سماجی ارتقا کی انقلابی جست

| تحریر : اویس قرنی |

سماجی ارتقا کبھی بھی سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتا۔ مختلف تاریخی ادوار میں سماجی تعلقات کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ نہ صرف سماجی ومعاشرتی بلکہ خود انسان اور فطرت کا ارتقا مختلف تضادات سے لبریز رہا ہے۔ ایک طرف سماجوں میں ترقی ہوئی تو دوسری طرف اس ترقی کے متضاد اثرات مرتب ہوئے اور مختلف خطوں میں مختلف نوعیت سے اس ترقی کی رفتار اور جہتیں مختلف رہی ہیں۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے تاریخ کو جس طرح سائنسی انداز میں پرکھا اور مرتب کیا اس میں ایسی بے ہنگم ترقی کا جائزہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہی نظریات کو بعد ازاں انقلابِ روس کے قائد لیون ٹراٹسکی نے پروان چڑھایا اور ’ناہموار اور مشترک ارتقا‘ (Uneven & Combined Development) اور ’انقلابِ مسلسل‘ کے نظریات پیش کئے۔ کسی بھی سماج کو یکسر بدلنے کے لیے اس سماج کی بنیادی حرکیات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ اس لیے آج ایک انقلابی کے لیے ناہموار اور مشترک ا رتقا کو سمجھنا اور اس پر عبور حاصل کرنا لازم ہے۔
یہ نا ہموار اور مشترک ارتقا ہمیں انسانی سماجوں اور فطرت میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اگر ہم فطرت کا جائزہ لیں تو بہت سارے جانداروں میں انتہائی بنیادی حسیات کی تکمیل لمبے عرصے پر محیط نظر آتی ہے اور انتہائی پیچیدہ حسیات بہت اوائل میں مکمل ہو جاتی ہیں۔ فطرت کے اس بظاہر بے ہنگم پن میں بھی ربط موجود ہوتا ہے جس کو جدلیاتی مادیت کے قوانین سے ہٹ کر سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے سماجوں کا ارتقا بھی مختلف تضادات کا شکار ہوتا ہے اور انہی تضادات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ آج کی دیو ہیکل معاشی، عسکری اور تکنیکی طاقت امریکہ کے قبل از جدید سرمایہ دارانہ ماضی میں جاگیر داری اور یہاں تک کہ غلام داری کا بھی کوئی کلاسیکی اور مربوط نظام قائم نہیں رہا۔ اسی طرح برصغیر جیسے خطے، جہاں پر ایشیائی طرز پیداوار رہا ہے، وہ بھی غلام داری اور جاگیر داری کے کلاسیکی مرحلے سے نہیں گزرے۔ بلکہ یہاں پر جاگیرداری سامراج نے درآمد کر کے مسط کی۔ یہ تاریخی مراحل جو کہ یورپ میں روایتی انداز میں یک بعد دیگرے وقوع پذیر ہوئے تھے، یورپی طاقتوں کی نوآبادیات میں سرمایہ داری کے ساتھ اپنی بھونڈی شکل میں نمودار ہوئے۔ پاکستان جیسے سماجوں میں آج بھی جاگیرداری کی واضح باقیات موجود ہیں اور سرمایہ داری ایک حاوی نظام ہونے کے باجود اپنے تاریخی فرائض ادا کرنے سے قاصر رہا ہے۔ یعنی قدیم اور جدید نظاموں اور قدامت اور جدت کا عجیب سا ملغوبہ یہاں ملتا ہے۔ یہی ’’ناہموار‘‘ مگر ’’مشترک‘‘ ارتقا ہے۔
اسی طرح سے یہ ناہموار و مشترک ارتقا انسانوں کے شعور کے اندر بھی اپنا اظہار کرتا ہے۔ انتہائی قدامت میں جدت کے عناصر مل سکتے ہیں اور انتہائی جدت میں قدامت نظر آتی ہے۔ کہیں جدت پر قدامت حاوی ہو جاتی ہے تو کہیں قدامت کو جدت پچھاڑ دیتی ہے۔ قدامت اور جدت کی یہ لڑائی مسلسل جاری رہتی ہے۔ ایک طرف بلوچستان ایک پسماندہ اور شدید استحصال زدہ خطہ ہے۔ لیکن وہاں کے قلیل اور سہولیات کے لحاظ سے انتہائی پسماندہ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کا جو سیاسی شعور ملتا ہے اس کا موازنہ نسبتاً ترقی یافتہ پنجاب کے کسی بڑے بورژوا تعلیمی ادارے سے بھی نہیں کیا جا سکتا، جہاں آج کل ’’جنات‘‘ پر سیمینار منعقد ہو رہے ہیں جن میں سینکڑوں طلبہ شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح انتہائی پسماندہ خطوں میں اٹھنے والی آزادی اور حریت کی تحریکیں بہت جلد مارکسزم کے انتہائی جدید نظریات کی طرف مائل ہو جاتی ہیں، جب کہ مادی طور پر نسبتاً ترقی یافتہ خطوں میں عام حالات میں یہ نظریات پذیرائی نہیں پا سکتے۔ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ کی حاوی سیاست میں مذہب انتہائی کلیدی کردار کا حامل ہے اور امریکی صدر کی حلف برداری ہر طرح کے مذہبی پیشواؤں سے لبریز ہوتی ہے۔ دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھا جانے والا امریکہ صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کرحلف اٹھاتا ہے۔ اسی طرح امریکی سماج میں نسل پرستی کے انتہائی رجعتی رجحانات وقتاً فوقتاً اپنا اظہار کرتے ہیں۔ بورژوا انقلابات کا آغاز جس برطانیہ سے ہوا تھا وہاں آج تک پارلیمانی بادشاہت قائم ہے۔ اس کے برعکس انتہائی پسماندہ سماجوں میں بھی ترقی پسند رجحانات کا غلبہ مل سکتا ہے۔ مثلاً شام اور عراق جیسے مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ اور تباہ حال علاقوں کی کرد آبادی میں مثالی صنفی برابری نظر آتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی آج اس قابل ہے کہ انسانیت کو جسمانی مشقت سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ روبوٹکس اور کمپیوٹروں کی بدولت سالوں اور دہائیوں کا کام دنوں تک محدود ہو گیا ہے۔ لیکن اسی ٹیکنالوجی کے اثرات سرمایہ داری میں متضاد نوعیت کے ہوتے ہیں، جہاں اس کی وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے وہاں مزدور کی محنت کا استحصال کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ موبائل فون نے جہاں طویل فاصلے مٹا دئیے ہیں وہیں ساتھ ساتھ موجود انسانوں کو کوسوں دور کر دیا ہے۔ ایک طرف نیویارک اور نوابشاہ کا فاصلہ بٹن دبانے تک محدود ہو گیا ہے تو دوسری طرف ایک ہی بینچ پہ بیٹھے دولوگوں کے درمیان ایک نہ نظر آنے والی بلند دیوار حائل ہو گئی ہے۔
ارتقائی مرحلے میں تاخیر سے داخل ہونے والے خطوں کے لیے اب لازم نہیں رہا کہ وہ بھی انہی مراحل کی تکمیل اتنی ہی مدت میں کریں جیسے کہ جدید خطوں نے کی ہے۔ انتہائی ترقی یافتہ سماج کے انتہائی جدید عناصر کو ایک پسماندہ سماج اپنے اندر جذب کر سکتا ہے اور کئی تاریخی مراحل میں داخل ہوئے بغیر ان پر سے چھلانگ کر اگلے مرحلے تک جا سکتا ہے۔ جن مشکلات، تضادات اور تبدیلیوں سے یورپ کے سماج گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں، لازمی نہیں کہ پسماندہ ممالک بھی ان مراحل میں اسی رفتار سے داخل ہوں اور اس کو پار کریں۔ ایسا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی اب ممکن ہے۔ افریقہ کے کسی دوردراز علاقے کے باشندوں کو تیر کمان سے کلاشنکوف تک کا سفر طے کرنے کے لیے ان کے درمیان کی تاریخی منازل طے نہیں کرنا پڑتیں۔ کسی پچھڑے ہوئے سماج کو طباعت کے لئے قلم سے کمپیوٹر تک آنے میں درمیان کے ٹائپ رائٹر کے مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی پسماندہ خطے میں اب ٹرین بچھانے کے لیے انجن کی دوبارہ ایجاد نہیں ہو سکتی، نہ ہی موبائل فون سے پہلے لینڈ لائن کے مرحلے سے لازماً گزرنا پڑے گا۔ افغانستان میں لینڈ لائن فون نہیں آیا لیکن جدید ترین سیٹلائٹ فون وہاں مل سکتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں انتہائی جدت اور انتہائی پسماندگی ساتھ ساتھ نظر آتی ہے۔ موٹروے، سی پیک، اورنج ٹرین اور کئی شہنشاہی منصوبوں کا شور اس ملک میں مچایا جا رہا ہے جہاں کی 80 فیصدآبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پیروں میں جوتی نہیں لیکن سرمایہ داری نے ہاتھ میں موبائل فون پکڑا دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ جیسی جدید موٹر وے سے چند سو فٹ کی دوری پر ہزاروں سال پرانے سماجوں کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں زندگی کا انحصار آج بھی گدھا گاڑی، قدیم طرز کے جھونپڑوں اور فصلوں کے لئے بارش کے پانی پر ہے۔ شہروں میں گاڑیوں کی تعداد کے مقابلے میں سڑکیں محدود اورخستہ حال ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا کی بھرمار ہے تو دوسری طرف 82 فیصد آ بادی کا بنیادی انٹر نیٹ سے ہی واسطہ نہیں پڑا۔ پاکستان سمیت تمام تر تیسری دنیا انہی تضادات سے دو چار ہے۔ مذہب کی ریاستی سے علیحدگی سرمایہ داری کے بنیادی تاریخی فرائض میں سے ایک تھی۔ لیکن یہاں مذہب کی بنیاد پر ہی ایک سرمایہ دارانہ ریاست قائم کی گئی۔ زرعی اور صنعتی انقلاب کے کسی ایک فریضے کی بھی تکمیل نہ کی جاسکی اور نہ ہی سرمایہ داری کے تحت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح قومی سوال حل نہیں ہو پایا۔
کارل مارکس اور اس کے بعد لینن اور دیگر مارکسی اساتذہ نے سرمایہ داری کے سامراجی کردار کے حوالے سے واضح کیا تھا کہ سرمایہ اپنی بڑھوتری کے لیے قومی سرحدوں کو پاش پاش کرتے ہوئے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور سرمائے کے اسی بین الاقوامی اور سامراجی کردار کی وجہ سے پسماندہ ترین سماجوں میں جدید ترین مظاہر متعارف ہوتے ہیں اوردرمیان کے مرحلے محو ہو جاتے ہیں۔ اس ناہموار مگر مشترک ارتقا کی وجہ سے معاشرے میں تضادات ابھرتے ہیں۔ آج کے عہد میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی معیشتوں کا انحصار نسبتاً پسماندہ یا انتہائی پسماندہ ممالک کی محنت کی منڈی اور وسائل پر ہے۔ امریکہ کی بیشتر بین الاقوامی کارپوریشنوں کی پیداوار چین میں ہوتی ہے اور خاص طور پر سافٹ ویئر انڈسٹری کا رحجان ہندوستان کی طرف ہے۔ اس پیداوار کے لیے خام مال زیادہ تر افریقہ جیسے انتہائی پسماندہ خطوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے صنعتی پرولتاریہ کا کردار بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جہاں تعداد میں زرعی مزدوروں اور کسانوں کی نسبت یہ صنعتی پرولتاریہ محدود ہے، وہاں بھی انقلاب کا کردار سوشلسٹ ہو گا نہ کہ بورژوا جمہوری۔ یہی آج سے تقریباً سو سال پہلے انقلابِ روس کا بنیادی متناقضہ (Paradox) تھا جس کی نشاندہی لیون ٹراٹسکی نے کی تھی اور لینن نے اپنے ’اپریل تھیسس‘ میں جس کی توثیق کی تھی۔ روس میں تعداد میں کم ہونے کے باوجود جدید پرولتاریہ کی بدولت، بورژوا جمہوری مرحلے سے انقلاب آگے بڑھ گیا تھا اور سوشلسٹ کردار اختیار کر گیا تھا۔ پاکستان میں بھی ایسی ہی صورتحال 1968-69ء میں پیدا ہوئی تھی جہاں بظاہر ایک آمریت کے خلاف اٹھنے والی تحریک سوشلسٹ مطالبات کی طرف بڑھ گئی تھی۔ لیکن یہاں ایک بالشویک پارٹی کی کمی تھی۔
آج کے عہد میں بھی، سرمایہ داری میں جاگیرداری کی باقیات کی آمیزش کی کیفیت میں، ایک انقلابی تحریک میں کسانوں کی قیادت صنعتی پرولتاریہ کرکے نہ صرف زمین کے سوال اور قومی مسئلے کا حل پیش کرے گا بلکہ ذرائع پیداوار کو اشتراکی ملکیت میں لیتے ہوئے سوشلسٹ فرائض بھی ادا کرے گا۔ یوں پاکستان جیسے ممالک میں پرولتاریہ بحیثیت مجموعی ایک پسماندہ سماج میں جدید ترین فرائض کے حامل انقلاب کا امین اور علمبردار ہے۔ یہی ’ناہموار اور مشترک ارتقا‘ کے انقلابی مضمرات ہیں جس میں سے ’انقلابِ مسلسل‘ کا نظریہ برآمد ہوتا ہے، جسے لیون ٹراٹسکی نے مرتب کیا، خاص طور پر 1905ء کے انقلاب کی ناکامی کے بعد۔ اکتوبر 1917ء کے بالشویک انقلاب نے اسی نظرئیے کو عملی جامہ پہنایا تھا۔ لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق کتاب ’’انقلابِ روس کی تاریخ‘‘ کی پہلی پوری جلد بار بار ان نظریات کی وضاحت بہت تفصیل سے کرتی ہے۔
آخر میں ہم 1931ء میں شائع ہونے والی لیون ٹراٹسکی کی کتاب ’’انقلابِ مسلسل‘‘ میں سے ایک اقتباس قارئین کی نذر کرتے ہوئے بات کو سمیٹتے ہیں:
’’میں امید کرتا ہوں کہ قاری کو اعتراض نہیں ہو گا اگر کچھ باتوں کو دہرا کر میں بنیادی نتائج اخذ کرتے ہوئے اس کتاب کا اختتام کروں۔
1۔ نظریہ انقلاب مسلسل اب ہر مارکسسٹ کی انتہائی توجہ کا متقاضی ہو چکا ہے۔ طبقے اور نظریاتی جدوجہد کی جہت نے اسے عالمی انقلاب کی حکمت عملی کا سوال بنا دیا ہے۔
2۔ ایسے ممالک جو سرمایہ دارانہ طرز ارتقا میں پیچھے رہ گئے ہیں، بالخصوص نوآبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی ممالک، وہاں جمہوریت اور قومی نجات کے فرائض صرف پرولتاریہ کی آمریت (Dictatorship of the Proletariat) کے ذریعے ہی ادا کئے جاسکتے ہیں۔ ایسے میں پرولتاریہ محکوم قو م اور سب سے بڑھ کر کسان عوام کے قائد کا کردار ادا کرے گا۔
3۔ پسماندہ ممالک میں آبادی کا بڑا حصہ کسانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں زرعی سوال اور قومی سوال کے پیش نظر جمہوری انقلاب میں کسانوں (Peasantry) کا اہم کردار ہے۔ پرولتاریہ کے ساتھ کسانوں کے اتحاد کے بغیر جمہوری انقلاب کے فرائض ادا نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان دو طبقات کا اتحاد قومی لبرل بورژوازی کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
4۔ پرولتاریہ اور کسانوں کا انقلابی اتحاد کمیونسٹ پارٹی میں منظم پرولتاریہ کی ہراول پرتوں کی سیاسی قیادت میں ہی قائم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جمہوری انقلاب کی کامیابی پرولتاریہ کی آمریت [یعنی سوشلزم] کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں پرولتاریہ کسانوں کے ساتھ اتحاد بنائے اور سب سے پہلے جمہوری انقلاب کے فرائض ادا کرے۔
5۔ تاریخی طور پر پرکھا جائے تو بالشویزم کا پرانا نعرہ ’’پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘‘ اوپر بیان کئے گئے پرولتاریہ اور کسانوں کے تعلق کو ہی بیان کرتا ہے۔ یہ اکتوبر انقلاب سے ثابت ہو چکا ہے۔ لیکن لینن کے اس فارمولے نے انقلابی اتحاد میں موجود پرولتاریہ اور کسانوں کے باہمی تعلق کا سوال پیشگی حل نہیں کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ کسانوں کا کردار کتنا ہی انقلابی کیوں نہ ہو وہ[پرولتاریہ سے] آزادانہ نہیں ہو سکتا اور قائدانہ تو بالکل نہیں ہو سکتا۔ کسان یا تو پرولتاریہ یا پھر بورژوازی کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘‘ تبھی ممکن ہے جب یہ پرولتاریہ کی آمریت ہو جو کسان عوام کی قیادت کرے۔
6۔ [اوپر بیان کی گئی] پرولتاریہ کی آمریت کی طبقاتی ساخت کے علاوہ پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت شاید صرف اسی صورت میں قائم کی جا سکتی ہے جب ایک ’آزادانہ‘ انقلابی پارٹی قائم کی جائے جو کسانوں کے مفادات اور عمومی طور پر پیٹی بورژوا جمہوریت کی نمائندگی کرے اور یہ پارٹی پرولتاریہ کی کسی نہ کسی حد تک حمایت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے اور اپنا انقلابی پروگرام متعین کرنے کے قابل ہو۔ جیسا کہ تمام جدید تاریخ اور بالخصوص روس کے گزشتہ پچیس سال کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ کسانوں کی [اپنی] پارٹی کے قیام کے راستے میں ناقابل عبور رکاوٹ پیٹی بورژوازی کے آزادانہ معاشی اور سیاسی کردار کا نہ ہونا اور اس کی گہری داخلی تقسیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ اور انقلاب جیسے فیصلہ کن لمحات میں کسانوں کے بالائی حصے بڑی بورژوازی کے ساتھ چلے جاتے ہیں؛ نچلے حصے پرولتاریہ کے ساتھ جاتے ہیں؛ درمیانے حصے کو ان دو انتہاؤں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کوئی درمیانہ مرحلہ ہے نہ ہو سکتا ہے۔
7۔ [سٹالنسٹ زوال پزیری کے بعد] تیسری انٹرنیشنل مشرقی ممالک پر پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت کا نعرہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی گنجائش تاریخ میں بہت پہلے ختم ہو چکی ہے اور صرف رد انقلابی نتائج ہی برآمد ہو سکتے ہیں۔ جب یہ نعرہ پرولتاریہ کی آمریت کے نعرے کے مقابلے میں لگایا جاتا ہے تو اس سے سیاسی طور پر پرولتاریہ کو پیٹی بورژوا عوام میں تحلیل کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس طرح قومی بورژوازی کے غلبے کے لئے موافق حالات میسر آتے ہیں۔ اس نعرے کو تیسری انٹرنیشنل کے پروگرام میں شامل کیا جانا مارکسزم اور بالشویزم کی انقلابی روایات سے کھلی غداری ہے۔
8۔ جمہوری انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار میں آنے والے پرولتاریہ کی آمریت کا سامنا فوراً ایسے فرائض سے ہوتا ہے جن کی ادائیگی سرمایہ دارانہ ملکیت کے رشتوں کو ختم کئے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ جمہوری انقلاب آگے بڑھ کر براہ راست سوشلسٹ انقلاب میں بدل جاتا ہے اور اس طرح انقلابِ مسلسل بن جاتا ہے۔
9۔ اقتدار پر پرولتاریہ کے قبضے سے انقلاب مکمل نہیں ہوتا بلکہ صرف شروع ہوتا ہے۔ سوشلسٹ تعمیر صرف طبقاتی جدوجہد کی بنیاد پر قومی اور عالمی سطح پر کی جاسکتی ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ رشتوں کے شدید تسلط کی کیفیات میں یہ جدوجہد ناگزیر طور پر دھماکوں یعنی داخلی طور پر خانہ جنگیوں اور خارجی طور پر انقلابی جنگوں کو جنم دیتی ہے۔ اسی میں سوشلسٹ انقلاب کا مسلسل کردار پوشیدہ ہے، چاہے یہ کوئی پسماندہ ملک ہو جس نے ابھی کل ہی اپنا جمہوری انقلاب پورا کیا ہو یا پھر کوئی پرانا سرمایہ دارانہ ملک ہو جس کے پیچھے جمہوریت اور پارلیمانیت کی طویل تاریخ ہو۔
10۔ قومی حدود میں سوشلسٹ انقلاب کی تکمیل کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ بورژوا سماج کے بحران کی ایک بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ اس کی اپنی تخلیق کردہ پیداواری قوتیں اب قومی ریاست کی حدود سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب قومی میدان میں شروع ہوتا ہے، بین الاقوامی میدان میں کھلتا چلا جاتا ہے اور عالمی میدان میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس طرح سوشلسٹ انقلاب ایک مسلسل انقلاب بن جاتا ہے۔ یہ پورے کرہ ارض پر ایک نئے سماج کی حتمی کامیابی کے ساتھ ہی مکمل ہوتا ہے۔
11۔ اوپر بیان کیا گیا عالمی انقلاب کی بڑھوتری کا خاکہ سوشلزم کے لئے ’’بالغ‘‘ یا ’’نابالغ‘‘ ممالک کا سوال ہی ختم کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری نے عالمی منڈی، عالمی تقسیم محنت اور عالمی پیداواری قوتیں تخلیق کر کے عالمی معیشت کو مجموعی طور پر سوشلسٹ تبدیلی کے لئے تیار کر دیا ہے۔
مختلف ممالک اس عمل میں سے مختلف رفتار سے گزریں گے۔ کچھ مخصوص حالات میں پسماندہ ممالک، ترقی یافتہ ممالک سے پہلے پرولتاریہ کی آمریت تک پہنچ سکتے ہیں لیکن وہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت دیر سے سوشلزم تک پہنچیں گے۔
ایک پسماندہ ملک جس کا پرولتاریہ کسانوں کو ساتھ ملا کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہے وہاں جمہوری انقلاب اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے برعکس ایک ایسا ملک جہاں اقتدار پرولتاریہ کے ہاتھ میں ہے وہاں پرولتاریہ کی آمریت اور سوشلزم کی تقدیر کا انحصار نہ صرف قومی پیداواری قوتوں پر ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اس کا فیصلہ بین الاقوامی سوشلسٹ انقلاب کی بڑھوتری کرے گی۔
12۔ ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ، جو اکتوبر انقلاب کے خلاف رد انقلاب کے خمیر میں سے برآمد ہوا ہے، وہ واحد نظریہ ہے جو متواتر اور آخری حد تک نظریہ انقلابِ مسلسل کی مخالفت کرتا ہے۔
ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کو مخصوص خصوصیات (وسیع رقبہ اور قدرتی وسائل) کے پیش نظر صرف روس سے منسوب کردینے سے بھی معاملہ بہتر نہیں ہوتا بلکہ زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تقسیم محنت، سوویت صنعت کا بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار، یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری قوتوں کا ایشیائی خام مال پر انحصار وغیرہ وغیرہ، یہ سب عوامل کسی بھی ایک ملک میں آزادانہ سوشلسٹ سماج کی تعمیر کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔
13۔ انقلابِ روس کے تمام تر تجربے سے متضاد سٹالن اور بخارن کا نظریہ نہ صرف جمہوری انقلاب کو میکانکی طور پر سوشلسٹ انقلاب سے متضاد دیکھتا ہے بلکہ قومی انقلاب اور بین الاقوامی انقلاب کو بھی الگ الگ کر دیتا ہے۔ یہ نظریہ اقتدارپر پرولتاریہ کے قبضے کو ہی انقلاب کی تکمیل سمجھتا ہے۔
14۔ بخارن کی جانب سے ترتیب دئیے گئے تیسری انٹرنیشنل کے پروگرام میں ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کی مارکسی انٹرنیشنل ازم کے ساتھ مصالحت کروانے کی مایوس کن کوشش کی گئی ہے، جبکہ مارکسی انٹرنیشنل ازم کو عالمی انقلاب کے مسلسل کردار سے الگ نہیں کیاجا سکتا۔‘‘

One Comment

  1. بہت عمدہ تحریر ہے۔ مارکسی نظریات کو اتنی عام فہم زبان میں سمجھایا گیا ہے کہ مارکسزم سے نابلد قاری بھی اگر کھلے ذہن سے پڑھے تو با آسانی permanent revolution اور uneven and combined development کو سمجھ سکتا ہے۔
    مضمون پر آپ کی گرفت قابلِ رشک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*