چینی حکمران طبقے میں پھوٹ

تحریر: ڈینیئل مورلے:-
(ترجمہ: فرہاد کیانی)

’’ انقلاب کیلئے یہ کافی نہیں کہ استحصال اور ظلم و تشدد کے شکار عوام کو یہ شعور ہو جائے کہ وہ پرانے طریقے سے زندگی نہیں بسر کر سکتے اور وہ تبدیلی کا مطالبہ کریں۔انقلاب کیلئے یہ ضروری ہے کہ استحصال کرنے والے پرانے طریقے سے زندگی نہ گزار سکیں اور حکم نہ چلاسکیں۔ صرف اس وقت جبکہ’’نیچے لوگ‘‘ پرانے کو نہ چاہیں اور’’اونچے لوگ‘‘ پرانے کو نہ چلا سکیں‘ صرف اسی وقت انقلاب فتحیاب ہو سکتا ہے‘‘(لینن، کمیو نزم میں ’’بائیں بازو‘‘ کی طفلانہ بیماری)۔
کہا جاتا ہے کہ ’سیاست میں ایک ہفتہ بہت لمبا وقت ہوتا ہے‘ لیکن اکثر یہ بات چین کے متعلق درست محسوس نہیں ہوتی جہاں کی سیاست مکمل طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی (CCP) کے شکنجے میں ہے۔ لیکن در حقیقت اپنے ظاہری استحکام کے باوجود ایسا نظام ایک پریشر ککر کی طرح ہوتا ہے۔ڈرامائی سیاسی واقعات اور مختلف دھڑوں کے مابین چپقلشیں یکا یک منظر عام پر آسکتی ہیں اور ایسے اوقات میں ریاست کی جانب سے قائم کردہ ہم آہنگی ایک دم سے ٹوٹ کے بکھر سکتی ہے۔

بو زیلائی

ایسا کچھ گزشتہ ہفتے میں ہوا جب بو زیلائی (Bo Xilai) کی برطرفی اور بڑے پیمانے کی نجکاری کا اعلان کیا گیا۔بو زیلائی کثیر آبادی والے چونگ کنگ (Chongqing)صوبے کا سربراہ تھا، اور اپنی مقبولیت اور امیروں کے خلاف تنقید کے لیے جانا جاتا تھا اور اس کے نتیجے میں ہو جن تاؤ( صدر) اور وین جیاباؤ( وزیر اعظم) کے بعد چین کا معروف ترین سیاست دان بن گیا تھا۔
یہ دونوں واوقعات چینی ریاست اور سماج کے عدم استحکام کو ظاہر کر تے ہیں۔گزشتہ تیس برس میں معاشی ابھار کی بنیاد بننے والے تمام عنا صرمیں مزید ترقی دینے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے اور اب یہ ایک ناگزیر بحران کو جنم دے رہے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب عالمی سرمایہ داری ایک بے قابو بحران کی گرفت میں ہے۔
گزشتہ تین برس میں معیشت کو ابھارنے کی غرض سے کی گئی سرمایہ کاری اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔یہ عمل ریاستی سرمایہ داری اور کینشن ازم کے گھسے پٹے طریقوں کا آخری جھٹکا تھا۔ کینشن ازم میں حکومتی سرمایہ کاری، ٹیکسوں اور شرح سود کوکم رکھنے کا عمل در حقیقت ایسی سٹیرائیڈ ادویات کی طرح ہے جو کھلاڑیوں کی وقتی طور نہ صرف قوت بحال رکھتی ہیں بلکہ حیران کن حد تک طاقتور بنا ددیتی ہیں۔حال ہی میں مغربی ممالک میں معیشت کو مکمل کساد بازاری سے بچانے کے لیے اس طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے بحران زدہ بینکوں کو سستے قرضوں سے بھر دیا گیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کسی دل کا دورہ پڑے شخص کی جان بچانے کی آخری کوشش کے طورپر برقی جھٹکے دیے جاتے ہیں۔ لیکن چینی معیشت کی بہتر صحت کی وجہ سے چین میں صورتحال نسبتاً کم تشویش ناک تھی۔
لیکن اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ چین اور مغربی ممالک دونو ں میں سرمایہ داری کو کینشن ازم پر مبنی بیل آؤٹ (حکومتی امداد) کی ضرورت تھی۔ تاہم کینشن ازم لمبا عرصہ چل نہیں سکتا اور اس میں خلقی طور پر خود کو تباہ کرنے کا رجحان موجود ہوتا ہے۔ خسارے کو پورا کرنے لے لیے ریاست جتنا زیادہ پیسہ معیشت میں ڈالتی ہے اوراس کی بنیاد پر ریاستی ملکیت میں موجود کمپنیاں بے روزگاری کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اتنا ہی یہ طریقہ بے اثر ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ اپنے تضادات کے بوجھ تلے گر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے 1970ء کی دہائی میں برطانیہ میں بڑے پیمانے کا افراطِ زر دیکھنے میں آیا جس نے ’مانیٹرازم‘ کی راہ ہموار کی جو کینشن ازم کا بالکل الٹ ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جاری کٹوتیوں کا کارن بھی یہی ہے جہاں حکومتی قرضے اپنی حد کو پہنچ چکے ہیں اور چین میں درپیش مسائل بھی اسی وجہ سے ہیں جہاں معیشت کو بے قابو ہونے سے بچانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور افراطِ زر کو کم رکھنے کے لیے نجکاری کی جارہی ہے ۔
ریاست کی جانب سے 600ارب ڈالر کے مالیاتی محرک دیے جانے کی وجہ سے چین اب قرضوں کے بہت بڑے بوجھ کا شکار ہے، جہاں مقامی حکومتوں کا قرضہ دو ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور ناقابل واپسی قرضے مجموعی قومی پیداوار کے 8فیصد کے قریب جا پہنچے ہیں۔اس سے بڑے پیمانے پر مقامی حکومتوں کی جانب سے زمینوں پر قبضوں اور کسانوں کی جبری بے دخلیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے تاکہ ان زمینوں کو تعمیرات کرنے والے شکاریوں کو فروخت کر کے دیوالیہ پن سے بچا جا سکے۔ سستے قرضوں کی وجہ سے قیاس آرائیوں پر مبنی ایک گرم بازاری کا سلسلہ شروع ہے جس میں گھروں کی قیمتیں بے پنا ہ حد تک چڑھ رہی ہیں او اس کے ساتھ افراطِ زر بھی بڑھ رہا ہے( حکومت اسے نیچے لانے کی کوشش کر رہی ہے) ، اور بھاری صنعت پر زائد پیداوار کا بحران منڈلا رہا ہے۔ اس طرح سے معاشی ابھار کو طول دینے والی کینشن ازم کی پالیسیاں ختم ہو رہی ہیں اور ساری معیشت اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی استحکام کو برباد کر دینے کا موجب بن رہی ہیں جس پر سب کو بہت مان تھا۔
اس کا فوری نتیجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ اور ریاست دوسری جانب جھک رہے ہیں جو مانیٹر ازم ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اگلے ہی برس بڑے پیمانے پر نجکاری شروع ہو جائے گی اور حکومت فوری طور پر قرض لینا روک دے گی، جو معیشت کے لیے تباہ کن ہو گا۔اس کامطلب یہ ہے کہ ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کو اپنی اجارہ داریوں کی طرح چلانے والے اور بے پناہ منافعے کمانے والے مراعات یافتہ بیوروکریٹوں کی گرفت نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے، اور گوانڈونگ صوبے کے علاقے میں مرکوز آزاد اور مقامی چینی بورژوازی کا اعتماد اور ریاست پراثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ چینی حکمران طبقہ واضح طور پر منقسم اور مجموعی طور پر کمزور ہوا ہے، جس سے محنت کش طبقہ پر اعتماد ہوا ہے اور مستقبل میں وہ اور زیادہ میدانِ عمل میں اترے گا۔
اور یہ سب ہر دس سال بعد ہونے والی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی تبدیلی کے وقت ہو رہا ہے جس سے حکمران خواہشات کے مطابق اقتدار کی پر سکون تبدیلی کا امکان کم ہو گیاہے۔ بیوروکریٹک اور مطلق العنان نظاموں میں منتقلیِ اقتدار ہمیشہ ہی بہت خطر ناک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف دھڑوں کے مفادات کے اظہار کے لیے کوئی سیفٹی والو نہیں ہوتا۔ ہر دس سال بعد کمیونسٹ پارٹی انتقال اقتدار کے دوران اتفاقِ رائے کا تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے، لیکن حالیہ عرصے میں صرف ایک مرتبہ ہی کامیاب رہی ہے۔ اب اقتدار ایسے وقت میں منتقل ہو رہا ہے جب ریاستی طاقت کو ایک معاشی پالیسی سے دوسری کی جانب جاتے ہوئے توازن قائم رکھنا ہے، جس کے لیے اسے حکمران طبقے کے ایک حصے کے برخلاف دوسرے کی حمایت لینا ہو گی،لیکن اس میں کامیابی کا امکان کم ہے۔ بو زیلائی کی برطرفی سے پرامن انتقال اقتدار کا مقصد پہلے ہی ختم ہو گیا ہے۔ چین جیسی مطلق العنان حکومتوں میں حکمران اشرافیہ کے اندرونی معاملات اورمختلف دھڑوں کی طاقت کا اندازہ لگانا اتنا سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔لیکن گزشتہ چند روز کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت کی حکمت عملی واضع ہے کہ ’ابھرتی ہوئی‘ بورژوازی کے مفادات کو آگے لایا جائے جس کے لیے ریاست اور معیشت میں ریاست کے کردار میں’ اصلاحات‘ کی جارہی ہیں۔ لی کیکیانگ جو بظاہر صدر ہو جنتاؤ کا بغل بچہ ہے اور اس برس وزیر اعظم وین جیاباؤکی جگہ لینے کا سب سے پسندیدہ امید وار ہے،نے 2010ء میں عالمی بینک اور وین جیاباؤ کے زیر قیادت ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیق کے سینٹر کے تعاون سے ایک رپورٹ تیار کی جس کا موضوع یہ تھا کہ چینی معیشت میں کس طرح کی اصلاحات کر کے بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی ریاست کے انتہائی طاقتور افراد مانیٹرازم اور کھل کر بورژوا پالیسیوں کے نفاذ کے لیے جواز تلاش کرنے میں سرگرداں تھے، کیونکہ عالمی بینک سے ان کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔فروری کے آخر میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ ’2030 ء میں چین: ایک جدید، ہم آہنگ اور تخلیقی بلند آمدن سماج کی تعمیر‘ میں ریاستی ملکیت میں موجود کمپنیوں کی تقسیم، نجی مقابلہ بازی میں اضافے اور مالیاتی شعبے کو لبرل کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔ چین میں بائیں بازو کے بہت سے لوگوں نے اس رپورٹ کو امریکی سامراج کی چال قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری میں چینی ریاست کی معاونت اس کے اندر چینی بورژوازی ، خصوصاً پیداواری صنعت کے مرکز گوانڈونگ کی بورژوازی کے گہرے اور طاقتور مفادات کو ظاہر کرتی ہے۔
بور ژوازی کا یہ حصہ ریاستی کمپنیوں کی طاقت سے بہت نالاں ہے اور ان کے بڑے بڑے منافعوں پر اپنے خونخوار دانت گاڑنا چاہتا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ریاست کے حکامِ اعلیٰ کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ وہ ریاستی کمپنیوں سے زیادہ اہل ہیں اور اس لیے نجکاری ہی مستقبل کا راستہ ہے۔ 5 مارچ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے شائستگی سے ایک بیان جاری کیا ’’ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق جو وزیر اعظم پیر کے روز پیش کریں گے، چین اپنی معیشت کے غیر سرکاری شعبے کو ترقی دینے کا عزم رکھتا ہے جس کے لیے اجارہ داریوں کی تقسیم اور منڈی تک رسائی پر پابندیوں کو نرم کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق حکومت ریل، عوامی سہولیات، مالیات، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں غیر حکومتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ گیارہویں نیشل پیپلز کانگریس کے سالانہ سیشن سے آغاز سے قبل میڈیا کو دی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق’ہم ریلوے اور توانائی کی صنعت میں اصلاحات کو فروغ دیں گے‘‘۔
13مارچ کو شن ہوا میں ایک اور مضمون کے مطابق ’’چین کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے کے نائب چےئر مین زوتینونگ نے کہا کہ ہے کہ اجارہ دار صنعتوں میں اصلاحات بہت پیچھے رہ گئی ہیں اور اس میں غیر منصفانہ مقابلہ بازی پیدا ہوئی ہے۔ ‘‘
’’وین زو کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کی انجمن کے چےئر مین زو ڈے وین کہتے ہیں کہ اگرچہ نجی سرمائے کے لیے مالیاتی منڈی میں حصہ لینے کے لیے پالیسیاں پہلے سے موجود ہیں لیکن کڑی شرائط کی وجہ سے اکثر ایسا کرنے والوں کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ نجی شعبے کے مالیاتی اداروں کے قیام سے چھوٹے اور درمیانے اداروں کی مالی مشکلات حل کرنے میں مدد ملے گی اورنجی شعبے کی صحت مند نشو نما کو فروغ ملے گا‘‘۔
فنانشل ٹا ئمز بھی اس بات سے متفق ہے کہ مالیاتی محرک کے محدود پن کی وجہ سے ہوا کی سمت ’اصلاحات‘ کی جانب ہے۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں چینی اشرافیہ کی سیاست کے ماہر وکٹر شہ کے مطابق’’اشرافیہ میں نظام میں بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہاہے لیکن ابھی تک ان تبدیلیوں کی نوعیت اور ترتیب کے متعلق کوئی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔وین کے بیانات سے محسوس ہو رہا ہے کہ اشرافیہ میں کم از کم چند افراد چین میں بنیادی سیاسی تبدیلی کے بھرپور حامی ہیں‘‘۔
طاقت کے توازن میں تبدیلی بو زیلائی کی برطرفی کی وجہ بنی اور اس کے ساتھ عالمی بینک کی رپورٹ اور وین کی نجکاری کی حمایت میں تقاریر اس سال ہونے والے انتقال اقتدار میں فیصلہ کن طور پر نجی کاروبار کی حامی قیادت کو اقتدار میں لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سی جن پنگ (مستقبل کا صدر) جب حالیہ دورہ پر امریکہ گیا تو اس دوران اس کے ہمسفر کے چناؤ سے نئی ابھرنے والی آزاد بورژوازی کے ریاست پر فیصلہ کن اثر رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ شخص لو گوانگ کیو تھا جو گاڑیوں کے پرزوں کا کاروبار کرتا ہے اور ژے جیانگ صوبے(جو شنگھائی کے ساتھ واقع ہے اور سرمایہ داری نے یہاں بہت ترقی دی ہے اور سرکاری کمپنیوں کے بجائے نجی شعبے کی بنیاد پر ترقی کے لیے مشہور ہے) کا امیر ترین آدمی ہے اورنیشنل پیپلز کانگریس میں تیسرا امیر ترین آدمی ہے۔ وہ سی اور امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے مابین ہونے والی ایک ملاقات میں بھی شریک تھا۔
تاہم ریاستی ملکیت میں موجود کمپنیوں کے مفادات پر جو اب ابھی تک بہت طاقتور ہیں، کھلے عام حملہ کرنے کے لیے ریاست کوجواز بنانے پڑیں گے اوراس کے لیے عوامی حمایت بھی درکار ہو گی۔یہی وجہ ہے کہ بو زیلائی کی برطرفی سے قبل اس کے خاندان کو بدنام کرنے کے لیے الزامات کا سلسلہ شروع کیا گیا کہ اس کا بیٹا جو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ مراعات کے لیے مشہور ہے، فراری(انتہائی مہنگی گاڑی) پر آیا اور جان بوجھ کر اسے ٹکرا دیا اور یہ کہ اس کی بیوی کے اثاثے ایک معمولی سرکاری ملازم کی حیثیت کے اعتبار سے ہی بہت ہے زیادہ ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی کا نجی کاروبار کا حامی دھڑا عوام کے غصے کو استعمال کرے گا جو کسی اور طرز کی اصلاحات چاہتے ہیں پر یہ ان کی حمایت کو استعمال کر کے کاروبار کے لیے فائدہ مند اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ موسم سرما میں گوانڈونگ کے چھوٹے سے قصبے ووکان میں شروع میں ہونے والی عوامی تحریک عوام کے اندر سلگتے ہوئے غصے کا اظہار تھا اور وہ اب کمیونسٹ پارٹی کے کرپٹ لیڈروں کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔ لیکن اس تحریک کو بھی گوانڈونگ میں کمیونسٹ پارٹی کے کا روبار کے حامی سربرا ہ وینگ یینگ نے بد خوئی سے اپنے سیاسی کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔وینگ نے اس تحریک میں مداخلت کی اور ووکان کے عوام کا دوست ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی کے مقامی لیڈروں کی ملامت کی اور لوگوں کی زمینوں پر قبضوں سے پیدا ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے چھوٹی موٹی جمہوری رعایتیں بھی دیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ، بیوروکریسی کا یہ حصہ نجکاری کی غیر مقبول پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سطحی نوعیت کی جمہوری اصلاحات کر سکتے ہیں۔
لیکن اس طرح سے چینی عوام کا سہارا لے کر وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ بیدار ہوتے چینی محنت کش طبقے کے مقاصداور عزائم چند جمہوری اصلاحات سے بہت بڑے اور بہت گہرے ہیں۔اس کے علاوہ وینگ یینگ ، وین جیا باؤ اور سی جن پنگ (آنے والا صدر اور لبرل معاشی پالیسیوں کا حامی) جیسے لوگ سنجیدہ جمہوری اصلاحات کے بارے میں پر اعتماد نہیں ہو سکتے کیونکہ چناؤ کی صورت میں بو زیلائی جیسے مقبول عام افراد کے ہاتھوں انہیں شکست کا امکان ہے۔ ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کی کرپشن کا حقیقی متبادل نجکاری نہیں جس کو بورژوا جمہوریت کا تڑکا لگا ہو، بلکہ ان اداروں کو اشرافیہ کی گرفت سے نکال کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول ہے۔
بو زیلائی کی اچانک برطرفی سے کیا مراد ہے؟ یہ انتہائی ڈرامائی واقع ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے لیے ایک مقبول و معروف لیڈرکی برطرفی کوئی معمولی بات نہیں، کیونکہ اس سے ان کی ہم آہنگ قیادت کا تاثر تباہ ہوتا ہے اور حکومت کے اندر موجو د گہری د راڑیں منظر عام پر آجاتی ہیں۔
تاہم بو زیلائی نے پہلے ہی اپنے طرز عمل سے اس اتحاد کے تاثر کو ختم کر دیا تھا۔ حال ہی میں وہ چین میں بائیں بازو کا ہیرو بن گیاکیونکہ وہ ایک متبادل کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ چونگ کنگ میں اس کی پالیسیاں محدود حد تک نسبتاً محنت کشوں اور غریبوں کے فائدے میں تھیں۔اس نے چونگ کنگ کے امیر ترین افراد کے خلاف کھلے عام حملے کیے، حتیٰ کہ بہت سوں کو سزائے موت تک سنائی ۔چین کے عوام میں نو دولتیوں کے خلاف بہت غصہ پایا جاتا ہے جنہوں نے ایمانی سے اتنی دولت اکٹھی کی ہے اور اس وجہ سے اس کے یہ اقدام بہت مقبول ہوئے ہیں۔ان جونکوں سے واپس لی گئی دولت کا کچھ حصہ سماجی منصوبوں پر بھی خرچ کیا گیا۔علاوہ ازیں وہ انقلابی اثر والے ’سرخ ترانوں‘ کے گانے کو فروغ دینے کے لیے بھی مشہور ہے ۔
لیکن یہ سب کچھ انتہائی سطحی ہے اور کاروبار کے حامی دھڑے کی طرح بو زیلائی بھی عوام کے غصے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا تھا۔ان ترانوں کا کسی حقیقی انقلابی تحریک سے کوئی تعلق نہیں اور یہ سب پہلے سے طے شدہ ہوتا تھا۔ جب عوام کمیونسٹ پارٹی کے اداروں سے آزادانہ طور پر انقلابی ترانے گاتے تو انہیں فوراً روک دیا جاتا۔ ان تقریبات میں انٹرنیشل ترانہ گانے پر پابندی تھی۔ اگرچہ بوزیلائی نے مزدوروں کے حق میں کچھ اصلاحات کی تھیں لیکن ان پالیسیوں اور ملک کے باقی حصوں میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں تھا۔ اس سے عوام کے لیے سرکاری رہائشگاہیں تعمیر کیں، لیکن ایسا چین کے دوسرے حصوں میں ہورہا ہے۔ چین میں رہائش کا مسلہ بہت شدید ہے اور حکمران طبقہ جانتا ہے کہ سماجی امن برقرار رکھنے کے لیے عوام کے لیے مزید پروگرام شروع کرنا ہوں گے۔ اس نے جو گھر بنائے وہ مبینہ طور پر پست معیار کے تھے اوران کا مقصد کاروباری سرمایہ کاری تھا۔اور امیروں پر سر عام حملے کرنے کا مقصد صرف شہرت کا حصول تھا۔ شہرت حاصل کرنے کی اس مہم سے چونگ کنگ یا کسی بھی اور جگہ پھیلی عمومی عدم مساوات کو ختم کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ در حقیقت ان حملوں سے بوزیلائی نے کافی مال بنایا ہے کیونکہ کرپشن کے ملزم کاروباری افراد سزائے موت سے بچنے کی خاطر بھاری تاوان ادا کرتے تھے۔ حیرانی کی بات نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں میں پڑھانے کی مالی استطاعت رکھتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ بو ایک طرح کا مقامی بورژوا بوناپارٹسٹ ہے جو محنت کش طبقے کا سہارا لے کرآگے بڑھ رہا تھا۔لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی ڈھانچوں کے مد مقابل آگیا، ایک ایسے وقت میں جب وہ کھل کر بورژوا پالیسی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔خود کو ترقی دینے کے لیے وہ وینگ یینگ جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، پر حملے کررہا تھا جو نہ صرف ایک جانا مانا معاشی لبرل ہے بلکہ بو سے پہلے چونگ کنگ صوبے کا سربراہ تھا۔ اس کی جانب سے کی گئی بہت سی برطرفیوں میں وینگ یینگ کے سابقہ ڈپٹی پولیس چیف کو سزائے موت بھی شامل ہے۔ ابھرتی ہوئی بورژوازی ایسے بوناپارٹسٹوں سے خائف ہونا شروع ہو گئی ہے جو کسی وقت بھی ان کی دولت ضبط کر سکتے ہیں۔اس طرح سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ والی بورژوازی اور ریاستی ڈھانچوں کے مفادات یکجا ہو گئے کیونکہ دونوں ہی اس جیسے بے قابو آدمی کو مزیدبرداشت نہیں کر سکتے تھے۔ چناچہ اسے فارغ کر دیا گیا۔
اس کے لیے عجیب و غریب جواز بنایا گیا کہ اس کے پولیس چیف وینگ لی جن نے امریکن قونصل خانے میں پناہ لے لی اور بو کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کی بنا پر امریکہ بھاگنے کی دھمکی دی۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ محض بیوروکریسی کا ایک بے ہودہ پینترہ تھا،جیسا کہ لیک شدہ آڈیو کے مطابق بو وینگ کو دھمکیاں دے رہا تھا کیونکہ وینگ نے اسے یہ بتایا تھا کہ بو کا خاندان بھی کرپشن کیسوں میں شامل تفتیش ہے، اس کرپشن میں جس کے خلاف لڑنے کے لیے بو مشہور تھا۔دوسرے الفاظ میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نے کرپشن کی تفتیش کو استعمال کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ بو سے جان چھڑانے کی کوشش کی، لیکن اس نے شور مچاتے ہوئے وینگ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں جو بھاگ کر امریکی قونصل خانے میں جا چھپا۔
اس سے ایک مطلق العنان بیوروکریٹک حکومت کے اندرونی خطرات اور عدم استحکام واضح ہوتا ہے۔سرمایہ داری اور اس کی وحشت اور عدم مساوات کے خلاف کسی متبادل کی خواہش کے اظہاراور کسی بھی راستے کی عدم موجودگی میں یہ ممکن ہے کہ عوام بوکو عوام کا حامی ہونے کی پاداش میں غیر منصفانہ طور پر عتاب کا نشانہ سمجھتے ہوئے اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں۔بلا شبہ بو کوئی عوامی تحریک نہیں شروع کرنا چاہتا کیونکہ وہ خود نظام کا حصہ ہے۔ لیکن واقعات کی اپنی ہی منطق ہوتی ہے۔ بو کو اکثر اقتدار کا بھوکا کہا جاتا ہے، لیکن جیسے سی جن پنگ اور وینگ یینگ ایسے نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ آگے بڑھنے کی خاطر اس نے ایک آزادانہ سیاسی حمایت بنانا چاہی۔ ایسا کرنے میں وہ کمیونسٹ پارٹی کی مقرر کردہ حدود سے بہت آگے نکل گیا اور ایک خطرناک اور ناقابل بھروسہ شخص بن گیا، جسے برطرف کر دیا گیا۔
شاید ایسا کر کے انہوں نے صورتحال کو اپنے لیے بدتر بنا لیا ہے۔ ایک جانب بو نے عوام کے سلگتے ہوئے غصے کو نکلنے کا رستہ دیا ہے۔ دوسری جانب وہ ریاست کے ان حصوں کے لیے ایک مرکزہ بن گیا ہے جو مزید نجکاری کے مخالف ہیں اور یہ خاصے طاقتور ہیں۔ در حقیقت کمیونسٹ پارٹی کو بو کی جگہ پر ایسے شخص کو لانا پڑا جو اس کے ہی دھڑے کا نمائندہ ہے۔ مت بھولیے کہ مشہور زمانہ ڈینگ زیاؤ پنگ ماؤ کے آخری ایام میں پسندیدہ نہیں رہا اور اسے بھلا دیا گیا۔ لیکن ماؤ کی موت پر یہ آشکار ہوا کہ کاروبار کے لیے اصلاحات کا حامی ڈینگ بیوروکریسی کے ایک طاقتور دھڑے کی نمائندگی کر رہا تھا اور بعد میں اسے صدر بنا دیا گیا۔
ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر بڑے پیمانے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ لیکن یہ واضح ہے کہ کس دھڑے کو برتری حاصل ہے۔
بو نے ان قوتوں کو چھیڑ دیا ہے جنہیں وہ کنٹرول نہیں کر سکتا۔ آج چین دنیا میں سب سے زیادہ غیر مساوی سماجوں میں سے ایک ہے۔پارٹی کی اشرافیہ اور ابھرتی ہوئی آزاد بورژوازی کا کروڑوں محنت کش عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ان دونوں نے معاشی ابھار سے بے پناہ کمایا ہے۔لیکن سماج کی نچلے10فیصد حصے کی آمدن میں کمی آئی ہے۔گزشتہ 30برس کی انتہائی تیز رفتار ترقی نے معیار زندگی کو بلند کیا ہے لیکن بہت غیر ہموار انداز میں۔ظالمانہ رفتار اور بے رحمانہ عدم مساوات پر مبنی یہ ترقی انقلاب کے شعلوں کو بھڑکا رہی ہے۔ نسبتاً محدودوقت میں بہت بڑے پرولتاریہ کا جنم ہوا ہے جسے بارہ گھنٹوں سے زائددورانیے کی شفٹوں میں جھو نک دیا گیا ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ ایسے حالات میں انقلاب جنم لیتے ہیں۔ چینی سماج کو اس کی برداشت کی آخری حدوں تک کھینچا جا رہا ہے۔
سائیکسن میں چھپے ایک حالیہ مضمون میں چینی سماج میں بھرے غصے اور بے چینی کو ان الفاط میں بیان کیا گیا ہے
’’آج چین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا احساس کیا ہے؟ میرے خیال میں بہت سے لوگوں کے مطابق یہ مایوسی کا احساس ہے۔ اس کی وجہ تیز ترین معاشی ترقی کے باوجود لوگوں کی زندگیوں میں ناکافی بہتری ہے۔ اس کی ایک اور وجہ انفرادی سماجی حیثیت میں بہتری اور ’ایک طاقتور قوم کے ابھار‘ کے خیال کے درمیان فرق ہے۔
تعلیم، روزگار، ترقی اور حالات زندگی میں بہتری کے مواقعوں کے متعلق لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ سماج کے وسائل اور مواقع چند ہاتھوں میں مرکوز ہو تے جا رہے ہیں۔درمیانے اور نچلے طبقے کے افراد کو سماجی ترقی سے الگ کیا جارہا ہے اور ان کے لیے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانا مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔
چینی اکیڈمی برائے سماجی سائنس کی جانب سے شائع کردہ 2004ء چین میں سماجی حرکت پذیری کی رپورٹ کے مطابق امیر اور طاقتور افراد کی اولاد کے لیے عام لوگوں کی نسبت پارٹی کیڈر بننا زیادہ آسان ہے۔1993ء کے بعد سے نجی کاروباری ملکیت پر کی گئی تحقیق کے مطابق تب کے غیر کاروباری اشرافیہ کے پاس آج کاروبار کی ملکیت ہونے کا زیادہ امکان ہے۔
دریں اثناء اشرافیہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ وسائل کی بہتات کے باوجود وہ عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں جس کی وجہ سماجی نظام کے توازن کی ابتری ہے۔ اس طبقے کے لوگ یا تو خود بیرون ملک جا رہے ہیں یا اپنے اثاثے باہر منتقل کر رہے ہیں۔
اصلاحات کے عمل میں جمود ناگزیر طور پر پورے سماج کے اندر موجود قوتِ حیات کو ختم کردیتا ہے۔
جہاں سماجی استحکام قائم رکھنے کے نام پر مہاجر محنت کشوں کو منظم ہونے اوراجرتوں کے بقا یا جات کے حصول کی جدو جہد سے روکا جائے، اور جن کے گھر مسمار کر دیے گئے ہوں انہیں زر تلافی کے حصول کے لیے بات چیت کرنے سے منع کیا جائے تو استحکام صرف لا قانون کمپنیوں اور ٹھیکہ داروں کے مفادات کے تحفظ کا بہانہ بن جاتا ہے جو اجرتیں دینے سے انکاری ہیں اور لوگوں کے گھر مسمار کر کے انہیں لوٹ رہے ہیں۔ ایک شیطانی چکر ہے، جتنا زیادہ استحکام رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، سماج اتنا ہی غیر مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے۔
ننگی کرپشن سے امیر ہوئے نو دولتیوں کے خلاف چین میں بہت نفرت پائی جاتی ہے۔ ریاست کے پسندیدہ یہ نو دولتی چین کے مستقبل کی راہ نہیں ہیں۔انہیں ملک اور قوم کی بہتری سے کوئی سروکار نہیں۔ان کا مقصد صرف ریاستی صنعت کی لوٹ مار کر کے چینی عوام سے پیسہ کمانا ہے۔ ان میں سے کئی انقلاب اور بغاوت سے خوف زدہ ہو کر پیسہ باہر لے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں انٹر نیٹ پر کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل پیپلز کانگریس کے اراکین کی جانب سے دولت کی بے ہودہ نمود و نمائش کے خلاف بہت نفرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ کانگریس انتہائی امیر افراد کے درمیان تعلق کے وسیلے کا علاوہ کچھ اور نہیں جس کی رکنیت لینے کا مقصد اپنی دولت اور طاقت کا تحفظ اور اضافہ ہوتا ہے۔ ہورون رپورٹ کے مطابق ’’کانگریس کے 70امیر ترین ڈیلی گیٹ 89ارب ڈالر کے مالک ہیں۔بلوم برگ نیوز کے مطابق یہ امریکی کانگریس کے کل ممبران، امریکی صدر، کابینہ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی مجموعی دولت سے گیارہ گنا زیادہ ہے‘‘۔
چین میں بائیں بازو کے بہت سے لوگوں نے درست طور پریہ کہا ہے کہ چین کو بحران سے بچنے کا راستہ دکھانے کی دعویدار عالمی بینک کی رپورٹ چین میں مالیاتی ڈی ریگولیشن اور نجکاری کی پالیسیوں کو نافذ کرنا چاہتی ہے جو مغربی ممالک میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سرمایہ داری کے پاس کوئی اور پالیسی ہے ہی نہیں۔
ان پالیسیوں کا نفاذ چین میں انقلاب کی چنگاری بن سکتا ہے۔ نئی طاقتور بورژوازی کے ساتھ ساتھ ایک اور نیا عنصر بھی سامنے آیا ہے، یعنی محنت کش طبقے کی بیداری ۔ تیس برس کی کامیابیوں کے نشے میں دھت بیوروکریسی کو ایک خوفناک صورتحال کا سامنا ہے۔آج کا چین تیس سال پہلے والا چین نہیں اور اس پر حکمرانی کرنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔ گلوبل ٹائمز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 49فیصد کے خیال میں چین انقلاب کے ’قریب‘ یا ’بہت قریب‘ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اندرونی سکیورٹی پر فوج سے زیادہ اخراجات کیے جارہے ہیں، اگرچہ فوج کے بجٹ میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔
استحصال زدہ اور محکوم عوام کے لیے پرانے طریقوں سے زندگی گزارنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اور استحصال کرنے والے بھی پرانے طریقوں سے حکمرانی نہیں کر پا رہے۔چین میں ہلچل سے بھرپور ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے جس کی خاصیت حکمرانوں میں تقسیم اور مختلف دھڑوں کے تنازعات اور عوام کی تحریکیں اور ہڑتالیں ہیں۔سرمایہ داری کے عالمی بحران کی وجہ سے جنم لینے والے عالمی رجحان کی پیروی میں چینی عوام حکمران طبقے کے ان تنازعات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مطالبات کو آگے بڑھائیں گے۔ان کے ساتھ بہت ہو چکی، اب وہ مزید برداشت نہیں کریں گے۔ہم عالمی انقلاب کے عہد میں جی رہے ہیں اور چین تو ایک مدت سے انقلاب کا منتظر ہے۔
عوام کی کیفیت واضع کرنے کے لیے ہم ’سرخ چین‘ نامی ویب سائٹ پر چھپی ’چین کی ترقی کے لیے عوام کی تجاویز‘ چھاپ رہے ہیں۔ یہ تجاویز حکمرانو ں کی نجکاری کے متبادل کے طور پر بہت مقبول ہو رہی ہیں۔
’’عزیز دوستو،
چند روز قبل پیپلز ڈیلی (کمیونسٹ پارٹی کے اخبار) کے ایک اداریے میں مزید اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا اورممکنہ مخالفت کو بھی تسلیم کیا گیا۔چین میں ’’مزید اصلاحات‘‘ سے میڈیا کی مراد نجکاری اور منڈی کی دیگر نیو لبرل پالیسیاں ہیں۔اس مضمون پر مارکسیوں اور عام بائیں بازو کی جانب سے جو تنقید سامنے آئی وہ پچھلے بیس سال میں نہیں دیکھی گئی۔ان مباحثوں سے چین کی مستقبل کی ترقی کے لیے عوام کی تجاویز نے جنم لیا۔ پہلی دستاویز چین کے سب سے بڑے انٹرنیٹ فورم کے ایک لکھاری نے تحریر کیا۔سرخ چین ویب سائٹ نے جلد ہی اسے جامع اور مختصر شکل میں ڈھال دیا۔اس کے بعد سے لوگ ان تجاوز پر بہت جوش و خروش سے انٹر نیٹ پر بحث کر رہے ہیں اور اپنی طرف سے اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ چین میں محنت کش طبقے کی تحریک میں اہم سنگ میل ہے کیونکہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ بہت سے لوگ حکمران طبقے کے پورے پروگرام پر شعوری طور پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے۔ان تجاویز میں مارکسی اصطلاحات تو استعمال نہیں کی گئیں، اور نہ ہی سوشلزم کا ذکر ہے لیکن اس کی سمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

چین میں اصلاحات کے لیے سولہ نکاتی تجاویز:

1۔تمام سرکاری اہلکاروں اور ان کے خاندان کے اثاثوں کا اعلان کیا جائے اور ان کے ذرائع بھی بتائیں جائیں۔ تمام ’’ننگے بیوروکریٹوں‘‘ کو پارٹی اور حکومت سے بے دخل کر دیا جائے۔(وہ اہلکار جن کے خاندان ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں اور ان کی دولت بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے)
2۔نیشنل کانگریس اپنا قانون ساز ی اور نگرانی کا کردار درست طور پر ادا کرے، ریاستی کونسل کی جانب سے لاگو کی جانے والی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور قومی معاشی سکیورٹی کا دفاع کرے۔
3۔پینشن کے موجودہ منصوبوں کو مستحکم کیا جائے اور ریٹائرڈ افراد کو شعبے اور عہدے سے بلا تخصیص مساوی مراعات دی جائیں۔
4۔سارے ملک میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی مفت فراہمی؛ دیہی علاقوں میں تعینات اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور دیہی اور شہری علاقوں میں مساوی طور پر تعلیم کے وسائل فراہم کیے جائیں؛ ریاست بے آسرا بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری لے۔
5۔اعلیٰ تعلیم کی فیسوں میں کمی اور سرکاری شعبے میں اعلیٰ تعلیم کا بتدریج سارا خرچہ ریاست برداشت کرے اور اسے مفت کرے۔
6۔تعلیم اور ریاستی اخراجات میں اضافہ کیا جائے اور اس کے تناسب کو بین الاقوامی اوسط سے آگے بڑھا یا جائے۔
7۔بنیادی اور ضروری ادویات کی قیمت کا ریاست کی جانب سے منصوبہ بند اور شفاف طور پر تعین کیا جائے؛ سماجی ضروریات اور حقیقی پیداواری لاگت کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست تمام ادویات اور صحت کی سہولیات کی قیمتیں متعین کرے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
8۔شدید معاشی نا ہمواری اور رہائش کے مسئلے کو حل کرنے لے لیے دو یا دو سے زیادہ مکانوں کے مالکان پر بھاری اور بڑھتا ہوا ٹیکس لگایا جائے۔
9۔انٹر نیٹ پر کرپشن کے خلاف شکایات درج کرانے کا نظام بنایا جائے جہاں سارے ملک سے کوئی بھی شہری کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایت کر سکے اور ریاست ان شکایات کی فوری اور شفاف تفتیش کرکے نتائج عوام کے سامنے پیش کرے
10۔قومی وسائل اور ماحولیاتی سکیورٹی کی صورتحال کا جامع اندازہ لگایا جائے، کمیاب اور دفائی نو عیت کی معدنیات کی برامد میں فوراً کمی کی جائے اور جلد ہی اسے روک دیا جائے اور ضروری نوعیت کے وسائل کے ذخیرے قائم کیے جائیں۔
11۔خود انحصاری کی بنیاد پر معاشی ترقی کی جائے؛ چینی محنت کش طبقے کے خلاف غیر ملکی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے والی ہر پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔
12۔لیبر قوانین کا پر زور طریقے سے نفاذ کیا جائے، چھوٹے کارخانوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے ایسے ادارے جنہوں نے اجرتوں کے بقایا جات ادا کرنے ہیں، لیبر کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں یا جن میں حالاتِ کار خراب ہیں، کو بند کر دیا جائے اگر وہ قانونی طور پر فراہم کردہ وقت میں انہیں درست نہ کر پائیں۔
13۔کوئلے کی تمام صنعت کو قومی تحویل میں لیا جائے، کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے تمام محنت کشوں کو سرکاری شعبے کے کانکنوں کے مساوی اجرت، تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور سرکاری خرچ پر صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کے افرادکے متعلق معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ان افراد کی اجرتوں کا تعین پیپلز کانگریس کے مناسب سطح پر کیا جائے۔
14۔حکومت کے تمام غیر ضروری اخراجات کو محدود کیا جائے؛ ریاستی فنڈ سے گاڑیوں کی خرید کو محدود کیا جائے؛ ’’بیرون ملک تحقیق‘‘ کے نام پر تمام غیر ضروری سفر بند کیا جائے
15۔’’اصلاحات‘‘ کے دوران عوامی اثاثوں کے نقصان کا تفصیلاً تخمینہ لگا یا جائے، ذمہ داروں سے تفتیش کی جائے اور عوامی اثاثوں کی چوری میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سر عام مقدمہ چلایا جائے۔

متعلقہ:

ویڈیو: چین کس راستے پر گامزن؟

ایلن ووڈز سے چند سوالات

2 Comments

  1. Pingback: سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جد و جہد اور یوم مئی

  2. Pingback: ویڈیو: انقلابِ چین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*