ظلم بڑھتا ہے تو…

| تحریر: لال خان |

امریکی صدارتی انتخابات میں تمام پیش گوئیوں کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے پہلے ہی ہلچل کی شکاردنیا ایک مزیدگہرے خلفشارمیں داخل ہوگئی ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت رکھنے والی سلطنت ’امریکہ‘ کی جو بنیادی کیفیت آج پائی جاتی ہے اس میں اِس تبدیلی کے انتشارکا پہلے سے ہی خستہ حال نظام زر کی سیاست، سفارت اورصحافت میں شدت اختیارکرناشایدناگزیر تھا۔ تقریباً ایک صدی سے عالمی سامراجی حاکمیت رکھنے والا امریکہ آج معاشی طور پر زوال، سماجی طور پر انتشار اور سیاسی طور پر بے یقینی اور اضطراب کے عالم میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ ایک طرف اس کے حکمرانوں کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت اورہر طرف اپنا غلبہ قائم رکھنے کی قوت کا خبط جاتا ہی نہیں ہے تو دوسری جانب اسکی معاشی اوقات اتنی ہے نہیں کہ اس کو برقرار رکھ سکے۔

Trump US embassy in jerusalem

’ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کئی مرتبہ اسرائیل میں قائم امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا‘

لیکن جیسے امریکی حکمرانوں کو اس برتری کی عادت سی ہوگئی ہے، اسی طرح دنیا بھرمیں ان کے حواری بھی ان کے بلبوتے پرظلم وجبر اور رجعت کے اقدامات جاری رکھنے کے عادی سے ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں امریکہ میں ٹرمپ صدارت کے عجیب وغریب اثرات سامنے آئے ہیں وہاں دنیا بھر میں ان رجعتی قوتوں کو اس صدارت سے تقویت کا مصنوعی تاثر دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال اسرائیل اورمقبوضہ فلسطینی خطوں میں انتہا پسند یہودی مذہبی جنونیوں اور ان کی پارٹیوں میں نظر آتی ہے۔ اسرائیل میں بنیامن نیتن یاہوکی سربراہی میں لکھود پارٹی کی دائیں بازو کی حکومت ایک مخلوط کردار رکھتی ہے۔ اس میں لکھود سے بھی زیادہ یہودی بنیاد پرست پارٹیاں شامل ہیں۔ ٹرمپ کی صدارت آنے کے بعد انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب ان کو کھلی چھٹی مل گئی ہے اوروہ جوچاہیں بے دریغ کر ڈالیں۔ قبضے اور فلسطینی عوام پر ظلم وستم کی جس انتہا پر بھی چلے جائیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ نیتن یاہو خود پھنس گیا ہے۔ وہ ان بنیاد پرست یہودی جنونی سیاست دانوں سے زیادہ گھاگ کھلاڑی ہے اور اس کو پتا ہے کہ ٹرمپ کے صدر بن جانے سے کوئی اتنی بڑی تبدیلی بھی نہیںآئی کہ ا س پورے خطے کے تناظر کو یکسر اور انتہاؤں میں بدل دیا جائے۔
مغربی کنارے میں 29 لاکھ فلسطینیوں پر اس کو یہی فوقیت حاصل ہے کہ اُن کے پاس کوئی مکمل ریاست بھی نہیں ہے اورمفلوج خود مختیاری کے نام پرفلسطینی علاقوں میں اِن کی’’اپنی‘‘ انتظامیہ بھی موجود ہے اور اسرائیل کی جبر و حاکمیت بھی پوری طرح قائم ہے۔ لیکن 1948ء میں قائم ہونے والی اسرائیلی ریاست سے مزید تجاوز کر جانے والے نوآباد کار یہودیوں کے ماضی بعید کے تخلیاتی تصورات پر مبنی عزائم ہیں۔ وہ تورات میں کسی الہامی ’’جوڈیا اور سمارا‘‘ ریاست کے قیام کا خواب دیکھتے ہیں جس کا کوئی سائنسی یا تاریخی ثبوت موجود ہی نہیں ہے۔ یہ رجعتی وحشت جہاں فلسطینیوں پر مزید ظلم اور اُن کو ان کی سرزمین سے مزید بے دخل کرنے پر تلی ہوئی ہے، وہاں یہ موجودہ لکھود حکومت کے لیے بھی درد سر بن رہی ہے۔ نیتن یاہو حکومت اس تناؤ سے شدید عدم استحکام کا شکار ہورہی ہے۔ اس نے ان یہودی بنیاد پرستوں کو سہلانے کے لیے 3000 نئے مکان بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ لیکن یہ تمام آباد کاری یہودی آبادی اور مشرقی یروشلم کے ساتھ منسلک ہے۔ دوسری طرف یہودی بنیاد پرست پارٹیاں فلسطینی علاقے کی گہرائی میں، فلسطین کے نا م نہاد دارلحکومت ’رملہ‘ تک کئی آبادکاری کی بستیاں تعمیر کرنے پر بضد ہیں۔ 24 جنوری کو ماضی کی حکومتوں کے برعکس ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس نئی آباد کاری کے مسئلہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکردیا ہے۔ اوباما حکومت کے دوران اس قسم کی آبادکاری کی بستیوں کو پھیلانے اورنئے مکانات تعمیر کرنے کے خلاف وائٹ ہاؤس کے ترجمان منافقانہ مخالفت کے سفارتی بیان دیا کرتے تھے۔ اس مخالفت کو نیتن یاہو اپنی مخلوط حکومت کے رجعتی یہودیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ لیکن اب تو ان کو وائٹ ہاؤ س سے چھوٹ مل گئی ہے۔
اسی طرح ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کئی مرتبہ اسرائیل میں قائم امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے امریکہ میں یہودی لابی کے سرکردہ’ ڈیوڈ فرائیڈمین‘ کو اسرائیل میں امریکی سفیر مقرر کیا ہے۔ ان اقدامات سے بنیاد پرست یہودیوں نے مزید شدت پکڑی ہے اور انکی وحشت کو تقویت ملی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ جو اندھا دھند جارحانہ پالیسیوں اور فیصلوں کے اعلانات کرتا جارہا ہے وہ امریکی ریاست کے اپنے خارجی اور سفارتی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ٹرمپ ان کو مسلسل جاری رکھ سکے۔ اس امکان کو بھی ردنہیں کیا جاسکتا کہ اس کا اسٹیبلشمنٹ سے ایسا تصادم ہوجائے جس میں اس کو اپنی صدارتی مدت ختم ہونے سے پیشتر ہی سبکدوش کردیا جائے۔
لیکن پہلے سے ہی بحرانوں میں گھرے ہوئے امریکہ میں یہ انتشارایک سنگین صورتحال پیداکرسکتا ہے۔ جہاں ٹرمپ اور اسکے قریبی حواریوں میں ان جارحانہ پالیسیوں کو بڑے جوش سے لاگو کرنے کا جنون سوار ہے، وہاں امریکہ کے متوقعہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن جیسے گھاگ سرمایہ داراورسیاسی کھلاڑی بھی ہیں۔ ٹلرسن اس قسم کے اقدامات کی اند ر سے مخالفت کررہا ہے اور اس کی امریکی اجارہ داریوں کے مالی مفادات کے لیے درکار زیادہ متوازن خارجہ پالیسی ٹرمپ کے ایسے اقدمات کو روک سکتی ہے۔ لیکن جہاں فلسطین کے عوام محکومی اور ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں وہاں اسرائیل کی صہیونی ریاست اور لکھود حکومت بڑے پیمانے پر اسرائیلی نوجوانوں اور محنت کشوں کے خلاف سہولیات میں کٹوتیاں اور معاشی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہاں اس آباد کاروں کے مسئلے پر حکومت لرز رہی ہے وہاں ایک طویل عرصے سے عام اسرائیلیوں کو مذہبی قوم پرستی کے جنون میں مبتلا رکھ کر، ان پر معاشی حملے کر کے انکی زندگیوں کو تلخ کرتی جارہی ہے۔ بغاوت بھی پھوٹ سکتی ہے۔
لیکن فلسطینیوں کے لیے عذاب کہیں زیادہ گہرے اور کئی قسم کے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے جبر کی خونریزی ہو، معاشی و سماجی بدحالی ہو، قبضے کی محکومی ہو، عرب حکمرانوں کی طرف سے فلسطینی مسئلے کا اپنی حکمرانی کے لیے عیارانہ استعمال ہو یا پھر خود فلسطینی لیڈروں اور پارٹیوں کی غداریاں ہوں۔ ان سب نے عام فلسطینیوں پرگہرے زخم لگائے ہیں۔ لیکن ان میں بغاوت اورجدوجہد کی روش نہ کوئی ختم کرسکا ہے نہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت کر سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کا اس معاشی اورقومی آزادی کا راستہ اور لائحہ عمل کیا ہے؟ کئی نسلوں کے تجربات نے ظلم اوربربریت برداشت کرکے بہت سے اسباق ضرور اخذ کئے ہونگے۔ ان کے لیے طبقاتی لڑائی کے ساتھ قومی جبر کے خلاف بغاوت کی توانائی کو جوڑنا بنیادی فریضہ ہے۔ اگر فلسطینیوں کا ایک نیا ’’انتفادہ‘‘، یعنی بغاوت کی تحریک ابھرتی ہے اوراس چنگاری کاکام کرتی ہے جو اسرائیل کے عام انسانوں میں بھی تحریک بھڑکا دے، تو پھر پورے خطے میں ایسی انقلابی آگ بھڑکے گی جس سے یہاں کی آمریتیں، جابرانہ جمہوریتیں، بادشاہتیں اور مختلف قسم کی مسلط حاکمیتیں بھسم ہوسکتی ہیں۔ اگر ٹرمپ اس جارحیت کو جاری رکھتا ہے تو امریکہ اوردنیابھر میں سامراج کی اصلیت زیادہ واضح اندازمیں کھل کر بے نقاب بھی ہوگی اوراس کے خلاف بغاوت کی سمت بھی واضح ہوگی۔ یہ پالیسیاں ایک ایسااشتعال بن سکتی ہیں جومحنت کشوں کی تحریک کے ابھرنے کاباعث بن جائیں۔ آج ظاہری طورپرباطل اورظالموں کا راج جاری نظر آتا ہے لیکن یہ کھوکھلا اورسطحی ہے۔ یہ جتنا بڑھے گااسکے خلاف بغاوت بھی اتنی ہی شدیدہوگی۔ فلسطینی اوردنیاکے دوسرے مظلوم عوام اورمحنت کش طبقات کواپنی بقاکے لیے جینا بھی ہے اورلڑنابھی ہوگا۔ ساحرنے کیاخوب کہا تھا:

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے کا تو جم جائے گا

متعلقہ:

فلسطین: حلیف اور حریف کون؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*