اصل ہندوستان کی بیداری

تحریر لال خان:-

’’ 28فروری کو ہونے والی 24گھنٹے کی عام ہڑتال موجودہ دو ر کے ہندوستان کے سیاسی اور سماجی ارتقا میں فیصلہ کن موڑ ہے۔‘‘

کئی دہائیوں تک حکمران طبقات اور ان کے طوائف میڈیا کی جانب سے مسلط کردہ مذہبی جنونیت، فرقہ وارانہ تشدد، علاقائی تنازعات، ذات برادری کے تعصبات، مذہبی منافرت، قومی شاؤنزم، علاقائی نفرتوں، جمہوریت کے فریب اور کرکٹ کے ہسٹیریا میں الجھے رہنے کے بعد ہندوستان کا پرولتاریہ دنیا بھر میں شروع ہونے والے ایک نئے عہد میں بیدار ہو رہا ہے۔ 28فروری کو ہونے والی 24گھنٹے کی عام ہڑتال موجودہ دو ر کے ہندوستان کے سیاسی اور سماجی ارتقا میں فیصلہ کن موڑ ہے۔
اکیسویں صدی کے ہندوستان کے متعلق ہر طرف شائننگ انڈیا، نئی سپر پاور اور برق رفتار شرح نمو والی سب سے بڑی معیشت کے چرچے تھے۔ کئی ہیلی پیڈوں، تیراکی کے تالابوں اور جدید ترین آلات سے مزین مکیش امبانی کا 27 منزلہ پر تعیش محل بمبئی کی غلیظ اور بھیانک جھونپڑ پٹیوں کے درمیان عیش و عشرت کا ننگا تماشا پیش کرتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں 250,000سے زیادہ کسان قرضوں اور بھاری سود کے بوجھ سے تنگ آکرکیڑے مار ادویات پی کر خود کشیاں کر چکے ہیں، جن ادویات کا مقصد پیداوار کو بڑھانا تھا۔ رمیش ٹاٹا کی جانب سے(انتہائی مہنگی) جیگوار گاڑیاں بنانے کے پلانٹ کو ہندوستان کی بڑی کامیابیوں میں ایک اضافہ بتایا جا رہا ہے ، جہاں دنیا کی سب سے ’بڑی‘ جمہوریت میں ایک ارب سے زیادہ انسان آدھے ڈالر کی یومیہ آمد ن پر سسک رہے ہیں۔ سامراجی اجارہ داریاں ہندوستان کا خون چوس رہی ہیں جبکہ ہندوستانی کارپوریشنوں کے مالکان اپنے منافعے بڑھانے کی ہوس میں یورپ سے کر خلیجی ریاستوں تک سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ اپنی ہوس کے تحت ان بڑے پیمانے کے بنیوں نے سوئس بینکوں میں کرپشن سے کمائے ہوئے 500ارب ڈالرجمع کر رکھے ہیں جبکہ انسانی تہذیب کی اس جنم بھومی میں ہر سال تیس ہزار بچے خوراک کی کمی سے مر جاتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں ریکارڈ معاشی نمو کے ساتھ آمدن میں عدم مساوات دوگنی ہو گئی ہے ، اور ہندوستان اس معاملے میں ’ابھرتی‘ معیشتوں میں بدترین ہے۔ مہنگائی، نئے مزدور دشمن لیبر قوانین و ضوابط ، نجکاری، اجرتوں کانہ بڑھنا اور دیگر نیولبرل پالیسیوں نے باروزگار افراد کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ دوسری جانب قصباتی اور دیہی آبادی کی وسیع تعداد کربناک غربت میں دھنستی چلی گئی۔
رجعتی سیاست دانوں کے چھوٹے چھوٹے نان ایشوز پر کرپشن سکینڈل مسلسل جاری تھے۔ نئے زمانے کے فاشسٹ شعبدہ باز انا ہزارے کی تحریک بنیادی طور پر کارپوریٹ سرمائے کے کچھ حصوں کی حمایت یافتہ تھی جن کا مقصد اپنے مالیاتی اور سیاسی مخالفین کو بدنام کرنا تھا لیکن اس سے بڑھ کر اس کا مقصد یہ تھا کہ سماج میں کھولتی ہوئی بغاوت کو اس افراتفری کے غبار میں منتشر اور زائل کر دیا جائے۔ لالچ میں ڈوبا ہوا ہندوستان کا میڈیا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہوئے کروڑوں اذیت زدہ انسانوں کو برباد کرنے والے حقیقی مسائل پر چپ سادھے ہوئے ہے اور مسلسل مذہبی اور قومی شاؤنزم کو ہوا دیتا ہے۔ گیارہ بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کی جانب سے ہڑتال کی کال دینے پر میڈیا اپنی بھرپور قوت کے ساتھ اس کے خلاف میدان میں اتر آیا او ر ہڑتال کے خلاف منفی پروپیگینڈے کا ایک طوفان برپا کر دیا گیا۔ سیاسی شک پرستوں اور بائیں بازو کے طعنہ زنوں کو اس میڈیا کمپئین کی شکل میں ضروری مدد میسر آگئی۔ ’آزاد‘ عالمی میڈیا بھی ہڑتال کی ’ناکامی‘ کا راگ الاپنے میں ان کا ہمنوا بن گیا۔ اگرچہ اس ہڑتال سے سارا ہندوستان جام نہیں ہوا،اس کے باوجود یہ حقیقی مسائل پر ہندوستان کے پرولتاریہ کی اہم ترین تحریکوں میں سے ایک ہے ، جس میں عوام ان کو بھٹکانے، ان کی توجہ ہٹانے اور ان کی طبقاتی جڑت کو کمزور کرنے کے لیے ان پر مسلط کردہ تعصبات اور تقسیموں سے بالا تر ہو گئے ۔ کمیونسٹ پارٹی سے منسلک فیڈریشن آل انڈیا ٹریڈ یونینز کانگریس کے جنرل سیکرٹری گروداس داس گپتا نے 28 فروری کی ہڑتال کے متعلق کہا کہ’’یہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ پہلی مرتبہ تمام بڑی ٹرید نونینیں متحد ہو کر سرکار کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں‘‘۔ کچھ ٹریڈیونین عہدید داران کے مطابق دس کروڑ کے قریب محنت کش اس ہڑتال میں شریک تھے جن کے مطالبات میں ملک گیر کم از کم اجرت کا نفاذ، ٹھیکہ داری نظام میں پانچ کروڑ محنت کشوں کے لیے مستقل ملازمت، ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں فوری کمی اور نجکاری کی پالیسی کا فوراً خاتمہ شامل ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ٹرانسپورٹ، بینک، ڈاک اور زیادہ تر سرکاری شعبہ مکمل طور پر بند تھا۔ہندوستان کے کاروباری مرکز بمبئی میں یہ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی۔ نیچے سے محنت کشوں کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ زیادہ تر ٹریڈ یونین لیڈروں اور فیڈریشنوں کو محنت کشوں میں کسی حد تک اپنی ساکھ بچائے رکھنے کے لیے ہڑتا ل کی کال پر عمل کرنا پڑا جو ان کی اصلاح پسندانہ اور مصالحانہ پالیسیوں کے خلاف نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ حکمران کانگریس پارٹی سے منسلک ٹریڈ یونین فیڈریشن انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس کو بھی ہڑتال میں شامل ہونا پڑا۔ اس کے صدر جی سنجیو ریڈی کو کہنا پڑا کہ ’’ہماری سب سے اہم مانگ ٹھیکہ داری ملازمت کا خاتمہ اور بے قابو ہو کر بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی ہے‘‘۔ چند شہروں میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے منسلک یونینوں کو بھی ہڑتال میں شریک ہونا پڑا۔ حکمران کانگریس اور اسکی اتحادی جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں بشمول بی جے پی نے ہڑتال کی پر زور مخالفت کی۔
کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت مکمل طور پر سرمایہ داری کے آگے شکست تسلیم کر چکی ہے۔ بائیں بازو کے ان لیڈروں نے سماج کی سوشلسٹ تبدیلی کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے مرحلہ وار انقلاب کے تباہ کن نظریے کو بھی فراموش کر دیا ہے اور اب وہ ایک ہی مرحلے کا راگ الاپتے ہیں‘ یعنی بورژوا جمہوریت کا ۔بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ان کو جوش خروش اور کارپوریٹ گدھوں کے اشاروں پر ناچنے نے ان کے مغربی بنگال اور دیگر جگہوں پر ذلت آمیز شکستوں سے دوچار کیا ہے۔ روایتی قیادت کی غداری کے باوجود ہندوستانی پرولتاریہ تاریخ کے پردے پر پھر سے نمودار ہو رہا ہے۔ کمیونسٹ پارٹیوں کے ممبران میں ایک تحرک موجود تھا اور نوجوانوں کے کچھ حصوں میں ماؤسٹ مسلح بغاوت کے متعلق غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔لیکن گوریلا جنگ کا طریقہ کار ریاست کے راکھشس کو شکست نہیں دے سکتا۔ مہم جوئی اور مفاد پرستی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ماؤسٹ قیادت کا مغربی بنگال میں دائیں بازو کی ممتا بینرجی کی حکومت کے آگے جھک جانا ان کے نظریاتی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ان کی جانب آتے ہوئے نوجوان متنفر ہوئے ہیں۔ ہندوستان کا حکمران طبقہ جس میں جاپان سے زیادہ ارب پتی ہیں،گزشتہ 65برس میں قومی جمہوری انقلاب کا کوئی ایک فریضہ بھی پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
یہ تاریخی ناکامی اتنی بڑی ہے کہ چھپائی نہیں جا سکتی۔ سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے ہندوستانی عوام کا کوئی مستقبل نہیں۔ معاشی نمو میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور عوام کے سماجی حالات مزید بدتر ہوں گے۔ کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہندوستانی انقلاب کا کردار صرف سوشلسٹ ہی ہو سکتا ہے جو سارے خطے میں پھیلتے ہوئے جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کا موجب بنے گا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو پھر نوجوان اور ہندوستان کے طاقتور محنت کش طبقے کی جدوجہد کی نئی لہر ان پرانے لیڈروں کو مسترد کر دے گی اور تاریخ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک نئی مارکسی انقلابی قیادت تراشے گی ۔ ایک دوسراہندوستان، جو محکوم اور استحصال کا شکار محنت کشوں ، نوجوانوں اور کسانوں کا ہندوستان ہے، ایک بار پھر سے بیدار ہو رہا ہے۔

ڈیلی ٹائمز ،4مارچ 2012

2 Comments

  1. Pingback: شمارہ نمبر 2: 16 تا 31مارچ 2012ء

  2. Pingback: سرمایہ دارانہ نظام ۔۔۔ جابر بھی اور قاتل بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*