اکہتر سال میں تیسرا ’نیا پاکستان‘

تحریر: لال خان

14 اگست 1947ء کو برصغیر کے خونی بٹوارے کے نتیجے میں ایک نیا ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ اس میں برسراقتدار آنے والے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقات کے معاشی اور سیاسی تسلط کے بارے میں علامہ محمد اقبال نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل جناح صاحب کو لکھا تھا، ’’ مسلم لیگ کو آخر کار فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کے بالادست طبقات کی نمائندہ جماعت رہے گی یا پھر اُن مسلمان عوام کی جنہیں ابھی تک اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی ہے۔ اور اِس عدم دلچسپی کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جو ایک عام مسلمان کے حالاتِ زندگی میں بہتری کا وعدہ نہیں کرتی، عوام کی توجہ حاصل نہیں کر سکتی۔ (مسلم لیگ کے) نئے منشور کے تحت اعلیٰ عہدے بالادست طبقات کے صاحبزادوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور چھوٹے عہدے وزرا کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ہاتھ آ جاتے ہیں۔ دوسرے معاملات میں بھی ہمارے سیاسی اداروں نے عام مسلمانوں کے حالات زندگی میں بہتری کے بارے نہیں سوچا ہے… ‘‘ آنے والے وقت نے اقبال کے ان خدشات کو بالکل درست ثابت کیا۔ انگریز سامراج کے براہِ راست اقتدار کے خاتمے کے بعد نئے ملک (یا ممالک) میں برسراقتدار آنے والے مقامی حکمران طبقات نہ صرف طبقاتی اور قومی استحصال کو جاری رکھابلکہ کئی حوالوں سے یہاں کے عوام کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ وسائل اور ملکی دولت کی لوٹ مار پر جہاں اس کرپٹ اور تاریخی طور پر نااہل حکمران اشرافیہ (حکمران طبقات و ریاستی مشینری) کی آپسی لڑائیاں شدت پکڑتی گئیں وہاں نئی ریاست کی نظریاتی اساس کی تشریح بھی مختلف دھڑے اپنے اپنے مفادات کے تحت کرتے رہے۔ کبھی اس کو ایک لبرل اور سیکولر ریاست قرار دیا گیا تو کچھ دوسرے دھڑے اسے ایک مذہبی اور تھیوکریٹک ریاست کے طور پر پیش کرتے رہے۔ یہ تذبذب اور بحث آج تک جاری ہے۔
1947ء سے 1958ء تک حکمران طبقات کی سیاست اور ریاست کا انتشار اتنا بڑھ گیا کہ کلیدی اداروں کو مارشل لگا کر پورے نظام کو بچانا پڑا۔ لیکن ایوب خان کے زمانے میں اپنائی جانے والی ریاستی سرمایہ داری کی پالیسیوں، جن کا اُس وقت عالمی سطح پر دور دورہ تھا، کا بنیادی مقصد ہر طرح کی ریاستی مراعات اور رعایات کے ذریعے یہاں کے سرمایہ دار طبقے کی شرح منافع کو بڑھانا تھا۔ اس مقصد کے لئے محنت کش طبقات کو ہر طرح کے ریاستی جبر سے کچلا جاتا رہا اور بائیں بازو کے کارکنان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ دس سال تک اس مارشل لا کا جبر جاری رہا۔ لیکن اس دوران ہونے والی تیز صنعتکاری سے ایک نیا مزدور طبقہ بھی پیدا ہوا۔ تاہم ایوب خان دور کی تیز معاشی ترقی نے کوئی معاشرتی استحکام پیدا کرنے کی بجائے طبقاتی تضادات کو شدید تر ہی کیا۔ یہی تضادات ایک وقت پر آ کر پھٹ پڑے اور یہاں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے 1968-69ء میں ایک عظیم انقلابی تحریک برپا کی جس نے نہ صرف ایوب آمریت کو اکھاڑ پھینکا بلکہ سارے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی چیلنج کرنے لگی۔ انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ تحریک پسپائی کی طرف گئی، مشرقی پاکستان میں انحطاط کا شکار ہو کر تنگ نظر قومی بنیادوں پر گامزن ہو گئی ۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے اور جنگ میں شکست کے بعد ریاست کو بھی پسپائی اختیار کرنی پڑی اور نظام کو بچانے کے لئے سوشلسٹ پروگرام دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار دے دیا گیا۔ بھٹو نے بھی 20 دسمبر 1971ء کو برسراقتدار آ کر ایک ’نیا پاکستان‘ بنانے کی بات کی تھی۔ لیکن اُس نے سرمایہ داری کو برقرار رکھتے ہوئے جن ریڈیکل اصلاحات کی کوشش کی ان کی ناکامی ناگزیر تھی۔ حتمی طاقت اس ریاست کی مشینری کے پاس ہی تھی جس کے تحت بھٹو نے اقتدار قبول کیا تھا۔ امیدوں کے ٹوٹنے اور بڑھتے ہوئے افراطِ زر سے عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی کو استعمال کرتے ہوئے امریکی سامراج کی ایما پر ایک بھٹو مخالف مذہبی تحریک چلائی گئی اور اس تمام تر انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضیا الحق نے اقتدار پر شب خون مار دیا۔
ضیاالحق کے دور میں ملک کو ایک ’اسلامی ریاست‘ بنانے کے نعرے سے جس طرح یہاں کی معاشرت، سیاست اور فن کو مسخ کیا گیا، مذہبی بنیاد پرستی اور فرقہ واریت کا زہر جس طرح سماج کی رگوں میں گھولا گیا اس سے یہ معاشرہ آج تک صحتیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی جمہوری حکومتیں بھی اپنی عوام دشمن معاشی پالیسیوں اور بدعنوانی کے لحاظ سے کچھ مختلف نہ تھیں۔ یہ ’’جمہوریت‘‘ آج تک ضیا آمریت کی ٹھونسی گئی رجعتی آئینی شقوں اور قوانین کا خاتمہ نہیں کر سکی۔ لیکن 1990ء کی دہائی کے اواخر میں ایک بار پھر اِس نظام کا بحران اتنی شدت اختیار کر گیا تھا کہ فوج کو براہِ راست مداخلت کرنا پڑی۔ لیکن مشرف کی نیم فوجی نیم سویلین آمریت پتا دے رہی تھی کہ ریاست کے کلیدی اداروں کے اندرونی ڈھانچوں میں براہِ راست مارشل اور فوجی آمریت مسلط کرنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ مشرف کے دور میں عالمی معیشت میں بُوم کے پیش نظر ملکی معیشت کی شرح نمو بلند رہی، اس دوران ایک نیا درمیانہ طبقہ بھی پیدا ہوا، لیکن آبادی کی وسیع تر اکثریت کے حالاتِ زندگی گراوٹ کا شکار ہی رہے۔ لیکن ایک وقت پر جب مشرف کی حاکمیت بھی بحران کا شکار ہونے لگی تو سامراج اور ریاست نے اپنے نظام کو بچانے کے لئے ایک بار پھر ’جمہوریت‘ کا استعمال مناسب سمجھا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کی جو بربادی کی اس سے جمہوریت میں لوگوں کی بچی کھچی خوش فہمیاں بھی دور ہونے لگیں۔ 2013ء میں نواز شریف کو کسی امید سے زیادہ مایوسی اور یاس کا ووٹ ملا تھا۔ اُس نے برسراقتدار آکر نظام کو سنبھالا دینے کے لئے کلاسیکی سرمایہ دارانہ طرز اقتدار اور معیشت کو اپنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں آج اُس کا حشر سب کے سامنے ہے۔ اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ یہاں کی سرمایہ داری اس حد تک گل سڑ چکی ہے، حکمران طبقات اتنے بدعنوان اور کمزور ہیں اور ریاست کے انتہائی رجعتی حصے اس حد تک حاوی ہیں کہ یہ نظام خود اپنے کلاسیکی قوانین کے مطابق چلنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ ایسے میں حالیہ انتخابات کیسے ہوئے اور کس نے کروائے ہیں اب کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اب عمران خان کو جو انتہائی لولا لنگڑا اقتدار دیا جا رہا ہے اُس کی ذاتی جاہ و جلال کی ہوس تو شاید کچھ مٹ جائے لیکن تحریک انصاف کی نامرادی کا آغاز برسراقتدار آنے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔ ملکی تاریخ میں تیسری بار اُس نے جو ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ دیا ہے اُس میں پرانے پاکستان کی ذلتیں اور بربادیاں شدید تر ہی ہوں گی۔ عملی طور پر عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی اپنی وزیر اعظم والی تقریر پھاڑ پھینکی ہے۔ اسد عمر سمیت تحریک انصاف کے عہدیدار خود سے وابستہ درمیانے طبقات کی امیدوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور واضح کرتے چلے جا رہے ہیں کہ عوام کسی ریلیف کا خیال ذہن میں نہ لائیں۔ بچے کھچے قومی اداروں کی فوری نجکاری ( جس سے بیروزگاری مزید بڑھے گی) اور عوام پر صحت و تعلیم کے سرکاری اخراجات مزید کم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ خساروں کی وجہ سے مہنگائی پہلے ہی زور پکڑ رہی ہے، آگے اور بھی بڑھے گی۔ ’بزنس فرینڈلی پالیسیوں‘ کا دوسرا مطلب سرمایہ داروں کو لوٹ مار اور استحصال کی کھلی چھوٹ ہوتا ہے۔ ملک کے مشہور سرمایہ دار عبدالرزاق داؤ کو خصوصی مشیر برائے اقتصادی امور نامزد کرنے سے عمران خان کے طبقاتی جھکاؤ کا صاف پتا چلتا ہے۔’نئے پاکستان‘میں بھی معیشت آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہو گی اور اہم پالیسیاں ریاست کے مقتدر حلقے ہی بنائیں گے۔ یہ حالات یہاں کے محنت کش طبقات پر مزید واضح کریں گے کہ ایک نیا سماج تخلیق کرنے کے لئے انہیں اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*