برما میں ریاستی دہشت گردی!

تحریر: لال خان

برما کی ریاست رخائن میں جاری ریاستی دہشت گردی نسلِ انسانی کو گھائل کرنے والے  طوفانوں،جنگوں، بربادیوں اور خونریزی میں ایک ہولناک اضافہ ہے۔ قومی اور سرکاری وبدھ دہشت گرد ملیشیا کے افراد دیہاتوں کو گھیر کر خواتین کے بلادکار کررہے ہیں۔ مردوں کو مختلف عمارات میں بند کرکے ان عمارتوں کو جلا رہے ہیں۔ بچوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ رہے ہیں اور مظالم کی ایسی خونی ہولی کھیل رہے ہیں جس کی درندگی اس خطے میں شاید پہلے نہیں دیکھی گئی۔ اگست سے اب تک تقریباً 2 لاکھ عام غریب روہنگیا قبائل کے انسان اپنے گھر بار چھوڑ کر اجڑ گئے اور بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ مزید لٹے اور برباد کارواں آرہے ہیں۔ اس ریاستی دہشت نے500 سے زیادہ افراد کا قتل عام کیا ہے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش اور برما کو تقسیم کرنے والا دریا سرخ ہو چکاہے اور اس میں لاشوں کے انبار ڈرون کیمروں سے واضح نظر آرہے ہیں۔
روہنگیا قبائل کے مسلمان مذہبی اقلیت ہیں جن کو 1980ء سے فوجی اور مذہبی تعصبات کی بنیادپر ریاستی اور سماجی ظلم وجبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان کی تقریباً 11 لاکھ کی کل آبادی ہے جو اس ریاستی تشدد کا شکار ہے اور مسلسل بنیادی حقوق سے محروم ہے جبکہ برما 1948 ء میں’’آزاد ‘‘ ہوا۔ برما کی فوج 50 سال تک براہِ راست فوجی اقتدار اور مارشل لاؤں کے نفاذ کے ذریعے جبر کی حاکمیت کرتی رہی ہے۔ فوج کی مختلف معاشی اداروں اور اقتصادی شعبوں میں وسیع مداخلت اور سرمایہ کاری رہی ہے۔ نام نہاد تیسری دنیا میں جہاں بھی فوجی آمریتیں رہی ہیں یا آج بھی چل رہی ہیں وہاں فوج اور ریاست کے دوسرے اداروں کی اشرافیہ کی اعلیٰ شخصیات اور جرنیل معیشت میں بھاری سرمایہ کاری ریاست سے ہی لوٹی ہوئی رقوم سے ہی کرتے ہیں۔ برما میں بھی اس وقت معیشت اور کاروبار میں فوجی اشرافیہ سب سے بڑی اقتصادی اجارہ داریوں کی مالک بن گئی ہے۔ بینکاری سے لے کر صنعتی و زرعی پیداوار اور سروسز سیکٹر پر انکی ملکیت کا غلبہ ہے۔ اس لوٹ کھسوٹ سے برما کی پہلے سے ہی بیمار سرمایہ دارانہ معیشت شدید بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ اس بحران نے سماجی ہلچل اور انتشار کو جنم دیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کی حاکمیتوں کی طرح سرکار کے خلاف کسی عوامی بغاوت کے پھٹنے کے خطرے کے پیش نظر اس انتشار سے مذہبی اور لسانی تضادات، منافرتوں اور تعصبات کو ہوا دے کر ایسا ماحول پیدا کیا گیاہے کہ اس جنون سے اقلیتیں معاشرے کے اکثریتی مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادی خصوصاً اسکی پسماندہ پرتوں کے شاونزم کی حقارت کا شکار ہوجائیں۔
برصغیر میں خصوصی طور پر ایک رحجان بھی پایا جاتا ہے، گو یہ تمام ’’ترقی پذیر‘‘ ممالک میں بھی بڑھتا جارہا ہے، کہ یہاں اس دور میں قوم اور قوم پرستی کا تصور مذہب اور عقائد کے ساتھ گڈ مڈ ہوگیا ہے۔ یہاں یورپ کی 17ویں اور 18ویں صدی کے سرمایہ دارانہ انقلابات کی طرز کی قوم پرستی شدید زوال پذیری کا شکار ہوچکی ہے۔ گو لبرل اور سیکولر دانشور اس سیکولر بورژوا قوم پرستی کا بہت پرچار کرتے ہیں لیکن یہاں جس طرز اور بحران زدہ کیفیت میں معاشی و اقتصادی نظام کا ارتقا ہوا ہے اس میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ انقلاب کی نظریاتی اساس ’’سیکولر قوم پرستی‘‘ کی معاشی او ر سماجی بنیادیں وڈھانچے استوار کرسکے۔ اس حوالے سے جب عقیدوں اور بورژوا قوم پرستی کا ملغوبہ بنتا ہے تو یہ زیادہ زہریلا ہو کر ان معاشروں میں زہریلے نفاق اور تفرقوں کی آگ کو بھڑکاتا ہے۔ اس مذہبی قومی شاونزم کے جنون میں مبتلا پسماندہ پرتیں اقلیتوں کو اپنی وحشی حقارت کا نشانہ بناتی ہیں اور ایسی ریاست اور فوج کی بھرپور حمایت کرتی ہیں جو اس ریاستی تشدد میں ظلم وبربریت کی انتہا کردیتی ہیں۔ بتایا تو یہ جاتا ہے کہ ہر مذہب امن کا پیغام دیتا ہے۔ بدھ مت کی امن اور آتشی کا تو بہت پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن سری لنکا میں پچھلے 20 سالوں سے جو کچھ ہوتا رہا ہے اور اب جو کچھ برما میں ہورہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ بدھ مت کی مذہبی وحشت دوسرے مذاہب کے جنونیوں کی درندگی سے قطعاً کم نہیں ہے۔
1962ء میں برما میں بائیں بازو کے افسران کی ایک فوجی بغاوت بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے مارکسزم کے نظریات کے برعکس ’’برمی بدھ سوشلزم‘‘ کی اختراع پر چلنے کی کوشش کی۔ جنرل نیون (Newin) کی قیادت میں ہونے والے اس ’’انقلاب ‘‘ میں یہ ضرور ہوا کہ برطانوی ،یورپی ،بھارتی اور امریکی سامراجی جس شدت کے ساتھ برما کے ربڑ،لکڑی، بانس، تیل اور دوسرے معدنیاتی اور زرعی ذخائر کو لوٹ رہے تھے اس کاخاتمہ ہوا۔ تمام شعبوں کو نیشنلائز کرکے ان کو برما کے عوام کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ان قومیائے جانے والے اداروں میں ’’برما آئل‘‘ جو برطانیہ اور ہالینڈ کی اجارہ داریوں میں شامل تھی آج ’’برما شیل‘‘ کے نام سے کاروبار کر رہی ہے۔ لیکن تنہا اور ایک چھوٹے غیر ترقی یافتہ ملک میں محدود یہ نظام بھلا کیسے چل سکتا تھا۔ لیکن ان اقدامات سے مغربی سامراجیوں کو جس طرح کاری ضرب لگی اس سے برما کی ریاست سے انکی دشمنی ان مالیاتی اور منافع خوری کے مفادات پر ابھری۔ 1988ء میں جب سرمایہ داری‘ نجکاریوں کے ذریعے بحال ہوئی تو فوجی آمریت پھر بھی قائم رہی۔ لیکن فرق یہ پڑا کہ زیادہ تر معیشت اب برما کے جرنیلوں کی انفرادی ملکیت بن گئی۔ اس فوجی آمریت کے ذریعے انہوں نے اپنے مالی مفادات کو سامراجی اجارہ داریوں سے تحفظ دینے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ نے جس ’’جمہوریت‘‘ کی حمایت کرنا شروع کی اس کا مقصد بنیادی طور پر برما کی معیشت کو ان جرنیلوں کے جبرسے ’’آزاد‘‘ کروا کے سامراجی اجارہ داریوں کی لونڈی بنانا تھا۔ اس ’’جمہوریت‘‘ کی جدوجہد میں مغربی سامراجیوں نے جس ہیروئین کو پروان چڑھا یا وہ’ آنگ سنگ سوچی ‘ہی تھی۔ دوسری جانب برما پر تجارتی اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اتنا دباؤبڑھایا گیاکہ فوجی حاکمیت کو ’’جمہوریت‘‘ کے لیے بتدریج’’ اصلاحات‘‘ کرنا پڑیں۔ لیکن عمومی طور پر سامراجی جس ملک کے بارے میں جمہوریت کا شور مچار رہے ہوتے ہیں ان کے پیچھے مالیاتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں، ورنہ بہت سے ایسے ملک ہیں جہاں درندہ صفت آمرانہ بادشاہتیں اور فوجی آمریتیں ہیں لیکن امریکہ اور یورپ کے تعلقات ان سے بہت اچھے ہیں اور انسانی حقوق کی بیشتر مغربی تنظیمیں بھی وہاں خاموش ہو جاتی ہیں۔
برما میں اس وقت آنگ سنگ سوچی کی حکومت ہے۔ اس ’’جمہوری‘‘ حکومت میں برما میں یہ قتل وغارت جاری ہے۔ سوچی نہ صرف اس ریاستی دہشت گردی کی بھرپور حمایت کررہی ہے بلکہ بدھ مت کی مذہبیت اور شاونزم کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ اس کو سامراجیوں نے اس حد تک ابھارا تھا اور میڈیا میں اس کا اتنا چرچا تھا کہ اس کو نوبل انعام دلوایا گیا۔ نوبل انعام کی تقریب میں آنگ سنگ سوچی نے جو تقریر کی اس میں کہا تھا ’’جب بھی ذلت اور جبر سے درگزر کیا جاتا ہے تو اس سے تصادم اور تباہی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ چونکہ اذیتیں اور ذلت‘ غصہ اور وحشت کو جنم دیتے ہیں۔‘‘ آج اسی مغرب کی ’’جمہوری‘‘ ہیروئین کی حاکمیت میں یہ ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ ایک پوری اقلیت کا صفایا کرنے کی درندگی جاری ہے۔ ’’جمہوریت‘‘ صرف برما میں ہی بھاری مظالم کی مرتکب نہیں ہوئی ہے، جہاں بھی پیسے کی ’’جمہوریت‘‘ کا فریب دے کر عوام کو انقلاب کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اس ’’جمہوریت‘‘ سے مالدار طبقات ہی مستفید ہوتے ہیں۔ عام انسان معاشی اور ریاستی جبر میں پستے رہتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ’ارسا‘ ( اراکان روہنگیا نجات فوج) نے 25 اگست کو پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملے کیے جس میں برما کی فوج کے 12 افراد مارے گئے۔ لیکن اس واقعہ کو بہانہ بناکر مذہبی دہشت گردی کی آڑ میں ایک پوری کمیونٹی کو لاکھوں کی تعداد میں ظلم کا نشانہ بنانا، ار اکانی نسلوں کو مجروع کرنا، ان کو ہر حق سے محروم کردینا سوائے اندھی وحشت کے کچھ نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ کچھ رجعتی مسلمان حکمران مختلف ممالک سے اس تنظیم کی فنڈنگ کر رہے تھے۔ ان رجعتی حکمرانوں اور دولت کے دھنوانوں کی اپنی ہوس اور غلبے کے اپنے مقاصد ہیں۔ یہ اس درندگی کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کررہے ہیں۔ جبکہ برطانوی لیبر پارٹی اور بائیں بازو کے سرکردہ لیڈر جیرمی کوربن نے سب زیادہ کھل کر اس ریاستی دہشت گردی کی مذمت بھی کی ہے اس کے خلاف احتجاج کو تیز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ جیرمی کوربن مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت اور طبقاتی جڑت کی بنیاد پر ان مظلوم روہنگیا انسانوں کی حمایت کررہا ہے۔
برما 1937ء تک متحدہ ہندوستان کا حصہ اور صوبہ تھا۔ برصغیر میں ہزاروں سالوں سے دور دراز سے انسانی ہجرتیں ہوتی آئی ہیں۔ آج بھی جنوبی ایشیا کے ہر ملک میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ روہنگیا مسلمانوں سمیت ہر مذہبی، نسلی و قومی اقلیت، جن کو حالات یہاں لے آئے ہیں یا جن کو جنگوں اور سامراجی بٹواروں نے یہاں آنے پر مجبور کیا ہے ،کو شہریت اور دوسرے بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہیں۔ لیکن یہ خونریزی تو انسانیت کا قتل عام ہے۔ نریندرا مودی کی حمایت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر سے کھوکھلے اقتدارکو جاری رکھنے کے لیے کس طرح ہر جگہ مسلمان دشمنی میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ وہ بدھ مذہبی جنونیت اور ہندو مذہبی وحشت میں جڑت بنانے کی غلیظ حرکت کررہا ہے۔ چین کی برما میں بھاری سرمایہ کاری ہے اس لیے چینی اشرافیہ کوخاموش تماشائی بننے کا ناٹک کرنا پڑرہا ہے لیکن اندر سے یہ بھی سوچی کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ مغربی سامراجیوں کا بھی اپنے مفادات سے واسطہ ہے۔ ان کے لیے یہ خطرہ ہے کہ یہ بحران پھٹ کر کہیں زیادہ وسیع عدم استحکام اور انتشار کا موجب نہ بن جائے۔ کیونکہ ہندوستان اور خطے میں ان کے بہت سے سرمایہ کاری کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وہ اس حوالے سے بحران کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن بحران کی اصل وجہ اور ریاستی دہشت گردی کی بنیاد برما کا وہ سماجی اور معاشی انتشار ہے جس پر سرمایہ دارانہ جمہوریت کی قابو پانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ انسانی خونریزی اس نظام کی ناکامی کی غمازی کرتی ہے اور اسکی زوال پذیری اور تباہی کو روک نہیں سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*