جنوبی افریقہ: حاکمیت کے رنگ بدلے، کردار نہیں!

| تحریر: لال خان |

جنوبی افریقہ میں 1994ء میں نسل پرست نظام حکومت (اپارٹائڈ) کے خاتمے کے بعد سے نیلسن منڈیلا کی افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) بر سر اقتدار ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اسے ملک بھر میں خاصے اہم نقصان ہوئے ہیں۔ انہیں مجموعی طور پر53.9 فیصد ووٹ پڑے جبکہ ڈیموکریٹک الائنس تقریباً 27 فیصد او ر بائیں بازو کی ’اکنامک فریڈم فائیٹرز‘ پارٹی 8.2 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اے این سی کے لاکھوں ووٹ ان جماعتوں کی جانب گئے ہیں۔ اے این سی اپنے گڑھ نیلسن منڈیلا بے میں بھی سیٹ ہار چکی ہے۔ پارٹی اہم شہری علاقوں میں اکثریت حاصل میں ناکام رہی ہے جن میں اہم صنعتی شہر پورٹ الزبتھ، مرکزی دارالحکومت پریٹوریا اور تجارتی مرکز جوہانس برگ شامل ہیں۔

Inequality in South Africa

جوہانسبرگ: میلوں پر پھیلی جھونپڑ پٹی اور آسمان چھوتی عمارات۔ جنوبی افریقہ کا شکار انتہائی غیر مساوی ممالک میں ہوتا ہے۔

1994ء میں امریکی سامراج کی زیر نگرانی نسل پرست حکومت کے خاتمے اور اور اے این سی کے اقتدار سے عوام کو بڑی امیدیں اور امنگیں تھیں۔ وہ نسل پرستی کے خاتمے کے ساتھ غربت، بے روزگاری، عدم مساوات، غلاظت اور ذلت سے نجات کے لیے تڑپ رہے تھے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں لاکھوں روزگار ختم ہوئے ہیں، بے روزگاری خطر ناک حد تک بڑھ چکی ہے، افراط زر بے قابو ہے اور بجلی، پانی، خوراک کی قیمتوں اور کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ بیس سالوں کے صبر کے بعد اب جنوبی افریقہ کے سیاہ فام عوام نے ان انتخابات کے ذریعے اے این سی کو تنبیہ کی ہے کہ اب بہت ہو چکا اور نسل پرستی کے خاتمے کی جدوجہد میں اے این سی کا تاریخی کردار اس کے حق حکمرانی کی ضمانت نہیں ہے۔
جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے حالات نسل پرست حکومت کے دنوں سے بھی بہتر ہیں اور اب انہیں دنیا بھر کی تنقید کا سامنا بھی نہیں ہے۔ اپارٹائڈ کے خاتمے سے سیاہ فاموں کی ایک قلیل تعداد کو فائدہ پہنچا ہے جن میں زیادہ تر اے این سی کے علاوہ ٹریڈ یونینز اور ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کے لوگ ہیں۔ آج نیلسن منڈیلا کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر جیکب زوما اور کئی دوسرے اعلیٰ عہدیداران کرپشن سکینڈلز میں گھرے ہوئے ہیں۔
1994ء کے بعد امیر اور غریب کی تفریق میں اضافہ ہی ہوا ہے جبکہ اے این سی سے جڑے کاروباری افراد کی ایک قلیل پرت ارب پتی بن چکی ہے۔ مثلاً (این یو ایم) نیشنل یونین آف مائینرز ( کانکنوں کی یونین) کا سابق سربراہ سیرل رامافوسا نسل پرستی کے دور کے کارپوریٹ مالکان مثلاً اوپن ہائیمر خاندان اور ہیرے اور سونے کی کانوں کی چلانے والی اینگلو امریکن کارپوریشنوں کے ساتھ کاروبار میں شریک ہے۔ رامافوسا مارکینا میں کانکنوں کے قتل عام میں ملوث کمپنی لون من کے بورڈ کا ممبر ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کئی ممبران اب سرمایہ دار بن چکے ہیں۔
مارکینا کی کانوں میں مزدوروں کا قتل عام ان تضادات کا ناگزیر نتیجہ ہے جب این یو ایم جیسی بڑی ٹریڈ یونین مزدور دشمن نیو لبرل پالیسیاں لاگو کرنے والی پارٹی اے این سی کے ساتھ منسلک ہوئی۔ کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز عملی طور پر اے این سی کی ان پالیسیوں میں شریک ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کو محنت کشوں کی بستیوں اور ٹریڈ یونینز میں کافی حمایت حاصل تھی اور اگر وہ چاہتی تو انہیں متحرک کر سکتی تھی۔
بڑے پیمانے کی عدم مساوات کے خلاف بھی بہت غصہ ہے۔ ملک کی 5 کروڑ40 لاکھ آبادی کا اسی فیصد سیاہ فاموں پر مشتمل ہے لیکن زیادہ تر زمین اور کمپنیاں سفید فام افراد کی ملکیت ہیں جو آبادی کا 10 فیصد بھی نہیں۔ اسی طرح 70 فیصد بالائی منیجر بھی سفید فام ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سیاہ فام لوگوں میں بے روزگاری کی شرح 28.8 فیصد ہے جبکہ سفید فاموں میں یہ5.9 فیصد ہے۔ تقریباً دو تہائی سفید فام رہن سہن کے اخراجات پر ماہانہ 10,000 رینڈز یعنی 625 ڈالر سے زائد خرچ کرتے ہیں۔ سیاہ فاموں میں یہی تعداد 8 فیصد ہے۔
جنوبی افریقہ میں با ضابطہ روزگار والے محنت کشوں میں سے دس فیصد یونینز میں ہیں، جبکہ 60 فیصد لوگوں کا روزگار ’بے ضابطہ معیشت‘ سے منسلک ہے اور کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز یا کمیونسٹ پارٹی انہیں شمار اور انکی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ ’مزدور اشرافیہ‘ بائیں بازو کی اصلاح پسندی کی ایک تکلیف دہ میراث ہے۔

South Africa unemployment

نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد سے سیاہ فاموں کی چھوٹی سی اقلیت انتہائی امیر ہوئی ہے جبکہ آبادی کی اکثریت کے حالات بدتر ہی ہوئے ہیں۔

عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 0.7 فیصد افراد ملک کی 58 فیصد آمدن کے مالک ہیں جبکہ نیچے کے50 فیصد کا حصہ 8 فیصد سے بھی کم ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو سست ہے۔ 2015/16ء میں اس کا تخمینہ 1.3 فیصد ہے اور 2016/17ء میں 0.8 فیصد متوقع ہے۔ اس کی وجہ کئی داخلی اور بیرونی عوامل ہیں جن میں اجناس کی قیمتوں میں گراوٹ اور چینی معیشت کی سست روی شامل ہے۔ معیشت کی سست نمو سے بے روزگاری، عدم مساوات اور عدم استحکام شدید ہو رہا ہے۔ کمزور معاشی امکانات کی وجہ سے حکومت عوام کے معیار زندگی میں مزید کٹوتیاں کر رہی ہے۔ 2015/16ء میں خسارہ جی ڈی پی کا 3.9 فیصد تھا جسے 2017/18ء میں 3 فیصد تک لانے لے لیے 2016/17ء کے بجٹ میں مزید ٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت قرضے کے بوجھ کوجی ڈی پی کے 51 فیصد تک لانا چاہتی ہے۔
ساؤتھ افریقن انسٹیٹیوٹ برائے نسلی تعلقات میں سپیشل ریسرچ کی سربراہ اینتھیا جیفری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’نسل پرست (سفید فام) حکومت کے خاتمے کے بعد سے جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 1995ء میں دس لاکھ کے قریب سے بڑھ کر آج یہ تعداد تقریباً چودہ لاکھ ہے… چالیس لاکھ افراد ایک ڈالر یومیہ سے کم پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 1994ء میں یہ تعداد بیس لاکھ تھی۔ 45 لاکھ بے روزگاروں کے حکومتی اعداد و شمارمیں وہ 35 لاکھ لوگ شامل نہیں جوکام کی تلاش ہی چھوڑ چکے ہیں‘‘۔

ماضی میں کونسل آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز کے لیے کام کرنے والی معیشت دان نیوا ماکگیلٹا نے کرسچن سائنس مانیٹر کو بنایا کہ ’’سیاہ فام کمیونٹی میں طبقاتی تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ نسل پرست حکومت کے دنوں میں یہ کمیونٹی خاصی متحد تھی۔ اب پرانے کامریڈوں کو ارب پتی بنتے دیکھنا بہت عجیب لگتا ہے۔ یہ انقلاب کے لیے موزوں حالات ہیں۔ ایک دن لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اگلا انقلاب خوراک کے لیے ہو گا۔ ہر طرف اس کی نشانیاں واضح ہیں‘‘۔
1994ء میں نیلسن منڈیلا کی قیادت میں بر سر اقتدار آنے والی اے این سی نے ’’رنگا رنگ قوم‘‘ کے قیام کا وعدہ کیا تھا جس میں معدنیات سے مالامال ملک کی دولت سے تمام لوگوں کو فیض یاب ہونا تھا۔ لیکن اے این سی کا ’’سیاہ فام معاشی طاقت‘‘ کا پروگرام مجبور عوام کی اکثریت کے لیے ایک دھوکہ ثابت ہوا ہے۔
اے این سی کی آزاد منڈی کی پالیسیوں کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محنت کش عوام کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں، کئی سالوں سے طبقاتی تضادات بڑھ رہے ہیں۔ صدر زوما منڈیلا کا جانشین تھا اور بو امبیکی کو ہٹا کر اقتدار میں آیا تھا اور اس نے روزگار، رہائش اور خدمات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس نے بھی وہی کاروبار نواز پالیسیاں جاری رکھیں جن کے نتیجے میں غربت، ذلت، محرومی، بے یقینی اور غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
محنت کشوں کی اکثریت یونینز میں منظم نہیں ہے اور حکمران اشرافیہ ان کی بغاوت سے ڈر رہی ہے۔ ایک ایسی ہی بغاوت نے نسل پرست حکومت کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ 50 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ ایک سماجی دھماکے کے لیے حالات تیار ہیں۔ کوئی بڑا واقعہ یا ہڑتالوں کی تحریک چنگا ری بن سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے بوجھ تلے اے این سی میں گہرے اندرونی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ بیمار سرمایہ داری کی پالیسیوں کے نفاذ کی حکومتی کوششوں سے یہ تضادات مزید گہرے ہوں گے۔

South Africa workers strike

’آنے والے وقت میں جنوبی افریقہ میں طبقاتی جدوجہد اچانک اور شدت سے بھڑ ک سکتی ہے‘

آنے والے وقت میں جنوبی افریقہ میں طبقاتی جدوجہد اچانک اور شدت سے بھڑ ک سکتی ہے اور لاکھوں محنت کش بورژوا قوم پرست اے این سی یا کسی اور جماعت کی حکومت کے خلاف میدان میں اتر سکتے ہیں۔ ایسی تحریک ایک انقلابی تبدیلی کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ جمہوری انقلاب کی تکمیل، زمین کی تقسیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے سلگتے تقاصوں کو پورا کرنے کا واحد راستہ انقلابی سوشلزم ہے۔ افریقہ کے سب سے اہم ملک میں ہونے والا انقلاب سارے بر اعظم میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلے گا۔

متعلقہ:

منڈیلا کا ادھورا سفر

جنوبی افریقہ: آزادی سے رستا خون

One Comment

  1. Pingback: جنوبی افریقہ: فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ تحریک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*