فروری 1946ء کی گمنام بغاوت

تحریر: لال خان

جنگ میں سب سے پہلی موت سچ کی ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات کی حالت اتنی گھناؤنی ہے کہ نہ یہ جنگ لڑ سکتے ہیں اور نہ کوئی حقیقی اور دوررس امن قائم کرسکتے ہیں۔ یہ صرف حالت جنگ ہی مسلط کر سکتے ہیں یا امن کا جھانسہ دے سکتے ہیں۔ حکمرانوں کے پیدا کیے ہوئے جنگی جنون کے اس ماحول میں ایک دفعہ پھر سچائی پیچھے چلی گئی ہے۔ یہی اس سابقہ نوآبادیاتی خطے کے حکمرانوں کی عیار فطرت ہے۔ ان کا یہ نفرت انگیز کردار ان کے خمیر کی وجہ سے ہے۔
برصغیر کی نام نہاد ’آزادی‘ اس کے قومی بورژوا لیڈروں کی کسی جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بلکہ برطانوی راج کی افسرشاہی کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح کے ’حریت پسند‘ عام لوگوں کی زندگیوں میں کوئی خوشحالی نہیں لا سکتے۔ پرانے بوسیدہ نظام کا جبر عوام پر جاری رہتا ہے جس میں حکمرانوں کی صرف شکل و صورت ہی تبدیل ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے گماشتہ حکمران طبقات کو برطانوی راج نے یہاں اپنی مسخ شدہ سرمایہ داری کو جاری رکھنے کے لیے مسلط کیاتھا۔ ان اَپ سٹارٹ حکمرانوں نے اپنی استحصالی حاکمیت اور سامراجی لوٹ مار کو جاری رکھنے کے لیے برطانوی سامراجیوں کی ’تقسیم کرو اور حکمرانی کرو‘ کی واردات کو براہ راست نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کے بعد بھی جاری رکھا ہواہے۔ اسی لیے پچھلی سات دہائیوں سے جنگی جنون کا ماحول، مذہب اور وطن پرستی کے تعصبات اور نفرتیں جاری ہیں۔
تاہم سامراج اپنے مقامی گماشتوں کے ساتھ اس نظام کو تب ہی مسلط کرسکا جب اس نے 1946ء کے انقلاب کو کچل دیا۔ درباری مورخین اسے مسخ کرکے محض ’جہازیوں کی بغاوت‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ جدوجہد آزادی کی تاریخ کو بھی مسخ کرکے پیش کرتے ہیں۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ آزادی انڈین نیشنل کانگریس، جس کی قیادت گاندھی، پاٹیل اور نہرو کر رہے تھے، اور مسلم لیگ، جس کی قیادت جناح کر رہا تھا، کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ لیکن اسی اثنا میں انتہائی عیاری سے مزدوروں، نوجوانوں، کسانوں اور ہندوستانی فوج، نیوی اور ایئرفورس کے سپاہیوں کی آزادی کے لیے جدوجہد اور قربانیوں کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں۔ مارکس نے 1857ء کی جنگ آزادی سے پہلے اور بعد میں اس اَمر کا تجزیہ کیا تھا کہ برطانوی سامراج نے ہندوستانی سپاہیوں کے ذریعے ہی ہندوستان کو فتح کیا تھا۔ لیکن 1946ء میں برطانوی سامراج اپنی جابرانہ حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے برٹش انڈین آرمی کے ہندوستانی سپاہیوں پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا تھا۔ ان افواج میں ایک ایسی دیوہیکل بغاوت ہوئی کہ برطانوی راج کے پالیسی ساز بھی دنگ رہ گئے۔
جہازیوں اور مزدوروں کی اس شاندار بغاوت نے برطانوی آقاؤں کو برصغیر سے وقت سے پہلے نکلنے پر مجبور کر دیا کیونکہ یہ تحریک اس سماجی معاشی نظام کو ہی اکھاڑ پھینک سکتی تھی جس نے یہاں کے عام لوگوں کو نسلوں تک محکوم کیے رکھا تھا۔ اس نظام کی طوالت ہی آج بھی برصغیر کے عوام کی محرومی، محکومی، غربت اور خون خرابے کی بنیادی وجہ ہے جس نے اس خطہ زمین پر سیارے کی غربت کا سب سے وسیع اجتماع پیدا کر رکھا ہے۔ اس انقلابی بغاوت کو 1947ء کے خونی ردانقلاب کے ذریعے کچلا گیا جس کے زخم آج تک رِس رہے ہیں۔
تہتر سال پہلے فروری 1946ء کے انہی دنوں میں ایک انقلابی چنگاری نے ایک ایسی شاندار سرکشی کو جنم دیا جس نے پورے جنوب ایشیائی برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسلح محنت کش‘سامراجیوں کی طاقت اور نوآبادیاتی ریاست کو للکار رہے تھے۔ لیکن اس انقلابی لہر کی پسپائی اور مقامی لیڈروں کی غداری اور سامراجی گماشتگی کی وجہ سے شکست نے بٹوارے کی ہولناکیوں کو جنم دیا۔ برصغیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم نے ڈیڑھ ملین معصوم انسانوں کا قتل عام کیا اور دو ملین سے زائد کو ہجرت پر مجبور کیا۔ تاہم ہمارے لیے جہازیوں کی اس شاندار سرکشی میں سیکھنے کے اہم اسباق ہیں۔ ان کی دلیری نے عوام کے دل و دماغ کو ایسی جرات سے بھر دیا تھا جس نے تاریخ کے غیرمعمولی واقعات کو جنم دیا۔
فروری 1946ء کی رائل انڈین نیوی کی بغاوت طویل عرصے سے جہازیوں میں مجتمع شدہ غم و غصے کے نتیجے میں برپا ہوئی۔ برطانوی جہازیوں کی تنخواہیں ہندوستانی جہازیوں کی تنخواہوں سے دس گنا زیادہ تھیں۔ اسی طرح ان کی مراعاتیں بھی زیادہ تھیں۔ لیکن بغاوت کی بڑی اور اہم وجہ سیاسی تھی۔ بغاوت کا آغاز 18 فروری 1946ء کو ہوا جب گیارہ سو جہازیوں نے ایچ ایم ایس (HMS) تلوار میں کام روک دیا اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ جہازیوں نے متفقہ طور پر سگنل مین ایم ایس خان کو ہڑتالی کمیٹی کا صدر اور پیٹی افسر ٹیلی گرافسٹ مدن سنگھ کو نائب صدر منتخب کیا۔ مشہور سگنلر بیدی بسنت سنگھ، ایس سی سن گپتا، سکول ماسٹر نواز، سی مین اشرف خان اور محمد حسین بھی مرکزی ہڑتالی کمیٹی کے ممبران منتخب ہوئے۔ مرکزی ہڑتالی کمیٹی نے اپنی جدوجہدکا مقصد طے کر لیا تھا: مکمل سیاسی، سماجی و معاشی آزادی۔
بمبئی کی بندرگارہ میں یہ بغاوت جلد ہی 22 کشتیوں، کیسل بیرک اور فورٹ بیرک بیس تک پھیل گئی۔ ہڑتال جنگل کی آگ کی طرح کراچی، مدراس، وشاکاپٹنم، کلکتہ، کوچین، جام نگر اور اندامن جزائر کی فوجی چھاؤنیوں سے لے کر مشرق وسطیٰ میں بحرین اور عدن کے ساحلوں تک پھیل گئی۔ ہڑتالیوں نے 70 کشتیوں اور تمام 20 سمندری تنصیبات کو جیت لیا اور تیس ہزار سے زائد جہازی اس سرکشی میں شامل ہوگئے۔ اگلی صبح ہندوستانی جہازیوں نے بندرگاہ کے احاطے میں کھڑی فوجی گاڑیوں پر قبضہ کرلیا اور انہیں چلاتے ہوئے بمبئی کی گلیوں میں انڈین نیشنل آرمی کے قیدیوں کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور ’ہندو مسلم ایک ہیں‘ کے نعرے بھی لگ رہے تھے۔ مرکزی ہڑتالی کمیٹی نے ایک لیف لیٹ شائع کیا جو اِن نعروں کے ساتھ ختم ہوتا تھا: ’مزدوروں، سپاہیوں، طالب علموں اور کسانوں کی یکجہتی زندہ باد۔ انقلاب زندہ باد!‘
پورے متحدہ ہندوستان میں ہڑتالی جہازیوں کے حق میں جوش و ولولہ پھیل گیا تھا۔ 21 فروری 1946ء کی صبح برطانوی گارڈز نے کیسل بیرک میں ہندوستانی جہازیوں پر فائر کھول دیا جس سے یہ بغاوت ایک پرتشدد مسلح سرکشی میں تبدیل ہوگئی۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہڑتالیوں نے انڈین ریلوے کے وکٹوریا ٹرمینس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ جب برطانوی افسروں نے ہندوستانی سپاہیوں کو ہڑتالی جہازیوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو انہوں نے اپنے محنت کش بھائیوں پر گولی چلانے سے انکار کردیا!
ہڑتالی جہازیوں نے 21-20 فروری کو عام ہڑتال کی کال دی جس کا ناقابل یقین جواب آیا۔ پورے ملک میں ٹیکسٹائل فیکٹریوں، ملوں، ریلوے اور دوسری صنعتوں سے تین لاکھ سے زائد مزدور کام چھوڑ کر باہر نکل آئے۔ سڑکوں اور گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور نوجوانوں اور مزدوروں نے پولیس اور فوج کے ساتھ مورچہ بند ہوکر لڑائیاں لڑیں۔ یہ ہڑتال برطانوی راج کے لیے براہ راست چیلنج تھیں۔ کلکتہ میں 120,000 سے زائد لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے۔
یہ بغاوت برطانوی راج کی دوسری ہندوستانی افواج میں بھی پھیلنا شروع ہوگئی۔ جبل پور میں رائل انڈین آرمی سگنل کور کے دو ہزار سپاہیوں نے بغاوت کردی۔ اسی طرح مدراس میں انڈین گنرز، الٰہ آباد میں سگنلرز اور دہلی میں آرمی ہیڈکوارٹر کے کلیریکل سٹاف میں بھی چھوٹی بغاوتیں ہوئیں۔ رائل انڈین ایئرفورس کے ہندوستانی افسران نے باغی جہازیوں پر حملے کے لیے برطانوی سپاہیوں کو لے جانے سے انکار کردیا۔ سڑکوں اور ریلوے کی پٹریوں کو درخت گرا کر بند کردیا گیا۔ ایئر فورس کی ہڑتال الٰہ آباد، ماری پور (کراچی)، کلکتہ، کانپور، پالام (دہلی)، پونہ، کالانگ، چکلالہ، لاہور اور نیوگومبو کے ایئربیسز تک پھیل گئی۔ بغاوت جنوب مشرقی ایشیا تک بھی گئی جہاں سنگاپور میں 4000 ایئرفورس کے اہلکاروں نے ہڑتال کردی۔
ریلوے، بندرگاہوں، ڈاک خانوں اور دوسرے شعبوں کے مزدور بھی اس تحریک سے ریڈیکلائز ہوئے اور ہڑتالی تحریک میں شامل ہوتے گئے۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھی جس کا برطانوی سامراج کو قطعاً اندازہ نہیں تھا اور یہی وہ تحریک تھی جس نے انہیں پسپائی پر مجبور کیا۔ بعد ازاں مارچ 1976ء میں کلیمنٹ ایٹلی، جو اُس وقت برطانیہ کا وزیراعظم تھا، نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’جہازیوں کی بغاوت نے برطانیہ کو یہ احساس دلایا کہ برطانوی راج کو قائم رکھنے کے لیے ہندوستانی افواج پر مزید تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ برطانیہ کے ہندوستان کو چھوڑنے کے فیصلے میں گاندھی اور اس کی تحریک کا کتنا کردار تھا تو ایٹلی کے ہونٹ حقارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ پھیل گئے اور اس نے کہا، ’’بہت کم!‘‘
سر اسٹیفورڈ کرپس نے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بحث کے دوران کہا، ’’(رائل انڈین) آرمی میں ہندوستانی، برطانوی افسروں کا حکم نہیں مان رہے… ان حالات میں اگر ہم نے لمبے عرصے تک ہندوستان میں حکمرانی کرنی ہے تو ہمیں چالیس کروڑ کے اس وسیع و عریض ملک میں ایک مستقل برطانوی فوج رکھنی ہوگی۔ ہمارے پاس نہ وہ فوج ہے اور نہ پیسے…‘‘
کراچی میں ہڑتالی جہازیوں نے منوڑا جزیرے پہ لنگرانداز ایچ ایم ایس ہندوستان اور بہادرشپ پر قبضہ کرلیا تھا۔ پھر ان جہازیوں نے کراچی کی گلیوں میں ایک جلوس نکالا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ کراچی کے برطانوی فوجی کمانڈر نے ان کو کچلنے کے لیے بلوچ سپاہیوں کے دو پلاٹون بھیجے لیکن انہوں نے بھی اپنے بھائیوں پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔ برطانوی کمانڈروں نے اس کے بعد اپنے ’وفادار‘ اور انتہائی بے رحم سمجھے جانے والے گورکھا سپاہیوں کو بغاوت کچلنے کے لیے بھیجا۔ لیکن اس وقت وہ ہکے بکے رہ گئے جب گورکھا سپاہیوں نے بھی ہڑتالی سپاہیوں پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔ پھر برطانوی سپاہیوں کو لایا گیا جنہوں نے گولیاں چلانا شروع کردیں اور جہازوں پر موجود جہازیوں نے انتقامی اقدامات کیے۔ فائرنگ، حملے اور جوابی حملے چار گھنٹے تک جاری رہے۔ چھ جہازی مارے گئے، تیس سے زائد زخمی ہوئے۔ ٹریڈ یونینوں نے کراچی میں عام ہڑتال کا اعلان کر دیا اور پورا شہر بند ہوگیا۔ 35000 سے زائد لوگوں، جن میں ہندو اور مسلمان سبھی شامل تھے، نے عیدگاہ کی طرف مارچ کیااور تمام تر جبر، خوف، گرفتاریوں، لاٹھی چارج اور فائرنگ کے باوجود ایک بڑی ریلی نکالی جس میں پچاس سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ہندوستان محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ایک طوفانی عہد میں داخل ہو رہا تھا۔ تمام تر بڑے شہروں بمبئی، کلکتہ، الٰہ آباد، دہلی، مدراس، لاہور اور کراچی میں صنعتی ہڑتالیں اپنی پوری قوت کے ساتھ پھٹ پڑی تھیں۔ ہندوستانی محنت کش طبقہ جراتمندانہ انداز میں تمام تر ریاستی جبر، گرفتاریوں، تشدد اور گولیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس جدوجہد میں فیصلہ کن قوت کے طور پر کود پڑا۔ 1945ء کے اواخر میں بمبئی اور کلکتہ کے گودی کے مزدوروں نے انڈونیشیا میں تعینات فوج کے لیے سازوسامان پہنچانے والی کشتیوں میں سامان لوڈ کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ وہاں قومی جدوجہد آزادی کو کچل رہے تھے۔ 1946ء کے آغاز میں اسی ہڑتالی لہر نے ایک بلند تر سیاسی کردار اپنا لیا۔ ’’آزاد ہندوستان حکومت‘‘ کے رہنما اور انڈین نیشنل آرمی کے منتظم سبھاش چند ربوس کی سالگرہ منانے والے مظاہرین پر گولی چلانے کے خلاف 24 جنوری 1946ء کو 175,000 ٹیکسٹائل اور صنعتی مزدور ہڑتال پر چلے گئے۔ ریلوے مزدوروں کی ہڑتال اور پورے ہندوستان میں طلبہ کے مظاہروں نے صنعتوں اور خدمات کے دوسرے شعبوں میں ہندوستانی پرولتاریہ کو ایک جنگجوانہ جدوجہد میں دھکیل دیا۔ ان تمام تر مظاہروں میں سب سے پرجوش نعرہ ’انقلاب زندہ باد‘ کا تھا جو پورے ہندوستان میں گونج رہا تھا۔ نوآبادیاتی حکمرانی کے آخری سالوں میں پورے ملک میں معاشی مسائل کے گرد ہڑتالوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا جن میں ملکی سطح پر پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی ہڑتال سب سے نمایا ں تھی۔ جنگ کے دوران معاشی بدحالیوں کے خلاف مجتمع شدہ غم و غصہ، مہنگائی، خوراک اور دوسری ضروریات کی قلت اور اجرتوں میں گراوٹ نے محنت کش طبقے کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ آزادی کی امید میں لوگوں کی توقعات آسمان چھو رہی تھیں۔ وہ آزادی کو اپنے تمام تر دکھوں کا مداوا سمجھتے تھے۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کانگریس اور مسلم لیگ، جو بظاہر سخت حریف تھے، دونوں نے رائل انڈین نیوی کی سرکشی کی مذمت کی تھی۔ مقامی حکمران طبقات کے اِن لیڈروں نے ہڑتالی مزدوروں اور جہازیوں کی مخالفت کی۔ گاندھی نے ایک بیان جاری کیا جس میں باغیوں پر تنقید کی گئی تھی۔ مسلم لیگ نے بھی ہڑتالیوں کی مذمت کی اور کہا کہ ’’گلیوں میں انتشار پھیلانا مسائل کو حل کرنے کا صحیح راستہ نہیں ہے اور آئینی طریقے سے احتجاج کرنا چاہیے۔‘‘ ولبھ بھائی پٹیل نے مطالبہ کیا کہ جہازی ہتھیار ڈال دیں۔ اُس نے ہڑتالی کمیٹی کے نائب صدر مدن سنگھ کو بمبئی کے ایک فلیٹ میں بلایا، اس پر چیخا چِلّایا اور بغاوت ختم کرنے کا کہا۔ نہرو بھی کسی سے پیچھے نہ تھا۔ اُس نے مدن کے ساتھ ایک اور میٹنگ میں اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہتھیار ڈالنے اور بغاوت ختم کرنے کی نصیحت کی۔ حتیٰ کہ نہرو نے ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں ہڑتالی جہازیوں پر تنقید کی گئی۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اپنے رہنماؤں کی نظریاتی کج فہمیوں کی وجہ سے شش و پنج میں تھی۔ ایک طرف کمیونسٹ پارٹی ’عوام کے ساتھ‘ رہنے کی خواہش رکھتی تھی تاکہ جنگ کے دوران، جب انہوں نے ’عوامی جنگ‘ کی آڑ میں کھل کر برطانیہ کی حمایت کی تھی، ہونے والی اپنی ہزیمت کا ازالہ کرسکے۔ ان کے کارکنان‘بالخصوص طلبہ نے پرجوش انداز میں بمبئی اور کلکتہ میں سرکشی میں شمولیت اختیار کی۔ پالیسی میں اس فرق کی وجہ سے پارٹی میں پھوٹ کا آغاز ہوا جب اس کے دو اہم رہنماؤں بھالاچندرا ترمبک رنادیو اور پی ایس جوشی کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
رنادیو پارٹی کا ایک اہم ٹریڈ یونین لیڈر تھا اور اسی وجہ سے ہڑتال میں سرگرمی سے شامل تھا اور سرکشی سے بہت متاثر تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ پارٹی انقلابی تحریک کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے۔ جبکہ پارٹی جنرل سیکرٹری جوشی ماسکو میں سٹالن کے احکامات کے زیر اثر تھا۔ لیکن فروری 1948ء میں کلکتہ میں منعقد ہونے والی پارٹی کانگریس میں پارٹی نے جوشی کی بجائے رنادیو کو کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا۔ لیکن 1950ء میں رنادیو کو برطرف کر دیا گیا اور ’’بائیں بازو کے مہم جو ‘‘ کا الزام لگا کر اس کی مذمت کی گئی۔ 1964ء میں پھوٹ پڑ گئی اور دو پارٹیاں ’CPI‘ اور ’CPI(M)‘ ابھریں۔ رنادیو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کا بانی اور لیڈر بن گیا جو انڈیا میں سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے طور پر ابھری۔
سیاسی قیادت کی غداری سے بالآخر تحریک بکھر گئی۔ 24 فروری 1946ء کو تمام کشتیوں پر سفید جھنڈے لہرائے گئے۔ اپنے آخری سیشن میں ہڑتالی کمیٹی نے ایک قرار داد پاس کی جس میں یہ اعلان کیا گیا، ’’ہماری سرکشی ہمارے لوگوں کی زندگیوں میں ایک اہم تاریخی واقعہ تھا۔ پہلی مرتبہ باوردی اور بغیر وردی مزدوروں کا خون ایک ہی دھارے میں مشترکہ مقصد کے لیے بہا۔ ہم باوردی مزدور یہ بات کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ہمارے پرولتاری بہن بھائی بھی اس بات کو نہیں بھولیں گے۔ ہماری آنے والی نسلیں سبق سیکھتے ہوئے ہمارے ادھورے کام کو پورا کریں گی۔ محنت کش طبقہ زندہ باد۔ انقلاب زندہ باد!‘‘
ایک ایسی انقلابی پارٹی جس کے کیڈرز کی تربیت انقلابی مارکسزم کی بنیادوں پر ہوئی ہوتی‘ اِن جہازیوں، سپاہیوں اور لاکھوں مزدوروں کو ایک سمت دکھا سکتی تھی جو ہندوستان کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بمبئی، لاہور، کلکتہ، کراچی، الٰہ آباد، پشاور، مدراس، کانپور، دہلی اور دوسرے بڑے شہروں میں آسانی سے سوویتیں (مزدور کمیٹیاں) قائم کی جاسکتی تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے سٹالنزم کے زیر اثر کمیونسٹ پارٹی کے مجرمانہ کردار اور کانگریس اور مسلم لیگ کی’’ترقی پسند بورژوازی‘‘ کے ساتھ ’’عوامی محاذ‘‘ بنانے کی تباہ کن پالیسی سے یہ تاریخی موقع ضائع ہوگیا۔ سامراجی جنگ کی حمایت کرکے برطانیہ کو خوش کرنے کے اقدام کے باوجود جب اقتدار کو منتقل کرنے کا وقت آیا تو برطانوی سامراجیوں کے لیے بہترین ترجیح کانگریس اور مسلم لیگ جیسی بورژوا پارٹیاں ہی تھیں کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ لوٹ مار کا تسلسل جاری رکھنا چاہتے تھے۔
1946ء کے انقلاب کی فتح تاریخ کے دھارے کو موڑ سکتی تھی۔ ابھرتی ہوئی عوامی تحریک نہ تو قومی آزادی کے مرحلے پر رکتی اور نہ سرمایہ دارانہ استحصال اور جبر کو قبول کرتی۔ 1947ء کی گرمیوں میں بالخصوص پنجاب اور بنگال میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والا قتل عام آج بھی جنوب ایشیا کے سماجی تانوں بانوں کو چیر رہا ہے۔ یہ رک سکتا تھا۔ یکجا طبقاتی جدوجہد آگے بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سارے سماج کو بدل سکتی تھی۔ چین میں اس وقت پہلے ہی ایک انقلابی طوفان برپا تھا۔ متحدہ ہندوستان میں ایک انقلابی فتح سے پورے براعظم ایشیا پر سرخ سویرا طلوع ہوسکتا تھا۔ سرمایہ داری کو اکھاڑ کر سامراجی جبر کی زنجیروں کو توڑا جاسکتا تھا جس کے اثرات عالمی سطح پر انسانیت کو سوشلسٹ مستقبل سے قریب تر کردیتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*