راولا کوٹ: طلبہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل، مشال خان کے قتل کے خلاف پرزور احتجاج کا علان

رپورٹ: حارث قدیر

مشال خان کے اندوہناک قتل کے خلاف راولاکوٹ میں تمام طلبہ تنظیموں پر مشتمل ایکشن کمیٹی قائم کرتے ہوئے پچیس اپریل کو احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایکشن کمیٹی میں ببرک خان، توصیف خالق، بشارت علی خان، ثاقب فاروق، محمد مبین، عبداللہ، رضوان رشید، نعمان نذر، وقاص الفاظ، فہد سلیم، ابرار لطیف اور دیگر ممبران جبکہ ثاقب فاروق، رضوان رشید اور ابرار لطیف رابطہ کاری کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اس سلسلہ میں اجلاس مقامی ہال میں منعقد کیا گیا، جس میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے تینوں دھڑوں، پی ایس ایف، ایس ایل ایف کے دو دھڑوں، جے کے پی ایس او، آئی ایس ایف اور پی وائی او کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا نے مردان ولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جبر و بربریت، مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرے پر پولیس گردی سمیت بجلی کی جبری لوڈشیڈنگ کی شدید مذمت کی اور تمام تعلیمی اداروں میں رابطہ مہم چلانے اور ایکشن کمیٹی کے تحت پچیس اپریل کو مشال خان کے قتل کے خلاف اور بھارتی مظالم، سمیت انتہا پسندی، دہشت گردی اور ظلم جبر کیخلاف پوسٹ گریجویٹ کالج گراؤنڈ سے دن گیارہ بجے احتجاجی ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا، اجلاس میں شرکا نے مستقبل میں بھی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کو مشترکہ طور پر منظم کرنے کا اعلان کیا، مقررین نے کہا کہ مشال خان کا قتل روشنی اور علم کا قتل اور درندگی و وحشت ہے جسے ریاستی سطح پر پروان چڑھایا جا رہا ہے، نوجوانوں اور طالب علموں کو اس وحشت اور بربریت کیخلاف جمہوری، سیاسی آزادیوں سمیت ظالم نظام کے خاتمے تک جدوجہد کو منظم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ اجلاس میں تمام تعلیمی اداروں میں رابطہ مہم چلانے اور طلبہ کو زیادہ سے زیادہ اس احتجاجی ریلی میں شرکت کی دعوت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا اور نوجوانوں اور طالب علموں سے اپیل کی گئی کہ اب وقت آگیا ہے کہ علم و آگہی اور جہالت و وحشت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے بقا کی لڑائی کو منظم کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*