ بات عجیب و غریب اور خطرناک دیوانگی دکھائی دیتی ہے۔ درحقیقت معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ ایسے حالات میں مزدور خود کار مشینوں کی طرح کام کرنے کی بجائے حقیقی انسانوں جیسا رویہ اپنا لیتے ہیں جن کا اپنا ذہن بھی ہوتا ہے اور ارادہ بھی۔ اپنی نظروں میں ان کی وقعت بڑھ جاتی ہے۔
وہ اپنے حالات اور اپنی امنگوں کے بارے میں تیزی سے شعور حاصل کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ شعوری طور پر اس پارٹی اور پروگرام کو کھوج نکالتے ہیں جوان امنگوں کی ترجمان ہوتی ہے اور باقیوں کو وہ مسترد کر دیتے ہیں۔ کسی انقلاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ پارٹیاں، افراد اور پروگرام تیزی سے عروج و زوال کے مراحل سے گزرتے ہیں اور زیادہ ریڈیکل حصے کی پذیرائی زیادہ ہوتی ہے۔
لینن کی اس دور کی تحریروں میں ہمیں وہ زبردست اعتماد نظر آتا ہے جو اسے عوام کی معاشرے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پر تھا۔ ’’سازشی‘‘ ہتھکنڈے اپنانے کی بجائے اس نے مزدوروں، غریب کسانوں اور سپاہیوں کی انقلابی تحریک کو ابھارنے پر زور دیا۔
اپریل تھیسز میں اس نے وضاحت کی کہ ’’ہم نہیں چاہتے کہ لوگ محض ہماری باتوں پر یقین کر لیں۔ ہم ڈھونگیئے نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام اپنے تجربات کے ذریعے اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں۔‘‘
پھر وہ کہتا ہے کہ ’’ بغاوت کا انحصار سازش یا کسی ایک پارٹی پر نہیں بلکہ ہر اول طبقے پر ہونا چاہیے۔ بغاوت کا انحصار لازمی طور پر عوام کے انقلابی ابھار پر ہونا چاہیے۔‘‘
یہ حقیقت محض حادثاتی نہیں ہے کہ لینن عوام کو پارٹی کے دو بدو لاکھڑا کرتا ہے۔ اگرچہ بالشویک پارٹی نے انقلاب میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن یہ کوئی یکطرفہ عمل نہیں بلکہ ایک جدلیاتی عمل تھا۔ لینن نے کئی بار جتلایا کہ عوام بڑی سے بڑی انقلابی پارٹی سے بھی سو گنا زیادہ انقلابی ہوتے ہیں۔ یہ ایک قانون ہے کہ انقلاب کے دوران انقلابی پارٹی اور اس کی لیڈرشپ پر دیگر طبقات کا بھی دباؤ ہوتا ہے۔ ہم نے تاریخ میں بہت مرتبہ اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ لیڈرشپ کا کچھ حصہ ایسے شکوک و شبہات اور ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس تذبذب پر فتح پانے کیلئے داخلی جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ لینن کی روس واپسی پر بالشویک لیڈروں (زیادہ تر اسٹالن، کامینیف اور زینووئیف) نے عارضی حکومت کی طرف صلح جو رویہ اپنایا اور یہاں تک کہ منشویکوں میں ضم ہونے پر بھی غور کیا۔ پارٹی کے نقطۂ نظر میں تبدیلی اس شدید جدوجہد کے بعد آئی جس میں لینن اور ٹراٹسکی نے ملکر اس امر کیلئے لڑائی کی کہ دوسراا نقلاب برپا کیا جائے جس میں مزدور طبقہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لے۔
اس جدوجہد میں لینن نے سنٹرل کمیٹی سے بالا ہو کر براہ راست ہر اول مزدوروں سے اپیل کی۔ اس نے کہا کہ ’’مزدوروں اور غریب کسانوں کا ’’ملک‘‘ چیر نوفوں اور تسرتیلیوں سے ہزاروں گنا زیادہ بائیں طرف رجحان رکھتا ہے اور ہماری نسبت کئی سو گنا زیادہ۔‘‘
انقلاب کے ہر مرحلے پر عوام کی تحریک ہی انقلاب کو آگے بڑھانے والی قوت تھی۔ بالشویکوں کا فریضہ یہ تھا کہ اس تحریک کو ایک واضح سیاسی و تنظیمی اظہار عطا کریں، اس امر کو یقینی بنائیں کہ اقتدار پر قبضے کیلئے یہ درست لمحے پر مجتمع ہوں اور قبل از وقت بغاوتوں سے بچیں جو پسپائی کا باعث بن سکتی ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عوام کو کچھ وقت کیلئے روک کر رکھا جائے۔ پیٹروگراڈ کی وائی بورگ کمیٹی نے جون میں لکھا کہ ’’ہمیں آگ بجھانے والے پانی کا کام کرنا ہے۔‘‘
اگست میں ہونے والی چھٹی پارٹی کانگریس میں بالشویک پوڈوسکی نے اعتراف کیاکہ ’’ہم اپنا آدھا وقت عوام کو ٹھنڈا کرنے کیلئے صرف کرنے پر مجبور تھے۔‘‘

تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار عینی شاہد عوام کی غیر معمولی شرکت کے گواہ ہیں۔ مارک فیرو کے الفاظ میں ’’زار شاہی کا تختہ الٹنے کے بعد نئے روس کے شہری مسلسل حرکت کی حالت میں تھے۔‘‘
ایک نمایاں منشویک نکولائی سخانوف لکھتا ہے کہ’’ان دنوں تمام روس مظاہرے کر رہا تھا۔ تمام صوبوں میں گلیوں میں ہونے والے مظاہرے معمول کی بات تھے۔‘‘

لینن کی بیوی کروپسکایا بتاتی ہے:
’’ان دنوں گلیاں عجیب منظر پیش کرتی تھیں، ہر جگہ لوگ جتھوں کی شکل میں کھڑے ہوتے تھے اور تازہ ترین واقعات پر گرما گرم بحث کر رہے ہوتے تھے۔ ان مباحثوں کو کوئی چیز منقطع نہیں کر سکتی تھی۔ جس گھر میں ہم رہتے تھے اس کے سامنے صحن تھا اور یہاں بھی اگر آپ کھڑکی کھولیں تو آپ کو گرم گرم مباحثہ سننے کو ملتا تھا۔ ایک سپاہی بیٹھا ہوتا تھا اور اس کے پاس ہمیشہ سامعین موجود ہوتے تھے۔ عام طور پر پڑوسیوں کے خانساماں، نوکرانیاں یا کچھ نوجوان لوگ۔ آدھی رات کے بعد آپ گفتگو کے ٹکڑے سن سکتے تھے۔ ’’بالشویک منشویک‘‘۔ صبح تین بجے، ملیو کوف بالشویک۔ پانچ بجے بھی اسی قسم کی سیاسی گفتگو جاری ہوتی تھی۔ میرے ذہن میں پیٹروگراڈ کی چاندنی راتوں کے ساتھ ساتھ شب بھر جاری رہنے والی یہ سیاسی بحثیں بھی موجود ہیں۔‘‘
جان ریڈ بھی یہی تصویر پیش کرتا ہے، ’’محاذ جنگ پر سپاہیوں نے افسروں سے اپنی جنگ لڑی اور اپنی کمیٹیوں کے ذریعے حکومت خود کرنا سیکھی۔ فیکٹریوں میں ان لاثانی روسی تنظیموں نے، (جنہیں فیکٹری شاپ کمیٹی کہا جاتا تھا) پرانے نظام کے ساتھ لڑائی کے دوران تجربہ اور قوت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تاریخی فریضے کا ادراک بھی کیا۔ تمام روس سیاست، معاشیات، تاریخ پڑھنا سیکھ اور سمجھ رہا تھا کیونکہ لوگ جاننا چاہتے تھے۔ محاذ کے ساتھ ساتھ ہر شہر میں اور اکثر قصبوں میں ہر سیاسی دھڑے کا اپنا اخبار تھا۔ بعض اوقات کئی کئی اخبار ہوتے تھے۔ ہزاروں تنظیمیں لاکھوں پمفلٹ نکالتی تھیں اور انہیں فوجیوں میں، دیہاتوں میں، فیکٹریوں اور گلیوں میں تقسیم کرتی تھیں۔ تعلیم کے حصول کی پیاس جو مدت سے دبی ہوئی تھی انقلاب کے ساتھ زبردست طریقے سے ظاہر ہوئی۔ صرف سمالنی انسٹیٹیوٹ سے پہلے چھ مہینوں میں ہر روز ٹنوں کے حساب سے لٹریچر ٹرکوں اور ریلوں کے ذریعے زمین کو سیراب کررہا تھا۔ روس تحریری مواد کو یوں جذب کر رہا تھا جس طرح گرم ریت پانی کو جذب کرتی ہے۔ یہ ایک نہ بجھنے والی پیاس تھی اور یہ کہانیاں، مسخ شدہ تاریخ، رقیق شدہ مذہب یا اخلاق باختہ کرنے والے سستے قصے نہیں تھے بلکہ سماجی و معاشی نظریات، فلسفہ، ٹالسٹائی، گوگول اور گور کی کی کتابیں تھیں۔
تھیٹروں، سرکسوں، سکولوں، کلبوں، سوویتوں ، یونین ہیڈکوارٹروں اور فوجیوں کی بیرکوں میں لیکچر، مباحثے اور تقریریں ہوتی تھیں۔ محاذ جنگ پر خندقوں میں گاؤں کے چوراہوں میں اور فیکٹریوں میں اجتماعات ہوتے تھے۔ کیسا شاندار نظارہ ہوتا تھا جب پوتیلوف فیکٹری کے چالیس ہزار مزدور باہر نکل کر سوشل ڈیموکریٹوں، سوشل انقلابیوں، انارکسٹوں کو اور ہر اس شخص کو سنتے تھے جس کے پاس کہنے کو کچھ ہوتا تھا۔ مہینوں تک پیٹرو گراڈ اور تمام روس میں ہر گلی کے نکڑ پر جمہوری میلا لگا ہوتا تھا۔ ریل گاڑیوں اور بسوں میں ہر جگہ اور ہمیشہ برجستہ بحثیں پھوٹتی تھیں۔‘‘ چھپے ہوئے لفظ میں بے پناہ دلچسپی سے مختلف تصورات کیلئے پیاس منعکس ہوتی تھی۔ جان ریڈ محاذ کی اگلی صفوں میں فوجیوں کی صورتحال بیان کرتا ہے، ’’ریگا کی پشت پر ہم بارہویں فوج کے محاذ پر پہنچے جہاں کیچڑ بھری خندقوں میں ننگے پاؤں، فاقہ زدہ اور بیمار فوجی موجود تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ چوکس ہو گئے حالانکہ ان کے چہرے دھنسے ہوئے تھے اور ان کے پھٹے ہوئے کپڑوں کے نیچے گوشت نیلا ہٹ آمیز رنگت لیے ہوئے تھا۔ وہ بے چینی سے تقاضا کر رہے تھے کیا تم ہمارے پڑھنے کیلئے کچھ لائے ہو؟‘‘
بالشویک پارٹی کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس وہ واحد پروگرام تھا جو صحیح راستہ دکھاتا تھا۔ لینن کا مشہورِ زمانہ نعرہ تھا ’’صبر و سکون کے ساتھ وضاحت کرو!‘‘ عوام کا منشویکوں اور سوشل ڈیموکریٹوں کے پروگرام سے سابقہ پڑا اور انہوں نے یہ مسترد کر دیئے۔ رفتہ رفتہ بالشویک امیدواروں کے ووٹوں میں اضافہ ہوا اور ستمبر تک انہیں ماسکو، پیٹروگراڈ، کیف، اوڈیسا اور تمام بڑے شہروں کی سوویتوں میں اکثریت حاصل ہو گئی۔ اس مقام پر پہنچ کر مسترد شدہ عارضی حکومت سے اقتدار لیکر ، جو کہ محض اپنی ہی نمائندگی کرتی تھی، سوویتوں کو یعنی مزدوروں اور سپاہیوں (زیادہ تر کسان) کی اکثریت کی جمہوری نمائندہ تنظیموں کو اقتدار سونپنا ایک لازمی ضرورت بن گئی تھی۔ اس عرصے میں بالشویک پارٹی کو جو عروج حاصل ہوا اس کی مثال سیاسی پارٹیوں کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ فروری میں تقریباً آٹھ ہزار ممبروں سے بڑھ کے جولائی میں چھٹی کانگریس تک یہ تعداد 177,000 ہو گئی۔ علاوہ ازیں ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب کچھ ایک انتہائی کمزور ڈھانچے اور انتہائی جبر و تشدد کے حالات کے باوجود ہوا۔ کرپسکایا لکھتی ہے،’’خاص طور پر سپاہیوں میں بالشویک اثرات کا نشوونما پانا یقینی تھا۔ چھٹی کانگریس نے بالشویکوں کی قوت کو مزید یکجا کر دیا۔ چھٹی پارٹی کانگریس کے نام سے جاری ہونے والی اپیل میں عارضی حکومت کی رد انقلابی پوزیشن کے علاوہ متوقع عالمی انقلاب اور طبقات کی جنگ کا ذکر تھا۔‘‘
پارٹی کی عددی قوت میں اضافہ اس زبردست اور تیز رفتار ترقی کا محض جزوی اظہار تھا جو اسے عوام میں اور سب سے بڑھ کر مزدوروں اور سپاہیوں کی سوویتوں میں حاصل ہو رہی تھی۔ مارسل لیبمین پارٹی کی ترقی کو اس طرح بیان کرتا ہے، ’’لینن کی پارٹی نے 1917ء کے سارے سال میں نمایاں اور تقریباً مستقل انتخابی کامیابیاں حاصل کیں۔ اگرچہ انقلاب کے شروع میں پیٹروگراڈ سوویت میں انکی معمولی نمائندگی تھی لیکن مئی تک اس ادارے کے مزدوروں کے شعبے میں بالشویکوں کو تقریباً مکمل اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔ ایک ماہ بعد پیٹرو گراڈ کی فیکٹری کی پہلی کانفرنس میں 568 نمائندوں میں سے تین چوتھائی نے بالشویکوں کے تھیسز (Theses) کے حق میں رائے دی۔ تاہم عارضی حکومت کی مخالفت کی پالیسی کے مکمل ثمرات موسم گرما کے آخر میں ہی حاصل ہوئے۔ جون میں پیٹرو گراڈ کے میونسپل انتخابات میں بالشویکوں کو بیس سے اکیس فیصد ووٹ ملے مگر اگست میں جبکہ پارٹی پر جولائی کے واقعات کے نتائج کا اثر موجود تھا، اسے تینتیس فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ جون میں ماسکو میں بالشویکوں کو بارہ فیصد سے کچھ ہی زیادہ ووٹ ملے تھے۔ ستمبر میں انہوں نے اکیاون فیصد ووٹوں کے ساتھ قطعی اکثریت حاصل کر لی۔ مزدور طبقے پر ان کی زبردست گرفت اس ترقی سے واضح ہے جو فیکٹری کمیٹیوں کی کانفرنس میں ان کی نمائندگی کو حاصل ہوئی۔ ستمبر تک پیٹروگراڈ میں ان تنظیموں کی علاقائی سطح پر منشویک یا سوشل انقلابی اپنی نمائندگی کھو چکے تھے اور ان کی جگہ بالشویکوں نے لے لی تھی۔‘‘
اس موضوع پر آخری بات کہنے کیلئے ہم بالشوزم کے ایک نمایاں مخالف، روسی انقلاب کے عینی شاہد اور تاریخ دان منشویک سخانوف کو دعوت دینگے۔ ستمبر کے آخری دنوں کے حالات بیان کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے،’’بالشویک بغیر کوئی موقع دیئے نہایت ڈھٹائی سے کام کر رہے تھے۔ وہ عوام اور فیکٹریوں میں ہر روز بغیر کسی وقفے کے موجود ہوتے تھے۔ ہرروز چھوٹے بڑے سینکڑوں مقررین پیٹرزبرگ کی فیکٹریوں اور بیرکوں میں تقریریں کر رہے ہوتے تھے۔ عوام کیلئے وہ اپنے ہی لوگ بن چکے تھے کیونکہ وہ ہر وقت وہاں موجود ہوتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی تفصیلات سے لیکر فیکٹریوں اور فوجی بیرکوں کے اہم ترین معاملات میں وہ راہنمائی کرتے تھے۔ وہ واحد امید بن چکے تھے۔ عوام بالشویکوں کے ساتھ جیتے اور سانس لیتے تھے…‘‘

2 Comments

  1. Pingback: شمارہ نمبر 7: یکم تا 15 اپریل 2013ء

  2. Pingback: بالشویک انقلاب: جب سپنے سچ ہوئے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*