ہندوستان: مودی سرکار کے خلاف ’ماروتی سوزوکی‘ کے محنت کشوں کی جدوجہد

تحریر: لال خان

ہندتوا کے شاؤ نزم، ترقی اور غربت میں کمی کی نعرہ بازی اور کرپشن مخالف ناٹک کے لبادے میں مودی سرکار ہندوستان کے محنت کشوں اور محروم عوام پر پہلے دن سے ہی تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے جو روز بہ روز بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ مودی سرکار سامراجی کار پوریٹ سرمائے اور ہندوستانی بورژوازی کو یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ جس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے خزانوں کے منہ کھول کر مودی کو اقتدار دلوایا تھا وہ کام پوری طرح سے ہو رہے ہیں۔ طبقاتی جنگ میں یہ وقت ہندوستانی محنت کشوں کے لیے بہت نازک اور کٹھن ہے۔

ماروتی کے محنت کش ہڑتال کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔

کارپوریٹ میڈیا کی عوام دشمنی اور بورژوا ریاستی عدلیہ کا عوام کی جانب تحقیر آمیز رویہ بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔ میڈیا عدالتی فیصلوں کے آنے سے پہلے ہی محنت کشوں کو ہر جرم کا مجرم قرار دے دیتا ہے۔ محنت کشوں کی تحریکوں کو سرمایہ دار میڈیا ’’ہندوستان کے معاشی چہرے پر کلنک‘‘ کہتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی طرح ہندوستان میں بھی محنت کشوں کی ہر جدوجہد کو ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ ان کے بہتانوں کے مطابق یہ ’بیرونی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں پر انتہائی منفی اثرات کے حامل اور ریاست کی معاشی سرگرمیوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں‘۔
22 مئی 2013ء کو ماروتی سو زو کی فیکٹری کے محنت کشوں کی ضمانت کی درخواست رد کرتے ہوئے ہریانہ ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا تھاکہ’’یہ ایک انتہائی بد قسمت واقعہ ہے جس سے دنیا کی نظروں میں ہندوستان کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ لیبر کی شورش کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار ہندوستان میں پیسہ لگانے سے گریز کریں گے۔‘‘
10 مارچ 2017ء کو گڑگاؤں سیشن کورٹ نے ماروتی سوزوکی کے تیرہ مزدوروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ چار محنت کشوں کو پانچ پانچ برس اور چودہ کوتین سال کی سزا ہوئی ہے۔ عمر قید پانے والے مزدوروں میں ماروتی سوزوکی ورکرز یونین کی تمام قیادت شامل ہے۔ بر صغیر کے دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان کی جیلیں خوفناک حالات، بد سلوکی، اور تشدد کے لیے بدنام ہیں اور عمر قید در اصل ایک طویل سزائے موت کے مترادف ہے۔ ان میں سے کئی محنت کشوں سے اعتراف جرم کروانے کے لیے ان پر پہلے بھی تشدد ہوتا رہا ہے جس میں ٹانگوں کو چیرنے، بجلی کے جھٹکے اور پانی میں غوطے دینے جیسے گھناؤنے طریقے شامل ہیں۔
اخبار دی ہندو کے مطابق ’’ایسا محسوس ہوتا ہے گڑ گاؤں میں سی آئی اے کی تحقیقات کا رخ جرم کی تفتیش یا گرفتار مزدوروں کی ایف آئی آر میں درج واقعات یا جرائم میں ملوث ہونے کی جانب نہیں بلکہ ان کا مرکز ان مزدوروں کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں شمولیت ہے… پولیس حراست کے دوران تھرڈ ڈگری ٹارچر اور پولیس کی جانب سے زیر حراست افراد سے سادے کاغذپر دستخط کروانے کی کوششوں نے ان تحقیقات کے ذریعے مجرموں کا پتہ لگانے اور گرفتار کرنے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ لگتا ہے پولیس کو ماروتی سوزوکی لمیٹڈ کو مطمئن کرنے اورپروڈکشن جاری رکھوانے کی زیادہ فکر ہے۔‘‘
ان محنت کشوں پر جان بوجھ کر یہ جھوٹے کیس بنائے گئے ہیں اور سازش میں ماروتی سوزوکی کمپنی، پولیس اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ ہندو نسل پرست بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی)، کانگریس اور دوسری بورژوا پارٹیاں ہر طرح سے ملوث ہیں۔ ماروتی سوزوکی ورکر یونین نے اپنی پریس ریلیز میں اس سزا کو بجا طور پر ’’طبقاتی انصاف‘‘ قرار دیا ہے۔
2011ء میں ماروتی سوزوکی کا مانیسر اسمبلی پلانٹ کم اجرتوں، کام کے دوران جبر، ٹھیکیداری اور عارضی ملازمت کے خلاف لڑاکا جدوجہد کا گڑھ بننا شروع ہوا تھا۔ ہندوستان، پاکستان اور دنیا بھر میں صنعتی محنت کشوں کے ہر طرف یہی حالات ہیں۔ 2011ء کے موسم گرما میں مانیسراسمبلی پلانٹ کے محنت کشوں نے کام بند اور ہڑتالی دھرنوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ان کی پر عزم جدوجہد کے نتیجے میں گڑگاؤں مانیسر صنعتی پٹی کے دوسرے محنت کشوں نے بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ علاقہ دہلی کی مضافاتی ریاست ہریانہ میں واقع گاڑیاں بنانے اور دوسری پیداواری صنعتوں کا بہت بڑا مرکز ہے۔
18 جولائی 2012ء کو نو منتخب یونین اور انتظامیہ میں مذاکرات شروع ہوئے۔ مذاکرات کے ناکام ہونے پر پہلے سے ہی بڑی تعداد میں موقع پر موجود پرائیویٹ سکیورٹی اہلکاروں کی تخریب کاری سے پر تشدد واقعات شروع ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران آگ لگ گئی جس سے فیکٹری کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ جنرل منیجر اویناش کمار دے بھی اس آگ کا شکار بنا اور 90 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ کچھ بین الاقوامی لیبر سرگرم کارکنان کا دعویٰ ہے کہ جنرل منیجر کا قتل مالکان کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
کمپنی کی جانب سے ’’مشتبہ‘‘ افراد کی فہرست کے مطابق یونین لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا اور کمپنی انتظامیہ نے ریاستی حکومت کی پشت پناہی سے مزدورں کی برطرفیاں شروع کر دیں اور 2300 سے زیادہ مستقل اور ٹھیکیداری مزدوروں کو برطرف اور تبدیل کر دیا گیا۔ 1500 سے زیادہ پولیس نفری تعینات گر دی گئی اور مانیسر پلانٹ کچھ عرصے کے لیے ایک قلعہ بن گیا۔
حالیہ فیصلے میں عدالت نے پولیس اور ماروتی سو زو کی انتظامیہ کی ملی بھگت اور جھوٹے شواہد کی بنا پر اپنی ہی تحقیقات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ استغاثہ کے گواہان ان افراد کی شناخت ہی نہ کر سکے جن کے خلاف وہ شہادتیں دے رہے تھے۔ استغاثہ کا کیس بری طرح سے پٹ جانے کے بعد یونین کے قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمے میں تھوڑی حقیقت کا ر نگ بھرنے کے لیے عدالت نے کچھ مزدوروں کو بری بھی کیا۔ یہ جھوٹے مقدمے مرکز اور ریاست ہریانہ میں کانگریس کی حکومتوں کے دوران شروع گئے گئے تھے اور بی جے پی سرکار میں جھوٹ اور ناانصافی کی مزید شدت سے جاری ہیں۔
ماروتی مانیسر پلانٹ کے مزدور جیلوں میں قید محنت کشوں کی مالی، جذباتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پوری صنعتی پٹی میں ان محنت کشوں کے لیے وسیع حمایت اور ہمدردی پائی جاتی ہے۔ 18 مارچ کے دن جب جج گویال نے اپنا فیصلہ سنایا تو چند گھنٹوں کے اندر ہی مانیسر کی چار بڑی فیکٹریوں میں ایک گھنٹے کی ’’ٹول ڈاؤن‘‘ ہڑتال کی گئی۔ 29 مارچ کو مانیسر گڑ گاؤں صنعتی پٹی کے پچاس سے زیادہ کارخانوں کے ایک لاکھ سے زیادہ محنت کش اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکلے۔
بد قسمتی سے تمام بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشنز اور ان کے لیڈر ماروتی سوزوکی کے محنت کشوں کی جدوجہد سے کتراتے رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ ماروتی سوزو کی ورکرز یونین کو بورژوا سیاست دانوں سے اپیل اور کرپٹ اور عوام دشمن عدلیہ کا سہارا لینے کا ’مشورہ‘ د ے رہے ہیں۔ وہ ان محنت کشوں کے لیے ہندوستان اور عالمی طور پر محنت کشوں سے متحرک ہونے کی اپیل کرنے کی پالیسی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
پولیس کے سخت جبر اور ان دوسری کاروائیوں کا مقصد علاقے میں محنت کشوں کی شورش کو روکنا تھا، لیکن محنت کشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے حقوق کے لیے احتجاج اور یونین سازی کر ر ہی ہے۔ گڑ گاؤں کے علاوہ راجھستان میں نیم رانا کے علاقے میں بھی محنت کشوں کی جدوجہد بڑھ رہی ہے۔ بیلیسونیکا کے ایک محنت کش نے ہندوستان ٹائمز کو انٹر ویو میں کہا کہ ’’محنت کشوں کی پہلی نسل میں یہ اندیشہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ یونین کا مطالبہ کرنے پر انہیں تادیبی کاروائی کا نشانہ بنایا یا بے روزگار کیا جا سکتا ہے… آج ماروتی کے محنت کش ہیں، کل ہم جیل میں ہو سکتے ہیں… ہم اپنے ساتھیوں کی رہائی چاہتے ہیں، لیکن ماروتی نے محنت کشوں کو اتنا متحد کر دیا ہے جتنا کوئی بھی ٹریڈ یونین نہیں کرسکتی تھی۔‘‘
ہندوستان، پاکستان اور دنیا بھر کے محنت کشوں کا یہ طبقاتی فرض ہے کہ وہ جھوٹے مقدموں میں پھنسے ماروتی کے محنت کشوں کے دفاع کے لیے میدان میں آئیں، کیونکہ طبقاتی جدوجہد میں ’ ایک کا دکھ سب کا دکھ ‘ ہے۔ بر صغیر کے کروڑوں مزدور جب ایک متحدہ طبقاتی جنگ میں اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر دولت مندوں کی ان ریاستوں اور نظام کے خاتمے کی حتمی لڑائی لڑیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*