ٹرمپ سفارت کی منافقت

تحریر: لال خان

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے بیرونی ممالک کے دورے کا آغاز سعودی عرب سے کیا جس کے بعد اس نے یروشلم اور ویٹی کن سمیت تینوں توحیدی مذاہب کے مقدس مقامات پر حاضری دی۔ ان دوروں میں واضح طور پر مذہبی منافرت کی پالیسی کے احیا کا عنصر شامل تھا اگرچہ یہ سب کچھ مذہبی ہم آہنگی اور امن کے نام پر ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر مذہب کو سیاست میں داخل کیا جاتا ہے جو درحقیقت اُن مذہبی جذبات اور شناختوں کو ابھارتی ہے جو دہائیوں سے سماجوں کی معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں موجود ہی نہیں تھیں۔ یہ بھی ایک تاریخی ستم ظریفی ہے کہ 1916ء میں محمد علی جناح نے بمبئی میں کانگریس کی ایک میٹنگ میں گاندھی کو خبردار کیا تھا کہ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متحد کرنے کی جعل سازی کے نام پر سیاست میں مذہب کو داخل کرنے کے تباہ کن نتائج نکلیں گے جس سے صرف تعصبات میں اضافہ ہی ہوگا۔

سعودی عرب کے بعد ٹرمپ نے ویٹی کن اور اسرائیل کا دورہ بھی کیا۔

نہر سوئز کی 1956ء کی جنگ میں جب انقلابی تحریکیں عرب ممالک سے شروع ہوکر پوری دنیا میں پھیل رہی تھیں تو اِنہی سامراجیوں نے مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے جدید اسلامی بنیادپرستی کی بنیاد ڈالی تھی۔ اس وقت سے ہر امریکی انتظامیہ نے اسی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ نام نہاد سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سی آئی اے کے آزمودہ نظریہ ساز ’سیمیول ہنٹنگٹن ‘نے اسے اپنے بدنام زمانہ نظریے ’تہذیبوں کے تصادم‘ کے ذریعے نئی شکل دی۔ ماضی میں سامراجیوں نے اسلامی شدت پسندوں اور جہادیوں کو بائیں بازو کی حکومتوں اور تحریکوں کے خلاف استعمال کیا، اب ہنٹنگٹن نے اپنے اس نظریے کی بنیاد پر مذہبی سیاست کے ذریعے محنت کش طبقے کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور ان کی تحریکوں میں مذہب کی بنیاد پر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی۔ اپنی تمام تر بڑھک بازی کے باوجود ٹرمپ کے پاس کوئی نئی خارجہ یا داخلہ پالیسی نہیں ہے۔ آج کے عہد کے سامراجی آقا قدیم روم کے بادشاہوں کے قدیم نسخے ’تقسیم کرو اور حکمرانی کرو‘ کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس بار وہ مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر یہ تقسیم کر رہے ہیں۔
ریاض میں ٹرمپ کے اعزاز میں منعقد ہونے والی عرب مسلمان سربراہ کانفرنس جس میں پچپن ’مسلم‘ ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی ،ایک نمائشی ڈرامہ تھا۔ گلی کوچے کا ایک عام آدمی اس پرتعیش اور جعلی اجلاس کے ڈھونگ کو سمجھ رہا تھا اور بڑے بڑے دانشوروں سے بہت بہتر سمجھ رہا تھا۔ لیکن اسلامی اتحاد کی بجائے اس نے شیعوں، وہابیوں، دیوبندیوں، بریلویوں، سلفیوں اور متعدد دوسرے فرقوں کے درمیان نفرتوں اور تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ کی ایران، شام کے بشارالاسد، حزب اللہ اور دوسرے گروہوں پر تنقید ان خطوں میں مزید بربادی لائے گی۔ اجلاس میں شریک زیادہ تر سربراہان مملکت جابر بادشاہتوں اور پیسے کی جمہوریتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ سب بحران کی زد میں ہیں اور اپنی ڈوبتی حکمرانی اور معیشت کو بچانے کے لیے امریکہ سے مدد کے طلبگار ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جس سامراج سے وہ مدد کی درخواست کر رہے ہیں وہ خود معاشی اور تاریخی زوال کی زد میں ہے۔ خطے کی دو سب سے طاقتور ریاستوں ، ایران اور سعودی عرب، جن کی بنیاد اپنی اپنی مذہبی رجعت پر ہے، نے اس جنگ کو ایک دوسرے کے ملکوں میں لے جانے کی دھمکی دی ہے۔ سعودیوں نے ٹرمپ کے دورے کو خوب اچھالا تاکہ اپنی بادشاہت کو بچانے لیے اپنے سامراجی آقا کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ عرب حکمرانوں (جیساکہ مصر کے فتح السیسی اور اردن کے شاہ حسن، جن کو اجلاس میں خطاب کرنے کا ’اعزاز‘ ملا) نے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے سب سے بڑے منبع کے طور پر اسرائیل کا ذکر ہی نہیں کیا، کجا کہ اس پر تنقید کرتے۔ پچھلی دہائیوں میں اسرائیلی صہیونی ریاست اور خطے کی رجعتی بادشاہتوں کے درمیان درپردہ بے تحاشا انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری تعاون ہوتے رہے ہیں۔
ٹرمپ جتنا بھی بے لگام اور خودرو کیوں نہ ہو، وہ اپنے زیادہ تر انتخابی وعدوں سے پھر چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کی اُس اسٹیبلشمنٹ نے اسے آخر کار نکیل ڈال ہی دی ہے جسے اس نے اکھاڑ پھینکنے کا وعدہ کیا تھا۔ امریکی بورژوا ریاست غالب ہوچکی ہے اور کارپوریٹ سرمائے نے ٹرمپ کو قابو کر لیا ہے۔ بہرحال وہ خود اُنہی کی صفوں سے تعلق رکھتا ہے۔ واشنگٹن کی سامراجی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے اس نے سعودیوں اور دوسری خلیجی ریاستوں سے موٹی رقم نکلوا ئی ، یروشلم میں پہنچ کر دل کھول کر امداد دی اور برسلز میں پہنچ کر نیٹو کی جنگوں میں امریکی اخراجات میں کٹوتیاں کیں۔
مشترکہ ’’اسٹریٹجک وژن‘‘، جس میں 110 اَرب ڈالر کے امریکی اسلحے کی فروخت بھی شامل ہے، پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا، ’’آج ایک زبردست دن تھا، امریکہ میں شاندار سرمایہ کاری ہوئی … اب روزگار، روزگاراور روزگار ہی ہے۔‘‘ تمام سعودی معاہدوں بشمول سائبر ڈیفنس اور دوسری سرمایہ کاریوں کی مالیت تقریباً 350 اَرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرکے سعودیوں سے اتنی رقم نکلوائی کہ آج تک ایک دورے میں کوئی امریکی صدر نہیں نکلوا سکا۔ لیکن اس سے زمینی حقائق اور خطے میں طاقتوں کے توازن پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ سعودی حکمران امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے بے دریغ پیسے اڑا رہے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ان کی تیل کی آمدنی گر رہی ہے اور انہیں مجبوراً سماجی اخراجات میں کٹوتیاں کرنی پڑ رہی ہیں جس سے سماجی خلفشار بڑھے گا جو بادشاہت کے وجود کو خطرے میں ڈالے گا۔ فنانشل ٹائمز نے لکھا، ’’سعودیوں اور ان کے خلیجی اتحادیوں کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے، امریکہ سے نیا اسلحہ خریدنے کے باوجود، سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی نعرے بازی کو ایک باقاعدہ ایران مخالف پالیسی کی شکل دے کیونکہ اس کے مضمرات کا اسے اندازہ ہے۔‘‘
یروشلم میں ائیر پورٹ پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اسرائیل کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ’’ایک عظیم تہذیب تعمیر کی ہے۔ ایک طاقتور اور پختہ قوم جو اس وعدے پر کھڑی ہے کہ وہ پچھلی صدی کی بربادیوں اور قتل عام کو دہرانے نہیں دے گی۔‘‘ جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے آنے والے بجٹ میں بیرونی امداد میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے وہیں اس نے اسرائیل کی امداد 3.1 اَرب ڈالرسے بڑھا کر سالانہ 3.8 اَرب ڈالر کرنے کا وعدہ کیا ہے جو 2018ء سے شروع ہو کر 2028ء تک چلے گی۔ واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان دستخط ہونے والی یادداشت امریکہ کی تاریخ میں کسی دوسرے ملک کو دیا جانے والا سب سے بڑادفاعی امدادی پیکج ہے۔ یہ فنڈنگ متعدد اسرائیلی دفاعی پروگراموں ،آئرن ڈوم میزائل انٹرسیپشن سسٹم، ایرو 3 لانگ رینج انٹرسیپٹر پروگرام اور ڈیویڈ سلنگ مڈ رینج راکٹ انٹرسیپٹر کے لیے ہے۔ جبکہ دوسری طرف سامراجی آقاؤں نے مصر اور اردن جیسے ملکوں کے گماشتہ حکمرانوں کو پرے پھینک دیا ہے اور ان کی امریکی عسکری اور معاشی امداد میں 28 فیصد اور اس سے زیادہ کی کٹوتیاں کی ہیں۔
تاہم نیٹو کے اخراجات میں کٹوتیوں سے امریکہ کے یورپی اتحادی ناراض ہوں گے لیکن ریکارڈ توڑ خساروں کی وجہ سے امریکی سامراج مجبور ہے کہ اپنے وسیع اخراجات کے تمام شعبوں بالخصوص فوجی اور جنگی اخراجات کے شعبوں میں کٹوتیاں کرے۔ لیکن اس سے ان کی سامراجی تھانیداری کو نقصان پہنچے گا۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ شام اور افغانستان سمیت بیرونی مداخلتوں کو بند کردے گا۔ لیکن اب وہ مجبور ہے کہ بحیرہ روم میں واقع امریکی جنگی جہازوں سے کروز میزائل داغے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائے۔ ٹرمپ کو اب امریکی سامراجی بالادستی اور کمزور ہوتی معاشی طاقت کے درمیان تضاد کا سامنا ہے۔
یہ تنازعات اور تضادات حل نہیں ہو رہے ہیں، اس کی بجائے بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ جاپان سے لے کر کوریا اور جرمنی سے لے کر لاطینی امریکہ تک پوری دنیا میں امریکی فوجی اڈے پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اب انہیں مزید نہیں چلا سکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی ’واحد سپر پاور‘ کے سامراجی مقام کا زوال ہو رہا ہے اور ٹرمپ کا دور بے نظیر تنازعات اور خلفشار کا دور ہوگا۔ پورے سیارے میں یہ عدم استحکام ایک بحران زدہ اور ناکارہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ہے جو محنت کشوں کو برباد کر رہاہے۔ جب 2011ء میں عرب انقلاب پورے خطے میں پھیل گیا تھا تو بہت کم لوگوں نے اس تحریک کے پسپا ہونے کے مضمرات کے بارے میں سوچا تھا۔ اب پورے خطے میں سامراجی جارحیت اور بنیادپرستی کی وحشت اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن یہ کیفیت بھی تبدیل ہوگی۔ آنے والے دور میں محنت کشوں کی نئی بغاوتیں ناگزیر ہیں۔ اس طرح کی تحریکیں فرقہ وارانہ، مذہبی اور تنگ نظر قوم پرستی کے تعصبات کو چیر دیں گی۔ ان کی فتح ہی اس بربادی، خونریزی، محرومی اور بدحالی سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ اس طرح کی فتح صرف ایک انقلابی پارٹی اور قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*