’محنت‘

تحریر: ساقی

وقت ہوا کی رفتار سے اڑ رہا تھا مگر نذیر اپنی ہی رفتار سے دھیرے دھیرے زندگی کا سفر طے کیے جا رہا تھا۔ اسے کسی سے شکوہ، گلہ نہیں تھا۔ وہ اپنی زندگی کے حالات سے نہ تو خوش تھا نہ ہی خفا۔ وقت بے وقت اسے دھتکارہ جاتا تھا۔ اسکی ننھی ننھی خواہشوں کو بے دردی سے کچلاجاتا تھا، حقارت سے مسلا جاتا تھا۔ مگر وہ ان تمام باتوں سے بے پرواہ اپنی ہی دھن میں مگن روز سورج کی پہلی کرن سے رات کے پوری طرح چھا جانے تک بوجھ اٹھاتا تھا۔ دن بھر بے شمار لوگوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر لیے گھومتا رہتا تھا۔ اسکا تن بدن ٹوٹ سا جاتا تھا، اسکی سانسیں رکنے لگتی تھیں۔ ہر بار جب وہ کسی بھاری چیز کو کندھا دیتا تھا تو اسے ایسا لگتا تھا کہ اس میں دوبارہ ایسا کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی۔
لیکن وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے کندھوں سے بوجھ جھٹک کر پھر سے ایک نئے بوجھ کی تلاش میں نکل پڑتا تھا۔ وہ دن بھر بوجھ اٹھاتا تھا مگر اس تمام تر محنت مشقت کے بعد بھی ایک ایسا بوجھ تھا جو وہ اٹھا نہیں پاتا تھا۔ باقی تو ہر ایک بوجھ وہ چاہتے نہ چاہتے اٹھا ہی لیتا تھا۔ جب وہ پوری طرح بے بس ہو جاتاتو پھر بھی نہ جانے کہا ں سے وہ اپنی کھوئی ہوئی تمام طاقت کو پھر سے حاصل کر لیتا تھا، پھرسے بوجھ اٹھانے لگ پڑتا تھا۔ مگر اس کی اور اس کے بچوں کی ضرورتوں کا بوجھ وہ واحد بوجھ تھا جسکے آگے وہ بے بس ہو جاتا تھا۔ وہ اپنے وجود کی تمام تر طاقت صرف کر لینے کے بعد بھی اس بوجھ کو اٹھانے سے قاصر تھا۔ نذیر کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ایک گھر جو نہ پوری طرح پکا تھا، نہ ہی ٹھیک سے کچا، دو کمروں پر مشتمل گھر، جسے انسانیت کے تمام تر تقاضوں کو رد کر کے، دل پر پتھر رکھ کے گھر کہا جا سکتا تھا۔ زندہ انسانوں کی ایک قبر تھی جسے خاک داں کے اس حصے میں بسنے والے مجبور بے کس انسان گھر کا نام دیتے تھے۔ وہ گھر موسموں کی تمام تر شدت کو باہر سے کچھ زیادہ ہی اذیت ناک بنا کر اس اذیت خانے میں بسنے والے انسانوں کے لیے پیش کرتا تھا۔ گھر میں بجلی کاکنکشن بھی موجود تھا۔ کبھی کبھار جب بجلی تشریف لے آئے تو ایک دو بلب روشن ہو جاتے تھے۔ گاؤ ں میں شاذونادر ہی کسی گھر میں میٹر لگا ملتا تھا مگر نذیر کے قبر نما گھر پر میٹر موجود تھا جس پر نظر پڑتے ہی اس گھر کی خستہ حالی مزید نمایا ں ہو جاتی تھی۔
نذیر کی بیوی مائی بھگاں بھی چوہدری فضل دین کے ڈیرے پر گوبر اٹھانے جاتی تھی۔ وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی تھی جو اپنے ننھے ہاتھوں سے گندگی صاف کرتے، حسرت بھری نگاہوں سے مالکان کی چال ڈھال دیکھتے تھے۔ پھر یک دم ہی وہ اپنے اس خیال کو کبیرہ گناہ سمجھ کر رد کر دیتے تھے۔ انھیں تو جنم سے ہی معاشرتی سلوک نے یہ بات ذہن نشین کرا دی تھی کہ ان کے حالاتِ زندگی کبھی نہیں بدلنے والے۔ انکی حیات بس یوں ہی لوگوں کا بوجھ اٹھاتے، گندگی صاف کرتے گزرے گی۔ بس یو ں ہی جیسے گزرتی آ رہی تھی۔ خوشحال زندگی کا خیال انکے کامل ایمان کو ٹھیس پہنچاتا تھا۔ جسے وہ ذہن میں آتے ہی بے دردی سے کچل دیتے تھے۔ انکا سکول، انکا کالج، یہی گلیا ں، یہی کوچے، یہی گندگی، یہی نفرت تھی جو انہیں روز دھتکار کر ایک نیا سبق سکھاتی تھی اور وہ اس سبق کو ہمیشہ کے لیے اپنے ذہن میں بٹھالیتے تھے۔
آج سورج اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ آسمان پر موجود تھا۔ زمین اور اہل زمین پر آگ برسا رہا تھا۔ زمین اپنی گود میں اذیتیں جھیلتے انسانوں کے لیے کسی مدد امداد کے حق میں نہیں تھی۔ بلکہ سورج کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی۔ سورج آگ برسا رہا تھااور زمین بھی آگ ہی اگل رہی تھی۔ دونوں میں سے کوئی بھی یہاں بسنے والے زندہ وجودوں پر رحم کرنے کو تیار نہ تھا۔ ہوا کی حرکت بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے اس کی حرکت میں اضافہ ہوتا بھی تھا تو وہ بھی سورج اور زمین کے ہی نقشِ قدم پر چلتی دکھائی دیتی تھی۔ نذیر چوک میں دھوپ سے پہلو بچا کر دیوار کے سائے میں اس امید پر بیٹھاتھا کہ کوئی آئے جو اسے کسی کا م کے لیے کہے۔ جب سے وہ یہاں آیا بیٹھا تھا تین بار اسے کام کے لیے بلوایا گیا مگر وہ ایک بھی بار کام نہیں کر پایا۔ جب کچھ اٹھانے لگتا تھا تو اپنے وجود کی تمام تر توانائی لگانے کے باوجود اس اٹھا نہیں پا رہا تھا۔ وہ بار بار کوشش کرتا تھا مگر وہ بوجھ نہیں اٹھا پاتا تھا۔ توہین آمیز الفاظ سنتا، ذلت سہتا، چپ چاپ آ کر بیٹھ جاتا تھا۔ تین بار مایوس لوٹ آنے کے باوجود بھی اسے شاید امید تھی کہ اسے جب پھر سے بلایا جائے گا تو وہ کام کرپائے گا۔ آج جب وہ گھر سے نکلنے لگا تھا تو اسے بیوی نے بتایا تھاکے رانو کو دو دن سے بخار ہے اس کے لیے دوا لیتے آنا۔ نذیر یہ بات سن کر بنا کچھ کہے گھر سے نکل آیا تھا۔ عجب رشتہ تھا ان دونوں میاں بیوی کا۔ برسوں بیت گئے تھے ان کی شادی کو مگر مجال ہے جو کسی نے انہیں ایک دوسرے سے ضرورت سے زیادہ بات کرتے دیکھا ہو۔ اس گھر کی خستہ حال دیواریں بھی اس انہونی کو شاید ہی دیکھ پائی ہوں۔ مائی بھگاں جب کوئی چیز منگواتی تھی تو وہ بات سن کر بنا کچھ کہے یوں ہی گھر سے نکل جاتا تھا۔ جب نذیر رات کو گھر آتا تھا تو وہ دوبارہ اس سے کبھی سوال نہیں کرتی تھی کہ وہ مانگی ہوئی چیز کیوں نہیں لایا۔ وہ شاید اس کے قدموں کی آواز سے ہی ساری حقیقت جان جاتی تھی۔ اس کے بوجھل قدموں کی آواز میں موجود احساسِ ندامت کو محسوس کر لیتی تھی۔ جب وہ آ کر چارپائی پر بیٹھ جاتا تھا تو کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے روٹی اور پانی رکھ دیا جاتا تھا۔ اس نے بھی کبھی کسی بات کا شکوہ گلہ نہیں کیا تھا۔ جو جیسے اس کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا وہ بس کھا جاتا تھا۔ اپنے بچوں سے اس کا بس اتنا تعلق تھا کہ وہ ان سے کبھی کبھار پانی مانگ لیتا تھا۔ نہ کبھی اس نے انہیں ڈانٹا، نہ ہی کبھی پیار کیا تھا۔ لیکن جب بچوں سے متعلق کوئی چیز اسے مائی بھگاں بتاتی تھی تو وہ ضرور لے آتا تھا۔ خود نہ جانے کب سے بیمار تھا پر اپنی جان پر خرچنے کو اسکے پاس پیسے نہیں تھے۔ اسے تو بس اپنے ساتھ جڑی جانوں کا خیال تھا۔ جب کبھی اسکا کوئی بچہ بیمار ہو جائے تو وہ ہر حال میں اس کے لیے دوا لایا کرتا تھا۔ تب وہ نہ دھوپ کی پرواہ کرتا تھا نہ ہی چھاؤں کی، نہ صبح کی نہ شام کی۔ اسے جو بھی کرنا پڑتا تھا وہ کرتا تھا۔ لیکن آج تو اس میں اتنی بھی طاقت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کے یہاں تک آ سکے۔ مگر اسے تو یہاں آکر کام بھی کرنا تھا اور بھلے کچھ نہ ہو بیٹی کی دوائی کے پیسے تو اسے پورے کرنے تھے۔ وہ اب جان چکا تھا کہ اس میں اب محنت کی سکت باقی نہیں رہی، لیکن اس کے پاس اور بیچنے کو تھا ہی کیا؟ جسے بیچ کے وہ بیٹی کا علاج کرواتا، اس کی دوا لیتا۔ اس کے جسم نے بھی آج اسکا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سماج تو اس کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی خود غرض ہو چکا تھا۔ وہ ان پڑھ ضرور تھا لیکن ایک بات اسے لوٹ کی منڈی نے پڑھا رکھی تھی کہ بنا کچھ بیچے پیسہ نہیں ملتا اور پیسے کے بنا تو یہاں کچھ بھی نہیں ملتا۔ وہ روز اپنی محنت بیچتا تھا تو چار پیسے خریدتا تھا اور ان چار پیسوں سے اپنے اہل و عیال کے لیے سامانِ حیات۔ آج اسے اسی قوت کی، اسی تونائی کی جو اس کی اکلوتی دولت تھی، پہلے سے کچھ زیادہ ضرورت تھی۔ لیکن آج یہ ناپید تھی۔ اسے تو قلتِ زر اس وقت اس کائنات کا سب سے بڑا گناہ، سب سے بڑا جرم محسوس ہو رہا تھی۔ جس نے ایک باپ کو اپنی بیٹی سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔
سورج اہلِ زمیں کو اندھیروں کی نظر کر کے غروب ہو چکا تھا۔ گرمی کی شدت میں قدرے کمی آئی تھی۔ یہ تاریکی دن کے اجالے سے کہیں بہتر تھی۔ نذیر بوجھل قدموں سے گھر کی طرف رواں تھا۔ وہ چند قدم چلتا تھا پھر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر سے کوئی سہارا لے کر اٹھتا تھا۔ پر پھر چند ہی قدم چل کر پھر سے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔
بخار میں جھلستی رانو، پسینے سے تر جسم، خوف سے بھری آنکھوں اور ویران چہرے سے اِس سماج کی تہذیب کا ماتم کر رہی تھی۔ ماں اس کی ساتھ والی چارپائی پر لیٹی نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔ باقی سب بچے اپنی اپنی جگہ لیٹے سو گئے تھے۔ ماں شاید اس خوف سے اپنی بیٹی سے طبیعت کا بھی نہیں پوچھ رہی تھی کہ اگر اسنے کہہ دیا کہ اماں میں بہت تکلیف میں ہوں تو اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ اور نہ ہی یہ سب سننے کی اس میں ہمت تھی۔ سو وہ خاموش لیٹی اس کے باپ کی منتظر تھی۔ جو آج نہ جانے کیوں اتنی دیر تک نہیں آیا تھا۔ رات ڈھلتی جا رہی تھی۔ گرمی کی شدت میں کچھ کمی ہو رہی تھی مگر رانو کے بخار کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔ سانس اس کے نتھنے جلا رہی تھی۔ اس کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ اس کے وجود کی تڑپ کا ماتم بھی اس کی سانسیں ہی کر رہی تھیں۔ گزری رات اس کا بدن تھرتھرارہاتھا مگر آج تو اس کے وجود میں تھر تھرانے کی ہمت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ جو بچا تھا بس وہ سانسیں تھیں۔ جیون کی آخری نشانی، زندگی کا آخری گیت، آخری آواز بس جو بھی تھی وہ یہی تھی۔ باپ زندگی خریدنے گیاتھا، خرید پایا تو کچھ اور سہی ورنہ موت کے لیے تو کہتے ہیں کہ برحق ہے۔ پر زندگی پہ کہاں سب کا حق ہے۔ وہ بھی تو اس سماج میں کچھ ہی کو نصیب ہوا کرتی ہے…
گدھااپنے ساتھ بندھے چھکڑے کو لیے سکون سے چلے جا رہا تھا۔ روز اسے منوں بوجھ لیے پھرنا پڑتا تھا۔ آج تو ابتدا ہی ہلکا سا بوجھ اٹھانے سے ہوئی تھی اس لیے وہ بے پروائی سے اپنی مستی میں چلے جا رہا تھا۔ اسکا مالک بھی آج بوجھ سے کچھ لاپرواہ سا تھا۔ جو روز جب کوئی خاص سامان لے جاتا تھا تو بار بار سامان کو دیکھتا تھا۔ گدھے کو ہانکتاتھا مگر آج وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا تھا۔ کیونکہ آج کوئی خاص چیز نہیں تھی بس ایک بے جان جسم تھا جو رات سڑک پر خون تھوکتے تھوکتے زندگی کی اذیتوں سے آزاد ہو گیا تھا۔ لوگوں نے اس گدھا گاڑی والے سے کہا تھا کہ یہ ایک لاش ہے اسے اس کے گھر تک لے جاؤ۔ اس نے بھی اسے ایک لاش جان کے گدھاگاڑی پر ڈال دیا تھا۔ پر وہ کیا جانے کہ یہ ان معصوموں کی بھی لاش ہے جن کے لئے یہ دن بھر محنت کر کے زندگی خریدا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار پڑ جاتے تو یہ ان کے لئے صحت خریدتا تھا۔ ان پر دھوپ آئے تو یہ ان کے لیے سایہ خریدنے نکل پڑتا تھا۔ اس منڈی میں جہاں سب بکتاہے وہ اس میں سے جوجو خرید پاتاتھا ان کے لیے خریدتا تھا۔ وہ اپنے وجود کی توانائی بیچنے کو ہر دم تیار رہتاتھا۔ اسی دھن میں وہ محنت بیچتے بیچتے آج زندگی ہی بیچ آیا تھا…

Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*