خونِ فلسطین کی پکار!

تحریر: لال خان

جمعہ 30 مارچ کو غزہ پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہرے پر اسرائیلی صیہونی ریاست نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے درندگی کی ایک اور انتہاکر دی ہے۔ لیکن فلسطینیوں کا یہ جرات مندانہ احتجاج ثابت کرتا ہے کہ ظلم و جبر کی انتہا بھی مزاحمت اور بغاوت کے جذبوں کو مٹا نہیں سکتی۔ یہ مظاہرہ ’یومِ سرزمین‘ منانے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ یہ دن 1976ء میں اسرائیلی ریاست کی خونریزی کی یاد دلاتا ہے اور فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدوجہد کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
1976ء کے 42 سال بعد اسرائیلی سرحد سے چند سو میٹر دور ہونے والے ’یومِ سرزمین‘ کے احتجاجی مظاہرے میں شریک 17 فلسطینی اب تک اسرائیلی گولیوں سے ہلاک ہو چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن فلسطینیوں نے اس احتجاج کو 15 مئی کے ’یوم نکبہ‘ (بربادی کا دن) تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ’یوم نکبہ‘ وہ سیاہ دن ہے جب1948ء میں اقوام متحدہ نے سامراجی آلہ کار کا روایتی کردار ادا کرتے ہوئے اسرائیل کی ریاست کے قیام کا حکم صادر کیا تھا۔ اس میں برطانوی سامراجیوں کا کردار سب سے غلیظ تھا جو 1917ء کے ’اعلانِ بالفور‘ کے تحت 20ویں صدی میں مذہبی بنیادوں پر ایک ریاست تخلیق کرنا چاہتے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سامراج کا ابھار ہو رہا تھا۔ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی دھونس اور اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کا تیل یہاں کے عوام کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے قبل پہلی عالمی جنگ کے دوران سامراجی طاقتوں کی جانب سے سلطنت عثمانیہ کے ایک بڑے صوبے ’لیوانت‘ کو مصنوعی طور پر مختلف ممالک میں کاٹا گیا اور ان جعلی ریاستوں پر اپنے کاسہ لیس حکمران براجمان کیے گئے تھے۔ ان میں اسے اکثر بادشاہتیں تھیں جن کو سامراجی سنگینوں کے جبر سے مسلط کیا گیا تھا۔ امریکی سامراج کی جانب سے اسرائیلی ریاست کو قائم کرنے کا مقصد بھی اس خطے میں مذہبی منافرت کو فروغ دے کر یہاں بائیں بازو کی تحریکوں اور انقلابی بغاوتوں کو سبوتاژ کرنا اور خطے میں مسلسل عدم استحکام جاری رکھنا تھا تاکہ سامراجی مداخلت اور استحصال کا سلسلہ جاری رکھا جاسکے۔ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے جبراً بے دخل کیا گیا۔ انکے گھروندے آج تک مسمار کئے جا ر ہے ہیں۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ اسرائیلی ریاست جیسے ناسور کی پیدائش کو وہ بھلا کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟ اس لئے ہر سال’ یومِ نکبہ‘ پرزور احتجاجی مظاہروں سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ دن نسل در نسل جدوجہد آزادی کو جاری رکھنے کے عزم اور جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کی غمازی کرتا ہے۔
فلسطینی عوام نے اس قبضے، جبر اور استحصال کے خلاف جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے تو سامراجی توسط سے ان کی قیادت نے مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نکالنے کی کوشش بھی بہت کی ہے۔ لیکن یہ تمام طریقے ناکام رہے ہیں ۔ آج فلسطینیوں کی آزادی کی منزل بظاہر 1948ء سے بھی زیادہ دور دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل کی صیہونی ریاست نے سات دہائیوں تک ان پر ظلم اور بربریت کا بازار گرم رکھا ہے۔ قتل وغارت، قیدوبند، گھروں کی مسماری ایک معمول ہے۔ غزہ کی پوری آبادی کو محصور کرکے اس پٹی کو کھلنے آسمان تلے دینا کا سب سے بڑا جیل خانہ بنا دیا گیا ہے۔ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی آبادیوں کو بھیانک انداز سے کاٹ دیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی بستیاں تعمیر کرکے ان کو مسلح کیا جاتا ہے اور فلسطینیوں کی آمد ورفت کو اتنا کٹھن بنا دیا گیا ہے کہ ان کے لئے روٹی روزی کی تلا ش ایک عذاب مسلسل بن چکی ہے۔ فلسطینی علاقوں کی معیشت مکمل طور پر اسرائیل کی مرہونِ منت ہے۔ اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی بھی اسرائیلی شہریت رکھنے کے باوجود تعصب اور تضحیک کا شکار ہیں۔ جہاں فلسطین کے عام لوگ صیہونی ریاست کے بارود اور گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں وہاں شدید معاشی محرومی کا شکار بھی ہیں۔ بجلی، پانی، علاج، تعلیم، غذا اور دوسری بنیادی ضروریات سے مسلسل محرومی اور قلت کا شکار ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے پابندیاں اٹھا کر بس اتنی اشیا کی فراہمی کی جاتی ہے جس سے ان کی سانسیں چلتی رہیں۔ اس گھٹن اور افلاس نے بالخصوص غزہ کو جہنم بنا دیا ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں بلکہ فلسطینی سیاست کو بھی اسرائیلی ریاست نے اپنے گماشتوں کے ذریعے کبھی مذہبی اور کبھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا ہے۔
تقریباً پانچ دہائیوں تک فلسطین کی جدوجہد آزادی بہت حدتک ترقی پسندانہ قیادت اور نظریات کی حامل تھی۔ ایسے انقلابی نظریات جو کسی لیڈر کو بکنے نہیں دیتے تھے اور جن کا ہدف پورا استحصالی نظام اور سامراجی ڈھانچہ تھا۔ ان میں ’PFLP‘ جیسے بائیں بازو کے رجحانات سرفہرست رہے ہیں۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی جیسے واقعات کے تناظر میں عالمی سطح پر بائیں بازو کی ٹوٹ پھوٹ کے اثرات فلسطین کی تحریک آزادی پر بھی مرتب ہوئے۔ ایسے میں دیوہیکل اسرائیلی ریاست کے خلاف گوریلا جدوجہد اور مہم جوئی کی حکمت عملی کی ناگزیر ناکامی نے تحریک میں تھکاوٹ، ٹھہراؤ اور نظریاتی تنزلی کو جنم دیا۔ جس سے یہ ایک طرف لبرل قوم پرستی اور دوسری طرف مذہبی بنیاد پرستی میں بٹ گئی۔یہ دونوں نظریات آخری تجزئیے میں اس محکومی کو تقویت ہی دیتے ہیں ۔عرب حکمرانوں نے آج تک اس مسئلے کو برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کا کھلواڑ ہی کیا ہے۔ ان عرب ریاستوں کے باہمی تضادات بھی تحریک میں تفریق اور تقسیم کا باعث بنے ہیں۔ قطر اور کچھ دوسرے ممالک محمود عباس کی بجائے ’حماس‘ اور غزہ میں اسماعیل حانیہ کی نام نہاد ’حکومت‘ کو خیراتی امداد دیتے رہے ہیں۔ دوسری طرف محمود عباس کی حکومت بھی دوسری طاقتوں کی ایسی ہی خیرات پر منحصر رہی ہے۔ یوں ان حکومتوں کے مالی معاملات تو چلتے رہے ہیں لیکن عوام برباد ہی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسا ادارہ جو خود اسرائیل کی قابض ریاست کو ’قانونی‘ جواز فراہم کرتا رہا ہے، اس سے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کو رکوانے کی امید ان رہنماؤں کے سیاسی دیوالیہ پن کی غمازی کرتی ہیں۔ سینکڑوں قرار دادیں اقوام متحدہ کی جنرل باڈی میں پاس ہوئی ہیں لیکن اسرائیلی ریاست کی رعونت اور ڈھٹائی کے آگے ڈھیر ہوتی رہی ہیں۔ نام نہاد ’عالمی برادری‘ میں کسی ایک قرارداد پر بھی اسرائیلی حکمرانوں سے عمل درآمد کروانے کی سکت اور جرات نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی قوت نے اسرائیلی ریاست اور سامراجیوں کو ہلا کے رکھ دیا تھا تو وہ فلسطینی نوجوانوں اور محنت کشوں کی ’انتفادہ‘ تحریکیں تھیں جو آج بھی آگے کا راستہ واضح کرتی ہیں۔
30 مارچ کو اسرائیلی ریاست کی اس درندگی پر مختلف عرب اور دوسرے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے وہی گھسے پٹے بیانات آرہے ہیں جو آج تک آتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی شاید کوئی مذمتی قرار داد منظور ہوجائے۔ ٹرمپ نے فلسطینیوں کی طرف جس تضحیک اور رعونت کی پالیسی اختیار کی ہے اس سے بغاوت مزید بھڑکی ہے۔ لیکن اس نظام کا کوئی لیڈر اور حکمران فلسطینی عوام کا سجن نہیں ہے۔ قومی آزادی اور خومختیاری کی ہر تحریک کی طرح یہ جدوجہد بھی پورے خطے اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی حمایت اور یکجہتی سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ 2011ء میں اسرائیل کے محنت کش اور نوجوان بھی اس عرب انقلاب کا حصہ بنے تھے جس نے مقامی حکمرانوں اور سامراجیوں کے ایوان لرزا دئیے تھے۔ یہ اسرائیلی مظاہرین ’’ایک مصری کی طرح آگے بڑھو‘‘ کے بینر اور چے گویرا کے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے اور صیہونی حکمرانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ آج فلسطینی عوام کا ایک نیا انتفادہ اسرائیل سمیت پورے خطے میں ایک نئی تحریک کو بھڑکا سکتا ہے۔ 30 مارچ کو فلسطینیوں کا بہتا لہو ایک نئی بغاوت کی پکار بن رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*